بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ انڈیا سے منتقل کرنے کی درخواست اور آئی سی سی سیکیورٹی مینیجر کے ’تین خدشات‘

بی بی سی اردو  |  Jan 13, 2026

ICC via Getty Imagesبنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کی ٹیم سے ڈراپ کرنے اور بنگلہ دیش کی جانب سے احتجاجاً انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ دیکھا گیا

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ایک خط بھیجا ہے اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے انڈیا جا کر ورلڈ کپ کھیلنے کے معاملے پر ’تین خدشات‘ ظاہر کیے ہیں۔

بی سی بی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ یہ خط آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان سیکیورٹی امور پر رابطے کا حصہ تھا۔ یہ خط بی بی سی بنگلہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یہ خط بنیادی طور پر آٹھ جنوری کو بھیجی گئی ایک ای میل ہے جو آئی سی سی کے سیکیورٹی مینیجر نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سیکیورٹی ایڈوائزر کو بھیجی۔

ای میل کے متن میں ان خطرات پر بات کی گئی ہے جو انڈیا جا کر کرکٹ کھیلنے پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور ان کے حامیوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ای میل میں آئی سی سی کے سیکیورٹی مینیجر نے ’خطرات کے جائزے کا خلاصہ (رسک اسسمنٹ سمری)‘ پیش کیا۔

ایسا جائزہ آئی سی سی عموماً کھیلوں کے ہر مقابلے سے پہلے لیتا ہے جس میں اس بات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ کسی جگہ پر ٹیم کو کوئی خطرہ تو نہیں۔ خطرات کے اس جائزے کے بعد عام طور پر ہر ٹیم کے لیے ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

اس تجزیے سے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے تاکہ ضروری احتیاطی تدابیر اخیتار کی جا سکیں۔

آئی سی سی کی ای میل میں کیا لکھا ہے؟

ای میل کے شروع میں انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے مستفیض الرحمان کو نکالنے کی ہدایت، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا مطالبہ کہ وہ سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں، اور مستفیض الرحمان کو نکالنے پر بنگلہ دیش میں آئی پی ایل نشریات معطل ہونے کا ذکر ہے۔

اس کے بعد، بنگلہ دیشی ٹیم کو انڈیا میں لاحق خطرات کا الگ سے چار شعبوں میں جائزہ لیا گیا۔

ای ایس پی این کرک انفو نے رپورٹ کیا کہ رسک اسسمنٹ آئی سی سی کی ایک ’معیاری درجہ بندی‘ ہے، جو عام طور پر میچ کا مقام تبدیل کرنے کے لیے کافی وجوہات بیان نہیں کرتی۔

آئی سی سی نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا: بنگلہ دیشی بورڈسیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کیا ہے جس کے ذریعے رضوان کو اپنی ہی ٹیم کے کپتان نے پویلین واپس بلا لیاوہ ’خفیہ ہتھیار‘ جس کی مدد سے مچل سٹارک نے وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیاAFP via Getty Imagesآئی سی سی ای میل کے متن میں ان خطرات پر بات کی گئی ہے جو انڈیا جا کر کرکٹ کھیلنے پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور ان کے حامیوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں1۔ مستفیض الرحمان کا معاملہ

انڈیا میں ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ منعقد کرانے سے پہلے ’خطرات کا جائزہ‘ دسمبر میں مکمل ہوا اور ٹورنامنٹ کے لیے خطرے کی سطح ’درمیانی‘ قرار دی گئی۔ تاہم، ای میل میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے لیے خطرے کی سطح ’درمیانی سے زیادہ‘ ہے۔

یعنی، جہاں دیگر ٹیموں کے لیے خطرہ درمیانہ ہے، بنگلہ دیش کے معاملے میں یہ اس سے زیادہ ہے۔

اس ابتدائی جائزے کے بعد، بنگلہ دیش ٹیم کے لیے خطرے کی سطح کا پھر سے جائزہ لیا گیا، اس میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش ٹیم کے لیے درمیانے درجے کا خطرہ ہے۔

تاہم، اس میں مزید یہ بات بھی درج کی گئی کہ اگر ’مذہبی انتہا پسندی شامل ہو گئی‘ تو بنگلہ دیش ٹیم میں مستفیض الرحمان کی موجودگی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

2۔ بنگلہ دیش ٹیم کے لیے سیکیورٹی مسائل

شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش نے تین گروپ سٹیج میچ کلکتہ اور ایک ممبئی میں کھیلنے ہیں۔ میچ کے وقت اور مقابل ٹیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میچز میں بنگلہ دیش ٹیم کے لیے خطرے کو ’درمیانے سے بھی کم‘ درجے کا بیان کیا گیا۔

اس میں انڈین کرکٹ بورڈ کے عہدیدار سی وی مرلی دھر کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد بھی رسک اسسمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ پر اعتماد ہیں کہ سیکیورٹی کا کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا جو حل نہ کیا جا سکے۔

3. سپورٹرز کی حفاظت

ای میل میں کہا گیا کہ ’بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا‘ (بی سی سی آئی) کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ماضی اور ان کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں کی بنیاد پر ’یہ امکان کم ہے کلکتہ یا ممبئی میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم یا ایونٹ میں شریک کوئی بھی اور ٹیم کسی خطرے کا شکار ہو یا ان کے لیے خطرے کی سطح اچانک سے بڑھ جائے۔‘

ان دونوں مقامات کے حوالے سے بنگلہ دیش ٹیم کو درپیش خطرے کا بھی ای میل میں ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، ان دونوں جگہوں پر بنگلہ دیشی شائقین کے لیے خطرہ درمیانے سے زیادہ پایا گیا ہے۔ خاص طور پر ان کے لیے جو ٹیم کی جرسی پہنتے ہیں یا بڑا گروہ بنا کر سٹیڈیم نہیں جاتے۔

اس کے علاوہ، ورلڈ کپ کے دوران تشدد کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو یہ آس پاس کے علاقوں میں تشدد اور احتجاج کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ مثال یہ پیش کرتی ہے کہ دونوں ممالک میں سے کسی ایک میں بھی مساجد جلانے، بڑے فسادات یا مذہبی اقلیتوں کے قتل جیسا کوئی واقعہ ہوا تو کشیدگی بڑھ جائے گی اور ٹیم کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

اگرچہ ایسا واقعہ ہونے کا امکان کم ہے، لیکن ای میل میں ممکنہ طور پر ایسا کوئی واقعہ ہونے پر بات کی گئی ہے۔

4۔ بنگلہ دیش میں انتخابات

آئی سی سی رسک اسسمنٹ رپورٹ کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ کشیدگی، خاص طور پر 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی، ’مختصر سے درمیانی مدت تک‘ پورے خطے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تاہم، اس وقت یہ کشیدگی کھیل کی جگہ یا کھلاڑیوں کے خلاف تشدد میں تبدیل نہیں ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو بنگلہ دیش کی ٹیم اور کھلاڑیوں کے لیے خطرہ درمیانہ ہی رہے گا۔

تاہم، تجزیے کے مطابق، ایسا ہونے کی صورت مقررہ مقامات پر بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے سیکیورٹی کا دوبارہ سے جائزہ لینا ہو گا۔

ای میل کے آخر میں ذکر ہے کہ دونوں کرکٹ بورڈز کے غیر جانب دار سیکیورٹی مینیجرز اب سٹریٹجک سیکیورٹی پلان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

آخری سطر میں بی سی بی کے سیکیورٹی مشیر کو بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر ان کی تشخیص اور تبصرے کو خوش آمدید کہا جائے گا تاکہ بی سی بی کے نقطہ نظر سے کسی بھی خطرے یا خدشات کو مربوط انداز میں حل کیا جا سکے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا بیان

مشیر کھیل کے بیان کے چند ہی گھنٹے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا میں بنگلہ دیشی ٹیم کی سیکیورٹی سے متعلق عبوری حکومت کے مشیر کھیل نے جو تبصرہ کیا وہ آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ہوئی گفتگو کا ایک حصہ تھا۔

آئی سی سی کے شعبہ سیکیورٹی اور بی سی بی نے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیشی ٹیم کو انڈیا میں لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔ لیکن یہ بنگلہ دیش کی اس درخواست کا جواب نہیں ہے کہ سیکیورٹی خدشات پر بنگلہ دیش کے میچز دوسرے ممالک میں منتقل کیے جائیں۔

بی سی بی نے کہا کہ انہوں نے مقام تبدیل کرنے کی درخواست باضابطہ طور پر کر دی ہے۔ تاہم، اس معاملے پر آئی سی سی کی طرف سے کوئی سرکاری جواب نہیں آیا۔

’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیجب عثمان خواجہ کے اعزاز میں آسٹریلوی ٹیم نے شیمپین کے ساتھ جشن نہیں منایاجب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایا’میری ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائی کی گئی‘: انڈین کرکٹر سمریتی مندھانا نے شادی منسوخ ہونے پر کیا کہا؟سعودی عرب میں خواتین کی کرکٹ لیگ اور ہزاروں پاؤنڈ تنخواہیں مگر بعض غیر ملکی کھلاڑی مخمصے میںآٹھ گیندوں پر آٹھ چھکے اور صرف نو منٹ میں نصف سنچری بنانے والے انڈین کھلاڑی کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More