Getty Imagesتحقیقی اداروں کا خیال ہے کہ 2030 تک چین میں 20 کروڑ تک گھرانے صرف ایک ہی فرد پر مبنی ہو سکتے ہیں
ایک نئی ایپ نے آج کل چین میں کافی دھوم مچا دی ہے اور اس کا نام ہے ’آر یو ڈیڈ‘ یعنی ’کیا تم مر چکے ہو؟‘
اس کا تصور سادہ ہے۔ آپ کو ہر دو دن بعد اس سے رابطہ کرنا ہو گا، ایک بڑے بٹن پر کلک کرنا ہو گا تاکہ تصدیق ہو سکے کہ آپ زندہ ہیں۔
اگر نہیں، تو آپ کے مقرر کردہ ایمرجنسی نمبر سے رابطہ کیا جائے گا اور یہ ایپ انھیں بتائے گی کہ آپ مشکل میں ہو سکتے ہیں۔
یہ ایپ پچھلے سال مئی میں لانچ ہوئی تھی لیکن اس وقت کچھ زیادہ ہلہ گلہ نہیں ہوا لیکن حالیہ ہفتوں میں اسے زبردست توجہ ملی کیونکہ بہت سے نوجوان، جو چینی شہروں میں اکیلے رہتے ہیں، اسے بڑی تعداد میں ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔
تازہ مقبولیت نے اس ایپ کو ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی پیڈ یعنی ادائیگی کر کے خدمات حاصل کرنے والی ایپ بنا دیا۔
چینی سرکاری میڈیا ادارے ’گلوبل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی اداروں کا خیال ہے کہ سنہ 2030 تک چین میں 20 کروڑ تک گھرانے صرف ایک ہی فرد پر مبنی ہو سکتے ہیں۔
اور’سیفٹی کمپنی کمپینیئن‘ کہلانے والی یہ ایپ اکیلے دفتر کے ملازم، گھر سے دور رہنے والے طالب علم، یا کوئی بھی جو تنہا طرز زندگی اختیار کر رہا ہو انھیں ہدف بنا رہی ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر ایک صارف نے کہا کہ ’جو لوگ اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر اکیلے رہتے ہیں، انھیں ایسی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ تنہائی پسند، ڈپریشن کے شکار، بے روزگار افراد اور دیگر کمزور حالات کا شکار لوگ۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اکیلے رہنے والے لوگوں کو یہ خوف ہے کہ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا اور وہ مر جائیں گے اور مدد کے لیے کوئی نہ ہو گا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر میں اکیلا مر جاؤں تو میری لاش کون اٹھائے گا؟‘
Screenshot/Moonshot Technologiesآپ کو ہر دو دن بعد ایپ کے ایک بڑے بٹن پر کلک کرنا ہو گا تاکہ تصدیق ہو سکے کہ آپ زندہ ہیں
ولسن ہو 38 سال کے ہیں اور اپنے خاندان سے تقریبا 100 کلومیٹر دور رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ وہ دارالحکومت بیجنگ میں کام کرتے ہیں۔
وہ ہفتے میں دو بار اپنی بیوی اور بچے کے پاس واپس آتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اس وقت انھیں ان سے دور رہنا پڑتا ہے جب کسی پروجیکٹ پر کام کرنا ہو اور زیادہ تر وہ سائٹ پر ہی سوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے فکر ہے کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہو گیا تو میں اس جگہ میں اکیلا مر سکتا ہوں جہاں میں کرائے پر رہتا ہوں اور کسی کو پتہ بھیں نہیں چلے گا۔‘
’اسی لیے میں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اپنی ماں کو ایمرجنسی رابطے کے طور پر سیٹ کیا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ایپ کی ریلیز کے فوری بعد اسے ڈاؤن لوڈ کیا تھا۔
کچھ لوگوں نے جلد ہی اس ایپ کے نام پر تنقید شروع کر دی اور ان کے بقول اس سے بدقسمتی آ سکتی ہے۔
دوسروں نے کہا کہ اسے زیادہ مثبت انداز میں تبدیل کیا جائے، جیسے ’کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘ یا ’آپ کیسے ہیں؟‘ اور اگرچہ اس ایپ کی کامیابی جزوی طور پر اس کے نام کی وجہ سے ہے، اس ایپ کے پیچھے موجود کمپنی ’مون سکیپ ٹیکنالوجیز‘ نے کہا ہے کہ وہ موجودہ نام پر تنقید کو قبول کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ہجوم میں بھی تنہائی: کیا واقعی اردگرد موجود لوگ آپ کے اکیلے پن کا باعث بنتے ہیں؟’نوجوانوں میں تنہائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے`’نمونوں میں کوئی نشہ آور یا زہریلی چیز نہیں پائی گئی‘: اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے جڑے اہم سوالوں کے جوابپاکستانی اداکاراؤں کی کئی روز پرانی تعفّن زدہ لاشیں اور شوبز میں احساس تنہائی: ساتھی فنکار کیا کر سکتے ہیں؟
یہ ایپ، جو بین الاقوامی سطح پر ڈیمومو کے نام سے درج ہے، امریکہ، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں ٹاپ ٹُو میں اور آسٹریلیا اور سپین میں ادائیگی شدہ یوٹیلیٹی ایپس کے لیے ٹاپ فور میں شامل ہے۔ ممکنہ طور پر اسے بیرون ملک رہنے والے چینی صارفین ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔
موجودہ نام ایک کامیاب فوڈ ڈیلیوری ایپ ’آر یو ہنگری‘ یعنی کیا ’آپ بھوکے ہیں‘ جیسا ہے۔
Screenshot/Moonshot Technologiesایپ آپ کے ایمرجنسی نمبر پر آپ کی غیر موجودگی کی اطلاع دیتی ہے
یہ ایپ پہلے ایک مفت ایپ کے طور پر لانچ کی گئی تھی لیکن اب یہ ادائیگی والی کیٹیگری میں آ گئی ہے، اگرچہ اس کی قیمت بہت کم یعنی صرف آٹھیوان یعنی 1.15 ڈالر ہے۔
’کیا آپ مر چکے ہیں‘ کے بانیوں کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ وہ تین افراد ہیں جو 1995 کے بعد پیدا ہوئے اور انھوں نے یہ ایپ صوبہ ہینان کے شہر ژینگژو سے ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ بنائی۔
ان میں سے ایک، جن کا نام مسٹر گو ہے، نے چینی میڈیا کو بتایا کہ وہ کمپنی کے 10 فیصد حصے کو ایک ملین یوان میں بیچ کر رقم جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ اس محض ایک ہزار یوان کی رقم سے کہیں زیادہ ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ایپ بنانے پر خرچ ہوئی۔
وہ اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک نئی پروڈکٹ کے تصور پر غور کر رہے ہیں جو خاص طور پر بزرگوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہو، ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کا پانچواں حصہ 60سال سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ وہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رے ہیں، انھوں نے ہفتے کے آخر میں پوسٹ کیا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ لوگوں سے اپیل کی جائے کہ وہ گھر میں رہنے والے بزرگوں پر توجہ دیں، انھیں زیادہ دیکھ بھال اور سمجھ بوجھ دیں۔ ان کے خواب ہیں، وہ جینے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں دیکھنے، عزت دینے اور تحفظ ملنے کا حق ہے۔‘
کمپنی نے بی بی سی کی جاننب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
پاکستانی اداکاراؤں کی کئی روز پرانی تعفّن زدہ لاشیں اور شوبز میں احساس تنہائی: ساتھی فنکار کیا کر سکتے ہیں؟فلیٹ سے خاتون کی ڈھائی سال پرانی لاش برآمد: ’میں فون کر کے کہتی رہی کہ فلیٹ سے مردے کی بو آ رہی ہے‘دنیا کے ’تنہا ترین‘ شخص کی موتغار سے ملنے والی وہ لاش جس کی شناخت 47 برس بعد ہوئی مگر وہ شخص کون تھاہجوم میں بھی تنہائی: کیا واقعی اردگرد موجود لوگ آپ کے اکیلے پن کا باعث بنتے ہیں؟’نمونوں میں کوئی نشہ آور یا زہریلی چیز نہیں پائی گئی‘: اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے جڑے اہم سوالوں کے جواب