جنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 28, 2026

US Department of Justiceمراکش کے پرتعیش علاقے میں واقع 'بن النخیل‘ کو ایک فنِ تعمیر کا شاہکار قرار دیا گیا ہے

گذشتہ ماہ امریکی محکمہ انصاف نے جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے متعلقجو دستاویزات شائع کیں ان میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2019 میں اپنی گرفتاری سے محض ایک دن قبل مراکش میں کروڑوں ڈالر مالیت کا ایک محل خریدنے کی کوشش کی تھی۔

ایپسٹین 2011 سے ’بن النخیل‘ نامی اس محل کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن قیمت اور خریداری کے طریقۂ کار پر فروخت کنندہ کے ساتھ ان اختلافات کئی برسوں تک جاری رہے۔

فنِ تعمیر کا شاہکار قرار دیا جانے والا یہ شاندار محل مراکش شہر کے پرتعیش علاقے پالمری میں واقع ہے۔ نفیس نقش و نگار اور خوبصورت موزایک سے آراستہ اس محل کو 1300 کاریگروں نے تعمیر کیا تھا۔

ایپسٹین نے اپنی گرفتاری سے ایک دن پہلے یعنی پانچ جولائی 2019 کو 14.95 ملین ڈالر (11 ملین پاؤنڈ) کی وائر ٹرانسفر پر دستخط کیے تھے۔

اس سے قبل ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ وہ اس جائیداد کی ملکیت رکھنے والی آف شور کمپنی کو خریدیں گے جس کے لیے 18 ملین یورو (13.3 ملین پاؤنڈ) ادا کیے جائیں گے۔

Reutersایپسٹین 2011 سے بن النخیل نامی محل خریدنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم قیمت اور خریداری کے طریقۂ کار پر اختلافات کئی برسوں تک جاری رہےBBCایپسٹین نے پانچ جولائی 2019 کو اس جائیداد کے لیے 14.95 ملین ڈالر کی وائر ٹرانسفر پر دستخط کیے

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق گرفتاری سے قبل یہ ایپسٹین کی جانب سے سب سے بڑا مالی لین دین تھا جس کے لیے انھوں نے پانچ جولائی 2019 کو 14.95 ملین ڈالر کی وائر ٹرانسفر پر دستخط کیے تاہم تین دن بعد ان کے اکاؤنٹنٹ رچرڈ کون نے یہ ٹرانسفر منسوخ کر دیا اور یوں خریداری کبھی مکمل نہ ہو سکی۔

مراکش اور امریکہ کے درمیان حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہ ہونے کے باعث مقامی میڈیا نے قیاس آرائی کی کہ ایپسٹین کی اس جائیداد کو خریدنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ اگر ان پر مزید الزامات عائد کیے جاتے تو وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے مراکش میں پناہ لے سکیں۔

تاہم ایپسٹین کے ایک سابق ساتھی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ لین دین اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایپسٹین کو اپنی گرفتاری کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق ’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی جگہ کے بارے میں سوچ رہے تھے جہاں وہ اب بادشاہوں جیسی زندگی گزار سکیں۔‘

تاہم ان فائلوں میں کہیں بھی ایسا ذکر موجود نہیں کہ ایپسٹین نے مراکش کو امریکی حکام سے بچنے کے لیے ممکنہ پناہ گاہ کے طور پر سوچا ہو۔

US Department of Justice اس محل کی تعمیر میں تین سال لگے جبکہ 1300 کاریگروں نےحصہ لیا

ایپسٹین کے مراکش سے تعلقات کا سلسلہ کم از کم دو ہزار کی دہائی کے اوائل تک جا ملتا ہے۔

جیفری ایپسٹین پر الزام لگانے والوں میں شامل ورجینیا جیوفری اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ ایپسٹین اور گزلین میکسویل انھیں طنجہ لے گئے تھے تاکہ وہ کئی پرتعیش عمارات کے اندرونی ڈیزائن کا معائنہ کر سکیں۔

اس وقت ایپسٹین جزیرے پر موجود اپنی رہائش گاہ کے کچھ حصوں کو مراکشی طرز میں دوبارہ ڈیزائن کرنا چاہتے تھے۔

جیفری ایپسٹین کے تعلقات

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں امریکہ میں نابالغ لڑکیوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ 2010 میں نظر بندی (ہاؤس اریسٹ) سے رہائی کے بعد ان کی مراکش میں دلچسپی مزید بڑھتی دکھائی دی۔

محکمہ انصاف کی جاری کردہ فائلوں کے مطابق اسی سال ایپسٹین نے برطانیہ کے سابق لیبر کابینہ وزیر پیٹر مینڈلسن سے کہا تھا کہ وہ ان کے لیے ایک ایسا معاون تلاش کریں جو مراکش میں ان کے لیے گھر ڈھونڈنے میں مدد کر سکے۔

PAبرطانوی سیاستدان پیٹر مینڈلسن سے 2010 میں ایپسٹین نے مراکش میں گھر ڈھونڈنے میں معاونت چاہیرومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟ ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟اینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب واپس لیے جانے کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟

امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2012 سے مراکش کے متعدد دورے کیے اور اس دوران وہ مراکش کے پرتعیش علاقے پالمری میں قیام کرتے۔

مراکش کا یہ علاقہ غیر ملکی دولت مند افراد کی کمیونٹی کا مرکز ہے جن میں قطری شاہی خاندان کے جابر الثانی بھی شامل ہیں، جو ایپسٹین کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور جنھیں وہ اپنے ’عرب بھائی‘ کے نام سے پکارتے۔

یہ بات واضح رہے کہ ایپسٹین کی فائلوں میں کسی کا ذکر ہونا یا تصویر موجود ہونا بذاتِ خود کسی غلط کام کی نشاندہی نہیں ہے۔

’بن النخیل‘ میں دلچسپی

کارینا شُلیاک ایک طویل عرصے تک ایپسٹین کی گرل فرینڈ رہیں اور اس دوران انھوں نے مراکش کے مشہور شہر مراکش میں جائیداد تلاش کرنے کی قیادت سنبھالی تھی۔

ای میلز میں ان کے نام سے متعدد دوروں اور مذاکرات کی تفصیلات درج ہیں۔

کنسنگٹن لگژری پراپرٹیز کے پارٹنر مارک لیون نے بی بی سی کو بتایا کہ ایپسٹین کی توجہ 2011 ہی میں ان کی جائیداد بن النخیل' پر مرکوز ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ عربی زبان میں بن النخیل کا مطلب ’کھجور کے درختوں کے درمیان‘ ہے۔

جرمن ویسٹ انڈسٹری کے سرمایہ کار گنٹرکس کی ملکیت میں موجود محل اس وقت 55 ملین یورو کی قیمت پر ایپسٹین کو بہت مہنگا لگا۔

ایپسٹین کے قریبی سمجھنے والے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس محل کے لیے ایپسٹین کی ابتدائی پیشکش اتنی کم تھی کہ گنٹر کس ناراض ہو گئے اور انھوں نے دوبارہ ایپسٹین سے کوئی معاملہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد ایپسٹین نے اپنی گرل فرینڈ کارینا شُلیاک اور مراکش میں اپنے تعلقات کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے اس جائیداد کے مزید معائنے کروائے۔

2018 میں ایپسٹین نے خود بھی اس محل کا دورہ کیا اور اس کے بعد شُلیاک نے اس جائیداد پر حتمی بولیاں لگائیں۔

اس دوران وہ یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ ایپسٹین کے ارب پتی دوست اور سرمایہ کار لیون بلیک کی جانب سے کام کر رہی ہیں تاہم جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ اصل خریدار ایپسٹین ہی ہیں۔

ای میلز میں موجود تفصیلات اور ایپسٹین کے ایک قریبی ذرائع کے مطابق یہ بات سامنے آنے کے بعد گنٹرکس نے اس محل کی فروخت پر بات چیت جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔

US Department of Justiceمحل میں موجود تالابوں میں سے ایک

محکمہ انصاف کی جاری کی گئی فائلوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک موقع پر کنسنگٹن لگژری پراپرٹیز نے ایپسٹین کو ’فروخت اور ٹیکس حکمتِ عملی‘ کی تجویز بھی دی تھی۔

اس منصوبے کے تحت جائیداد کو مراکشی حکام کے پاس 10 ملین یورو میں فروخت شدہ کے طور پر رجسٹر کیا جانا تھا جبکہ اصل لین دین 20 ملین یورو کا ہونا تھا جو اس آف شور کمپنی کے شیئرز کے لیے تھا جس کی ملکیت میں یہ جائیداد موجود تھی۔

دستاویزات کے مطابق اس طریقے کار سے ایپسٹین کو یہ سہولت حاصل ہو جاتی کہ وہ جائیداد کے کاغذات میں اپنا نام درج کرا سکیں اور ساتھ ہی مراکشی حکام کو ادا کیے جانے والے ٹیکس میں کمی کر سکیں۔

تاہم بی بی سی کے سوال کے جواب میں کنسنگٹن لگژری پراپرٹیز نے دعویٰ کیا کہ ٹیکس کم کرنے کی کوئی غیر اخلاقی یا غیر قانونی کوشش نہیں کی گئی تھی۔

مارک لیون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لین دین کسی بھی ٹیکس ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتا تھا۔ جیفری ایپسٹین مراکش میں جائیداد کو اپنے نام پر رکھنے کے لیے رجسٹریشن فیس ادا کرنا چاہتے تھے حالانکہ وہ اس کے پابند نہیں تھے۔‘

اس وقت یہ کمپنی برطانیہ میں قائم مشہور نیلام گھر کرسٹیز کی مقامی رئیل سٹیٹ نمائندہ تھی۔

بالآخر ایپسٹین نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف اس آف شور کمپنی کے شیئرز خرید کر جائیداد حاصل کریں گے اور 2019 میں اپنی گرفتاری کے وقت وہ اس بات کا تعین کرنے کے عمل میں تھے کہ اس پرتعیش محل کو مراکش میں کس طرح رجسٹر کرایا جائے۔

رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟ ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟اینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب واپس لیے جانے کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟ترکی میں ایپسٹین کی ’مساج گرل‘: ڈی پی ورلڈ کے سربراہ کا استعفیٰ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم سے مبینہ روابط کی کہانی’میرے عرب چچا‘: ایپسٹین فائلز میں قطر اور اسرائیل کو قریب لانے کی کوششوں کا احوال
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More