BBCکراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کے لواحقین اب کسی معجزے کے منتظر ہیں
19 سالہ شعیب سنیچر کی رات سے کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ کے باہر اس امید پر موجود ہیں کہ ان کے چچا زاد بھائی فیضان اور اُن کے علاقے (نیو گولی مار) سے تعلق رکھنے والے اُن کے لاپتا دوست احباب کی کوئی خبر انھیں مل جائے۔
شعیب خود بھی گُل پلازہ کی دوسری منزل پر واقع ڈیکوریشن کی ایک دکان پر کام کرتے تھے تاہم خوش قسمتی سے وہ اس المناک حادثے کے دوران اس عمارت سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
یاد رہے کہ سنیچر کی شب گُل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں حکام کے مطابق اب تک کم از کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں اب بھی لاپتا ہیں۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لاپتا افراد کے لواحقین کی اُمیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت عمارت میں کولنگ کا عمل جاری ہے جس کے باعث لاپتا افراد کی تلاش کے عمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بی بی سی نے بات کرتے ہوئے شعیب نے بتایا کہ سنیچر کی شب جب پلازے میں آگ لگنے کی شروعات ہوئیں تو وہ وہاں اپنے چچا زاد بھائی فیضان (جو اسی پلازے میں کام کرتے ہیں) اور نیو گولی مار کے رہائشی دیگر اپنے جاننے والوں کے ہمراہ کام میں مصروف تھے۔
شعیب کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب لگ بھگ 10 بجے کا وقت تھا جب اُن کے فلور تک اطلاع پہنچی کہ نیچے والی منزل میں کسی مقام سے دھواں نکل رہا ہے۔ ’بہت سے گاہک اور دکاندار نیچے والی منزلوں پر اوپر آ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ نیچے آگ لگ چکی ہے۔ ابھی میں صورتحال سمجھ ہی رہا تھا کہ سیٹھ نے کہا کہ دکان بند کرو اور یہاں سے نکلو۔‘
شعیب کا کہنا تھا کہ ’ابھی میں دکان بند ہی کر رہا تھا کہ اچانک دھواں زیادہ ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھواں اتنا بڑھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور اس دوران بھگڈر بھی شدید تر ہو چکی تھی۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، بس سب لوگ اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔ مجھے پلازے سے باہر نکلنے کے کچھ راستے پتا تھے۔ میں ایک راستے کی طرف نکلا تو وہ بند تھا جبکہ دوسرے راستے پر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور وہاں لوگ بہت زیادہ تھے۔‘
شعیب کے مطابق ’میں واپس پلٹاتو پتا نہیں کیسے مجھے شیشے لگا، اس وقت دھواں اتنا زیادہ ہوا کہ میں گر کر اپنے حواس کھو بیٹھا۔ پھر مجھے نہیں پتا کہ کون وہاں سے مجھے اٹھا کر لایا۔ باہر آ کر تھوڑی دیر بعد میرے حواس بحال ہوئے۔‘
شعیب سنیچر کی شب سے گُل پلازہ کے باہر موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں روزانہ صبح گولی مار سے اپنے چچا زاد بھائی اور دیگر دوستوں کے ہمراہ کام پر آتا اور واپس جاتا تھا۔ اب اُن کے بغیر گھر واپس جانے کا دل نہیں کر رہا ہے، اسی انتظار میں ہوں کہ شاید ان کو زندہ عمارت سے نکال لیا جائے۔‘
شعیب کے مطابق اُن کے فون کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے کیونکہ فیضان کے اہلخانہ اور دیگر محلے داروں کے لواحقین پوچھتے رہتے ہیں کہ ’بیٹا کچھ پتا چلا۔ مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔‘
شعیب کے مطابق عمارت سے باہر نکل کر جب اُن کے اوسان بحال ہوئے تو انھوں نے اپنے کزن فیضان کو فون کیا جس نے بتایا کہ ابھی باہر بہت دھواں ہے، اس لیے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔ شعیب کے مطابق اس کے بعد ان کا اپنے کزن سے رابطہ ختم ہو گیا اور اب بھی اس کی تلاش کا کام جاری ہے۔
شعیب نے بتایا کہ جب وہ باہر نکلنے کی تک و دو میں مصروف تھے تو اُن کے ساتھ ان کی پڑوس میں واقع دکان کا ملازم عبدالقیوم بھی تھا۔ ’میں نے اور عبدالقیوم نے ایک ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کی تھی۔ میں تو بے ہوش ہو گیا اور باہر نکال لیا گیا مگر عبدالقیوم کا ابھی تک کچھ پتا نہیں ہے۔‘
Reutersلاپتا افراد کے لواحقین گُل پلازہ کے باہر بڑی تعداد میں موجود ہیں’بھائی نے ماں کو بھی فون کیا کہ کوئی مجھے آگ سے بچا لے‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی کے ہارون نامی شہری نے بتایا کہ جب آگ لگی تو اُس وقت پلازے کے اندر ان کے تین بھائی موجود تھے، جن میں سے دو تو باہر نکل آئے مگر تیسرے بھائی اب بھی لاپتا ہیں اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی ہے۔
ہارون کے مطابق ’پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انھوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انھیں بچا نہ سکا۔‘
اسی پلازے میں کراچی کے رہائشی محمد حسین کے بھتیجے محمد عارف بھی تھے، جو برتنوں کی ایک دکان پر کام کرتے تھے۔ محمد حسین نے بتایا کہ اُن کے بھتیجے کا فون صبح گیارہ بجے سے بند ہے۔ ان کے مطابق ’اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا تھا۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’گذشتہ کچھ عرصے کے بعد یہ تیسری بار ہے کہ کراچی صدر کے علاقے میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟‘
عبدالطیف اور ان کے چند قریبی رشتہ دار گُل پلازہ میں دکانوں کے مالک ہیں۔ عبدالطیف کے دو بھانجے اور سگے بھائی نعمت اور عبداللہ، جو ایک ہی دکان کرتے تھے، لاپتا ہیں۔
عبدالطیف نے بتایا کہ اُن کے بھائی نعمت کی عمر 23 سال ہے اور وہ شادی شدہ اور ایک بچی کا باپ ہے جبکہ عبداللہ کی عمر صرف 15 سال ہے۔
عبدالطیف بتاتے ہیں کہ وقوعہ کی رات ان کی اپنے بھائی عبداللہ سے فون پر بات ہوئی تھی جس نے بتایا گیا کہ اسے باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے۔ ’میں نے اس سے کہا کہ کمیٹی والے راستے سے نکلنے کی کوشش کرو۔۔۔ اس کے بعد میں فون کالیں کرتا رہا مگر میری ان میں سے کسی سے کوئی بات نہیںہوئی۔‘
انھوں نے کہا کہ اب وہ اپنے دونوں بھائیوں اور دو بھانجوں کے حوالے سے مثبت خبر آنے کی توقع اور دعا کر رہے ہیں۔
کراچی کی تنگ گلیوں میں کثیرالمنزلہ مخدوش عمارتیں اور ’پگڑی‘ کا نظام: ’اب سر پر چھت نہیں رہی، اِس بڑھاپے میں کہاں جاؤں‘کراچی کی آلودہ ساحلی پٹی: ’ایک وقت تھا ہم یہاں بال دھوتے تھے، اب یہ مٹی پاؤں پر لگ جائے تو کئی روز کالک نہیں جاتی‘کراچی میں بچے کی گٹر میں گر کر ہلاکت: میئر کراچی اہلخانہ سے معافی کے طلبگار، اسسٹنٹ کمشنر سمیت متعدد افسران معطل’استغفر اللہ، مجھے کراچی پسند نہیں‘: صبا قمر کا وہ بیان جس سے ’روشنیوں کے شہر‘ میں رہنے والے ناراض ہو گئے
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ سنیچر کی شب دس بجے کے بعد گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سینکڑوں افراد پلازے میں موجود تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو پلازے سے باہر نکلنے میں مدد کی۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’میری دکانیں، میری آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم ان دکانوں سے سامان بھی نہیں نکال سکے۔ بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘
Reutersحکام نے اب تک 14 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
زین کے بقول اُن کی گل پلازہ میں بیگز کی تین دکانیں ہیں، جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔
گُل پلازہ کے سفیان نامی ایک اور دکاندار کہتے ہیں کہ اُن کی پلازہ کے گرنے والے حصے میں جیولری کی دکان تھی۔
سفیان کا کہنا تھا کہ اُن کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے، جن کا تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔
زین کے مطابق گل پلازہ کے بہت سے داخلی دروازے ہیں اور آگ لگنے کے بعد ریسکیو اہلکار کسی بھی راستے سے اندر جا کر آگ بجھانے کی کوشش کر سکتے تھے، لیکن ان کے پاس مطلوبہ سامان ہی نہیں تھا جس سے وہ اتنے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر قابو پا سکتے۔
20 سالہ عامر کی عید کے بعد شادی تھی
گُل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث ہلاک ہونے والوں میں 20 سالہ عامر بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ عید الفطر کے بعد اُن کی شادی تھی۔
عامر کے بھائی آصف کا کہنا ہے کہ جب پلازے میں آگ لگی تو عامر نے فون پر اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور فی الحال باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آصف کے بقول اس کے بعد سے عامر سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
’ہم ہسپتال گئے اور وہاں اُسے تلاش کیا، لیکن کچھ پتا نہیں چلا، اس کے بعد ہم واپس گُل پلازہ آئے۔ وہاں کچھ لاشیں موجود تھیں، جن میں سے ایک عامر کی تھی۔‘
اُن کے بقول عید کے بعد عامر کی شادی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور وہ پورے گھر میں خوشی کا ماحول تھا، جو اب غم میں بدل گیا ہے۔
لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 27 ہلاکتیں: سندھ حکومت کا متاثرین کو فی کس دس لاکھ روپے دینے کا اعلان’کھلے مین ہول یا نالے میں رات کو ہرگز مت گریں‘کراچی میں لگژری گاڑیاں چھیننے والے گروہ کا مبینہ سرغنہ پولیس کانسٹیبل ’چھوٹی سے غلطی‘ کی وجہ سے کیسے پکڑا گیا؟کراچی جو کبھی خونخوار تیندووں کے شکار کا ’بہترین مقام‘ تھا