انتباہ: اس تحریر میں کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے باعث تکلیف ہو سکتی ہیں
پاکستان کے صوبہِ سندھ کی کراچی پولیس کو فرانزک لیبارٹری سے ایک اطلاع ملی جس میں کہا گیا کہ کراچی کے مختلف تھانوں میں سات بچوں کے ساتھ درج ریپ کے مقدمات میں متاثرہ بچوں کے ڈی این اے نمونے ایک ہی شخص کے ہیں۔۔۔ یعنی ان سات بچوں سے ریپ کا ملزم ایک ہی شخص ہے۔
یہ ایک چونکا دینے والی اطلاع تھی۔
جس پر کراچی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے ایک سات رکنی اعلیٰ تفتیشی ٹیم قائم کرکے ملزم کی نشان دہی کرنے اور گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
اس تفتیشی ٹیم نے کراچی کے مختلف اضلاع جس میں ضلع ایسٹ کے تھانوں میں دو مقدمات، ملیر میں ایک اور ساؤتھمیں درج تین مقدمات کے تفتیشی افسران کو الگ الگ طلب کرکے سب سے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت پر معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ ان سب مقدمات میں بنیادی معلومات ایک ہی ہیں۔
ان معلومات کے مطابق ’ملزم بچے کو موٹر سائیکل پر ملیر ندی کے علاقے میں لے کر جاتا تھا، بھلانے پھسلانے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا اور ہر واردات ویک اینڈ پر ہوتی تھی۔‘
ملزم ’بچے کو جہاں سے بھلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے کر جاتا، زیادہ تر کو واپس وہیں پر چھوڑتا تھا۔‘
یہ مقدمات 2020 سے لے کر 2025 تک درج ہوئے تھے۔
لالچ، چاقو سے ڈرانا اور تشدد: مقدمات کی تفصیل
پہلا مقدمہ سال 2020 میں ضلع ملیر کے تھانے شرانی گوٹھ میں درج کیا گیا تھا۔
اس مقدمے کی درج ایف آئی آر میں مدعی کا کہنا تھا کہ ’میرا بھتیجا جس کی عمر بارہ سال ہے وہ اپنے بھائی کے ساتھمدرسے میں پڑھتا تھا۔ واپسی کے وقت قائد آباد چوک میں ایک شخص نے کہا کہ ’میں نے گھر میں طوطے پال رکھے ہیں، میرے ساتھ آؤ میں تمھیں طوطے بھی دوں گا اور ساتھ میں پچاس پچاس روپیہ بھی دوں گا‘ پھر دونوں بھائیوں کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر ندی کے نیچے ریلوے لائن کراس کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کو اتار دیا اور کہا کہ ’تم انتظار کرو بھائی کو طوطے دے کر واپس بھجتا ہوں۔‘‘
درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’بھتیجے کو ندی میں اتارا اور جیب سے چاقو نکال کر اس کے ساتھ زبردستی ریپ کیا۔‘
ایک دوسرے مقدمے جو کہ سال 2022 میںضلع ساؤتھ کے تھانہ ڈیفینس میں درج کیا گیا ہے، یہ ریپ کا نشانہ بننے والے بچے کی والدہ کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’میرا بیٹا جس کی عمر چودہ سال ہے، اپنے دوست کے ہمراہ واپس آرہا تھا کہ رات تقریباً دس بجے کے قریب ایک شخص نے دونوں کو لالچ دے کر موٹر سائیکل پر بیٹھایا اور بیٹا کافی دیر تک لاپتا رہا۔ جس پر 15 اور پولیس کو اطلاع دی۔ بیٹا رات تقریباً دو بجے واپس آیا تو اس کا دائیاں بازو ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چاقو دکھا کر زبردستی ریپ کیا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ جیب میں موجود پیسے بھی چھین لیے۔‘
ضلع ایسٹ کے تھانہ محمود آباد میں درج مقدمہ متاثرہ بچے کے والد کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ’میرے بارہ سال کے بیٹے کو 24/25 سال کے موٹر سائیکل سوار نوجوان نے کہا کہ میں نے پرندوں کا پنجرہ لانا ہے میرے ساتھ بیٹھ جاؤ۔جب بیٹا بیٹھ گیا تو اس نے راستے میں کہا کہ اگر اترے تو میں تمھاری ہڈیاں توڑ دوں گا۔‘
درج مقدمے میں کہا گیا ہے ’وہ شخص ان کے بیٹے کو قیوم آباد سے آگے جھاڑیوں میں لے گیا جہاں پر اس کے ساتھ زبردستی ریپ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا تاہم اس کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
لاہور میں سال 2018 میں ریپ کا مقدمہ دعج ہوا جس میں والد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ’ان کا بیٹا اپنے دو دوستوں کےہمراہ داتا دربار پر سلام کرنے گیا تھا۔وہاں سے تین ملزماں (جس میں ایک ملزمکراچی میں گرفتار ملزم ہے) ہمیں لے کر بھاٹی گیٹ نزد شیش گھاٹی لے گے۔ جہاں پر انھوں نے میرے بیٹے کے دوست کو رسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنا کر ریپ کیا۔ پھر ہم دونوں کے ساتھ ریپ کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔‘
ان تمام مقدمات کا متن ملتا جلتا ہے۔ ’ملزم بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے کر جاتا۔ چاقو دکھا کر ڈراتا اور پھر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔‘
’میرا بچہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے‘
ایک بچہ جس کو تین سال پہلے کالا پل کے علاقے سے ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے والد ایک سپر سٹور پر سیلز مین کا کام کرتے ہیں۔
بچے کے والد نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میرے بچے کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔ اب وہ پندرہ سال کا ہو چکا ہے۔ جب وہ ریپ کا نشانہ بنا تو اس وقت اس کا شمار اپنے سکول میں لائق ترین طالب علموں میں ہوتا تھا۔ مجھے اس سے بڑی امیدیں تھیں۔ مگر اب اس کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ دیکھ نہیں سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ریپ کا نشانہ بننے کے بعد وہ کئی دن تک زیر علاج رہا۔ اس کو سکول نہیں بھیجا، کچھ دن گھر پر رکھا، مجھ سے جو ممکن تھا اپنے بیٹے کی دل جوئی کرنے کی کوشش مگر اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔ کچھ دن بعد کوشش کی کہ وہ سکول جائے تو اس نے انکار کیا۔ کسی نہ کسی طرح اس کو سکول بھیجا مگر اس کا پڑھائی میں بالکل دل نہیں لگتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے سکول کا لائق طالب علم ایک کلاس میں فیل ہو گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے بیٹے کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور غصہ آ چکا ہے۔ ہر وقت بہن بھائیوں سے لڑتا جھگڑا رہتا ہے۔ دوست بھی ختم ہو گئے ہیں۔ ماہر نفسیات کو دکھایا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس پر واقعہ کا بہت برااثر ہے اور اس پر نفیساتی اثرات ہیں جس سے باہر لانے کے لیے کچھ عرصہ علاج اور کونسلنگ کی ضرورت ہے‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں خود تو مزدور ہوں۔جتنا وقت ممکن ہوسکتا ہے دیتا ہوں مگر بیٹے کے ان مسائل نے رات کی نیند چھین لی ہے۔‘
ایس پی کراچی پولیس عثمان سدوزئی کا کہنا ہے کہ اب تک ہمارے پاس جتنے بھی کیس ہیں ان میں سب شکار بچوں کا تعلق غریبخاندانوں سے ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ملزم ’نفسیاتی مریض دکھائی دیتا ہے جو بچوں پر تشدد بھی کرتا تھا۔‘
ملزم کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری
ایس پی کراچی کراچی پولیس عثمان سدوزئی کا کہنا تھا کہپہلے مرحلے میں درج مقدمات اور اس کی تفتیش کہاں تک پہنچی، یہ جاننے کے لیے تمام سات مقدمات کے تفتیشی افسران سے الگ الگ تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں ہمارے لیے دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر واردات میں کچھ چیزیں بہت مشترک تھیں۔ سات مقدمات کی واردات ویک اینڈ پر ہوئی تھی۔ ہر بچے کو اپنے موٹر سائیکل پر بیٹھا گیا تھا اور اس کو کوئی نہ کوئی لالچ دیا گیا یعنی بھلایا پھسلایا گیا۔ اس میں سب سے زیادہ یہ کہا گیا کہ طوطے ہیں یا پرندے ہیں، وہ دیتا ہوں اور پیسے بھی دوں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کو ریپ کے لیے ملیر ندی میں لے جایا گیا جہاں پر آمد ورفت نہیں ہوتی ہے۔ بچے کو تشدد کا نشانہ بنا کر چاقو دکھایا جاتا تھا۔‘
عثمان سدوزئی بتاتے ہیں کہ ان اطلاعات پر فوری کاروائی شروع ہوئی۔ ’ملیر ندی ا ور اردگرد کے علاقے میں ملزم کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ایسےتمام مقامات جہاں پر ملزم نے اس سے قبل وارداتیں کیں تھیں، وہاں پر سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکاروں کو تعنیات کردیا گیا تھا۔تمام مقامات کی جیو فینسنگ کروائی گئی تھی۔ ہر طرف پولیس چوکس تھی۔‘
'رانا لائٹ بند کر دے': فیصل آباد پولیس ایک جملے کی بدولت گینگ ریپ کے ملزم تک کیسے پہنچی؟’پانچ گھنٹے موبائل بند اور سرکاری گاڑی میں خون کے دھبے‘: بیوی اور بیٹی کے قتل کے ملزم ڈی ایس پی پر لاہور پولیس کو شک کیسے ہوا؟ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے نامزد ملزم سے نہ ملنے پر پولیس اصل والد تک کیسے پہنچی؟اجنبیوں سے اپنی بیوی کا ریپ کروانے والا 71 سالہ شخص: وہ مقدمہ جس نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا
ان کا کہنا تھا کہ ’ملزم کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ پولیس اس کو تلاش کررہی ہے۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ جس میں ملزم بچے کو بھلا پھسلا کر اور پھر تشدد کرکےریپ کی کوشش کر رہا تھا کہ بچے نے شور شرابہ مچایا۔ پولیس اہلکار پہلے ہی فعال تھے لہذا ملزم کو فی الفور موقع ہی سے گرفتار کرلیا گیا۔‘
عثمان سدوزئی کہتے ہیں کہ ’ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد فوری طور اس سے اعلیٰ سطح پر تفتیش کی گئی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ جب ملزم سے سوال جواب کا آغاز ہوا تو اسی وقت معلوم ہو گیا تھا کہ ’یہ وہ ہی سیریل ریپسٹ ہے کیونکہ تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ بچوں سے بھی اس حوالے سے بات کی تھی اور اس کا ایک خاکہ بنایا گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تفتیش بہت تیزی سے شروع کر دی تھی۔ فورا ہی شناخت کا مرحلہ طے کیا۔ تمام سات متاثرہ بچوں کو بلایا گیا اور ملزم سے ملتے جلتے آٹھ دس لوگوں میں شناخت پریڈ ہوئی تو تمامبچوں نے اس کو فوراً شناخت کر لیا تھا۔جس سے ہمیں پتا چلا گیا کہ یہ ہی ریپسٹ ملزم ہے۔‘
ملزم کو جب ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا تو پتا چلا کہ اس پر پنجاب کے شہر لاہور اور ملتانمیں بھی آٹھمقدمات درج ہیں۔
ملتان پولیس کے ترجمان راؤ کاشف کے مطابق ’ملزم چوری کے ایک مقدمے میں مفرور ہے جبکہ دیگر مقدمات جو کہ لڑائی جھگڑے کے ہیں، ان پر اس کو عدالتوں سے رہائی ملی ہے۔ ملتان میں اس پر ریپ کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ تاہم لاہور میں ملزم کے خلاف چوری کے دو اور ریپ ایک مقدمہ درجہے جن میں وہ مفرور ہے۔‘
لاہور پولیس کے مطابقملزم کی حوالگی کے لیے کراچی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
ایک اور مقدمہاور ڈی این اے
عثمان سدروزئی کا کہنا تھا کہ ’اعلیٰ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا نوٹیفیکشن چھ جنوری کو ہوا تھا۔ اس کے بعد ملزم کے خلاف ایک اورمقدمہ درج ہوا اور اس میں جب ڈی این اے ہوا تو وہ بھی ملزم کانکلا۔ شناخت پریڈ کے بعد ہم نے فورا ملزم کا ڈی این کروایا تو یہ ثابت ہوا کہ یہ ہی سیریل ریپیسٹ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملزم پر اس وقت کراچی میں ’مجموعی طور پر نو مقدمات درج ہیں۔ ‘
انھوں نے بتایا کہ ملزم اس وقت ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش ہو رہی ہے تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس کے پاس ڈی این اے اور شناخت پریڈ کیصورت میں ناقابل تردید ثبوت ہیں۔‘
عثمان سدروزئی کا دعویٰ ہے کہ ملزم پرتشدد نفیساتی مریض ہے۔ اس مرحلے پر اس کی مکمل شناخت ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے تاہم اس پر ملتان اور لاہور میں مجموعی طو رپر آٹھ مقدمات درج ہیں اور یہ سب مقدمات لڑائی جھگڑے، چوری، راہزنی کے مقدمات ہیں۔ یہ سارے مقدمات 2018 سے لے کر 2020 کے دورانیے کے ہیں جبکہ 2020 کے بعد کے سارے مقدمات کراچی کے ہیں۔
Getty Imagesفائل فوٹو’ملزم کا نشانہ بننے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے‘
عثمان سدروزئی کا کہنا تھاملزم نے تفتیش کے دورانپولیس کو بتایا ہے کہ وہ ’ہر ویک اینڈ پر شکار کو تلاش کرتا تھا۔ بچوں کو بھلانے پھسلانے کے لیے وہ مختلف طریقے اختیار کرتا تھا۔‘
’وہ تاک کر ایسے بچوں کو نشانہ بناتا تھا جو غریب خاندانوں سے ہوتے تھے۔ ان کو وہ ٹافی، کھانے پینے کی چیز دلانے، سائیکل، موٹر سائیکل کی سیر کروانے اور پرندے و طوطے دینے کے ساتھ پیسے دینے کا لالچ دیتا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ملزم نے پولیس کے سامنے اقرار کیا ہے کہ کراچی میں رہائش کے دوران اس نے درجنوں بچوں کو اسی طرح ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔‘
’بچوں کو شکار بنانے کا طریقہ ایک جیسا تھا۔ عموماً اس کا شکار غریب اور متوسط طبقے کے بچے ہوتے تھے۔ کافی سے زیادہ بچے ایسے بھی ہوں گے جنھوں نے ریپ کا نشانہ بننے کے بعد ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنے والدین کو نہیں بتایا ہو گا اور شاید کئی خاندانوں نے مقدمات بھی درج نہ کروائے ہوں۔‘
عثمان سدورزئی کا کہنا تھا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ملزم سے ریپ کا نشانہ بننے والے بچوں کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ ’مگر ملزم جس بچے کو ایک مرتبہ ریپ کا نشانہ بناتا تھا، دوبارہ کچھ عرصے کے لیے اس گلی، محلے یا بازار کی طرف نہیں جاتا تھا اور نئے مقام پر اپنا شکار تلاش کرتا تھا۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’پولیس اپنی تفتیش سے پوری طرح مطمئن ہے۔ اور واضح ثبوت موجود ہیں۔‘
عثمان سورزئی کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ ملزم کا تعلق کس علاقے سے ہے۔
کراچی پولیس نے ملزم کو 21 دسمبر کو عدالت میں پیش کر کے اس کا چار روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
اس موقع پر پراسیکوٹر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کم از کم آٹھ ریپ کیسز میں ملزم کا ڈی این اے ثابت ہو چکا ہے جبکہ ملزم مزید واقعات میں بھی ملوث ہے جس کی تفتیش اور معلومات حاصل کرنی ہیں۔ جس پر عدالت نے ملزمکو چار روز کے لیے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا۔
ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے نامزد ملزم سے نہ ملنے پر پولیس اصل والد تک کیسے پہنچی؟بچوں کے ریپ کے پریشان کن اعدادوشمار19 بچوں اور خواتین کے قتل، ریپ اور آدم خوری پر سزائے موت پانے والا ملزم 20 برس بعد کیسے رہا ہوا؟’یہ خوف و دہشت کا کمرہ ہے‘: چائلڈ کیئر سینٹر کے سابق ملازم نے درجنوں بچوں کے ریپ کا اعتراف کر لیااجنبیوں سے اپنی بیوی کا ریپ کروانے والا 71 سالہ شخص: وہ مقدمہ جس نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا'رانا لائٹ بند کر دے': فیصل آباد پولیس ایک جملے کی بدولت گینگ ریپ کے ملزم تک کیسے پہنچی؟