ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 24, 2026

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ کئی مراحل میں ہونے والے مذاکرات اور مختلف ڈرامائی صورتحال کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور عبوری حکومت نے انڈیا میں ہونے والا ورلڈ کپ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم بی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ لیکن ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف دو ہفتے باقی رہ جانے کے باعث آئی سی سی واضح کر چکی ہے کہ اس مرحلے پر کسی قسم کی تبدیلی عملاً ممکن نہیں۔

آئی سی سی کے عالمی ایونٹس کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، اس کے کھلاڑیوں اور دیگر متعلقہ افراد کو نمایاں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، کھلاڑیوں، کوچنگ سٹاف اور مینجمنٹ کو مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ ٹکا ملنے تھے، جو امریکی ڈالر میں تقریباً تین لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کوئی ٹیم ٹاپ 12 میں جگہ بناتی ہے تو اسے ساڑھے پانچ کروڑ ٹکا سے زائد کی رقم ملتی، جو ڈالر میں تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے برابر ہے۔

اگر بنگلہ دیش باضابطہ طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا مالی اثر کھلاڑیوں پر پڑے گا۔ وہ میچ فیس، پرفارمنس بونس اور انعامی رقم کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذاتی آمدنی میں بھی نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔

اس صورتِ حال میں مالی نقصان کا سامنا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو بھی کرنا پڑے گا۔ آئی سی سی کی جانب سے شرکت فیس کے طور پر تین لاکھ سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ملنے کی توقع تھی، جو اب حاصل نہیں ہو سکے گی۔ بنگلہ دیشی کرنسی میں یہ رقم تقریباً چار سے چھ کروڑ ٹکا بنتی ہے، جو بورڈ کے لیے ایک بڑا مالی خسارہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ عالمی کرکٹ کے سب سے منافع بخش ٹورنامنٹس میں سے ایک ہے۔ اس ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ، دونوں پر ہی اس کے مالی اثرات نمایاں ہوں گے۔

بنگلہ دیش کی عدم شرکت سے نشریاتی اور اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ خطے میں بنگلہ دیش کے میچز عام طور پر ٹیلی ویژن پر اچھی خاصے ناظرین کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان میچز کے نہ ہونے سے ٹی آر پی میں کمی کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشتہارات کے تقسیم کار اداروں اور سپانسرز کی دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے۔

سابق کرکٹرز اور مبصرین پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر بنگلہ دیش کے میچز کم ہوئے تو ٹورنامنٹ کی مجموعی تجارتی قدر میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے کرکٹرز ایک بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے پر کم از کم ڈھائی لاکھ ٹکا فی میچ معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سنہ 2024 ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سب سے زیادہ انعامی رقم والا ایڈیشن تھا۔ یہ ٹورنامنٹ اپنے نویں ایڈیشن میں 20 ٹیموں پر مشتمل تھا، جو 28 دنوں میں ویسٹ انڈیز اور امریکہ کے نو مختلف مقامات پر کھیلا گیا، جس کے باعث یہ اب تک کا سب سے بڑا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بن گیا۔

ٹورنامنٹ کی رنر اَپ ٹیم کو کم از کم 12 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر انعامی رقم دی گئی۔ سیمی فائنل میں شکست کھانے والی دونوں ٹیموں کو سات لاکھ 87 ہزار 500 ڈالر فی ٹیم ملے۔ دوسرے مرحلے سے آگے نہ بڑھنے والی ٹیموں کو تین لاکھ 82 ہزار 500 ڈالر دیے گئے۔

نویں سے بارہویں پوزیشن حاصل کرنے والی ہر ٹیم کو دو لاکھ 47 ہزار 500 ڈالر ملے، جبکہ تیرہویں سے بیسویں نمبر پر رہنے والی ٹیموں کو دو لاکھ 25 ہزار ڈالر دیے گئے۔

اس کے علاوہ، سیمی فائنل اور فائنل کے علاوہ ہر میچ جیتنے پر ٹیموں کو اضافی 31 ہزار 154 ڈالر بھی ادا کیے گئے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کے فیصلے کے باوجود بنگلہ دیش کا انڈیا میں میچز کھیلنے سے انکار ٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑیآئی سی سی نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا: بنگلہ دیشی بورڈبنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیاآئی سی سی کو نقصان کیسے ہو گا؟

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ اگر ورلڈ کپ بنگلہ دیش کے بغیر منعقد ہوتا ہے تو یہ صرف بنگلہ دیش کے لیے ہی نہیں بلکہ آئی سی سی کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا، کیونکہ ٹورنامنٹ تقریباً 20 کروڑ ناظرین سے محروم ہو جائے گا۔

تاہم، چونکہ ان ایونٹس کے براڈکاسٹنگ حقوق پہلے ہی فروخت کیے جا چکے ہوتے ہیں، اس لیے اصل مالی نقصان آئی سی سی کے مقابلے میں براڈکاسٹرز اور اشتہاری اداروں کو زیادہ اٹھانا پڑے گا۔

جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث سیاحتی ویزا خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں شریک بھی ہوتا، تب بھی شائقین کے لیے معمول کے طریقہ کار کے تحت انڈیا جا کر میچ دیکھنے کا کوئی موقع موجود نہیں تھا۔

ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے تین میچ کولکتہ اور ایک ممبئی میں شیڈول تھے۔

دوسری جانب، بنگلہ دیشی حکومت نے حالیہ واقعات کے تناظر میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے مصطفیٰ ظہور رحمان (مصطفیٰ رحمان) کو باہر رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جب ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کی سکیورٹی یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو دیگر کرکٹرز، صحافیوں اور تماشائیوں کی حفاظت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

Getty Imagesبنگلہ دیش انڈیا نہ جانے کے مؤقف پر قائم، میچز کے سری لنکا میں انعقاد کا مطالبہ

کئی دنوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے واضح کر دیا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے نہیں جائے گی۔ جمعرات کی سہ پہر اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کھیلوں کے مشیر آصف نذرل اور بی سی بی کے صدر امین الاسلامنے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ بالکل واضح ہے کہ بنگلہ دیش ٹیم انڈیا میں ورلڈ کپ نہیں کھیلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آئی سی سی سے انصاف نہیں ملا۔ ہمیں امید ہے کہ آئی سی سی ہمارے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سری لنکا میں کھیلنے کی ہماری درخواست قبول کرے گی۔‘

آصف نذرل نے مزید کہا کہ ’ملک کے عوام اور متعلقہ افراد کو سکیورٹی کے خطرے میں ڈال کر سر جھکا دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ذاتی طور پر کھلاڑیوں سے بات چیت کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جب ہمارے ملک کے ایک نمایاں کرکٹر مصطفیٰ ظہور رحمان کی سکیورٹی یقینی نہیں بنائی جا سکی، تو پھر دیگر کھلاڑیوں، صحافیوں اور تماشائیوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟‘

دوسری جانب بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے کہا کہ اگرچہ وہ بنگلہ دیش کرکٹ پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن آئی سی سی کے کردار پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی کرکٹ میں جب مقبولیت کم ہو رہی ہے، ایسے وقت میں تقریباً 20 کروڑ آبادی والے ملک کو اس طرح نظر انداز کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔‘

تاہم انھوں نے ہمت نہ ہارنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر آئی سی سی سے رابطہ کریں گے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ ’ہم انڈیا میں نہیں، سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں۔‘

بدھ کو آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں ووٹنگ کے بعد آئی سی سی نے واضح کیا کہ اگر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ میں حصہ لینا ہے تو اسے انڈیا ہی جانا ہو گا۔ اگر بنگلہ دیش نے انکار کیا تو اسے ٹورنامنٹ سے نکال دیا جائے گا اور اس کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اتنا کم وقت باقی ہونے کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی حقیقت پسندانہ نہیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ ’کسی ٹھوس اور قابلِ اعتبار سکیورٹی خطرے کے بغیر میچز کی منتقلی مستقبل کے آئی سی سی ٹورنامنٹس کے لیے منفی مثال قائم کر سکتی ہے اور ایک عالمی ادارے کے طور پر آئی سی سی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔‘

’آئی سی سی کے مطابق، اس بحران کے حل کے لیے بی سی بی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا ہے اور اس دوران تفصیلی سکیورٹی پلان، مرکزی اور ریاستی سطح کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات بھی شیئر کی گئی ہیں۔‘

آئی سی سی نے مزید وضاحت کی کہ ’میچز کے مقامات اور شیڈول کا تعین غیر جانبدار سکیورٹی جائزے، میزبان ملک کی یقین دہانی اور ٹورنامنٹ کے طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جو تمام 20 شریک ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ واضح سکیورٹی خطرات کے ثبوت نہ ہونے کی صورت میں میچز کی منتقلی ممکن نہیں۔‘

AFP via Getty Images

گذشتہ 13 جنوری کو انڈین کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مصطفیٰ ظہور رحمان کو آئندہ آئی پی ایل 2026 سیزن کے لیے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے سکواڈ سے نکالے جانے کے واقعے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے کھیلوں کے مشیر آصف نذرل نے ہدایت دی تھی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز انڈیا کی بجائے سری لنکا منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس وقت کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مصطفیٰ کو ٹیم سے نکالنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی تھی۔ تاہم بی سی سی آئی کے سکریٹری دیبجیت سائیقیا نے انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں حالیہ صورتحال کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

یہ فیصلہ بنگلہ دیش میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ہلاکت کے واقعات منظرِ عام پر آنے اور اس پر انڈیا میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی شدید تنقید کے بعد سامنے آیا۔

دیبجیت سائیقیا نے مزید کہا تھا کہ ’ملک میں جاری مجموعی سیاسی حالات کے باعث بی سی سی آئی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں شامل بنگلہ دیشی کرکٹر مصطفیٰ ظہور رحمان کو ریلیز کریں۔‘

اسی دن اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آصف نذرل نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں نے بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کرانے کی درخواست دینے کی ہدایت دی ہے۔‘

اپنی پوسٹ کے آخری جملے میں انھوں نے لکھا کہ ’غلامی کے دن ختم ہو گئے۔‘

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کے معاملے میں دونوں ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات میں کرکٹ سفارت کاری کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دی گئی۔

بعد ازاں اس معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو باضابطہ درخواست دی گئی، جب کہ دونوں فریقین کے درمیان ای میل کے ذریعے رابطہ اور ورچوئل اجلاس بھی منعقد ہوئے۔

آئی سی سی کے اراکین کے درمیان ووٹنگ کے بعد عالمی کرکٹ کونسل نے تقریباً واضح کر دیا ہے کہ ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش ٹیم کو انڈیا جا کر ہی میچز کھیلنا ہوں گے۔

تاہم بنگلہ دیش کی جانب سے اپنا مؤقف واضح کرنے کے بعد اب آئی سی سی کے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں دیگر ٹیموں کے ساتھ آئی سی سی کا طرزِ عمل

اس سے قبل سنہ 1996 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا جا کر میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس ٹورنامنٹ کے مشترکہ میزبان انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تھے۔ تاہم کولکتہ میں افتتاحی تقریب کے فوراً بعد آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سکیورٹی خدشات کے باعث سری لنکا ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی طرح سنہ 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے اور نیوزی لینڈ نے کینیا میں میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا۔

ان تمام مواقع پر آئی سی سی نے غیر حاضر ٹیموں کے حریفوں کو واک اوور یا ونرز پوائنٹس دے دیے تھے۔

ہر کیس میں میچ نہ کھیلنے والی ٹیم کے مقابل فریق کو واک اوور یا پوائنٹس ملے۔

جبکہ سنہ 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل زمبابوے کے دستبردار ہونے کے بعد آئی سی سی نے اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا تھا۔

بنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیاآئی سی سی نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا: بنگلہ دیشی بورڈٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑیٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کے فیصلے کے باوجود بنگلہ دیش کا انڈیا میں میچز کھیلنے سے انکار
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More