پمز ہسپتال میں عمران خان کے ’آنکھوں کے معمولی علاج‘ پر تحریک انصاف کا فوری رسائی کا مطالبہ

بی بی سی اردو  |  Jan 29, 2026

Getty Images

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے طبی معائنے سے متعلق درخواست پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی طبی حالت مستحکم ہے تاہم انھیں ’آنکھوں کے ایک معمولی مسئلے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔‘

واضح رہے کہ کچھ روز پہلے تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

منگل کو شوکت خانم ہسپتال نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’گذشتہ رات سے متعدد خبریں گردش کر رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان آنکھ کے ایک سنگین مرض ’سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن‘ میں مبتلا ہیں۔‘

جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جی ایچ کیو حلمہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو شدید تشویش ہے۔

انھوں نے استدعا کی کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ان کے ذاتی معالج سے معائنہ کروایا جائے۔

فیصل ملک نے اس ضمن میں تحریری درخواست بھی عدالت میں جع کروائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق خدشات خطرات ہیں۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان دونوں قیدیوں کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین سے کروایا جائے۔ اس درخواست میں عمران خان کے تین ذاتی معالجین کا نام لکھ کر عدالت سے ان کے ذریعے معائنہ کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر اس مقدمے کے پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کیا ہے اور جمعے تک جواب مانگا ہے۔

اس مقدمے کے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا نے تیسری مرتبہ ان دونوں کا ان کے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو عمران خان اور بشری بی بی کی صحت سے متعلق ریکارڈ یا کوئی دستاویز جمع کروانے کا حکم نہیں دیا۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے میں عمران خان کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کروانے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل میں مقدمات کی سماعت کے لیے عارضی عدالتوں کے قیام کا نوٹفیکیشن ختم کردیا تھا۔

’عمران خان کو ہسپتال لایا گیا تھا‘

جمعرات کو وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں تاہم سنیچر کے روز انھیں ہسپتال ضرور لے جایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’جیل میں معائنے کے دوران ڈاکٹرز نے بتایا کہ عمران خان کو آنکھوں کے ایک معمولی 20 منٹ کے پروسیجر کے لیے پمز ہسپتال لےجانا ہو گا، جس کے بعد انھیں ہسپتال لایا گیا اور علاج کے بعد واپس جیل بھجوا دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی حالت ’بالکل ٹھیک ہے اور وہ صحت مند ہیں۔‘

تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ عمران خان کو فراہم کی گئی طبی مدد کی تفصیلات ان کے اہل خانہ کو کیوں نہیں بتائی جا رہیں۔

انھوں نے پوچھا کہ کیا قانونی نمائندے کو بتانا ضروری نہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کو فوری طور پر ان تک رسائی دی جائے۔ ’یہ بنیادی انسانی حق ہے، سیاسی مطالبہ نہیں۔‘

اس سے قبل شوکت خانم کی ہسپتال انتظامیہ نے کہا تھا کہ ’اگرچہ ہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتے لیکن ہمیں عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کی ٹیم کو ان تک فوری رسائی دی جائے تاکہ ان کے علاج میں شریک ہوا جا سکے۔‘

تھا کہ ’یہ سنگین اور تشویشناک بات ہے۔‘

منگل کو ہی پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ انھیں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے اور ان سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث ان کی جماعت کے کارکنوں میں ’بے چینی پھیل رہی ہے۔‘

تاہم منگل کو جب ایک صحافی نے عمران خان کی بہن علیمہ خان سے عمران خان کی صحت اور آنکھ کی شکایت سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے جواباً کہا کہ ’یہ خبر کہاں سے آئی؟ ہمیں جیل کے اندر سے کوئی معلومات نہیں مل رہی‘ جبکہ عمران خان کی دوسری بہن نورین نیازی نے کہا تھا کہ ’عمران خان بالکل صحت مند ہیں، ان کی آنکھ میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔ یہ جان بوجھ کر (ایسی خبریں) پھیلاتے ہیں۔ اگر کچھ ہوا تو یہ ذمہ دار ہوں گے۔‘

تحریک انصاف اور جیل انتظامیہ کے متضاد دعوے

عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کا دعویٰ کرتے ہوئے تحریک انصاف نے کہا کہ ان کی آنکھ کی وین میں ’خطرناک بلاکیج‘ پیدا ہو چکی ہے۔

’ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔‘

ایک بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’جیل انتظامیہ ضد پر اڑی ہوئی ہے کہ علاج جیل کے اندر ہی کیا جائے جبکہ معالج ڈاکٹر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ علاج جیل میں ممکن نہیں اور اس کے لیے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہیں۔‘

اس میں مزید کہا گیا کہ آخری مرتبہ سابق وزیر اعظم کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی اکتوبر 2024 میں دی گئی تھی۔

’عمران خان کے باقاعدہ میڈیکل چیک اپ سے متعلق ایک پٹیشن اگست 2025 سے عدالت میں زیر التوا ہے۔‘

تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ عمران خان کو ’فوری طور پر شوکت خانم ہسپتال یا ان کی مرضی کے کسی بھی معتبر ہسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دے، جہاں مکمل سہولیات کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج ممکن ہو۔‘

’ہم عدلیہ سے بھی پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ صحت کا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہوگی۔‘

بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر ’عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد ہوگی جو عدالتی احکامات کے باوجود علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔‘

عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے تین ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا۔

ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں میڈیکل سپیشلسٹ کے علاوہ آنکھوں، کان اور گلے کے امراض کے سپیشلسٹ بھی موجود تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہر ماہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جیل کا دورہ کرتی ہے جہاں پر عمران خان کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔

جیل اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کچھ روز قبل اپنی ایک انکھ میں انفیکشن کا ذکر کیا تھا اور دو ہفتے پہلے پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا تھا جس میں انھوں نے اس انفیکشن کو دور کرنے کے لیے کچھ دوائیاں تجویز کی تھیں جو جیل اہلکار کے بقول ان کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے مجموعی طور پر عمران خان کو تندرست قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ ستمبر 2025 کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام نے عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف اوقات میں، کندھے میں درد، کان اور دانت میں انفیکشن سمیت ’ورٹیگو‘ یعنی ’چکر آنے‘ کی شکایت کی جس کا بروقت علاج کیا گیا تھا۔

Getty Imagesعمران خان قریب دو سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کے اہلخانہ جیل انتظامیہ پر باقاعدگی سے ملاقات نہ کروانے کا الزام عائد کرتے ہیںسینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟

برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔

آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔

ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟کارکنوں کے بھیس میں پولیس اہلکاروں کی ’خفیہ‘ میٹنگز میں شرکت: وہ سرکاری گواہ جن کے بیانات نو مئی مقدمات میں سزاؤں کی وجہ بنے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More