تھانوں پر حملے، یرغمال ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن: بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران کیا ہوا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 02, 2026

BBC

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں سنیچر کے روز ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد صوبے میں تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ صوبے میں عوامی اجتماعات پر پابندی برقرار ہے جبکہ کوئٹہ میں شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

اتوار کو صوبے کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بُگٹی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں گذشتہ 40 گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جن کی لاشیں بھی ان کے پاس موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کے روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل سنیچر کی شب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 شدت پسند اور 15 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس سے قبل جمعہ کے روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔

خیال رہے ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ جبکہ پاکستان نے اِن حملوں پر ’فتنہ الہندوستان‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث تمام گروہوں کو 'فتنہ الہندوستان' کا نام دے رکھا ہے۔ پاکستانی حکومت ان گروہوں پر انڈیا کو پشت پناہی کا الزام لگاتی ہے تاہم نئی دہلی ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس پہلے سے ہی انٹیلیجنس رپورٹس موجود تھیں کہ شدت پسند تنظیم کی جانب سے اس قسم کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے پیشِ نظر سکیورٹی اداروں نے ایک روز قبل ہی آپریشن شروع کر دیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شدت پسندوں کے ’تعاقب کے لیے ابھی بھی آپریشن جاری ہے اور ہم انھیں بھاگنے نہیں دیں گے۔‘

میر سرفراز بُگٹی نے بی ایل اے سمیت متعدد کالعدم تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’یہ آپ کا سب سے بڑا آپریشن تھا، آپ نے تو ایک یونین کونسل بھی آزاد نہیں کی۔ جب ایک یونین کونسل تک آزاد نہیں کر سکے ہو تو بلوچوں کو اپنا ایندھن کیوں بنا رہے ہو؟‘

BBCنوشکی میں دوسرے روز بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا

سنیچر کو جن شہروں میں مسلح افراد نے حملے کیے ان میں کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر، پسنی سمیت بعض دیگر علاقے شامل تھے۔

اتوار کو کوئٹہ شہر میں سریاب کے بعض علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے مساجد سے یہ اعلان کرایا گیا کہ لوگ گھروں سے نہیں نکلیں جبکہ گھر گھر تلاشی بھی لی گئی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے نہ صرف ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا بلکہ اس میں نقصان بھی کم ہوا۔

اتوار کے روز نوشکی کے علاوہ کسی اور شہر سے کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

نوشکی میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ شہر میں سیکورٹی فورسز کے کیمپ کی جانب سے اتوار کو صبح ایک مرتبہ پھر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے علاوہ نہ صرف مسلح افراد شہر میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دیئے بلکہ وہ پولیس سٹیشن، جوڈیشل کمپلیکس اور قرب و جوار کے دیگر دفاتر میں بھی دکھائی دیے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ اتوار کی شام تک مسلح لوگ شہر میں موجود رہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو جو پریس کانفرنس کی اس میں ان کا کہنا تھا کہ باقی علاقوں کو جلدی کلیئر کرایا گیا لیکن نوشکی کو کلیئر کرنے میں دیگر شہروں کے مقابلے میں تاخیر ہوگئی۔

تاہم ڈیڑھ بجے ہونے والی پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ اس وقت نوشکی کو بھی کلیئر کردیا گیا ہے۔

کالعدم بی ایل اے کی جانب سے یہ کہا گیا کہ نوشکی کے یرغمال بنائے جانے والے ڈپٹی کمشنر کو رہا کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔

سرکاری حکام نے ڈپٹی کمشنر کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی تھی لیکن خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

وزیر اعلیٰ نے پریس کانفرنس میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر کہا کہ ایک دوست نے ڈپٹی کمشنر سے بات کی ہے اور وہ ایک محفوظ مقام پر موجود ہیں۔

BBCسب سے زیادہ شدید حملے کوئٹہ پر ہوئے، وہاں اب کیا مناظر ہیں؟

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز سریاب کے علاقے سے ہوا اور صبح آٹھ بجے تک ان حملوں کا دائرہ کار ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک تک پھیل گیا۔ ان حملوں میں املاک کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ نقصان کوئٹہ میں ہوا۔

تاہم سرکاری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات سریاب کے علاقے میں زیادہ تھے جہاں تین پولیس سٹیشنوں اور پانچ بینکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سیکے کیمرا مین خیر محمد بلوچ ان لوگوں میں شامل تھے جو کہ ان نقصانات کی کوریج کے لیے مختلف مقامات پر گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ہزار گنجی اور اس کے گردونواح میں پانچ بینکوں پر حملے کر کے ان کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

ان بینکوں میں ایک کے سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ ’حملہ آور آئے تو انھوں نے بینک کا دروازہ کھولنے کے لیے کہا لیکن ہم نے بینک کا دروازہ نہیں کھولا جس پر انھوں نے بینک کے جنگلے کو توڑ دیا۔‘

سکیورٹی گارڈ نے جنگلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ دیکھیں اس پر تالا اب بھی لگا ہوا ہے۔‘

سکیورٹی گارڈ کے مطابق جنگلا توڑنے کے بعد ’حملہ آوروں نے ہمیں ہتھیار حوالے کرنے کا کہا، ان کی بات ماننے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور بینک سے رقوم تو نہیں لے جا سکے لیکن دوسرے لوگ بینک سے سامان وغیرہ اٹھا کر لے گئے۔

سریاب کے علاقے میں جن پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے گئے ان میں نیو سریاب، شہید خالق اور شالکوٹ پولیس سٹیشن شامل تھے۔

ایک سینیئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ شہید خالق آباد پولیس سٹیشن کو حملے کے بعد نذرآتش بھی کیا گیا جبکہ نیوسریاب پولیس سٹیشن کو حملوں میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ تاہم شالکوٹ پولیس سٹیشن پر مزاحمت کے باعث حملہ آور تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔

خیرمحمد بلوچ کے مطابق نیو سریاب پولیس سٹیشن کے ہر کمرے کو نذر آتش کرنے کے علاوہ تھانے کی ریکارڈ کو بھی جلایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تھانے کے مختلف مقامات پر گولیوں کے نشانات تھے جبکہ اس کے اندر چار پانچ گاڑیوں کو جلایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد لوگ تھانے کی سولر پلیٹس بھی اٹھا کر لے گئے تھے۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ نیو سریاب تھانے کے مقابلے میں شہید خالق پولیس سٹیشن میں نقصانات زیادہ تھے۔ تھانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اس کے اندر اور باہر کھڑی دو درجن سے زائد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

ان نقصانات کے علاوہ ایک ایسی ویڈیو بھی سماجی رابطوں کی میڈیا پر وائرل تھی جس میں لوگوں کو ان تھانوں سے موٹر سائیکل اور دیگر اشیا لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

ان تھانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے بعض دیگر مقامات پر بھی جلی ہوئی گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔

کوئٹہ کے علاوہ مستونگ ، قلات ، نوشکی اور بعض دیگر شہروں میں بھی پولیس کے تھانوں اور بینکوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

سنیچر کے حملوں کے بعد ریڈ زون کے تمام راستوں پر ٹرک کھڑے کرکے ان کو سیل کر دیا گیا تھا جبکہ ان پر سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی۔

سینچر کی دوپہر ایک بجے تک ریڈزون کے قرب و جوار کے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ اس دوران مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ایک بارود سے بھری گاڑی کو ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک پر اڑا دیا گیا تھا جس سے سول سیکریٹریٹ، قرب و جوار کے گھروں، دفاتر، امداد چوک سے سلیم کمپلیکس کے علاقے تک دکانوں اور گھروں اور دفاتر کے شیشے ٹوٹ گئے۔ یہاں مسلح افراد کی موجودگی ایک کلومیٹر سے کم علاقے تک تھی۔

ایدھی چوک کے ساتھ ہی سول سیکریٹریٹ اور افغان قونصلیٹ واقع ہیں اس مقام پر ہونے والے دھماکے کی وجہ سے اس چوک پر نصب عبدالستار ایدھی کے مجسمے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس دھماکے سے اندازاً آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر دیبہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا انھیں ایسا لگا جیسے گھر کی چھت ان پر آکر گرے گی۔

تاہم سریاب سمیت کوئٹہ شہر کے دیگر علاقوں میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا اور جن علاقوں میں سنیچر کے روز دوکانیں بند رہیں وہاں اتوار کو دکانیں کھلی تھیں۔

بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘زبیر بلوچ: دالبندین میں ’سکیورٹی فورسز کے آپریشن‘ میں مارے جانے والے وکیل کون تھے؟حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟

سنیچر کے حملوں کے حوالے سے عینی شاہدین اور وائرل ویڈیوز کے مطابق سریاب کے علاقے میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یونیورسٹی کے قریب مسلح افراد سڑکوں پر تلاشی بھی لیتے رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق سریاب میں ہزارگنجی، شیخ زید ہسپتال، یونیورسٹی، ہیلپر ہسپتال کے قرب و جوار کے علاقوں کے علاوہ امداد چوک کے قریب بھی مسلح افراد موجود تھے۔

اس تناظر میں اتوار کے روز سریاب سمیت کوئٹہ شہر کے بعض دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی لی۔

سریاب روڈ کے ایک رہائشییعقوب شاہوانی نے بتایا کہ جس علاقے میں ان کی رہائش ہے وہاں صبح مساجد سے یہ اعلان کرایا گیا لوگ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی لی جن کے ساتھ خواتین اہلکار بھی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ سینیچر کے روز حملوں کے باعث سریاب کے اکثر علاقوں میں لوگ گھروں میں محصور رہے۔

کوئٹہ شہر میں بیک وقت ایک بڑے علاقے میں حملوں اور مسلح افراد کی موجودگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

ان حملوں کی وجہ سے 9 بجے کے قریب موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی جبکہ کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل رہی۔

حملوں سے متاثرہ علاقوں میں لوگ اپنے گھروں میں محصور رہے جبکہ کوئٹہ شہر میں باہر سے آنے والے افراد کو داخلی راستوں پر روکا گیا جس سے لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مستونگ جیل سے 27 قیدی فرار اور قلات میں فائرنگ

مستونگ بلوچستان میں ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع ہے اور یہ دارالحکومت سے کوئٹہ سے جنوب مغرب میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مستونگ کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مستونگ شہر میں صبح چھ بجے مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے مختلف مقامات پر حملہ کیا جو سہہ پہر تک جاری رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے مستونگ جیل پر بھی حملہ کیا اور اس حملے کے نتیجے میں جیل سے 27 قیدی فرار ہوگئے۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے دو نجی بینکوں کو بھی نذرآتش کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ حملہ آور ان بینکوں سے رقوم لوٹ کر لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔

سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق ان حملوں میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے۔

BBC

ضلع مستونگ سے متصل کوئٹہ کراچی ہائی وے کے ساتھ واقع قلات شہر میں بھی سنیچر کی صبح نامعلوم مسلح حملہ آور داخل ہوئے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار محم کاظم کو بتایا کہ قلات شہر میں مسلح حملہ آوروں نے سٹی اور صدر پولیس سٹیشنوں پر حملہ کیا جس میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ قلات شہر میں حملوں کا سلسلہ صبح پانچ بجے قریب شروع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اندازاً دو گھنٹے تک دھماکوں کے علاوہ شدید فائرنگ آوازیں آتی رہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

قلات کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خاران میں قبائلی رہنما کے گھر پر حملہ

خاران ضلع نوشکی سے متصل ضلع ہے اور یہ کوئٹہ سے اندازاً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے ۔

سینیچر کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے خاران شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔

رابطہ کرنے پر ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی جانب سے بینکوں کے علاوہ مختلف مقامات پر سرکاری املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگل روڈ پر سرکار کے حامی ایک قبائلی شخصیت اور ملازئی قومی اتحاد کے سربراہ میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں شاہد گل ملازئی سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔

رابطہ کرنے پر بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے شاہد گل ملازئی کے گھر اور وہاں موجود گاڑیوں کو بھی نذرآتش کیا۔

خیال رہے کہ چند روز کے اندر خاران شہر میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا حملہ تھا۔ اس سے قبل ہونے والے حملے میں سٹی پولیس سٹیشن اور بینکوں پر حملے کیے گئے تھے۔

دالبندین، گوادر اور پسنی میں مختلف مقامات پر حملے

سرحدی ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کی سرحدیں نوشکی اور خاران سے لگتی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب دالبندین میں حملہ کیا گیا اور سکیورٹی فورسز کے کیمپ کی جانب سے شدید فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں جو دوپہر تک جاری رہیں۔

نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے وہاں سرکاری حکام سے رابطہ نہ ہونے کے باعث نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں بھی سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا۔

چاغی نہ صرف ایک اہم سرحدی ضلع ہے بلکہ معدنی وسائل سے مالا مال اس ضلع میں معدنیات کے بڑے پراجیکٹس بھی چل رہے ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بھی مسلح افراد نے مختلف مقامات پر حملہ کیے۔

اس سلسلے میں معلومات کے حصول کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی۔

تاہم گوادر کے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گوادر میں تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں نگوری وارڈ ، لیبر کیمپ اور پرانے کیسکو کے دفتر میں سورگ دل کے علاقے شامل تھے۔

سیکورٹی ذرائع نے گوادر میں لیبر کیمپ میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان افراد کا تعلق خضدار سے بتایا جاتا ہے۔

گوادر شہر میں ان مقامات پر حملوں کے علاوہ ضلع گوادر کے شہر پسنی میں بھی سرکاری حکام نے وفاقی سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

تربت اور ضلع کیچ کے دیگر شہروں میں حملے

ضلع گوادر سے متصل ضلع کیچکے ہیڈکوارٹر تربت میں بھی دو مقامات پر حملے ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تربت میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے کے علاوہ آبسر کے علاقے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں کسی سویلین کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے میں دو گھروں پر راکٹ گرنے سے چھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ضلع کیچ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بعض دیگر شہروں میں بھی مسلح افراد نے بازاروں میں گشت کیا۔

سبی شہر سے بھی دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں اگرچہ کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم سرکاری حکام اور مقامی لوگوں کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مچھ شہر میں مساجد سے یہ اعلان کرایا گیا کہ لوگ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔

’سکیورٹی فورسز ان حملوں کے لیے تیار تھیں‘

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ منظم حملے پہلا موقع نہیں جب صوبے کے مختلف شہروں میں بیک وقت مسلح افراد داخل ہوئے، پولیس کو نشانہ بنایا گیا، سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اور خود کش حملے بھی کیے گئے ہوں۔

تاہم حالیہ حملوں میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے اندر بھی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کے اندر ایک علاقے میں علی الصبح ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا جس کے بعد شہر کے ریڈ زون کو سیل اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

کوئٹہ کو نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے اردگرد سکیورٹی چیک پوسٹس وغیرہ کی مدد سے حصار قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے اندر بھی مختلف مقامات پر چیک پوسٹس موجود ہیں۔

کوئٹہ کے اندر حالیہ حملے کیا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی سکیورٹی یا انٹیلیجنس کا نقص ہو سکتا ہے۔

BBC

محمد شعیب اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے شعبے سے منسلک ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنی جلدی حملہ آور مارے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی ادارے زیادہ بہتر طور پر تیار تھے۔

’جتنی جلدی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں اس سے لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز اس کے فال آوٹ کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے پہلے والے حملوں سے کچھ سبق سیکھا اور وہ شاید اس طرح کے حملوں کے لیے تیار تھے۔‘

تاہم محمد شعیب کہتے ہیں کہ ایسا واقعتاً پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ یہ حملے صوبائی دارالحکومت کے اندر تک ہوئے جو ایک بڑی پیشرفت ہے۔

’کوئٹہ میں ان کا آنا بڑی سٹیٹمنٹ ہے۔ یہ ان کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ ہم جہاں چاہیں آ سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے باہر سے لوگ اس کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔ کوئٹہ کی سکیورٹی کو نسبتاً مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔‘

محمد شعیب کہتے ہیں کہ حالیہ حملوں میں مختلف شہروں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ان کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ضلع میں زیادہ تر بڑے حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے دفاتر اور عمارتوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

تاہم محمد شعیب کے خیال میں کوئٹہ تک ان حملوں کا پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے حملے کرنے والوں کی حمایت عام آدمی تک سرایت کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس موومنٹ کا اتنے لمبے عرصے تک چل جانا ہی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔‘

ان کے خیال میں بلوچستان میں سکیورٹی کا سب سے بڑا چیلنج سیاسی ہے۔ ’آپ کو دل اور دماغ جیتنے ہیں۔ صرف لڑائی نہیں کرنی۔ لڑائی تو آخری چارہ ہونا چاہیے۔‘

Getty Images

دوست محمد بریچ بلوچستان میں مقیم تجزیہ کار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگست 2024 میں ہونے والے گزشتہ حملوں کی طرح حالیہ حملے بھی منظم اور بڑے پیمانے پر تھے اور یہ پہلی مرتبہ کوئٹہ تک پہنچتے بھی دکھائی دیے۔

وہ بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’کوئٹہ تک اتنے منظم حملے مقامی حمایت کے بغیر کرنا ناممکن ہیں۔ مقامی لوگوں کی ہمدردیاں ملے بغیر اتنے بڑی پیمانے پر حملے کرنا ممکن نہیں۔‘

دوست محمد بریچ بھی اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ ریاست کے لیے بڑا چیلنج مقامی لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہے۔

’اگر بڑے پیمانے پر آپریشن ہوں گے تو لوگوں کی شکایات بڑھیں گی۔ ایک گوریلا وار کے اندر لوگ یا عام آدمی کی حمایت ہی اصل انعام یا جیت ہے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست عام آدمی کا دل و دماغ جیتنے کی کوشش کر بھی رہی ہے تاہم یہ وقت طلب کام ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے نچلی سطح تک پہنچایا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر صوبائی حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ، بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ، بلوچستان یوتھ پالیسی 2024، بینظیر سکالرشپ اور بلوچستان کے لیے ٹیکنیکل اور فنی تعلیم کے ادارے کے قیام جیسی چیزیں شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایک ہی میٹروپولیٹن شہر یعنی کوئٹہ ہے۔

’اگر مزید اربن سینٹر بنیں گے تو توجہ کا مرکز صرف کوئٹہ نہیں ہو گا اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والی کوششیں کوئٹہ سے باہر بھی پہنچ پائیں گی اور نظر بھی آئیں گی۔‘

تجزیہ نگار دوست محمد بریچ سمجھتے ہیں کہ حالیہ حملے ایک اور زاویے کو بھی ظاہر کرتے ہیں جو قیمتی پتھروں کی موجودگی ہے۔ ان کے خیال میں دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں امریکہ اور چین کی نظریں ان قیمتی پھتروں اور معدنیات پر مرکوز ہیں۔

اور سامنے آنے والی چند حالیہ ویڈیوز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کالعدم بی ایل اے اس طرح کی کارروائیوں سے یہ پیغام ان طاقتوں کو بھی دینا چاہتی ہے کہ بلوچستان کے قیمتی پتھروں اور معدنیات تک رسائی ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو گی۔

’پڑھے لکھے لوگ پرانے جنگجوؤں کے مقابلے زیادہ خطرناک ہیں‘

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے معلم محمد شعیب کہتے ہیں کہ ریاست کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ علیحدگی پسند تحریکیں بھی ان دنوں سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں جہاں وہ قوم پرستی وغیرہ کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں۔

اس سے متاثر ہو کر متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگ ان کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ محمد شعیب کے خیال میں یہ پڑھے لکھے لوگ پرانے جنگجووں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ نظریاتی طور ہر متحرک ہوتے ہیں۔

’پرانے جنگجنووں کے مقابلے جو بس بندوق اٹھا کر آ جاتے تھے لڑنے کے لیے، یہ پڑھے لکھے جنگجو ہتھیاروں اور مواد کے استعمال میں بھی زیادہ ہوشیار ہیں۔‘

محمد شعیب کہتے ہیں کہ ریاست بظاہر بلوچوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کے مسائل کی نوعیت کو سمجھا جائے۔ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کس قسم کے لوگ تحریک میں جا رہے ہیں۔

’مقامی مسائل کے حل بھی مقامی ہونے چاہیے۔ مرکز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دور سے بیٹھ کر بلوچستان کے مسائل کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے جو بہت مشکل ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو معلوم ہوتا رہتا ہے کہ لوگوں کو کیا شکایات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو بلوچستان میں اس اظہار کے لیے مزید پلیٹ فارمز دینے کی بھی ضرورت ہے جو بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ہوں۔

’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سالنوکُنڈی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی: ’یہ ایک خوفناک رات تھی‘جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی’ایسی مٹھائی کھلاؤں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے‘: وہ وکیل جو دوستوں کے ساتھ خوشی منانے کے بعد اسلام آباد میں خودکش حملے کا نشانہ بن گئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More