وینرویلا کے وہ قصبے جہاں اربوں بیرل تیل کے کنویں ہونے کے باوجود بھی غربت ہے

بی بی سی اردو  |  Feb 02, 2026

BBCکارلوس روڈریگیز (دائیں جانب) کہتے ہیں کہ وہ امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے

میرافلوریس نامی اس قصبے کے بارے میں آپ کو غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ یہ امریکہ کا کوئی مضافاتی شہر ہے۔ کیونکہ یہاں صاف ستھری قطاروں میں موجود گھر ہیں، جن میں گھاس کے قطعے ہیں اور برآمدے بھی۔

مشرقی ساحل (کوسٹا اوریئنٹل) کا یہ خاموش سا علاقہ وینزویلا میں تیل کی صنعت کے مرکز میں واقع ہے۔ اس نے ایک وقت میں وینزویلا کو لاطینی امریکہ کے امیر ملکوں کی صف میں لانے میں مدد کی تھی۔ یہ علاقہ قومی خوش حالی کی علامت تھا۔

کبھی یہ دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا منصوبہ ہے کہ وینزویلا میں توانائی کی صنعت کی تعمیر نو کے لیے امریکی کمپنیاں 100 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گی۔ اس علاقے اور جھیل کے پار ماراکائیبو کو صدر ٹرمپ کے منصوبے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ملک میں دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیں جن کا تخمینہ 303 ارب بیرل کے قریب لگایا گیا ہے۔

لیکن اس وقت ماراکائیبو جھیل کے اطراف کا علاقہ یاد دلاتا ہے کہ دہائیاں گزرنے کے ساتھ ملک کی دولت بھی کس قدر کم ہو چکی ہے۔

تیل نکالنے والی مشینری تو جگہ جگہ بکھری پڑی ہے؛ گلیوں کے کونوں میں، میدانوں میں، یہاں تک کہ جھیل میں بھی۔ ان میں سے کچھ مشینیں ہی فعال ہیں اور اُن پر وینزیلا کے قومی پرچم کے رنگ والا پیلا، نیلا اور سرخ رنگ تازہ تازہ کیا گیا ہے۔ جبکہ ایسی مشینیں بھی بہت سی ہیں جنھیں کئی برس سے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا اور وہ زنگ آلود ہو کر ٹوٹ پھوٹ رہی ہیں۔

BBCگھروں کے درمیان اور گلیوں کے کونوں پر تیل کے پمپ عام نظر آتے ہیں

جھیل کنارے موجود امریکی طرز کے لگ بھگ 20 ’آئل کیمپس‘ میں زوال نمایاں ہے۔ یہ بستیاں بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے ملازموں کو ٹھہرانے کے لیے بنائی تھیں، اُس وقت جب 1920 کی دہائی میں وینزویلا میں تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا کام تجارتی بنیادوں پر شروع ہوا۔

نیو جرسی کے سٹینڈرڈ آئل (جو بعد میں ایگزون بنا)، شیورون اور شیل جیسی بڑی کمپنیوں نے وینزویلا کے دوسرے بڑے شہر ماراکائیبو میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ یہ گاؤں پہلے صرف ماہی گیری سے ہی کماتے تھے لیکن تیل کی دولت نے انھیں ہسپتالوں، سکولوں اور سماجی کلبز والی مال دار بستیوں میں بدل دیا۔

صنعت سے وابستہ افسران کی رہائش گاہیں میرافلوریس میں تھیں۔

اس قصبے کے بہت سے گھروں کے مکین اب جا چکے ہیں، گھروں کا سامان لوٹ لیا گیا ہے، کھڑکیاں توڑ دی گئی ہیں اور تاریں تک نوچ لی گئی ہیں۔

گلیڈیزملا گل سنہ 1968 میں قریب کے ایک سادہ سے محلے میں منتقل ہوئی تھیں۔ اُن کے مرحوم شوہر تیل کی صنعت میں کام کرتے تھے اور رہنے کے لیے اُنھیں گھر دیا گیا تھا۔

ایک بوسیدہ کرسی پر بیٹھ کر دیواروں سے اکھڑتے گلابی رنگ کو دیکھتے ہوئے گلیڈیزملا گل کہتی ہیں: ’جب ہم یہاں آئے تو گھر اچھی حالت میں تھا۔‘

گذشتہ 13 سال میں وینزویلا کی معاشی تنزلی کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’اگر ہم بیمار ہوتے تو ہسپتال جاتے جہاں ہمارا علاج کیا جاتا۔ کچرا ہر دوسرے دن اٹھایا جاتا تھا اور بجلی بھی بند نہیں ہوتی تھی۔‘

اب کچرا کبھی کبھار ہی اٹھایا جاتا ہے اور تیل کے ذخائر کے باوجود خطہ ایک دہائی سے توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ بجلی بند ہونے کی خبریں ہر روز ہی ملتی ہیں۔

BBCگلیڈیزملا گل کہتی ہیں کہ آج اُن کے محلے کی جو حالت ہے وہ 60 سال پہلے کی اُس حالت سے بالکل مختلف ہے جب وہ یہاں منتقل ہوئیں

ٹرام کا ایک نا مکمل نظام جو بد عنوانی کے الزامات میں گھرا ہوا ہے، ایک خستہ حال مرکزی ہسپتال جہاں کے مریض اسے 'جہنم' قرار دیتے ہیں اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات، جو حالات اس علاقے کے ہیں وہی پورے ملک کے ہیں۔

سنہ 2013 میں جب سے نکولس مادورو ملک کے صدر بنے، وینزویلا کی مجموعی قومی پیداوار 70 فیصد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

64 سالہ ہوزے گریگوریو مارٹینیز تیل کی صنعت میں کام کرنے والے سابق ملازم کے بیٹے ہیں۔ اپنے گھر کے سامنے والے برآمدے میں بیٹھ کر اُنھوں نے بتایا: ’آپ کو گلیوں میں بچے نظر نہیں آتے، یہاں کوئی نوجوان نہیں رہا۔‘

آنکھوں میں آئے آنسو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ریٹائرڈ ٹیچر بتاتے ہیں کہ اب اُن کا گزارا بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی بھیجی گئی رقم پر ہوتا ہے۔ ان کی سرکاری پینشن دو ڈالر 80 سینٹ ماہانہ ہے۔ اس سے تو بنیادی اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔

وینزویلا کا عقوبت خانہ جہاں ’سیاسی قیدیوں کو اس وقت تک ہوا سے محروم بند کمرے میں رکھا جاتا جب تک ان کا دم نہ گھٹنے لگے‘وینزویلا کے صدر چاہتے ہیں ’ہر عورت چھ چھ بچے پیدا کرے‘سستے تیل کی ’سازش‘ جس نے سرد جنگ میں سوویت یونین کو نقصان پہنچایا، کیا ٹرمپ اسے دہرا سکتے ہیں؟سستا تیل انڈیا، چین اور روس کو کیسے قریب لا رہا ہے؟

گل اور مارٹینیز وہ دن یاد کرتے ہیں جو اُن کے لیے سنہرے دن تھے۔ یہ امید کرنے والوں میں وہ اکیلے نہیں کہ امریکی کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری اُن کی زندگیاں بدل دے گی۔

1970 کی دہائی میں وینزویلا ہر روز 35 لاکھ بیرل تک تیل نکلتا تھا، جو عالمی پیداوار کا سات فیصد سے زیادہ تھا۔

اُس وقت تیل کی پیداوار کا انتظام غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا، بہت سی کمپنیاں امریکی تھیں۔ سنہ 1976 تک حکومت ان کمپنیوں کو رعایات فراہم کرتی رہی اور پھر تیل کی صنعت قومیا کر سرکاری ادارے پی ڈی وی ایس اے کے حوالے کر دی گئی۔

BBC’آئل کیمپ‘ میں صنعتی کارکنوں کے لیے بنایا گیا ایک گھر

1970 کی دہائی میں تیل کی بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ صنعت ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی رہی۔ 1980 کی دہائی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو وینزویلا معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ خسارہ کم کرنے کے لیے حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے تو ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔

1990 کی دہائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اصلاحات لائی گئیں اور سنہ 1999 میں بھی یہ ملک ایک دن میں 32 لاکھ بیرل تیل ہی نکال رہا تھا۔ اس پیداوار کا تقریباً آدھا حصہ ماراکائیبو جھیل کے اطراف موجود زولیا ریاست سے آ رہا تھا۔

اور پھر چاوسمو نظریے نے عروج پایا۔ یہ امریکہ مخالف قوم پرست نظریہ مادورو کے پیش رو ہیوگو شاویز نے تشکیل دیا تھا۔

وہ سنہ 1999 میں صدر بنے جب تیل کی قیمتیں پھر سے اوپر جا رہی تھیں۔ اس وجہ سے اُن کی حکومت لاکھوں افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے سماجی بہبود کے کاموں میں پیسے لگانے کے قابل ہوئی۔

لیکن سنہ 2025 کے آخر میں تیل کی پیداوار آٹھ لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تک گر چکی تھی۔ یہ کروڈ آئل کی عالمی پیداور کا ایک فیصد سے بھی کم تھا۔

بہت سے لوگ سنہ 2002 کو صنعت کے لیے اہم موڑ قرار دیتے ہیں، جب تیل کی صنعت میں کام کرنے ملازموں نے شاویز حکومت کے خلاف ہڑتال کر دی تھی اور اس کے نتیجے میں پی ڈی وی ایس اے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ یہ بات عام بتائی جاتی ہے کہ 22 ہزار افراد نوکریوں سے نکالے گئے۔

اس وقت جارج (فرضی نام) کو بھی برطرف کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’آپ یہ توقع نہیں کر سکتے کہ کمپنی سے 22 ہزار تکنیکی لوگ نکال دیے جائیں اور کچھ بھی نہ ہو۔‘

وہ کہتے ہیں اس تبدیلی کا مقصد کمپنی کو سیاسی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا تھا، تجربہ کار انتظامیہ کا زیادہ تر حصہ اس پر مزاحمت کرتا رہا اور آخر کار نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

سنہ 2007 میں تیل کے شعبے میں پھر تبدیلی آئی جب صدر شاویز کی حکومت نے صنعت کا انتظام مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

کچھ غیر ملکی کمپنیاں نئی ریاست شراکت داری کے تحت کام کرتی رہیں۔ دیگر کمپنیاں، جن میں سب سے نمایاں ایگزون موبل تھی، ملک چھوڑ گئیں اور صنعت کا زوال تیز ہو گیا۔

BBCماراکائیبو جھیل کے اندر اور اس کے آس پاس تیل کی پرانی مشینری اب خستہ حالی کا شکار ہے

بد انتظامی اور بد عنوانی اس شعبے کے لیے مسئلہ رہے ہیں، لیکن حکومت اس زوال کا زیادہ ذمہ دار امریکی پابندیوں کو قرار دیتی ہے۔

سنہ 2021 میں ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران وسیع پیمانے پر معاشی پابندیاں لگائی گئیں۔ کہا گیا کہ یہ پابندیاں وینزویلا حکومت کی جانب سے ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ایک غیر قانونی آئین ساز اسمبلی کا قیام جس نے جمہوری طور پر منتخب قومی اسمبلی کے اختیارات چھین لیے، سرکاری بدعنوانی کی انتہا اور سیاسی مخالفین کے خلاف ظلم و تشدد‘ کی بنیاد پر لگائی جا رہی ہیں۔

امریکہ کے لیے فیصلہ کن موڑ اس سال جنوری کے شروع میں آیا جب امریکی فوج نکولس مادورو کو کارکاس میں اُن کی رہائش گاہ سے پکڑ کر نیو یارک لے گئی تاکہ وہ منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کا سامنا کر سکیں۔ مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ وینزویلا کا انتظام ’سنبھالے‘ گا اور ’لا محدود‘ وقت تک پابندی زدہ تیل کی فروخت کو کنٹرول کرے گا۔ لیکن مادورو کے وفادار ڈیلسی روڈریگیز نے اُس کے بعد سے وینزویلا کی فوج اور ملکی اداروں کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

مادورو کے اٹھائے جانے کو ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے ڈیلسی روڈریگیز ان کی رہائی کا پر زور مطالبہ کرتی ہیں۔ لیکن روڈریگیز نے قانون میں اصلاح کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے تعاون کیا ہے تاکہ غیر ملکی اور ملکی تیل کمپنیوں کو نئے معاہدوں کے تحت کام کی اجازت دی جائے۔

وینزویلا کی پارلیمنٹ میں بھی زیادہ تعداد مادورو کے وفاداروں کی ہے۔ اُس نے بھی جمعرات کے روز اس بڑی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔

ماراکائیبو میں رہنے والے زیادہ تر لوگ ممکنہ امریکی سرمایہ کاری کے بارے میں پُر امید ہیں۔

BBCماراکائیبو جھیل میں پانی کی سطح پر تیرتا تیل دیکھا جا سکتا ہے

کارلوس روڈریگیز کی عمر اس وقت 20 کی دہائی میں ہے۔ وہ نوجوانی سے ہی یہاں کے پانیوں میں کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کی ممکنہ سرمایہ کاری کے بارے میں اُن کا کہنا ہے: ’یہ اچھا ہو گا کیوں کہ کام ملے گا اور ہمارے بچوں کو ماہی گیری کی طرف واپس نہیں جانا پڑے گا۔ یہاں وہ اپنا مستقبل بنا سکیں گے۔‘

جب وہ تیل سے داغ دار اپنی کشتی جھیل میں لے کر جاتے ہیں تو یہاں کا نظارہ حیران کن ہے۔ آسمان کی خوب صورتی جھیل کے پانی سے متضاد ہے، جو کہیں کہیں نیلا ہے اور زیادہ تر سبزی مائل یا تیل کی وجہ سے سیاہ۔ تیل پانی کی سطح پر تیرتا ہوا صاف نظر آتا ہے اور جب میں پانی میں ہاتھ ڈبو کر نکالتا ہوں تو وہ تیل سے لتھڑا ہوتا ہے۔

روڈریگیز شکایت کرتے ہیں کہ ’یہ دن بدن بد تر ہوتا جا رہا ہے۔ سبز، سیاہ، تیل آلود۔ یہاں مچھلیاں بھی کم ہیں۔‘ اس صبح کوئی بھی مچھلی اُن کے ہاتھ نہ لگی تھی۔

وہ امید کرتے ہیں کہ جب تیل کی بین الاقوامی کمپنیاں واپس آئیں گی تو وہ جھیل صاف کرنے میں بھی مدد کریں گی۔

جب کہ دوسرے لوگ محتاط ہیں۔ ایک اور ماہی گیر ہوزے لوزارڈو کہتے ہیں: ’ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں ہمارے وسائل نکالنے، کنویں کھودنے اور نوکریاں پیدا کرنے کے لیے آئیں۔ لیکن ہم کسی کی کالونی نہیں بننا چاہتے۔‘

وہ مادورو کے پکے حامی ہیں لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا خاندان اور ساتھی مشکلات کا شکار ہیں۔

کشتی پانی میں ڈالنے کی تیاری کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹرمپ ’وینزویلا میں آ سکتے ہیں، لیکن اُنھیں تیل کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ یہ تیل وینزویلا کا ہے، وینزویلا میں رہنے والوں کا ہے۔‘

بہت سے دیگر لوگ، خاص طور پر وہ جو حکومت مخالف ہیں، نتائج کے خوف سے سیاست پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

بعد میں، لوزارڈو کے گھر سے جھیل کی لہریں ٹکرانے کی آواز کڑاہی میں کڑکڑاتے تیل کی آواز کا مقابلہ کر رہی ہے۔

بغیر پلستر دیواروں والے کچن میں خواتین کا گروہ صبح پکڑی گئی چند مچھلیاں تل رہا ہے۔ لوزارڈو کا کہنا ہے کہ وہ خوش نصیب ہیں کہ چند مچھلیاں تو ہاتھ آئیں۔ کسی کسی دن وہ خالی ہاتھ واپس آتے ہیں اور بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔

BBCوینزویلا پارلیمان کے رکن جوآن رومارو کہتے ہیں کہ ماراکائیبو جھیل میں تیل کے تقریباً 13 ہزار کنویں ہیں جنھیں بحال کیا جا سکتا ہے اور یہاں 26 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں

حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی سرمایہ کاری کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہیں۔

جوآن رومارو پارلیمان میں زولیا کی نمائندگی کرتے ہیں اور حکمران جماعت پی ایس یو وی کے مقامی رہنما ہیں۔ اُن کے مطابق سرمایہ کاری سے ہی یہ صنعت بحال ہو گی۔

اُنھوں نے کہا: ’ماراکائیبو جھیل میں تیل کے تقریباً 13 ہزار کنویں ہیں جنھیں بحال کیا جا سکتا ہے اور یہاں 26 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔‘

جوآن رومارو کے خیال میں امریکی پابندیوں ہٹنے سے ’معاشی طور پر گلا گھونٹنے‘ کا عمل ختم ہو گا اور وینزویلا غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کے قابل ہو گا۔

لیکن تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ سابقہ قومی پیداوار بحال کرنے کے لیے ایک دہائی اور سینکڑوں اربوں ڈالرز لگ سکتے ہیں اور تیل کی بڑی کمپنیاں اب بھی محتاط ہیں۔ ایگزون موبل کے چیف ایگزیکٹو ڈیرن ووڈز ملک کی موجودہ حالت کو ’سرمایہ کاری کے لیے نا موزوں‘ سمجھتے ہیں۔

مادورو کے ہٹائے جانے کے بعد ایک وائٹ ہاؤس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے نشاندہی کی کہ وینزویلا میں کمپنی کے اثاثے دو بار ضبط کیے گئے ’تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ تیسری بار یہاں واپس آنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں درکار ہوں گی۔‘ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی نئے قانونی ڈھانچے اور سرمایہ کاروں کو مضبوط تحفظ کے بغیر ترقی کے لیے درکار اربوں ڈالرز نہیں آئیں گے۔

اس کے باوجود ماراکائیبو میں رہنے والے زیادہ تر لوگ پُر امید ہیں کہ سرمایہ کاری اور خوش حالی لوٹ آئے گی۔

ان میں 93 سالہ ہوزے روڈاس بھی ہیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ آئل ورکر ہیں اور اب بھی کلاسیکی امریکی کار ڈاج ڈارٹ کے مالک ہیں۔ یہ کار انھوں نے 1970 کی دہائی میں خریدی تھی جب تیل کی صنعت عروج پر تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’اب چیزیں زیادہ مشکل ہو گئی ہیں۔ ماضی میں زندگی آسان تھی۔ ہمارے پاس آسائشیں تھیں۔‘

وہ ’کمسارایات‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آئل کیمپس کا مرکزی شعبہ جو نہ صرف کم قیمت پر خوراک فراہم کرتا تھا بلکہ کارکنوں کے گھروں کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا۔ گھروں کا رنگ و روغن تازہ کیا جاتا تھا اور نئے بلب فراہم کیے جاتے تھے۔

آج، اُن کے نظر انداز کردہ برآمدے میں کھڑی کار گزرے روشن دور کی مدھم یادگار معلوم ہوتی ہے۔

کاراکس کی بجلی منقطع کرنے سے مادورو کے کمپاؤنڈ کے نقشے تک، امریکہ نے وینزویلا میں خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی کیسے کی؟وینزویلا کے تیل کی کہانی: سعودی عرب سے بھی بڑے ثابت شدہ ذخائر مگر امریکہ کے لیے اُن کا حصول مشکل کیوں ہو گا؟کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھا’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟’گھوسٹ فلیٹ‘: وینزویلا خفیہ تیل بردار جہازوں کے نیٹ ورک کی مدد سے امریکہ کو کیسے چکمہ دے رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More