انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار: کیا پاکستان اپنے ’اصولی‘ فیصلے کا دفاع کر پائے گا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 05, 2026

Getty Imagesپاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف گروپ سٹیج میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ 'سوچ سمجھ کر' کیا گیا ہے اور اس کی وجہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنا ہے۔

بدھ کی شب کابینہ کے اجلاس کے دوران اس بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے ہم نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ ہم انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ یہ کھیل کا میدان ہے، سیاست نہیں ہے۔ کھیل کے میدان میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ’سوچ سمجھ کر موقف اختیار کیا ہے اور اس حوالے سے ہمیں بنگلہ دیش کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مناسب فیصلہ ہے۔‘

اس سے قبل پاکستانی حکومت نے یکم فروری کو ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر 15 فروری کو ’انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔‘

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ پی سی بی ’اپنے ملک میں کرکٹ کے لیے اس فیصلے کے اہم اور طویل المدتی اثرات پر غور کرے کیونکہ اس کا اثر عالمی کرکٹ کے اُس نظام پر بھی پڑے گا جس کا پاکستان خود ایک حصہ ہے۔‘

پاکستان کا یہ فیصلہ کئی دنوں سے زیرِ بحث ہے۔ چونکہ روایتی حریفوں کے درمیان یہ بڑے مقابلے آئی سی سی ٹورنامنٹس کے دوران سب سے زیادہ آمدن کماتے ہیں اس لیے یہ معاملہ عالمی کرکٹ کے سیاسی اور مالی امور کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اس تحریر میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

Getty Imagesپاکستانی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ لینے سری لنکا پہچ چکی ہےپاکستان اپنے فیصلے کا دفاع کیسے کرے گا؟

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ فیصلہ ’وقت کی ضرورت‘ تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کئی برسوں سے کرکٹ کی عالمی سیاست میں تنہائی اور اختیارات کے غیر متوازن نظام کا سامنا کرتا رہا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میں شمولیت سے متعلق غیر جانبداری نہ ہونے پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کیا۔ انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا قدم ہے، کیونکہ یہی میچ آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ مالی اہمیت رکھتا ہے۔‘

اگست 2024 میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ بڑھا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے انڈین کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمٰن کو ٹیم سے نکال دیا جس کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔

بنگلہ دیش کی طرف سے انڈیا میں ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے پر سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے اور نیوٹرل وینیو کی شرط رکھی گئی جسے مسترد کرتے ہوئے آئی سی سی نے اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ کا حصہ بنایا۔

انڈین چینلز اس بار پی ایس ایل کے میچز کیوں نہیں دکھا سکیں گے؟عمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانیکرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

انڈیا ماضی میں بھی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ کرکٹ کھیلنے سے انکار کرتا رہا ہے، تاہم آئی سی سی اور ایشیا کپ جیسے ملٹی نیشنل ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آتی رہی ہیں اور زیادہ موقعوں پر دونوں ٹیموں نے پاکستان سے باہر ہی میچز کھیلے ہیں۔

پاکستان کے اس فیصلے کو موجودہ نظام کے خلاف ایک واضح ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کی شمولیت سے تو فائدہ اٹھایا گیا، لیکن اس کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ماضی میں بھی ٹیموں نے حکومتی ہدایات پر ٹورنامنٹس سے دستبرداری اختیار کی ہے اور ماضی میں بھی ایسے فیصلوں کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔

’میں نے انڈیا کے خلاف کیس کیا تھا، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ اگر کسی بورڈ کو حکومت کھیلنے سے روک دے تو اس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘

پی سی بی کے سابق چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔

’پہلے پاکستان آئی سی سی کی آمدن پر مکمل انحصار کرتا تھا، لیکن اب پاکستان سپر لیگ کی آمدن آئی سی سی سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہم اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں اور مضبوط پوزیشن میں ہیں۔‘

Getty Imagesنجم سیٹھی ماضی میں پی سی بی کے چیئرمین رہ چکے ہیں

نجم سیٹھی نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستان اس وقت ایشین کرکٹ کونسل کا چیئرمین ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق آئی سی سی کے موجودہ مالی ماڈل میں انڈیا کو غیر متناسب فائدہ دیا جا رہا ہے، جبکہ چھوٹے بورڈز مسلسل نقصان میں ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا ’اگر انھیں انڈیا اور پاکستان کا میچ چاہیے اور اس سے جڑی آمدن بھی تو پھر انھیں انصاف اور برابری کے اصولوں کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔‘

کیا اس فیصلے سے عالمی کرکٹ میں توازن قائم ہو سکے گا؟

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے یہ فیصلہ بین الاقوامی کرکٹ میں توازن قائم کرنے اور کسی ایک ملک یا بورڈ کے زیادہ اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے کیا ہے۔

تاہم آئی سی سی اور پی سی بی کے سابق چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ ’اس فیصلے کا اثر اتنا زیادہ نہیں ہوگا کیونکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بورڈز زیادہ تر انڈیا اور پاکستان کے میچز کے معاملے میں غیر جانبدار رہتے ہیں اور وہ اپنی ذاتی مالی اور تجارتی دلچسپیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

احسان مانی کا کہنا ہے کہ ’یہ فیصلہ سازی میں توازن نہیں لائے گا کیونکہ اصل میں سب کچھ پیسے کے گرد گھومتا ہے۔ تمام ممالک یا تو آئی سی سی پر انحصار کرتے ہیں یا انڈیا کے دوروں سے آمدنی کماتے ہیں اور وہ آسانی سے اسے قربان نہیں کریں گے۔‘

’انگلینڈ اور آسٹریلیا انڈیا کے خلاف کسی بھی بورڈ کی شکایت کی پرواہ نہیں کریں گے کیونکہ انڈیا کے دورے سے انہیں بھاری آمدنی ملتی ہے۔ اگر انڈیا ان کے ہوم گراؤنڈ پر آتا ہے تو نہ صرف براڈکاسٹر سے بلکہ سٹیڈیم بھرنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اگر پاکستان نہیں کھیلے گا تو اصل نقصان انڈیا کو ہوگا کیونکہ وہ آئی سی سی کے آمدنی ماڈل میں سب سے بڑا حصہ لیتا ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ انڈیا کے دورے سے اپنی آمدنی کماتے ہیں، اس لیے انڈیا-پاکستان میچ نہ ہونے سے ان کا نقصان نہیں ہوگا۔ تاہم زمبابوے، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور سری لنکا جیسے چھوٹے بورڈز کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘

کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئی سی سی ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے ہوئے میمبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (MPA) کی شرائط پر عمل کرے، جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کی شق 5.7.1 کے مطابق ہر رکن ملک پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف تمام آئی سی سی ایونٹس میں حصہ لے بلکہ ان ایونٹس میں شیڈول ہر میچبھی کھیلے۔

Getty Imagesجے شاہ انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہیں

یہ پابندی صرف اسی صورت میں لاگو نہیں ہوتی جب کوئی غیر معمولی حالات (force majeure) پیش آئیں، جو ملک کے قابو سے باہر ہوں، جیسے قدرتی آفات، جنگ یا حکومت کی ہدایت۔ اس کا ذکر آرٹیکل 12 اور 17.4 میں کیا گیا ہے۔

آئی سی سی نے عام طور پر حکومت کے فیصلوں کا احترام کیا ہے، جو کسی ٹیم کو دورے یا میچ کھیلنے سے روک سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر انڈیا نے 2025 چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاکستان میں میچ نہیں کھیلا اور تمام میچز یو اے ای میں کھیلے۔ اسی طرح 2023 ایشیا کپ میں انڈیا نے پاکستان کا دورہ کرنے کے بجائے اپنے میچ کولمبو میں کھیلے۔

پاکستان، انڈیا یا آئی سی سی، نقصان کس کا ہوگا؟

آئی سی سی نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ مسئلے کا کوئی مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے، مگر ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو خبردار کیا ہے کہ ایسا قدم پاکستان اور عالمی کرکٹ پر طویل مدتی اثر ڈال سکتا ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق اگر پاکستان انڈیا کے ساتھ میچ نہ کھیلے تو سب سے زیادہ نقصان براڈکاسٹر کو ہوگا لیکن وہ پی سی بی کے خلاف براہ راست کارروائی نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ انڈین براڈکاسٹر ہے اس لیے ان کا جھکاؤ انڈیا کے حق میں ہوگا کیونکہ انڈیا-پاکستان میچز سب سے زیادہ آمدنی دیتے ہیں۔

’اگر یہ میچز نہ ہوں اور براڈکاسٹر کھیل کو غیر منافع بخش قرار دے کر معاہدہ واپس لے تو اس کا اثر آئی سی سی پر پڑے گا، جس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کے میچز اکثر باقی تمام میچز سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔‘

اگرچہ آئی سی سی نے پاکستان حکومت کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے، مگر وہ پی سی بی سے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کر سکتا ہے اور متعلقہ ایم پی اے شقوں کے تحت کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

Getty Imagesپاکستان اور انڈین شائقین کی ایک تصویر

نجم سیٹھی کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی نے ناانصافی کی ہے اور ابھی بھی امکان موجود ہے کہ گورننگ باڈی اپنی سمجھ بوجھ سے صورتحال کو درست طریقے سے حل کر لے۔

اُن کے مطابق اگر پاکستان خاموش رہ کر میچ کے دن پر عوامی بائیکاٹ کرتا اور میدان میں نہیں اُترتا تو معاملات کہیں زیادہ پیچیدہ اور نقصان دہ ہو سکتے تھے۔

سیٹھی نے کہا ’امید ہے آئی سی سی عقل مندی سے کام لیتے ہوئے درست فیصلہ کرے گا۔‘

اُن کے مطابق مسئلہ قواعد و ضوابط سے زیادہ عالمی کرکٹ میں طاقت کے عدم توازن اور انڈین بورڈ کے ’انا کا ہے۔ یہی چیز آئی سی سی کے فیصلے میں رکاوٹ بنتی ہے، خاص طور پر جب بات بنگلہ دیش کی ہو۔‘

تاحال انڈین بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کی ہے۔ بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آئی سی سی نے اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس نے کھیل کے جذبے کے عنصر کو اجاگر کیا ہے۔ ہم آئی سی سی سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ بی سی سی آئی اس وقت تک کوئی تبصرہ نہیں کرے گا جب تک ہم آئی سی سی سے بات نہ کر لیں۔‘

مگر سیٹھی کو امید ہے کہ ’آئی سی سی سمجھداری سے کام لے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹورنامنٹ میں اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اب بھی راستے موجود ہیں۔ ’یہ معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ اگر سب ناکام ہو جائے تو بھی پاکستان انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔‘

سرفراز احمد کی انڈر 19 میچ کے دوران فون استعمال کرنے کی تصویر پر شورکروڑوں کا کمرشل ٹائم اور اربوں کی سرمایہ کاری: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟’اس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے‘: ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا پاکستان کو پیغامپاکستان نے ٹی20 سیریز میں آسٹریلیا کو کلین سویپ کردیا: محمد نواز کی پانچ وکٹیں اور ’بابر اعظم ورلڈ کپ کے لیے مکمل تیار‘رانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘کوہلی کی 54 ویں سنچری اور انڈیا کا ’نیا وِلن‘: بلیو شرٹس کو تین سال بعد ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے سیریز میں شکست
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More