اگلی بار جب آپ پورے چاند سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ’تھیا‘ کے بارے میں سوچنے کے لیے ایک لمحہ ضرور نکالیں۔
یہ نام سائنسدانوں نے ایک فرضی سیارے کو دیا ہے جو شاید 4.5 بلین سال پہلے نئی بننے والی زمین سے ٹکرایا تھا اور اسی ٹکراو کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک بڑا ٹکڑا بعد میں ہمارا چاند بن گیا۔
اس نظریے کے مطابق، تھییا کی ’کائناتی قربانی‘ کے بغیر یہ قدرتی سیٹلائٹ نہیں ہوتا اور آپ شاید یہ مضمون بھی نہ پڑھ رہے ہوتے۔
چند سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین اور مریخ کے حجم جتنے ایک سیارت کے درمیان ایک بڑے تصادم نے اتنا مواد پیدا کیا کہ وہ آہستہ آہستہ اکٹھا ہو کر چاند بنا۔
اس واقعے نے، جسے ’جائنٹ امپیکٹ ہائپوتھیسس‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسے رشتے کی بنیاد ڈالی جس کی زندگی کے لیے اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری چیزوں کے علاوہ، چاند زمین پر کشش ثقل کی وجہ بھی ہے، جس نے زمین کو اربوں سال سے اپنے محور پر مستحکم رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں ایک مستحکم آب و ہوا میسر ہے۔
جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار سولر سسٹم ریسرچ کے سائنسدان پروفیسر تھورسٹن کلین بتاتے ہیں کہ آب و ہوا میں استحکام کے بغیر، ہمارے پاس بہت زیادہ شدید موسمی حالات ہوتے، جو زندگی کی نشوونما کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔
کلین سائنسدانوں کی ایک ایسی بین الاقوامی ٹیم کا حصہ تھے جس نے گزشتہ نومبر میں زمین کے ساتھ اس اہم لیکن پراسرار تصادم پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔
NASA1960 اور 1970 کی دہائی کے اپالو مشن
سائنس جریدے میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق اس ٹیم نے زمین اور چاند کے نمونوں کی کیمیائی ساخت کا تجزیہ کیا، جس سے ان نظریات کو تقویت ملی کہ تھیا اور ہماری زمین شاید نظام شمسی کی تشکیل کے ہنگامہ خیز وقت کے دوران پڑوسی تھے۔
لیکن تھیا سے چاند کی تشکیل کا تصور ہمیشہ سے موجود نہیں تھا۔ 1969 میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے سے پہلے، چاند کے بارے میں تین دیگر اہم نظریات موجود تھے۔
فِشن تھیوری کے مطابق، چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تیزی سے گھومنے والی زمین نے ایک ٹکڑا خلا میں پھینکا۔
کیپچر تھیوری نے تجویز کیا کہ چاند نظام شمسی میں کہیں اور بنا تھا جبکہ ’کو فارمیشن‘ تھیوری کے مطابق زمین اور چاند ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی وقت میں بنے۔
یہ بتانے کے بجائے کہ ان میں سے کون سا نظریہ درست ہونے کا زیادہ امکان ہے، ناسا کے اپالو مشن نے بالکل نئے نظریے کی طرف اشارہ کیا۔
اگرچہ چاند پر اترنے والے نیل آرمسٹرانگ اور دوسرے خلابازوں کے کاموں کے بارے میں اکثر بات کی جاتی ہے، لیکن اپالو مشن کی ایک اہم کامیابی اس سفر سے واپس آنے والے تحائف یعنی نمونوں میں چھپی ہوئی ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے ماہر فلکیات اور بچوں کی سائنس کی کتاب ’ونڈرز آف دی مون‘ کے مصنف پروفیسر رامن پرنجا کا کہنا ہے کہ اپالو کے خلاباز چاند کی چٹانوں کے نمونے واپس لائے اور جب سائنس دانوں نے ان کا تجزیہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ چاند کی چٹانوں میں کیمیائی طور پر مماثلت پائی جاتی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاند درحقیقت زمین کا حصہ ہو سکتا ہے۔
چاند کے ’اربوں کھربوں کے وسائل‘ تک پہنچنے کی کوششیں لیکن چاند کس کی ملکیت ہے؟’پورا چاند‘ اور ’بلڈ مون‘: دیوتاؤں کے اُترنے سے لے کر بھیڑیوں کے نکلنے تک کی کہانیاں’خانہِ کعبہ کسی ہیرے کی مانند چمکتا نظر آ رہا ہے‘: خلا سے مسجدِ الحرام کی تصویر جس نے دنیا کو حیران کر دیا’ڈارک انرجی‘ میں عجیب و غریب ’تبدیلیاں‘: کیا واقعی کائنات پھر سے سِمٹ کر تباہ ہو جائے گی؟
پرنجا کا یہ بھی کہنا ہے کہ چٹانوں میں شدید گرمی میں بننے کے آثار تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ ایک بڑے تصادم سے بنی ہیں۔
ناسا کی قمری ماہر ارضیات ڈاکٹر سارہ کا مزید کہنا ہے کہ نمونوں سے جو ثبوت فراہم کیے گئے وہ صرف آغاز تھا۔
حالیہ دہائیوں میں تکنیکی ترقی، خاص طور پر کمپیوٹر ماڈلنگ، کی وجہ سے دیگر تصورات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ زمین کا اپنے محور پر جھکاؤ تھیا کے ساتھ ٹکرانے کا نتیجہ ہے۔
لیکن تھیا کو کیا ہوا؟
یہ سائنس کی چند بڑی پہیلیوں میں سے ایک ہے۔ 65 ملین سال پہلے زمین سے ٹکرانے والے بدنام زمانہ الکا کے برعکس، جس نے ڈائیناسورز کا صفایا کیا اور میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاٹن میں ایک بہت بڑا گڑھا پیدا کیا، تھیا نے کوئی واضح نشان نہیں چھوڑا۔ کیوں؟
کلین کا کہنا ہے کہ ’شاید یہ بکھر گیا ہو گا اور اس کا زیادہ تر حصہ زمین میں جذب ہو گیا۔‘ ان کے مطابق کچھ حصے چاند کی تشکیل میں شامل ہو گئے ہوں گے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ اس طرح کے تصادم کا قدرتی نتیجہ ہوتا۔ تاہم، ہم چاند پر تھیا کی ساخت کے کچھ ایسے نشانات دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں، جو ہمیں اب تک نہیں ملے ہیں۔
کلین کہتے ہیں کہ ’ایک توجیہہ یہ ہے کہ زمین اور تھیا بہت ملتے جلتے تھے کیونکہ وہ نظام شمسی کے ایک ہی خطے میں بنے تھے اور اس لیے ان کے درمیان فرق کرنا مشکل ہے۔‘
ہم جانتے ہیں کہ ہمارا سیارہ اپنے دو قریبی پڑوسیوں زہرہ اور مریخ جیسی بہت سی خصوصیات رکھتا ہے۔ وینس کو تو زمین کا جڑواں سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔
لیکن جس طرح تھیا کی ابتداء یقینی طور پر معلوم نہیں ہے، اسی طرح اس کا انجام بھی واضح نہیں ہے۔
تاہم، کچھ سراغ ملے ہیں۔ 2023 کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زمین کے اندر گہرائی میں براعظم کے سائز کے دو خطے خود تھییا کی باقیات ہیں۔
NASAچاند کے بارے میں ابھی بہت سے سوالات باقی ہیں
زمین اور چاند کی جوڑی کیسے بنی؟ اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بہت کچھ ہے اور اسی لیے سائنس دان ناسا کے ’آرٹیمس‘ مشن اور انسان کی چاند پر واپسی کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔
اپالو دور کے مقابلے میں زیادہ جدید آلات کے ساتھ یہ مشن چاند کے نئے قطب جیسے قطب جنوبی کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سے پہلے اپالو کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے چاند کے نمونے ایک چھوٹے علاقے سے آئے تھے -
والنسیا کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے زمین پر صرف چھ جگہوں کا دورہ کیا ہوتا تو کیا ہم کہہ سکتے تھے کہ ہم نے پوری زمین کو تلاش کر لیا ہے اور اس کے ارتقا کو سمجھ لیا ہے؟ بالکل نہیں! چاند میں لامتناہی سائنسی صلاحیت موجود ہے۔
لیکن فی الحال، جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اس کی بنیاد پر، یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہم تھیا کی قربانی کے لیے اس کے بہت مشکور ہیں۔
’خانہِ کعبہ کسی ہیرے کی مانند چمکتا نظر آ رہا ہے‘: خلا سے مسجدِ الحرام کی تصویر جس نے دنیا کو حیران کر دیاچاند کے ’اربوں کھربوں کے وسائل‘ تک پہنچنے کی کوششیں لیکن چاند کس کی ملکیت ہے؟’ڈارک انرجی‘ میں عجیب و غریب ’تبدیلیاں‘: کیا واقعی کائنات پھر سے سِمٹ کر تباہ ہو جائے گی؟’پورا چاند‘ اور ’بلڈ مون‘: دیوتاؤں کے اُترنے سے لے کر بھیڑیوں کے نکلنے تک کی کہانیاںچین کی مدد سے خلا میں بھیجا جانے والا پہلا پاکستانی ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ جسے وژن 2047 کا حصہ قرار دیا جا رہا ہےہمارا سورج ایک ’تنہا خانہ بدوش‘ ہے لیکن کیا اس کا کوئی جڑواں بھائی بھی تھا؟