Getty Images
حکومت نے عمران خان کی آنکھوں کے علاج کے لیے انھیں ’ایک خصوصی طبی ادارے‘ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔ اور اس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔‘
سپریم کورٹ وفاقی حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔ جب کہ عدالتی حکم کے بعد عمران خان کی ان کے بچوں سے بات بھی کروائی گئی۔
تحریک انصاف عمران خان کے علاج کے لیے احتجاج تو کر ہی رہی ہے لیکن ساتھ ہی ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت اور سکیورٹی اردوں کے درمیان انتظامی نوعیت کی چند ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
منگل 10 فروری کو پشاور کے کور ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس ہوا۔ اس صوبائی اجلاس میں وفاقی حکومت کے نمائندے شریک ہوئے، عسکری قیادت شریک ہوئی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع جان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مسائل پر بات ہوئی، معیشت اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔‘
یہ غیر معمولی اس وجہ سے تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے وفاق اور فوج سے شدید اختلافات ہیں۔ فوج کے ترجمان پریس کانفرنسز میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت خیبر پختونخوا میں ممکنہ فوجی آپریشن کی بھی مخالفت کرتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوامی ووٹ تو اسے ملا تھا لیکن یہ مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ اسی الزام کے تحت تحریک انصاف وفاقی حکومت اور عسکری قیادت پر بھی تنقید کرتی ہے۔
نو مئی 2023 کو ملک کے کئی شہروں میں ہجوم نے عسکری تنصیبات اور اہم عمارات کو نشانہ بنایا تھا۔ حکومت اور عسکری قیادت اس کا الزام تحریک انصاف کو دیتی ہے۔
تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور الزام لگاتی ہے کہ دباؤ کی وجہ سے عدالتیں ان جھوٹے مقدمات کو ختم نہیں کر رہیں۔ پی ٹی آئی کو یہ بھی شکایت ہے کہ عمران خان سے ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔
حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور عمران خان کی سزاؤں کو ’انصاف پر مبنی‘ عدالتی فیصلے قرار دیتی ہے۔
ان دعووں اور الزامات کے سبب تحریک انصاف کے حکومت اور فوج کے ساتھ تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ایسی ملاقات میں شریک ہونا غیر معمولی تھا جس میں وفاقی حکومت اور فوج کی قیادت موجود ہو۔
اسی روز ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے تین گھنٹے ملاقات کی اور ان کی رپورٹ کے بعد عدالت نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ ایک خصوصی طبی ادارے میں کرانے کا حکم دیا۔
سہیل آفریدی نے دوفروری کو وزیر اعظم سے ملاقات کی، تین فروری کو عمران خان کی اہلیہ سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات ممکن ہوئی اور یہ ملاقات تین ماہ کے وقفے کے بعد ہوئی۔ پانچ فروری کو ایپکس کمیٹی اجلاس میں صوبائی و فوجی حکام نے امن و امان کے لیے اشتراک پر اتفاق کیا۔
تو کیا یہ سمجھا جائے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف میں پایا جانے والا تناؤ کم ہو رہا ہے؟ جن معاملات پر کشیدگی پائی جاتی تھی، کیا مل جل کر اسے حل کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے؟ اور کیا سب فریق اب ایک پیج پر آ رہے ہیں؟
’کوئی شخص مجھے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو، صوبے اور عوام کے حقوق کے لیے اس کے ساتھ بیٹھوں گا‘Getty Imagesسہیل آفریدی اپنی ملاقاتوں پر یہی موقف دے رہے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا اور اس کے عوام کے حقوق کی خاطر وفاقی اور عسکری قیادت سے ملے
سہیل آفریدی اپنی ملاقاتوں پر یہی موقف دے رہے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا اور اس کے عوام کے حقوق کی خاطر وفاقی اور عسکری قیادت سے ملے ہیں۔
10 فروری کے اجلاس میں شرکت سے پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک تقریب سے خطاب کیا تھا۔ اس میں ان کا کہنا تھا: ’کوئی شخص مجھے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو، صوبے اور عوام کے حقوق کے لیے اس کے ساتھ بیٹھوں گا۔‘
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’کوئی سمجھتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر بند کمروں کے فیصلوں سے میرے نظریہ عمران کے خلاف کچھ منوا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔‘
دو فروری کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بھی سہیل آفریدی نے یہی کہا تھا کہ کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی بلکہ جو بھی باتیں ہوئیں وہ صرف خیبر پختونخوا سے متعلق تھیں۔
ان کا کہنا تھا: ’آج کی ملاقات اس عہدے کا تقاضا تھا جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک سیاسی ورکر کی حیثیت سے شاید میں کبھی بھی وہاں نہ بیٹھتا۔ لیکن میں نے اپنے عوام کے لیے، اپنے صوبے کے لیے (یہ ملاقات کرنا) مناسب سمجھا۔‘
عمران خان سے قبل پاکستان میں کب کب سابق وزرائے اعظم کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا؟ڈی جی آئی ایس پی آر کی ’جارحانہ‘ پریس کانفرنس میں عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید: ’ادارے کے لیے مناسب نہیں کہ ایسے لب و لہجے میں بات کی جائے‘عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو: ’جن لوگوں کے پاس طاقت ہے ان کا رویہ مزید سخت ہو گیا ہے‘نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی ورکشاپ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شرکت، عمران خان کی ناراضگی اور وضاحتیں: ’ہمارے لوگ پہلے بھی اس کا حصہ رہے ہیں‘
بی بی سی اردو کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے۔
صوبے میں فوجی آپریشنز سے متعلق انھوں نے کہا کہ 'میری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صوبے میں امن و امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے جن کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہ لانے پر اتفاق ہوا ہے۔'
وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اور عسکری حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں صوبائی امور پر بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے پارٹی امور اور عمران خان سے متعلق بات نہیں کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ این ایف سی سمیت خیبر پختونخوا کا حق اسے دیا جائے گا تاہم حکومت نے اس مجبوری کا بھی ذکر کیا ہے کہ خزانے میں اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری ادائیگیاں ہو سکیں۔
ایک سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ میں بطور وزیر اعلیٰ اپنے صوبے میں احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال نہیں دے سکتا اس وجہ سے کسی بھی ریلی یا مظاہرے سے میں نے خطاب بھی نہیں کیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو سرکاری میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں خود تسلیم کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی 10 سے 15 فیصد تک رہ گئی ہے، تاہم اس رپورٹ پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاحال ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو مکمل معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرتے وقت نہ ان کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج کو بلایا گیا، جو بدنیتی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے۔
’ماضی کی تخلیاں بھلانے‘ کا مشورہ
ایسی خبریں بھی آئیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس کی تصدیق کی۔
تو کیا تحریک انصاف، فوج اور حکومت میں برف پگھل رہی ہے یا جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض اتفاق ہے؟ حتمی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس پیش رفت کا محرک کیا چیز بنی لیکن سیاسی معاملات جنوری سے آگے بڑھتے نظر آئے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ گذشتہ سال اگست سے خالی تھا۔
اس عہدے کے لیے عمران خان نے محمود خان اچکزئی کا انتخاب کیا تھا لیکن حکومت نوٹیفیکیشن جاری نہیں کر رہی تھی۔ لیکن اس سال جنوری میں نا صرف محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا بلکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں محمود خان اچکزئی نے ایوان کی مضبوطی کے لیے غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی تھی اور ’جو ہوا سو ہوا‘ کہہ کر ماضی کی غلطیاں اور تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
تو کیا اسی مشورے پر عمل کرتے ہوئے ’ماضی کی تلخیاں بھلا کر‘ آگے بڑھا جا رہا ہے؟ اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ان ملاقاتوں میں صرف صوبے کے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ لیکن وہ ان ملاقاتوں کو ایک مثبت علامت قرار دیتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مزمل اسلم کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی کی ملاقاتوں سے ’یہ تاثر ضرور بنا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت بات چیت کر سکتی ہیں۔ پہلے ہم (یعنی تحریک انصاف) حکومت سے کہتے تھے کہ آپ کا کیا اختیار ہے، وہ ہمیں کہتے تھے کہ آپ کا کیا اختیار ہے، تمام اختیار تو اڈیالہ کے پاس ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کیا اب سیاسی معاملات پر بھی حکومت اور تحریک انصاف میں بات آگے بڑھ سکتی ہے؟ مزمل اسلم کہتے ہیں کہ ’وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بار بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سیاسی معاملات کا اختیار صرف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس ہے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی ان ملاقاتوں کی نوعیت صرف ’انتظامی‘ قرار دے کر برف پگھلنے کے تاثر کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جو بات چیت ہوئی وہ صرف انسداد دہشت گردی اور امن عامہ کے حوالے سے تھی۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا ’یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی ڈیل یا ڈھیل یا مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘
تاہم تجزیہ کار عامر ضیا کا مؤقف مختلف ہے، ان کے خیال میں ’یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی تناؤ اور محاذ آرائی میں کمی لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایک سیاسی قوت کے طور پر تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی جبکہ تحریک انصاف کو بھی اس بات کی سمجھ آ گئی ہے احتجاج سے حکومت گرانا ممکن نہیں ہو گا۔
عامر ضیا کے خیال میں ’ایسی توقع رکھنا درست نہیں کہ ایک روز اچانک ڈرامائی طور پر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور تحریک انصاف کو ریلیف مل جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ اتنے مقدمات ہوتے ہوئے جو بھی ریلیف ملنا ہے وہ عدالت سے ہی ملنا ہے اور ’اگر ریاست مداخلت نہ کرے تو راہیں نکل آئیں گی۔‘
Getty Imagesمحمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں 'جو ہوا سو ہوا' کہہ کر ماضی کی غلطیاں اور تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا تھا
کیا معاملات ’کچھ لو کچھ دو‘ کا فارمولا اپناتے ہوئے کسی سمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں عامر ضیا کہتے ہیں ’عقل کہتی ہے کہ چونکہ حکومت کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو کچھ دینے کی پوزیشن میں بھی وہی ہوتی ہے، کسی سمجھوتے سے پہلے ماحول بنانا پڑتا ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر تحریک انصاف بھی اچھا بن رہی ہے۔‘
تجزیہ نگار منیب فاروق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر تو ملتا ہے کہ ’سہیل آفریدی کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ وفاق اور فوج سے تعلقات کشیدہ رکھ کر صوبہ نہیں چل سکتا۔ اگر صوبہ چلانا ہے تو تمام فریقوں کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔‘
منیب فاروق کا مزید کہنا تھا کہ ’کشیدگی اس حد تک تو کم ہوئی ہے کہ اب سہیل آفریدی کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں لیکن تلوار ان کے سر پر لٹکتی ہی رہے گی۔ جب تک وہ تعاون کرتے رہیں گے معاملات بھی چلتے رہیں گے۔ جہاں کام خراب ہو گا تو وہاں حالات ان کے لیے کشیدہ ہو جائیں گے۔‘
منیب فاروق کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ قیاس آرائی کرنا بھی درست نہیں کہ بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے اور حالات بالکل ٹھیک ہو چکے ہیں۔ موجودہ ملاقاتیں ایک مثبت قدم ضرور ہیں لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
عمران خان کا علاج ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ان کی رضامندی سے ہوا: پمز انتظامیہ’صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ہڑتال میں شرکت کرتا کیا اچھا لگے گا‘: آٹھ فروری کو پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج کتنا کامیاب رہا؟وادی تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن، نقل مکانی اور سہیل آفریدی کا گلہ’سٹریٹ موومنٹ‘ کے ساتھ ساتھ بات چیت پر ’آمادگی‘: وزیرِاعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش حکومت اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟جنرل فیض: فوجی محبت، فوجی انصاف’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟