مریم نواز کی ’سلپ آف ٹنگ‘ اور صحافی پر ’فیک ویڈیو‘ پھیلانے کا الزام: ’اتنی سی بات پر نشانہ بنانا جلد بازی تھی‘

بی بی سی اردو  |  Feb 14, 2026

’مریم نواز، نواز شریف کی طرح دعویٰ نہیں کرتی کام کرکے دکھاتی ہے۔‘

یہ جمعرات کو میانوالی میں جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز کی تقریر کا وہ فقرہ ہے جس نے پاکستان میں سوشل میڈیا پر بحث مچا کھی ہے۔ تقریر کا یہ حصہ وائرل ہونے کے بعد لاہور سے ایک صحافی کو ان کی بہن کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا۔

مریم نواز کی تقریر کا یہ کلپ شیئر کرنے کے بعد ہم نیوز سے وابستہ صحافی کے بقول اُنھیں جمعے کی دوپہر لاہور سے نامعلوم افراد نے حراست میں لے لیا گیا۔

صحافی کو تحویل میں لیے جانے کا معاملہ جمعے کو پاکستان کے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا رہا اور بعض صحافیوں نے صحافی کو لاپتا کرنے کا الزام پنجاب حکومت پر عائد کیا تھا۔

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمی بخاری نے ان الزامات پر کہا تھا کہ صحافی کو لاپتا نہیں کیا گیا بلکہ پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کرکے پھیلانے کے جرم میں زیر حراست ہیں۔

تاہم جمعے کی شام صحافی کو رہا کر دیا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی خرم اقبال کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے میانوالی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کا ایک کلپ شیئر کیا تھا، جس میں اُن کی زبان پھسل گئی تھی اور یہ ویڈیو اب بھی مسلم لیگ نواز کے سوشل میڈیا پیج پر موجود ہے۔

خرم اقبال کا کہنا تھا کہ ’دوران حراست اُنھیں بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ آپ نے ویڈیو میں ترمیم کر کے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے، حالانکہ میں بار بار یہ کہتا رہا ہے کہ میں نے اس میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں کی۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔‘

’جمعے کی نماز کی تیاری کر رہا تھا کہ نامعلوم افراد گھر کے باہر آ گئے‘

جمعے کو حراست میں لیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے خرم اقبال کا کہنا تھا کہ وہ سالانہ چھٹیوں اور بسنت منانے کے لیے کئی روز سے لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں اپنی بہن کے گھر مقیم تھے۔

اُن کے بقول جمعے کی دوپہر جب وہ نماز کی تیاری کر رہے تھے تو اس دوران، گھر کے باہر کچھ لوگ آئے اور اُنھیں ساتھ چلنے کا کہا۔

’میرا تین سال کا بیٹا میرے پیچھے بھاگا، لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، مجھے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا اور پورے خاندان اور محلے داروں کے سامنے مجھے لے جایا گیا۔‘

خرم اقبال نے دعویٰ کیا کہ اُنھیں تقریباً آٹھ گھنٹے تک لاہور کی سڑکوں، سی سی ڈی کے دفتر، تھانہ اقبال ٹاون اور پھر ایف آئی اے کے دفتر لے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

بی بی سی نے @pmln_org کے نام سے مسلم لیگ نواز کے ایکس ہینڈل کا جائزہ لیا تو یہ ویڈیو ابھی تک وہاں موجود ہے۔

خرم اقبال کا کہنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہیں اور حالیہ دنوں میں اُنھوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی تھی۔

اُن کے بقول ’میں نے وہ شیئر کیا جو مریم نواز سے نے بولا تھا، یہ ویڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہو گیا۔ دوران تفتیش مجھ سے کہا جاتا رہا کہ آپ نے ویڈیو میں ایڈیٹنگ کی ہے۔ میرا اصرار تھا کہ آپ اس کا فارنزک کرا لیں۔ میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو وہ دکھائیں۔ لیکن اس کے باوجود مجھے حراست میں رکھا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے جب ویڈیو شیئر کی تو اس میں لکھا تھا کہ مریم نواز کی زبان پھسل گئی۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے خلاف اتنی سی بات پر اتنی بڑی کارروائی ہو جائے گی۔‘

خرم اقبال کو گھر سے اُٹھانے پر سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ متعدد صحافیوں نے اس کی مذمت کی ہے۔

بی بی سی نے خرم اقبال کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا تاہم تادمِ تحریر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شہباز بابر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'صحافیوں کو حکومت پر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور ہم تنقید برداشت کریں گے۔'

شہباز بابر کے مطابق اگر کوئی کچھ غلط بھی کرتا ہے تو ہر بات کا ایک طریقہ کار موجود ہے اور اس کے مطابق ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا اگر کوئی فالورز بڑھانے کے لیے تنقید برائے تنقید بھی کرتا ہے تو بھی اسے گرفتار تو نہیں کیا جا سکتا۔

سوشل میڈیا پر تنقید اور عظمی بخاری کا جواب

ہم نیوز سے وابستہ صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے الزام عائد کیا تھا کہ خرم اقبال کو ’لاپتہ کرنے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، ایسا آمریتوں میں بھی نہیں ہوا۔ کل تک آپ پیکا کے خلاف ہمارے ساتھ سراپا احتجاج تھے آج آپ اُس قانون سے بھی بالاتر ہو کر صحافی لاپتہ کر رہے ہیں۔ عظمیٰ بخاری صاحبہ، مریم اورنگزیب صاحبہ اور مریم نواز صاحبہ آپ قانون ہاتھ میں نہ لیں۔‘

جیو نیوز سے وابستہ اینکر وجیہہ ثانی نے لکھا کہ ’ن لیگ کو بہت زیادہ ڈسپلن کی ضرورت ہے۔ کل مریم نواز سے تقریر میں سلپ آف ٹنگ ہو گیا۔۔ ہم سب نے سنا۔۔ایک صحافی نے وہ حصہ لگا دیا۔ عظمی بخاری نے اسے فیک قرار دیا۔ آج اس صحافی کو اٹھا لیا گیا۔‘ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’سب سے پہلے عظمیٰ بخاری کو عہدے سے فارغ کریں۔ اس صحافی سے معافی مانگیں۔‘

فوزیہ کلثوم نامی صارف نے لکھا کہ ’مریم نواز صاحبہ نے اپنی تقریر میں وہ جملہ خود ادا کیا ہے۔ صحافی خرم اقبال نے کوئی فیک وڈیو نہیں بنائی تقریر خود سنیں ورنہ جیو کو بھی لاپتا کردیں یہ تقریر جیو ٹی وی پر نشر ہوئی ہے۔‘

عظمی بخاری نے پنجاب حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ وہ صحافی لاپتا نہیں ہے، پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کر کے پھیلانے کے جرم میں زیرِ حراست ہے، یہ حرکت کون سی صحافتی اقدار ہے؟ اور ان کی ٹائم لائن چیک کریں وہ ایک پروپیگنڈا سیل کے ممبر تو ضرور ثابت ہوتے ہیں، صحافی تو نہیں کہہ سکتے۔

عظمی بخاری نے بعدازاں اُن کے بقول ’فیک ویڈیو‘ اور ’اصل ویڈیو‘ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بڑے بڑے صحافیوں کی صحافت کو سلام ہے جو فیک ایڈیٹڈ ویڈیو کو زبان سلپ ہوگئی کہہ کر پھیلا رہے ہیں، اوریجنل ویڈیو یہ ہے۔‘

متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزاصحافیوں کے احتجاج کے باوجود صدر مملکت نے متنازع پیکا ترمیمی بِل پر دستخط کر دیے، بل فوری نافذ العمل ہو گیاپیکا قانون کی دو دھاری تلوار کے سائے میں سہمے پاکستانی: ’پیکا کالعدم نہ کیا گیا تو جمہوریت اور جمہوری رویوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی‘احمد نورانی کے بھائیوں کا ’اغوا‘: ’خبریں مسئلہ ہیں تو مواد کو درست طریقے سے چیلنج کیا جا سکتا ہے‘’اتنی سی بات پر ایک صحافی کو نشانہ بنانا جلد بازی تھا‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ مریم نواز کا یہ جملہ سلپ آف ٹنگ تھا اور یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی جس سے اُن کے والد کی کارکردگی پر کوئی حرف آتا ہو۔ میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں عظمی بخاری زیادہ حساس ہو گئیں، میرا نہیں خیال کہ مریم نواز نے اس حوالے سے کوئی ہدایت دی ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ عظمی بخاری نے صحافی کے خلاف پیکا ایکٹ لگانے کی بات کی، حالانکہ ایک وقت وہ بھی تھا جب مسلم لیگ نواز صحافیوں کے ساتھ مل کر اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتی تھی۔

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے قومی سلامتی کے منافی کوئی بات کی تو اس پر تو پیکا ایکٹ کا نفاذ ہو سکتا ہے، لیکن اتنی سی بات پر ایک صحافی کو نشانہ بنانا جلد بازی تھا۔ اس سے میڈیا کے لیے کوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ وہ کلپ پوری دُنیا نے دیکھا ہے اور مریم نواز نے جو کہا، صحافی نے اُسے شیئر کر دیا۔ اس پر اسے ٹارگٹ کرنا زیادتی تھی۔

لاہور کے بھاٹی گیٹ کے باہر حال ہی میں ماں اور بچی کے گرنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان غنی نے کہا کہ اس معاملے پر بھی عظمی بخاری نے بہت جلد اسے فیک واقعہ قرار دے دیا تھا۔

اُن کے بقول ’اس معاملے میں عظمی بخاری زیادہ جذباتی ہو گئیں، میں نہیں سمجھتا کہ اس میں ان کی کوئی بدنیتی تھی۔ یہ ایک جذباتی ردعمل تھا، اسے صحافت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن اس سے حکومت کی ساکھ خراب ہو گی۔‘

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو بھی چاہیے کہ اگر کسی کی زبان پھسل گئی ہے یا بات کا مفہوم کچھ اور ہے تو اسے اُچھالنے کے بجائے نظرانداز کریں۔

پیکا قانون کی دو دھاری تلوار کے سائے میں سہمے پاکستانی: ’پیکا کالعدم نہ کیا گیا تو جمہوریت اور جمہوری رویوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی‘صحافیوں کے احتجاج کے باوجود صدر مملکت نے متنازع پیکا ترمیمی بِل پر دستخط کر دیے، بل فوری نافذ العمل ہو گیااحمد نورانی کے بھائیوں کا ’اغوا‘: ’خبریں مسئلہ ہیں تو مواد کو درست طریقے سے چیلنج کیا جا سکتا ہے‘‘اغوا کاروں نے جب جھاڑیوں میں پھینکا تو کلمہ پڑھنا شروع کر دیا تھا’متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزا
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More