Getty Imagesکیلیفورنیا کے گورنز گیون نیوزوم نے کہا ’ڈونلڈ ٹرمپ عارضی ہیں‘
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو میونخ سکیورٹی سمٹ میں توجہ کا مرکز تھے کیونکہ یورپی رہنما تشویش کے ساتھ یہ سوچ رہے تھے کہ وہ ہفتے کے روز اپنی تقریر میں کیا لہجہ اختیار کریں گے۔
ان کی تقریر نے یورپی رہنماؤں کی تشویش کو مکمل طور پر دور تو نہیں کیا لیکن اسے امریکہ اتحادیوں کے لیے ایک تسلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات کمزور ضرور پڑ گئے ہیں لیکن یہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوں گے۔
تاہم سکیورٹی سمٹ میں روبیو واحد امریکی سیاسی آواز نہیں تھے۔
اگر مارکو روبیو کے بیان کو قابلِ قبول نہ بھی سمجھا جاتا تب بھی وہاں دیگر امریکی سیاستدان موجود تھے جو کسی فارسی شاعر کی طرح نصیحت کر رہے تھے: ’یہ وقت بھی گزر جائے گا۔‘
کیلیفورنیا کے گورنز گیون نیوزوم نے جمعے کو ایک کانفرنس میں کہا تھا ’ڈونلڈ ٹرمپ عارضی ہیں، وہ اگلے تین برسوں میں چلے جائیں گے۔‘
نیوزم ان درجنوں امریکی سیاستدانوں اور گورنرز میں سے صرف ایک تھے جو کانفرنس میں شریک تھے۔
کئی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ یورپ کے ساتھ ایک مضبوط شراکت دار بنا رہے گا۔ یہ وہی جملے تھے جو مینونخ سمٹ میں مارکو روبیو نے ادا کیے تھے۔
Getty Imagesسکیورٹی سمٹ میں روبیو واحد امریکی سیاسی آواز نہیں تھے
نیو ہیمپشائر کی ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین کا کہنا تھا کہ: ’ہمارے یہاں آنے کی وجہ یورپی اتحادیوں کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ ہمیں آپ کی اہمیت کا پورا ادراک ہے۔‘
کانفرنس میں شریک ریپبلکن سینیٹر تھام ٹِلِس نے ان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپ کسی ’خانہ جنگی‘ کا سامنا نہیں کر رہے۔
انھوں نے امریکی اتحادیوں کو خبردار کیا کہ وہ ’امریکی سیاست کی بیان بازی‘ میں نہ الجھیں۔
تاہم یہ باتیں کرنا حالیہ دنوں میں بلکل آسان نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ نے کئی امریکی تجارتی شراکت داروں پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں۔
وہ اور ان کے چند معاونین بین الاقوامی نظام کو دوبارہ تشکیل دینے، امریکی فوجی طاقت استعمال کرنے اور امریکی خارجہ پالیسی کو مغربی نصف کرہ پر مرکوز کرنے کی خواہش پر کھلے عام بات کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے گرین لینڈ کے حوالے سے عزائم، جنھیں انھوں نے جمعے کو ایک بار دوبارہ دہرایا، امریکی نقطۂ نظر میں تبدیلی کی سب سے چونکا دینے والی مثال رہے ہیں۔
جب ’کیلے فروخت کرنے والی کمپنی‘ نے جمہوری حکومت گرا دی: وینزویلا سے ایران تک امریکی مداخلت کی کہانیبنگلہ دیش اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کو انڈیا کے لیے ’خطرناک‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟انڈیا یورپ معاہدہ، برطانوی وزیراعظم کا دورہِ چین اور ’ٹرمپ کے خلاف بڑھتی عالمی مزاحمت‘کیا پاکستان کی امریکہ پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے؟
ٹرمپ کی اپنی حدود کو آگے بڑھانے اور اپنی طاقت کی آزمائش کرنے پر آمادگی صرف خارجہ امور تک ہی محدود نہیں رہی۔ کئی ڈیموکریٹ سیاستدانوں نے میونخ میں تھوڑا سا وقت نکال کر ملک کے اندرونی مسائل پر بھی بات کی۔
ورجینیا کے سینیٹر مارک وارنر نے خبردار کیا کہ صدر کی جانب سے انتخابات کو قومیانے اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ووٹنگ کے لیے سخت شناختی تقاضے نافذ کرنے کی بات کا مطلب ہے کہ نومبر کے وسط مدتی کانگریس انتخابات کی آزادی اور شفافیت خطرے میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ 2026 کے امریکہ میں میں یہ بات کہوں گا۔‘
ٹرمپ نے ’سیو ایکٹ‘، جس کے تحت قانون سازی کے ذریعے نئے قومی ووٹر شناختی تقاضے نافذ ہوں گے، کا دفاع کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ نہ صرف امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت میں مقبول ہے بلکہ یہ بیلٹ باکس پر ووٹرز کی نقل کو روکنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو-کورتیز سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے بعد وہ شخصیت تھیں جو میونخ کانفرنس میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ثابت ہوئیں۔ انہوں نے دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور آمرانہ حکومتوں کے عروج پر بات کی۔
Getty Imagesاوکاسیو-کورتیز ان ڈیموکریٹس میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صدارتی عزائم رکھتی ہیں
انھوں نے کہا ’یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی معاشی صورتحال کو درست کریں اور محنت کش طبقے کے لیے فوائد فراہم کریں۔‘
’ورنہ ہم ایک زیادہ تنہا دنیا میں جا گریں گے، جس پر آمرانہ حکمران قابض ہوں گے جو محنت کش عوام کو بھی کچھ نہیں دیتے۔‘
اوکاسیو-کورتیز ان ڈیموکریٹس میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صدارتی عزائم رکھتی ہیں۔ ان کی کانفرنس میں شرکت ان کے خارجہ پالیسی کے تجربے کو بڑھا سکتی تھی مگر اس موقع پر انھیں کچھ مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ایک موقع پر وہ اس سوال کا جواب دینے میں مشکل محسوس کر رہی تھیں کہ آیا امریکہ کو چین کے حملے کی صورت میں تائیوان کا دفاع کرنا چاہیے یا نہیں۔
میونخ سمٹ کے دوران مارکو روبیو نے امریکی پالیسی کے کچھ سخت پہلوؤں کو نرم کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم وہاں جانے والے دیگر ڈیموکریٹس نے ایک زیادہ واضح اور متضاد نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔
ایریزونا کے سینیٹر روبن گالیگو نے کہا ’اس وقت یورپ صرف یہ چاہتا ہے کہ ہم بہتر ہوں، ٹھیک ہے؟ اور میرے خیال میں یہ کانفرنس اعصاب کو مطمئن کرنے کے لیے بہت اچھی رہی ہے۔ کبھی کبھی آپ کو انھیں (اتحادیوں کو) یاد دلانا پڑتا ہے کہ سب کچھ ٹرمپ نہیں ہیں... ہم اب بھی یہاں موجود ہیں۔‘
’کل کو ٹرمپ تنازعِ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں‘: غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت اور انڈیا کی ’اُلجھن‘’نیٹو کے فوجی افغانستان میں اگلے مورچوں پر نہیں لڑے:‘ ٹرمپ کے بیان پر برطانیہ میں شدید ردِعمل، معافی کے مطالباتپاکستان ٹرمپ کے’بورڈ آف پیس‘ میں شامل: رُکن ممالک کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے معاملے پر پیچھے کیوں ہٹے؟وہ ’تجارتی بزوکا‘ جو فرانس کے خیال میں ٹرمپ کو خوف زدہ کر سکتا ہےکیا انڈیا امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟