’وار آف چوائس‘:امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے

بی بی سی اردو  |  Feb 28, 2026

Reuters

امریکہ اور اسرائیل کے اس فیصلے نے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ میں کود پڑیں، عالمی منظرنامے کو نہایت خطرناک اور غیر متوقع نتائج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں اسے ’پیشگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔

تاہم شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ حملہ کسی فوری خطرے کے جواب میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ ’پیشگی اقدام‘ کے لفظ کا مطلب ہے۔

حقیقت میں انھوں نے اس جنگ کو لڑنے کا خود انتخاب (وار آف چوائس) کیا۔

ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے سے متعلق تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

امریکہ اور اسرائیل نے یہ حساب لگایا ہو گا کہ فی الوقت ایران کی اسلامی حکومت بے تحاشہ کمزور ہے، یہ حکومت نا صرف شدید معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ایرانی مظاہرین کے خلاف حالیہ سخت کریک ڈاؤن کے اثرات سے بھی دوچار ہے جبکہ گزشتہ موسمِ گرما میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد ایران کا دفاعی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو درپیش اس صورتحال کا یہ نتیجہ نکالا کہ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے لرزتے ہوئے ڈھانچے پر بھی ایک اور کاری ضرب ہے۔ اپنے بیانات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اُن کے ممالک (امریکہ اور اسرائیل) کے لیے خطرہ ہے، جبکہ ٹرمپ نے ایران کو ’عالمی خطرہ‘ بھی قرار دیا۔

یقیناً ایران کی اسلامی حکومت اُن کی سخت دشمن ہے لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایسی صورتحال میں حقِ دفاع کا قانونی جواز کس طرح لاگو ہوتا ہے، ایک ایسی صورتحال میں جب دو بڑی عالمی طاقتیں (اسرائئل اور امریکہ) ایک جانب ہیں جبکہ ایران دوسری جانب۔

جنگ ایک سیاسی عمل ہے۔ مسلح تصادم ایک بار شروع ہو جائے تو اسے قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قیادت کے پاس واضح مقاصد ہونے چاہییں۔

نیتن یاہو گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اسرائیل کے سب سے خطرناک دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اُن کے لیے یہ تہران کی حکومت اور ایران کی فوجی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا بڑا موقع ہے۔

اسرائیل میں رواں برس کے آخر میں عام انتخابات بھی ہونے ہیں اور نیتن یاہو کا خیال ہے کہ جب بھی اسرائیل جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس سے اُن کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔حماس کے ساتھ دو سال کی جنگ اسی بات کا ثبوت ہے۔

Reutersتہران میں اسرائیلی حملے کے بعد اٹھتے دھویں کے بادل

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جنوری میں انھوں نے ایران میں مظاہرے کرنے والے ایرانی شہریوں کو یقین دلایا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘ مگر یہ وہ وقت تھا جب امریکی بحریہ کا بیشتر حصہ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو اقتدار سے بیدخل کرنے اور انھیں گرفتار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا اور اسی صورتحال کے باعث ٹرمپ کے پاس فوجی وسائل اور آپشنز کی کمی تھی۔

چند ہفتے قبل جب امریکہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں دو لڑاکا بردار بحری جہاز تعینات کر رہا تھا تو اس دورانیے میں ٹرمپ نے ایران کے جوہری عزائم کے خطرات کے بارے میں بہت بات کی، اس سے قطع نظر کہ گذشتہ موسم گرما میں ایران پر امریکی بمبار طیاروں کے حملے کے بعد انھوں نے خود ہی اعلان کیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو ’صفحہ ہستی سے مٹا‘ دیا گیا۔

ایرانی حکومت ہمیشہ اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتی ہے لیکن دوسری جانب انھوں نے یورینیئم کو اس سطح تک افزودہ کیا کہ جس کا پرامن نیوکلیئر پاور پروگرام میں کوئی استعمال نہیں ہوتا۔

کم از کم، ایسا لگتا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے تاہم دوسری جانب تاحال اسرائیل اور امریکہ نے کوئی بھی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا کہ ایران ایسا کرنے والا تھا، یعنی جوہری بم بنانے والا تھا۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اب ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ ’آزادی کا وقت‘ قریب ہے۔ نیتن یاہو نے بھی سنیچر کو ایسا ہی پیغام دیا کہ حالیہ جنگ ایرانی عوام کو حکومت کا تختہ الٹنے کا موقع فراہم کرے گی مگر یہ بالکل یقینی نہیں۔

صرف فضائی حملوں کی مدد سے رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سنہ 2003 میں عراق میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ بھی امریکی قیادت میں شروع ہونے والی بڑی آن گراؤنڈ جنگ کے نتیجے میں ہی ہوا تھا (نہ کہ صرف فضائی حملوں کے نتیجے میں)۔

سنہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ بھی لیبیا کی باغی افواج صرف اس صورت میں کر پائی تھیں کہ جب انھیں نیٹو اور کچھ عرب ریاستوں کی جانب سے فضائی مدد مسلسل دستیاب رہی۔

مگر ان دونوں معاملات میں نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستوں کا انہدام ہوا، دونوں ممالک میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ لیبیا آج بھی ایک ناکام ریاست ہے جبکہ عراق اب بھی امریکی حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر خونریزی کے نتائج سے نمٹ رہا ہے۔

اور فرض کیجیے کہ اگر یہ پہلا موقع بن بھی جائے کہ امریکہ صرف فضائی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی ملک میں حکومت گرا دے، تب بھی ایسا کوئی امکان نہیں کہ ایران میں موجودہ اسلامی حکومت کی جگہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والی لبرل جمہوریت لے لے۔ جلاوطنی میں موجود کوئی قابل اعتبار متبادل یا حکومت فی الحال موجود نہیں۔

گذشتہ تقریباً نصف صدی کے دوران ایران میں برسراقتدار حکومت نے ایک پیچیدہ سیاسی نظام تشکیل دیا ہے جس کی بنیاد نظریے، بدعنوانی اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے بے رحمانہ استعمال کی آمیزش پر مبنی ہے۔

گذشتہ ماہ ایرانی حکومت نے واضح الفاظ میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ مظاہرین کو جان سے مارنے تک کے لیے تیار ہے۔ ایران کے پاس سخت گیر سکیورٹی فورسز ہیں جو سڑکوں پر رائج نظام کو چیلنج کرنے اور آزادی کا مطالبہ کرنے پر اپنے ہی سینکڑوں شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے احکامات کی بروقت تعمیل کرتی ہیں۔

شاید امریکہ اور اسرائیل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل اپنی قتل و غارت کرنے کی طاقت کو ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھتا ہے۔

گذشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں اور اُن کے بہت سے سرکردہ لیڈروں کو اسی حکمت عملی کے تحت ہلاک کیا۔

مگر ایران میں موجودہ اسلامی حکومت ایک الگ معاملہ ہے۔ یہ محض ایک مسلح گروہ یا تحریک نہیں بلکہ یہ ریاست پر حکومت کرتی ہے۔ یہ ون مین شو نہیں۔ اگر سپریم لیڈر خامنہ ای کو قتل کر بھی دیا جاتا ہے، تو ان کی جگہ فی الفور پُر کر دی جائے گی، غالباً ایران کے پاسداران انقلاب کے حمایت یافتہ ایک اور عالم دین سے، جو روایتی مسلح افواج کے ساتھ اندرون و بیرون ملک خطرات کے خلاف حکومت کا دفاع کرنے کی واضح حکمت عملی کے ساتھ اپنے عہدے پر موجود ہو گا۔

ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ٹرمپ نے انھیں استثنیٰ کی پیشکش کی تھی مگر بصورت دیگر یقینی موت کی دھمکی دی تھی۔ پاسداران انقلاب کا اس پیشکش کی لالچ میں آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظریے اور شیعہ اسلام میں ’شہادت‘ زندہ رہنے کی ایک مستقل شکل ہے۔

ٹرمپ کا ماننا ہے کہ سیاست اور روز مرہ زندگی میں بنیادی محرک لین دین یا بزنس ہے، جیسا کہ ان کی کتاب میں کہا گیا ’آرٹ آف دی ڈیل‘ یعنی ’معاہدہ کرنے کا فن‘ لیکن ایران کے ساتھ نمٹنے کے لیے نظریے اور عقیدے کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ وہ طاقت ہے جس کی پیمائش کرنا بہت مشکل ہے۔

Reuters

حالیہ بحران رواں برس کے آغاز سے جاری ہے، یعنی اس وقت سے جب امریکہ نے اپنی فوجی قوت مشرق وسطیٰ کی طرف مبذول کرنا شروع کی اور اس صورتحال کے تناظر میں ایسے اشارے نظر آئے کہ تہران میں موجود اسلامی قیادت جنگ کو ناگزیر سمجھ رہی تھی اور اسی اشارے کو سمجھتے ہوئے انھوں نے امریکہ کے ساتھ بلواسطہ بات چیت کا آغاز بھی کیا۔

ایرانی قیادت امریکہ یا اسرائیلیوں پر بھروسہ نہیں کرتی۔ اپنی پہلی مدت صدارت میں ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی تھی۔ یہ معاہدہ جسے ’جے سی پی او اے‘ کہا گیا اس کی مدد سے ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا اور اوبامہ انتظامیہ نے اسے اپنی ایک نمایاں کامیابی قرار دیا تھا۔

حال ہی میں ایسے اشارے ملے تھے کہ کچھ وقت حاصل کرنے کے لیے ایران اسی نوعیت کا ’جے سی پی او اے ٹو‘ معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے میزائل پروگرام پر سخت پابندیوں اور اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کرنے والے علاقائی اتحادیوں کی حمایت نہ کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

اور یہ ایران کے لیے ناقابل قبول تھا کیونکہ یہ مطالبہ پورا کرنا امریکہ اور اسرائیل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف تھا۔ اپنے میزائلوں اور خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کو ترک کرنا ایسا ہی ہے کہ رجیم چینج کی راہ خود سے ہموار کر دی جائے۔

ایران کے رہنما اب حساب لگا رہے ہوں گے کہ اس جنگ سے کیسے نکلنا ہے، کیسے زندہ رہنا ہے اور اس کے نتائج کو کیسے سنبھالنا ہے جبکہ سعودی عرب سمیت ایران کے ہمسایہ ممالک آج کے واقعات کے بڑے غیر یقینی اور ممکنہ نتائج سے پریشان ہوں گے۔

مشرق وسطیٰ کی دنیا کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت کے پیش نظر، اور نئے سرے سے شروع ہونے والی ایک اور شدید جنگ کے باعث خطے اور وسیع تر دنیا میں پہلے سے موجود عدم استحکام مزید گہرا ہو گا، ایک ایسی دنیا جو پہلے ہی ہنگامہ خیز، پرتشدد اور خطرناک ہے۔

سعودی عرب، قطر، بحرین اور ابوظہبی میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے: امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟’مزاحمت کا محور‘: کیا حزب اللہ، حوثی اور عراقی شیعہ گروہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کا ساتھ دیں گے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More