Getty Images
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وزارتِ دفاع کے چار اہلکاروں کو غیر ملکی ’ایجنٹ‘ کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے پر قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
آفیشل سیکرٹس ایکٹ عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کے فیصلے کے مطابق ان چاروں اہلکاروں کو آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی دفعات تین اور چار کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق صفدر رحمان نامی شخص کو 10 برس قید، تنزیل الرحمان کو پانچ برس، محمد وقار کو پانچ برس اور محمد طاہر کو بھی پانچ برس قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
اس مقدمے میں دو افراد کو بری بھی کیا گیا ہے کیونکہ عدالت کے مطابق ان افراد نے کبھی ’غیر ملکی ایجنٹ، روسی سفارتکار سے ملاقات نہیں کی اور نہ غیر ملکی ایجنٹ کو براہ راست خفیہ معلومات پہنچائی۔‘
ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر 14 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
Getty Images
آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی دفعہ تین کسی دشمن کو فائدہ پہنچانے یا دفاعی امور، فوج، بحریہ، فضائیہ یا دیگر حساس معلومات دینے سے متعلق ہے۔
دوسری جانب آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی دفعہ چار دشمن ایجنٹ سے روابط رکھنے سے متعلق ہے۔
اس مقدمے کے پراسیکوٹر جواد عادل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جن مجرمان کو اس مقدمے میں سزائیں سنائی گئی ہیں انھیں متعلقہ عدالت نے سنہ 2022 سے ضمانتیں دی ہوئی تھیں۔
ان کے مطابق یہ مقدمہ سنہ 2021 میں درج ہوا تھا اور اس میں نامزد اکثر ملزمان کا تعلق وزارت دفاع سے ہے۔
پراسیکوٹر کے مطابق جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا ان ملزمان میں زیادہ تر سویلین ہیں۔ تاہم ان میں کرنل رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔
ایک ’روسی جاسوس‘ جو برسوں تک برازیلین شہری کا روپ دھار کر امریکہ کی نظروں سے اوجھل رہاسوویت یونین کو خفیہ معلومات فروخت کرنے والے ’ڈبل ایجنٹ‘ کی کہانی جنھوں نے امریکہ کو ’سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘فرانس کی وہ یونیورسٹی جہاں جاسوس بنائے جاتے ہیں: ’میں اپنے سٹوڈنٹس میں سے زیادہ تر کا اصلی نام تک نہیں جانتا‘’پاکستانی اکاؤنٹس‘ کی فیس بُک ریکویسٹ اور نوکری کی پیشکش: براہموس میزائل کا نوجوان انڈین انجینیئر ’ہنی ٹریپ‘ کیس میں بری
جواد عادل نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت درج چھ مقدمات کے فیصلے سنائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ ان مقدمات میں ملزمان کی تعداد کم تھی، اس لیے فیصلے جلدی ہوئے۔
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اہلکار کے بقول انھیں وہاں سے اس ضمن میں ریلیف بھی ملا ہے۔
اس مقدمے کے باقی ملزمان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے، اس بارے میں عدالتی فیصلے کی معلومات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
پاکستان میں ماضی میں بھی دفاعی اداروں کو آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی خلاف ورزی یا جاسوسی کے الزام میں سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں۔
Getty Images
سنہ 2012 میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر آئی ایس آئی کی اہم معلومات انڈین خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔
اس کے علاوہ گذشتہ برس آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیص حمید کو بھی گذشتہ برس 14 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر ایک الزام آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا بھی تھا۔
اس سے قبل ایک مقامی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت 10 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔
فیض حمید: آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزاجاسوسی سے جنگل میں موت تک: برطانوی جاسوس جس کی زندگی جیمز بانڈ کے کردار کی تخلیق کی بنیاد بنیحکومتوں کی ’تبدیلی‘، ریڈیو پر پروپیگنڈا مہمات اور چی گویرا کی گرفتاری سمیت سی آئی اے کی لاطینی امریکہ میں خفیہ کارروائیوں کی داستان’خفیہ دستاویزات کی برآمدگی، چینی حکام سے ملاقاتیں اور گفٹ بیگ‘: امریکہ میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے انڈین نژاد شہری کون ہیں؟سوویت یونین کا دیا تحفہ جو برسوں تک امریکہ کی جاسوسی کرتا رہاایران کے اعلیٰ ترین حلقوں تک مبینہ رسائی رکھنے والی کیتھرین شکدم اسرائیلی جاسوس یا تجزیہ کار؟