وہ ملک جہاں سیاحت عروج پر تھی، مگر پھر ایک ڈرون آ گرا

بی بی سی اردو  |  Mar 14, 2026

جان جونز، جو نارتھ ویلز کے کوئنزفیری سے ہیں، اپنی زندگی کے بہترین لمحات گزار رہے ہیں۔ وہ ایک چمکتے ہوئے سوئمنگ پول کے کنارے ٹھنڈی لہروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

وہ اور ان کا خاندان ریزورٹ میں درجنوں خالی کرسیاں (لاؤنجرز) استعمال کر سکتے ہیں، جو آییا ناپا سے چند میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے منتظمین واضح طور پر چاہتے ہیں کہ جو چند گاہک موجود ہیں وہ خوش رہیں۔

جان کہتے ہیں: ’ہمیں معلوم تھا کہ ڈرون نے یہاں برطانوی بیس کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس نے ہمیں بالکل نہیں روکا۔‘

یکم مارچ کو آر اے ایف اکروتیری پر حملے نے قبرص کو خبروں کی زینت بنا دیا ا اور کئی پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

تاہم جو لوگ جان کی طرح یہاں آئے ہیں وہ اپنے فیصلے سے خاصے خوش نظر آتے ہیں۔

جان کہتے ہیں: ’یہاں کے لوگ بہت دوستانہ اور فیاض ہیں۔ ہمیں کوئی فکر نہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔‘

BBCآییا ناپا کا خالی ساحل، جو عام طور پر سیاحوں سے بھرا رہتا ہے

ساحل پر سوئس جوڑا الیگزینڈرا اور جیئیل مجھے بتاتے ہیں کہ جنگ نے ان کے سفر کے منصوبے بدل دیے، کیونکہ انھوں نے اصل میں تھائی لینڈ جانے کے لیے بکنگ کی تھی۔

والدین کے اعتراضات کے باوجود، دونوں نے قبرص آنے کا فیصلہ کیا، جہاں ساحل تقریباً ان کے لیے خالی ہے۔

الیگزینڈرا کہتی ہیں: ’ہمارے خاندان اس بارے میں سب سے زیادہ پریشان تھے۔ ہم ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں کچھ فوجی موجود تھے، لیکن ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی، اس نے کہا کہ ہمیں یہاں کی صورتحال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا۔‘

BBCنارتھ ویلز کے کوئنزفیری سے تعلق رکھنے والے جان جونز اپنی زندگی کے بہترین لمحات گزار رہے ہیں۔

تاہم، ان کے کلبنگ کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

الیگزینڈرا وضاحت کرتی ہیں: ’ہم نے کوشش کی، آییا ناپا گئے تاکہ کچھ لوگوں سے مل سکیں، لیکن وہاں صرف دو بارز کھلی تھیں۔‘

جیئیل اپنی کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے کہتے ہیں: ’یہ سکون حاصل کرنے کا اچھا وقت ہے۔‘

خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘’میں نے میزائل تباہ ہوتے اور عمارتوں سے دھواں نکلتے دیکھا‘: کیا دبئی ایک محفوظ مقام ہونے کا درجہ کھو رہا ہے؟ایران کے سستے شاہد ڈرون کو مار گرانے پر کتنا خرچہ آتا ہے؟’خاندان کو 45 سال دیے، اب اپنا شوق پورا کرنا چاہتی ہوں‘: خاتون جو جیب خرچ جمع کر کے سکوٹر پر تنہا سیاحت کرتی ہیں

گذشتہ سال قبرص کی سیاحت کی صنعت کے لیے ریکارڈ ساز ثابت ہوا، جب 45 لاکھ سے زیادہ سیاح یہاں آئے۔ اب واضح طور پر یہ خدشہ ہے کہ جنگ اس ترقی کو روک سکتی ہے، حالانکہ ڈرون حملے کا ہدف برطانوی بیس آر اے ایف اکروتیری تھا۔

کریسو سوکّو، جو سوکّوس ہوٹلز اینڈ ریزورٹس (جزیرے کی سب سے بڑی چین جس کے 25 ہوٹل ہیں) کی ڈائریکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ جنگ کے آغاز نے منسوخیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوئی کیا لیکن اب حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں۔

وہ وضاحت کرتی ہیں: ’یہ غیر معمولی تھا لیکن متوقع بھی۔ ابتدائی 48 گھنٹوں میں پروازیں منسوخ ہوئیں اور آنے والوں کو فیصلہ کرنا پڑا۔‘

کریسو زور دے کر کہتی ہیں: ’فی الحال تمام ہوٹلز کھلے ہیں۔ دوبارہ شیڈول کرنا معمول کی بات ہے۔ کچھ لوگوں نے فوری طور پر منسوخ کیا، کچھ نے گرمیوں کے لیے، لیکن نئی بکنگز بھی آ رہی ہیں۔‘

BBCالیگزینڈرا اور جیئیل: باہر نکلے تو صرف دو بارز کھلے تھے

یہاں کا اصل سیاحتی موسم اپریل یا مئی سے شروع ہوتا ہے، لیکن قبرص کے چیمبر آف کامرس کے فیلوکائپروس روسونیڈیس پورے سال کے بارے میں فکر مند ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’جزیرہ براہِ راست جنگ سے متاثر نہیں ہے، لیکن سیاحت میں امیج (تاثر) اکثر جغرافیہ سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔ سیاحت کی منصوبہ بندی علاقائی استحکام کے تاثر کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے۔‘

جزیرے کے اکثر کاروبار معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور زیادہ تر قبرصی باشندے اپنی روزمرہ زندگی بغیر رکاوٹ کے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آر اے ایف اکروتیری کے قریب دیہات میں رہنے والوں کو حکومت نے بتایا ہے کہ وہ واپس جا سکتے ہیں، کیونکہ انخلا کا حکم ختم کر دیا گیا ہے۔

تاہم علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے گا اور باقاعدہ گشت جاری رہے گا، جبکہ برطانوی حکام نے بیس پر رہنے والے خاندانوں کی واپسی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پول کے کنارے، برطانوی نژاد اور یہاں کی رہائشی وکٹوریا اوفے مجھے بتاتی ہیں کہ قبرص کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ جنگ کی زد میں ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔

BBCبرطانوی نژاد رہائشی وکٹوریا اوفے کہتی ہیں کہ قبرص کو جنگ کے بیچ میں پھنس جانے کے طور پر دیکھنے کا تاثر حقیقت سے بہت دور ہے

وہ کہتی ہیں: ’اگر ہمیں برطانوی ٹی وی تک رسائی نہ ہوتی تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا کہ یہ سب ہو رہا ہے۔‘

وکٹوریا اس بات پر مایوس ہیں کہ برطانیہ میں ان کے اہلِ خانہ نے ان سے ملنے کا سفر منسوخ کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم انھیں کہتے ہیں کہ آ جاؤ لیکن ٹور آپریٹرز انھیں بتاتے ہیں کہ کسی اور جگہ کی بکنگ کریں۔‘

وکٹوریا زور دے کر کہتی ہیں: ’یہاں نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں، یہ واقعی محفوظ ہے۔ موسم شاندار ہے، کھانا شاندار ہے، پھر کوئی یہاں کیوں نہ آئے؟‘

خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘’میں نے میزائل تباہ ہوتے اور عمارتوں سے دھواں نکلتے دیکھا‘: کیا دبئی ایک محفوظ مقام ہونے کا درجہ کھو رہا ہے؟ایران کے سستے شاہد ڈرون کو مار گرانے پر کتنا خرچہ آتا ہے؟مالدیپ: سیاحوں کے لیے ’مہنگی جنت‘ جو حیران کن حد تک سستی ہو رہی ہے’خاندان کو 45 سال دیے، اب اپنا شوق پورا کرنا چاہتی ہوں‘: خاتون جو جیب خرچ جمع کر کے سکوٹر پر تنہا سیاحت کرتی ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More