Getty Imagesجو کینٹ طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی اور امریکی فوج کے اعزاز یافتہ سابق اہلکار رہ چکے ہیں
ایران پر حملے کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہونے والے امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کے لیے کیا گیا امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ’وہ آخری چیز تھی جو ہمیں کبھی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘
سیاسی مبصر ٹکر کالرلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جو کینٹ نے کہا خامنہ ای درحقیقت ’ایران کے جوہری پروگرام کو مارڈریٹ کر رہے تھے (یعنی متعدل سطح پر رکھ رہے تھے)، وہ (خامنہ ای) انھیں (ایران) جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک رہے تھے۔‘
ایران جنگ کی تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر
یاد رہے کہ 18 مارچ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جو کینٹ نے کہا تھا کہ وہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘
جو کینٹ نے ٹکر کالرسن کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہا کہ ’اگر آپ انھیں (خامنہ ای) راستے سے ہٹا دیتے ہیں، اور اگر آپ انھیں جارحانہ طریقے سے قتل کرتے ہیں، تو لوگ )ایرانی( رجیم اور اگلے آیت اللہ (مجتبیٰ خامنہ ای) کی حمایت میں اکٹھے ہو جائیں گے۔۔۔‘
انھوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں تمام دستیاب معلومات کے مطابق اب یہی ہو رہا ہے۔
انھوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ بنیادی طور پر اسرائیل کا تھا، نہ کہ امریکہ کا۔
’یہ فیصلہ اسرائیلیوں نے کروایا تھا، اور ہمیں معلوم تھا کہ اس اقدام سے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا، یعنی ایرانی جوابی کارروائی کریں گے۔‘
کارلسن نے جو کینٹ سے سوال کیا کہ کیا ایرانی حکومت جوہری بم بنانے کے قریب تھی؟
اس پر کینٹ نے جواب دیا ’نہیں۔ تین ہفتے پہلے جب یہ سب (جنگ) شروع ہوا (تب ایرانی حکومت جوہری بم بنانے کے قریب نہیں تھی)۔ اور جون (2025) میں بھی نہیں۔‘ (یعنی 22 جون 2025 کو جب امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بڑا حملہ کیا تھا)۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس سنہ 2004 میں جاری ہونے والا ایک فتویٰ موجود ہے جو انھیں (ایرانی حکومت کو) جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے۔ انھوں نے کارلسن کو بتایا کہ ’ہمارے پاس کوئی ایسی انٹیلیجنس نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ اس فتوے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘
امریکی سینیٹ نے گذشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد اُن کی تقرری کی منظوری دی تھی۔
ٹرمپ کے نام تحریر کیے گئے اپنے استعفے میں جو کینٹ نے لکھا تھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ اُن اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے سنہ 2016، سنہ 2020 اور سنہ 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔
کینٹ نے لکھا تھا کہ ’جون 2025 تک آپ (ٹرمپ) سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘
انھوں نے لکھا تھا کہ ’میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘
واضح رہے کہ 45 برس کے کینٹ امریکی سپیشل فورسز اور سی آئی اے کے سابق اہلکار ہیں۔ ان کی اہلیہ، نیوی کی کرپٹولوجک ٹیکنیشن شینن کینٹ سنہ 2019 میں شام میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا تھا کہ ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ’قابلِ اعتماد شواہد‘ تھے کہ ایران پہلے امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔
منگل کے روز اوول آفس یعنی وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جو کینٹ کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے جواب میں کہا تھا ہے کہ ’میں نے اُن کا بیان پڑھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ اچھے انسان ہیں لیکن سکیورٹی کے معاملے میں کمزور تھے، بہت کمزور۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ اُن کا جانا ہی بہتر تھا، کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘
جو کینٹ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ایران میں امریکی، اسرائیلی کارروائی پر اعلانیہ تنقید کرنے والی سب سے نمایاں شخصیت بن گئے ہیں۔
ٹرمپ کے نام لکھے گئے خط میں جو کینٹ نے الزام لگایا کہ ’اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام‘ اور بااثر امریکی صحافیوں نے ’غلط معلومات‘ پھیلائیں جنھوں نے صدر کو ان کے ’امریکہ فرسٹ‘ پلیٹ فارم کو کمزور کرنے پر مجبور کیا۔
ایران جنگ کے تناظر میں اُبھرتے نئے عالمی نظام کی ایک جھلک، جہاں چند ممالک کو محض ’تفریح کے لیے‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہے’یہ جنگ اب ہمارے خون میں ہے‘: جنگی طیاروں کے شور سے خوفناک خاموشی تک، ایران میں زندگی کی ایک جھلک’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارخارگ: ہرنوں کی آماجگاہ اور ’تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ‘، ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد قبضے کی بازگشت
خط میں مزید کہا گیا تھا ’اس ایكو چیمبر کا استعمال آپ کو یہ یقین دلانے کے لیے کیا گیا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ تھا۔ یہ جھوٹ تھا۔‘
جو کینٹ، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی ہیں اور دو بار کانگریس کے لیے امیدوار رہے مگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، کو صدر نے اپنی انتظامیہ کے ابتدائی دور میں نامزد کیا تھا اور انھیں معمولی اکثریت سے اس عہدے پر توثیق ملی، حالانکہ کئی ڈیموکریٹس نے ان کے انتہا پسند گروہوں بشمول پراؤڈ بوائز کے ارکان سے روابط پر تنقید کی تھی۔
توثیقی سماعت میں جو کینٹ نے یہ دعوے واپس لینے سے بھی انکار کر دیا کہ وفاقی ایجنٹوں نے امریکی کیپیٹل پر چھ جنوری کے فسادات کو ہوا دی تھی یا یہ کہ ٹرمپ نے 2020 کا انتخاب جیتا تھا۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں، وہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گیبرڈ کو رپورٹ کرتے تھے اور دنیا بھر سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے تجزیے اور نشاندہی کی نگرانی کرتے تھے۔
اس سے قبل جو کینٹ امریکی فوج کے ساتھ بیرونِ ملک 11 بار تعینات رہے، جن میں عراق میں امریکی آرمی کی سپیشل فورسز کے ساتھ خدمات بھی شامل تھیں۔
بعد ازاں وہ سی آئی اے میں نیم فوجی افسر بنے، لیکن اپنی اہلیہ کی موت کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔
Bloomberg via Getty Images
اپنی فوجی خدمات اور اپنی اہلیہ کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے جو کینٹ نے اپنے خط میں کہا کہ وہ ’اگلی نسل کو ایسی جنگ میں لڑنے اور مرنے کے لیے نہیں بھیج سکتے جو امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں دیتی اور نہ ہی امریکی شہریوں کی جانوں کی قیمت کو جائز ٹھہراتی ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ جو کینٹ کا یہ اشارہ کہ ’ٹرمپ نے دوسروں، حتیٰ کہ غیر ملکی ممالک کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر فیصلہ کیا، توہین آمیز بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے یہ بات واضح طور پر پہلے ہی کہہ دی ہے کہ ان کے پاس مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد تھے کہ ایران پہلے امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔‘
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں قدامت پسند میڈیا تبصرہ نگار ٹکر کارلسن، جن کے جو کینٹ سے قریبی ذاتی تعلقات ہیں، نے جو کینٹ کی تعریف کی۔
ٹکر کارلسن نے کہا کہ ’جو کینٹ وہ بہادر ترین شخص ہیں جسے میں جانتا ہوں، اور انھیں کسی دیوانے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ وہ ایسا عہدہ چھوڑ رہا ہے جس نے انھیں اعلیٰ ترین سطح کی متعلقہ انٹیلیجنس تک رسائی دی ہوئی تھی۔ نیوکانز اسے اس بات پر تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’وہ یہ سمجھتے ہیں، پھر بھی انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔‘
ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ حکام کے متعدد استعفے سامنے آ چکے ہیں، جن میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی انفورسمنٹ ڈائریکٹر مارگریٹ ریان اور کینیڈی سینٹر کے صدر رک گرینیل شامل ہیں۔
تاہم، صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں وائٹ ہاؤس میں 2017 سے 2021 کے درمیان ان کی پہلی مدت کے مقابلے میں کہیں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
ایران جنگ کے تناظر میں اُبھرتے نئے عالمی نظام کی ایک جھلک، جہاں چند ممالک کو محض ’تفریح کے لیے‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہے’یہ جنگ اب ہمارے خون میں ہے‘: جنگی طیاروں کے شور سے خوفناک خاموشی تک، ایران میں زندگی کی ایک جھلکایران کے نظریاتی اور سکیورٹی ڈھانچے کے معمار علی لاریجانی کی موت کیا معنی رکھتی ہے؟مسلسل میزائل و ڈرون حملے اور معاشی دباؤ: کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کو طویل جنگ میں پھنسا دیا ہے؟’پاکستان کا شکریہ‘: ایران جنگ کے دوران عراقچی کا بیان جو اسلام آباد کی ’محتاط‘ حکمت عملی کی طرف اشارہ ہےٹرمپ کی مشکل، تہران کی سٹریٹجی اور ’مشرق وسطیٰ کا غصہ‘: اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی جلدی کیوں نہیں؟’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکی’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار