گولڈن ٹیمپل: اپنے قیام سے آپریشن بلیو سٹار تک بار بار بیرونی حملوں کا نشانہ بننے والی مذہبی عبادت گاہ کی کہانی

بی بی سی اردو  |  Mar 21, 2026

Getty Images

سکھ مذہب کے تیسرے گرو، گرو امر داس نے گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کا آغاز کیا تھا۔ سکھ مت کے اس مقدس ترین مقام کو، جو مقدس پانیوں کے درمیان واقع ہے، مکمل شکل اختیار کرنے میں کافی وقت لگا۔ گرو امر داس نے اس مقام کا انتخاب اس کی پرسکون فضا کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔

اپنی کتاب ’دی سکھس‘ میں معروف صحافی پتونت سنگھ لکھتے ہیں: ’اس سے پہلے سکھ گرو اپنی پسند کی جگہوں پر سکونت پزیر رہا کرتے تھے۔ پہلے گرو نے کرتار پور کا انتخاب کیا، دوسرے گرو نے کھڈور کو ترجیح دی، جبکہ تیسرے گرو نے گوندوال کو اپنا مسکن بنایا۔‘

انھوں نے لکھا: ’اس وقت لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک جھیل کے کنارے بنی یہ جگہ ایک دن سکھ مت کے لیے اس قدر نمایاں علامت بن جائے گی۔ تیسرے گرو کے زمانے میں اس جگہ پر مٹی کی ایک جھونپڑی تھی جہاں وہ مراقبہ اور عبادت کیا کرتے تھے۔‘

گرو امر داس نے سکھ مت میں سماجی اصلاحات کی حمایت کی۔ انھوں نے نہ صرف ستی (اپنے شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ نذر آتش ہونے کی روایت) پر پابندی لگائی بلکہ خواتین کو پردے سے بھی منع کیا۔

انھوں نے بیواؤں کو دوبارہ شادی کرنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے سکھ معاشرے میں مرد اور عورت کے درمیان برابری پر بھی بہت زور دیا۔

90 سال سے زیادہ کی عمر میں گرو امرداس کی موت کے بعد رام داس کو چوتھا گرو مقرر کیا گیا۔

دوسرے مذہبی رہنماؤں کے برعکس سکھ گرو باورچی خانے میں کام کرتے، برتن دھوتے، کھیتوں میں ہل چلاتے، لکڑیاں کاٹتے اور مختلف سماجی کاموں میں مدد کرتے نظر آتے۔

گرو رام داس نے تالاب اور اس کے آس پاس کی زمین خریدی

جوزف ڈیوی کننگھم اپنی کتاب ’اے ہسٹری آف دی سکھس فرام دی اوریجن آف دی نیشن فرام دی بیٹل آف دی ستلج‘ میں لکھتے ہیں: ’یہ جگہ دریائے راوی اور بیاس کے درمیان گوئندوال سے 50 میل شمال مغرب میں واقع تھی۔ اس یقین سے کہ یہ جگہ مستقبل میں سکھ مت کا مرکز بنے گی گرو رام داس نے اس کے آس پاس کی بہت ساری زمینیں 700 روپے میں خرید لیں۔‘

’یہ وہ جگہ ہے جہاں ہرمندر صاحب تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے ابتدائی سالوں میں، اسے مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا، جیسے گرو کا چک، چک گرو رام داس اور رام داس پور، لیکن 18ویں صدی کے آغاز تک اسے امرتسر کے نام سے جانا جانے لگا۔ لفظ امرتسر در اصل ’امرت سروور‘ سے نکلا ہے۔‘

بلا تفریق سب کا استقبال

پانچویں گرو، گرو ارجن دیو کی زندگی کے دوران امرتسر کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ان کا دور 25 سال پر محیط تھا۔ انھوں نے امرتسر کو ایک زیارت گاہ میں تبدیل کر دیا۔ یہ سکھوں کے لیے اتحاد اور فخر کی ایک طاقتور علامت بن گیا۔

اس شہر کی روح ہرمندر صاحب تھی جسے دربار صاحب بھی کہا جاتا ہے۔

پتونت سنگھ لکھتے ہیں: ’گرو رام داس نے 1577 میں تالاب کو وسیع کیا۔ گرو ارجن دیو نے اس کی سطح ہموار کی اور پانی تک پہنچنے کے لیے چاروں طرف سیڑھیاں بنائیں۔ ہرمندر صاحب کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے ہی تالاب میں نہانے کی روایت شروع ہو چکی تھی۔ تعمیر کے دوران تالاب کو خالی اور خشک رکھا گیا۔ جب تعمیر مکمل ہوئی تو اسے پانی سے بھر دیا گیا۔‘

خشونت سنگھ اپنی کتاب ’سکھوں کی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں: ’عام مندر ایک اونچے چبوترے پر بنایا جاتا تھا، اس کے برعکس گولڈن ٹیمپل کو سطح سے نیچے بنایا گیا تاکہ عقیدت مندوں کو داخل ہونے کے لیے نیچے اترنا پڑے۔ جب کہ ہندو مندروں میں صرف ایک ہی داخلی دروازہ تھا، ہرمندر صاحب کے چار دروازے تھے۔ یہ چار داخلی راستے ہندوؤں کی چار ذات برہمن، شتریہ (جنگجو)، ویشیہ (تاجر) اور شودر (اچھوت) کی نمائندگی کرتے تھے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس مندر میں تمام ذاتوں کے لوگوں کا بلا تفریق استقبال کیا جاتا ہے، اس کا فن تعمیر ہندو اور مسلم طرز کا امتزاج تھا۔‘

مندر کی تعمیر کے لیے آمدنی کا 10واں حصہ

گولڈن ٹیمپل کمپلیکس کسی ایک معمار نے ڈیزائن نہیں کیا اور نہ ہی اسے ایک ساتھ بنایا گیا۔

یہ کمپلیکس کئی صدیوں میں تعمیر کیا گیا جس میں کئی نسلوں کی دولت، وقت اور جذبہ تھا۔

خوشونت سنگھ لکھتے ہیں: ’گرو ارجن دیو کو مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز کی ضرورت تھی۔ تمام سکھوں سے کہا گیا کہ وہ گرو کے نام پر مندر کی تعمیر کے لیے اپنی کل آمدنی کا دسواں حصہ دیں۔‘

’اس رقم سے نہ صرف مندر کی تعمیر شروع ہوئی بلکہ کئی سماجی منصوبے بھی شروع ہوئے۔ جب مندر مکمل ہوا تو اس جگہ کا نام امرتسر رکھا گیا، یعنی امرت کی جھیل۔‘

گرو گرنتھ صاحب کی تنصیب

سنہ 1604 میں مغل بادشاہ اکبر کی موت سے ایک سال پہلے پانچویں گرو ارجن دیو نے اس مندر میں گرو گرنتھ صاحب کو نصب کیا۔ اسے آخری سکھ گرو، گرو گوبند سنگھ نے حتمی شکل دی تھی۔

سنہ 1708 میں اپنی موت سے پہلے، گرو گوبند سنگھ نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ گرو گرنتھ صاحب کو اپنا سب سے بڑا پیشوا مانیں۔

اس دوران امرتسر کا انتظام سکھ گرووں کے ہاتھوں میں رہا اور یہ ایک خود مختار شہر کے طور پر کام کرتا رہا۔

گرو ارجن دیو کی پھانسی

سنہ 1606 میں، اکبر کی موت کے ایک سال کے اندر، اکبر کے بیٹے جہانگیر کے حکم پر ارجن دیو کو پھانسی دے دی گئی۔

اس وقت ہندوستان کا دورہ کرنے والے ایک پرتگالی پادری جیروم زیویئر نے جہانگیر کے فیصلے کے بارے میں ایک خط میں لکھا: ’جب جہانگیر کا بیٹا شہزادہ خرم بغاوت کر کے آگرہ سے فرار ہو رہا تھا تو وہ اس جگہ سے گزرا جہاں گرو ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس کی شہرت سن کر شہزادہ اس سے ملنے گیا اور گرو نے انھیں بشارت دی اور ان کے سر پر ایک چھوٹا سا تاج رکھا۔‘

’جب جہانگیر کو اس کا علم ہوا تو اس نے گرو کی گرفتاری کا حکم دیا۔ سب سے پہلے اس نے گرو پر بہت بڑا جرمانہ عائد کیا۔ جب اس نے جرمانہ ادا نہ کیا تو اسے طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں، لیکن وہ گرو کو اپنے موقف سے باز نہ رکھ سکا۔‘

Getty Imagesمغل بادشاہ جہانگیر نے اپنے باغی بیٹے کی حمایت کرنے والے سکھوں کو سزا دیہرمندر صاحب کے منتظم منی سنگھ کو سزائے موت

1738 میں ہرمندر صاحب کے منتظم منی سنگھ نے امرتسر میں دیوالی میلہ منعقد کرنے کی اجازت کی درخواست کی تھی۔

انھیں اس شرط پر اجازت دی گئی کہ وہ میلہ ختم ہونے کے بعد پانچ ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائیں گے۔ منی سنگھ کو امید تھی کہ وہ عقیدت مندوں کے نذرانے سے رقم جمع کر لیں گے۔

سوہن لال اپنی کتاب ’دی سیکرز پاتھ‘ میں لکھتے ہیں: ’گورنر ذکریا خان نے امن بحال کرنے کے بہانے ایک بڑی فوج امرتسر بھیجی۔ اس سے عقیدت مندوں میں خوف پھیل گیا اور منی سنگھ وعدہ کے مطابق رقم جمع کرنے میں ناکام رہے۔‘

’منی سنگھ کو گرفتار کر کے لاہور لایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔ انھیں اسلام قبول کر کے اپنی جان بچانے کا اختیار دیا گیا۔ جب انکار کیا تو انھیں پھانسی دے دی گئی۔‘

احمد شاہ ابدالی اور سکھوں کے درمیان تصادم

1757 میں افغان حکمران احمد شاہ ابدالی نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کر کے اس کی بے حرمتی کی۔ جب ابدالی دہلی، متھرا اور ورنداون سے لوٹ کے مال کے ساتھ واپس آرہا تھے تو سکھوں نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا۔

ایچ آر گپتا اپنی کتاب ’ہسٹری آف دی سکھس‘ میں لکھتے ہیں: ’جیسے ہی ابدالی نے ستلج کو عبور کیا، سکھوں نے ان کے قافلے پر حملہ کر دیا۔ ابدالی کے سپاہی، لوٹ مار سے لدے سامان اور جنگ سے تھک چکے تھے، بیس یا تیس سکھ گھڑ سواروں کے سامنے بے بس نظر آئے۔‘

’وہ اچانک کہیں سے نمودار ہو جاتے اور ابدالی کے سپاہیوں پر حملہ کر دیتے اور پھر جنگلوں میں غائب ہو جاتے۔ یہ حملے اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ ابدالی دریائے سندھ کے کنارے نہ پہنچ گئے۔ ابدالی نے مال غنیمت کا ایک بڑا حصہ کھو دیا۔ سکھوں نے دو ہزار سے زیادہ ہندو عورتوں کو آزاد کرایا۔‘

دیپ سنگھ کی قربانی

اکتوبر سنہ 1764 میں ابدالی نے 18000 افراد کی فوج کے ساتھ ساتویں بار دریائے سندھ کو عبور کیا۔ امین آباد میں ناصر خان کی قیادت میں 12,000 بلوچ قبائلی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔

امرتسر کے راستے میں سکھ گوریلے ان کے فوجیوں کو ہراساں کرتے رہے۔ افغانوں نے شہر کو گھیرے میں لے لیا۔

خوشونت سنگھ لکھتے ہیں: ’جب افغان فوجیں ہرمندر صاحب پہنچیں تو مندر کے دروازے پر صرف 30 سپاہی دیکھ کر حیران رہ گئے، ان کی قیادت کھیمکرن کے گُربخش سنگھ کر رہے تھے، وہ بہادری سے لڑے، لیکن افغان غالب رہے۔ اس غیر مساوی جنگ میں، تمام سکھ مارے گئے اور ان کی لاشوں کو تالاب میں پھینک دیا گیا۔ ایک بار پھر مسمار شدہ عمارت کو کے ملبے کو تالاب میں پھینک دیا گیا۔ یہ تیسرا موقع تھا جب سکھوں کی عبادت گاہ کی بے حرمتی کی گئی۔‘

پتونت سنگھ لکھتے ہیں: ’ابدالی نے ہرمندر صاحب کو تباہ کرنے اور مقدس تالاب کی بے حرمتی کا حکم دیا۔ اس نے سکھوں کے قتل عام کا بھی حکم دیا۔ انھوں نے اپنے بیٹے تیمور شاہ کو لاہور کا گورنر مقرر کیا اور اسے سکھوں کی بیخ کنی کا حکم دیا۔‘

افغان فوج کی جانب سے دربار صاحب کو تباہ کرنے کے چند دنوں کے اندر، کچھ سکھ اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے جمع ہوئے۔ انھوں نے دیپ سنگھ کی قیادت میں افغان فوجیوں پر حملہ کیا۔

پتونت سنگھ لکھتے ہیں: ’سکھوں نے افغانوں سے آخری جنگ لڑی، یہاں تک کہ دیپ سنگھ زخمی ہو گئے۔ انھوں نے مقدس تالاب کا طواف کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔‘

سکھوں کا لاہور پر قبضہ

1759 میں اکال تخت سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں سکھوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ دربار صاحب کی تعمیر نو کے لیے ہر جگہ سے چندہ بھیجیں۔

اگلے سال، سکھوں نے ایک سربت خالصہ منعقد کیا جس میں خالصہ کے نام سے لاہور پر حملہ کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔

اسی سال نومبر میں جسا سنگھ اہلووالیہ کی قیادت میں انھوں نے لاہور پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔

کچھ دنوں بعد جسا سنگھ لاہور سے واپس ہوئے لیکن جانے سے پہلے انھوں نے گولڈن ٹیمپل کی دیکھ بھال کے لیے بڑی رقم جمع کر لی تھی۔

پتونت سنگھ لکھتے ہیں: ’اپریل 1765 میں بیساکھی کے دن دربار صاحب میں ایک اور سربت خالصہ منعقد ہوا، ایک بار پھر لاہور پر قبضہ کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ ایک تیز فوجی مہم کے بعد، سکھوں نے 16 اپریل 1765 کو لاہور پر قبضہ کر لیا۔ انھوں نے پورے پنجاب پر اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ سیاسی اقتدار کے لیے چاندی کے سکے جاری کیے گئے۔‘

Getty Imagesمہاراجہ رنجیت سنگھ نے گولڈن ٹمپل پر سونے کی قلعی کرائیمہاراجہ رنجیت سنگھ نے مندر پر سونے کی پرت لگوائی

1802 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے گولڈن ٹیمپل کا دورہ کیا، دربار میں سجدہ کیا اور اسے سنگ مرمر اور سونے سے دوبارہ تعمیر کرنے کا عہد کیا۔

رنجیت سنگھ نے معمار یار محمد خان کو اس کی چھت بنانے کا کام سونپا۔ اس نے سردار دیسا سنگھ مجیٹھیا کو اس کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا۔

رنجیت سنگھ کے جنرل ہری سنگھ نلوا نے اکال تخت کے گنبد پر سونے کی پرت چڑھائی۔

رنجیت سنگھ کی موت کے بعد گولڈن ٹیمپل انگریزوں کے قبضے میں آگیا۔ پنجاب کے برطانوی ڈپٹی کمشنر نے مندر کے انتظام کے لیے اپنے لوگوں کو مقرر کیا۔

سکھوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ مندر کی انتظامیہ انھیں واپس کر دی جائے۔

19 جنوری 1922 کو حکومت نے گولڈن ٹیمپل کی چابیاں اکال تخت پر جمع ہونے والے ایک بڑے ہجوم کے سامنے سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر سردار کھڑک سنگھ کے حوالے کر دیں۔

آج بھی تقریباً 150,000 لوگ روزانہ مندر جاتے ہیں۔ عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔

آزادی کے بعد 1984 میں گولڈن ٹیمپل انڈین حکومت اور بھنڈرانوالے کی قیادت میں سکھ علیحدگی پسندوں کے درمیان تنازع کا مرکز بن گیا۔ اور پنجاب کو اس مشکل دور سے نکلنے میں کئی سال لگے۔

سکھ رہنماؤں کی تردید کے بعد انڈین فوج کا وضاحتی بیان: ’گولڈن ٹیمپل پر طیارہ شکن سسٹم نصب نہیں کیا گیا‘وائسرائے کا تحفہ: گولڈن ٹیمپل کی 122 سال پرانی گھڑی دوبارہ چل پڑیانڈیا کا وہ تاریخی شہر جہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا اور وہ عبادت گاہ جہاں روزانہ ایک لاکھ لوگ لنگر کرتے ہیںآپریشن بلیو سٹار: پاکستان اور چین کی افواج سے جنگیں لڑنے والے شابیگ جنھوں نے گولڈن ٹیمپل کو انڈین فوجیوں کی ’قتل گاہ‘ میں بدل دیا ’جمہوریہ پریتالا‘: جب انڈیا کے سات دیہات نے مل کر اپنا الگ ملک بنا لیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More