امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیا

بی بی سی اردو  |  Mar 25, 2026

Getty Imagesاسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز دیمونا میں اس جگہ کا دورہ کیا جہاں ایران نے حملہ کیا تھا

ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے اشارے سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے بھی جاری ہیں۔

سوموار کے روز اسرائیل نے ایران میں ’درجنوں‘ فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کے دوران تہران میں موجود پاسداران انقلاب اور انٹیلی جنس وزارت کے کمانڈ سینٹر، ہتھیاروں کے ذخائر اور فضائی دفاع کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

جواب میں ایران نے بھی رات بھر اسرائیل کے شمالی اور جنوبی اہداف پر کئی میزائل داغے۔

شمالی تل ابیب میں جس جگہ تازہ ترین حملہ کیا گیا، وہاں گڑھے پڑ چکے ہیں، رہائشی عمارتوں کی دیواریں متاثر ہوئی ہیں اور بالکونیاں ٹوٹ چکی ہیں۔

مقامی رپورٹس کے مطابق رہائشی عمارات کے کئی بلاکس ایرانی میزائل حملے سے بال بال بچے۔ اس حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے لیکن کوئی بھی شدید زخمی نہیں ہوا۔

حملے کی جگہ کے قریب رہنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سائرن بجنے کی آواز آئی تو ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ پناہ گاہ تک پہنچ سکیں۔ وہ اپنے گھر کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ دھماکے سے وہ پھٹ گیا۔

ٹوٹتے شیشوں کے درمیان ننگے پاؤں اپارٹمنٹ سے بھاگنے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر معلوم ہوا، ملبے میں آگ لگ چکی تھی۔

’نیتن یاہو کوئی معاہدہ نہیں چاہتے‘

ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان تو کر چکے ہیں لیکن ان کے عزائم کے حوالے سے بدستور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ ماضی میں بھی وائٹ ہاؤس مذاکرات کے دھوکے میں عسکری کشیدگی بڑھا چکا ہے اور اس وقت بھی ہزاروں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔

تاہم مذاکرات کی خبریں اسرائیل میں کچھ لوگوں کے لیے اس بات کا اشارہ بھی ہیں کہ امریکی صدر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور اسرائیل اور اس کے سپر پاور اتحادی کے مقاصد اب جدا ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر اور تل ابیب یونیورسٹی میں مرکز برائے مطالعہ فلسطین کے سربراہ مائیکل ملسٹین کہتے ہیں: ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کوئی معاہدہ نہیں چاہتے۔‘

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مؤقف میں ایک قسم کا تضاد ہے۔ نیتن یاہو جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ یہ جنگ اسرائیل کو درپیش تمام خطرات ختم کر دے گی اور شاید ایران میں ایسے حالات بھی پیدا کر دے کہ وہاں کی حکومت تبدیل ہو جائے۔‘

مائیکل ملسٹین کے مطابق ’اس وقت نیتن یاہوں کے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک خلا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر ٹرمپ واقعی اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں تو یہ صورتحال اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے بہت مشکل ہے۔

’یہ کیچ 22 ہے۔ کیوں کہ اگر مذاکرات ہوئے تو نیتن یاہو جنگ کو بڑھا نہیں سکیں گے اور وہ ٹرمپ سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ میں آپ کے بغیر بھی جنگ جاری رکھوں گا۔ یوں، انھیں یہ فیصلہ قبول کرنا ہی پڑے گا۔‘

EPAمنگل کے روز تل ابیب کے ایک رہائشی علاقے میں ایرانی میزائل حملے کے بعد تباہی

نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ یہ جنگ ایران اور خطے میں اس کے پراکسی نیٹ ورک سے درپیش خطرے کو ختم کر دے گی۔ ان وعدوں کے بعد اسرائیل میں ان کے ووٹرز اور اتحادیوں کی توقعات بلند ہو چکی ہیں اور جنگ کے اس مرحلے پر انھیں کسی معاہدے کے لیے قائل کرتے ہوئے نیتن یاہو کو بہت باریک لکیر پر چلنا ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن پارلیمان ڈان ایلوز کہتے ہیں: ’اسرائیلی عوام جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کا درست طریقہ یہ ہے ایرانی حکومت کو مکمل شکست دے دی جائے تاکہ وہ بار بار ہمیں ستانے کے قابل ہی نہ رہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خطرے کو محدود رکھنے کی پالیسی ہم ماضی میں آزما چکے ہیں۔ حماس کے ساتھ بھی ہماری یہی پالیسی تھی لیکن سات اکتوبر 2023 کو ہمیں اس کے نقصان دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے ساتھ بھی یہی صورتحال پیدا ہو۔‘

سوموار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات کرنے کے بعد نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران اور لبنان دونوں پر حملے جاری رکھے گا اور ’کسی بھی صورتحال میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔‘

’برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟بمباری اور تباہی کے درمیان ایران میں سالِ نو کا آغاز اور مجبتی خامنہ ای کا پیغام: ’پاکستان میرے والد کا خاص پسندیدہ تھا‘ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟ٹرمپ کا ایران پر حملے کا پرل ہاربر سے موازنہ: ’جب جاپان کی مدد بھی درکار ہو تو لطیفے بنانے کا شاید یہ بہتر وقت نہیں تھا‘

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو کہا کہ اسرائیلی فوج دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنان کے ایک بڑے حصے پر سکیورٹی زون قائم کرے گی اور وہاں کے رہائشیوں کو اُس وقت تک واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک اسرائیلی آبادیاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ نہ ہو جائیں۔

زیادہ امکان یہی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہو بھی گیا تو اسرائیل حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مذاکرات میں کس کو برتری حاصل؟

تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز میں ایرانی امور پر تجزیہ دینے والے ڈینی سٹرینووچز کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان کم ہے کیوںکہ دونوں کے مؤقف اور توقعات میں فرق بہت زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جیت رہا ہے اس لیے وہ ضمانتوں اور نقصان کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کرے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مذاکرات شروع ہوتے ہی ایران امریکہ کے تمام مطالبات مان لے گا۔‘

ان کے مطابق کسی اتفاق رائے پر پہنچنے کے لیے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو یا تو ایران کی حکومت تبدیل کرنا ہو گی یا اپنے مطالبات سے دستبردار ہونا ہو گا۔

ڈینی کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ جو چیز انھوں نے امریکہ کو جنگ سے پہلے نہیں دی تھی وہ جنگ کے بعد بھی نہیں دیں گے۔ ان کے پاس تیل کی ترسیل کے لیے اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز کا اختیار ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں انھیں برتری حاصل ہے۔‘

ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دے رکھی تھی کہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو وہ اُس کے بجلی گھر 'تباہ' کر دیں گے۔ تاہم تہران نے خطے میں امریکہ سے منسلک توانائی کے مراکز پر جوابی حملے کرنے کی دھمکی دی تو ٹرمپ نے 48 گھنٹوں کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کا دعویٰ کیا۔

اس سے ایران کا اعتماد مضبوط ہوا ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد توانائی کی منڈیوں میں استحکام لانا ہو، ایرانی قیادت میں تقسیم پیدا کرنا ہو یا نئی عسکری کارروائی کے لیے مزید وقت حاصل کرنا؛ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے سے ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔

ایک مبصر نے مجھے بتایا کہ انھیں حیرت نہیں ہو گی اگر ٹرمپ جمعے کی صبح جاگیں اور ایران پر ایک اور حملہ کر دیں۔

یہ جنگ اب ہتھیار ڈالنے یا کشیدگی بڑھانے کے درمیان معلق دکھائی دیتی ہے۔ ابھی تک کوئی بھی فریق اتنا کمزور نہیں ہوا کہ دشمن کی شرائط پر معاہدہ کر سکے۔

ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالاتپاکستان کی ایران اور امریکہ کو ثالثی کی پیشکش: کیا اسلام آباد جنگ رکوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟وہ چیز جو خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں سے روک رہی ہےکیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More