سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں 10 مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں اکاخیل کے مقام پر ایک سکول میں کالعدم تنظیم کا جھنڈا لہرانے والے مسلح شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے۔
فضا سے بنائی گئی ایک فوٹیج میں کچھ افراد ایک آٹو رکشہ کے قریب موجود ہیں مگر دھماکہ ہوتے ہی ان میں سے کچھ گر جاتے ہیں، کچھ بھاگنے لگتے ہیں اور کچح ہوا میں فائرنگ کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
یہ ویڈیو سکیورٹی ذرائع کی جانب سے صحافیوں کو فراہم کی گئی ہے، تاہم بی بی سی اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود اس واقعے کی ایک الگ ویڈیو میں بھی مبینہ شدت پسندوں کو سکول کے اندر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ضلع خیبر میں پولیس اور سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شدت پسندوں پر حملہ ڈرون کے ذریعے فضائی نگرانی کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔
کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘پاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘ہم باڑہ میں اس واقعے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پیر کو باڑہ میں اکاخیل قوم کے علاقے میں مسلح شدت پسندوں نے گورنمنٹ ہائی سکول خواجہ میر کلے پر قبضہ کر کے کالعدم ٹی ٹی پی کا سفید جھنڈا لہرایا تھا۔
انھوں نے سکول میں داخل ہونے اور سکول کے اسمبلی کے میدان میں اپنا جھنڈا لہرانے کی ویڈیوز بھی بنائیں، جو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان میں کالعدم ’لشکر اسلام‘ کے مسلح شدت پسند شامل تھے۔
ان کے مطابق مسلح شدت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ پہلے مسلسل فضائی نگرانی اور کواڈ کاپٹرز کی مدد سے ٹھکانے کی نشاندہی کی گئی اور پھر کواڈ کاپٹر کے ذریعے انھیں نشانہ بنایا گیا۔
اس کارروائی کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آٹو رکشے کے پاس مسلح افراد موجود ہیں۔
Getty Imagesعلامتی تصویر
اگرچہ فضا سے بنائی گئی اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد رکشے میں بیٹھے ایک شخص کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں اور ابھی یہ بات چیت جاری ہی تھی کہ ان کے قریب دھماکہ ہوتا ہے۔ پھر دھواں اٹھتا ہے اور رکشے کے قریب کھڑے کچھ لوگ زمین پر گر جاتے ہیں اور کچھ بھاگنے لگتے ہیں۔
ان میں سے کچھ افراد ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں۔ یہ کارروائی ایک میدان میں کی گئی ہے جس کے قریب کچھ مکان بھی واقع ہیں۔
باڑہ سے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نے کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس واقعے میں 10 ’خوارج‘ مارے گئے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری طور پر ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے لیے خوارج کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں مسلح شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پولیس اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
باڑہ میں شدت پسندوں کی موجودگی اور خوف
یہ واقعہ اور اس سے پہلے اسی طرح کی واقعات کے سبب علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور مقامی لوگ اس بارے میں پریشان ہیں۔
تحصیل باڑہ کے سابق چیئر مین مفتی کفیل کا تعلق جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) سے ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں حالات پریشان کن ہیں۔ ’باڑہ سے پہلے تیراہ کے علاقے میں کہا گیا کہ وہاں مسلح شدت پسند موجود ہیں اور اب ان کی موجودگی یہاں باڑہ میں دیکھی جا رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کی وجہ سے جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ لوگ دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
اکاخیل کا علاقہ تحصیل باڑہ کے مضافات میں واقع ہے۔ مفتی کفیل کے مطابق اس علاقے کے رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد 80 سے 85 ہزار تک ہے جبکہ یہاں آبادی ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ تک ہو سکتی ہے۔
تحصیل باڑہ میں کچھ عرصے سے شدت پسندوں کی موجودگی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ اب ان شدت پسندوں کی باڑہ شہر کے قریب ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو صوبائی دارالحکومت پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
باڑہ میں 11 مارچ کو بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں راکٹ لانچر اٹھائے مسلح شدت پسندوں کو دیکھا گیا تھا۔
ان مسلح شدت پسندوں کی یہ سرگرمی کہیں دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ پشاور شہر سے 10 سے 15 کلومیٹر دور باڑہ میں شہر کے قریب اہم شاہراہ پر دیکھی گئی ہے۔
اس طرح کی ویڈیوز ضلع خیبر کے علاقے باڑہ اور تیراہ سے پہلے بھی سامنے آئی ہیں لیکن باڑہ میں اہم شاہراہ پر کھڑے ایک درجن سے زیادہ جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح شدت پسندوں کی ویڈیو سامنے آنے پر مقامی لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اگر پشاور شہر کے اہم علاقوں سے اس کا فاصلہ معلوم کریں تو یہ گورنر ہاؤس سے کوئی 15 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور پشاور شہر کے اہم رہائشی علاقے حیات آباد سے 8 سے 12 کلومیٹر دور ہے ۔
اس سے پہلے گذشتہ سال اکتوبر میں سوشل میڈیا پر باڑہ کے علاقے اکاخیل سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جب مسلح شدت پسندوں کے ایک کمانڈر نے کرکٹ میچ کے دوران تقریر کی تھی اور کہاں تھا کہ ’مخبری کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔‘
کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟پاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟کابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: ’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘