جب مارچ 2026 میں انڈین فلم ’دھورندھر: دی ریوینج‘ سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تو اس کے ساتھ ہی انڈیا میں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی۔
اس ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے علاقے لیاری میں انڈین جاسوسوں کو پکڑنے کے لیے ایک ’گرینڈ آپریشن‘ شروع کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی کئی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ آپریشن فلم کے ریلیز ہونے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔
تاہم بی بی سی اس ویڈیو کے اصل ذرائع کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ڈرامائی انداز میں فلمائے گئے اس ویڈیو کلپ میں پولیس سڑک کنارے سوئے ہوئے ایک شخص کو جگا کر چیک کرتی ہے اور پھر اسے چھوڑ دیتی ہے، لیکن زمینی حقائق بظاہر کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں واضح طور پر نظر آنے والوں میں یونس امین بھی شامل ہیں، جو اس چھاپہ مار کارروائی کی قیادت کر رہا ہے۔
بی بی سی نے یونس امین سے بات کی جن کا پولٹری کا کاروبار ہے، لیکن وہ اینٹی نارکوٹکس اینڈ کرائم کنٹرولکے آپریشنل ڈائریکٹر بھی ہیں۔ یہ تنظیم سماجی بیداری اور نشے سے نجات کے شعبے میں کام کرتی ہے۔
’یہ ویڈیو حیدرآباد کی ہے، لیاری کی نہیں‘
امین کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کا جاسوسی یا لیاری سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی منشیات کے عادی افراد کی نشاندہی اور انھیں بحالی مراکز بھیجنے کی مہم کا حصہ تھی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ مہم پانچ سال قبل پولیس کے ساتھ مل کر شروع کی تھی۔
یونس امین کہتے ہیں ’یہ ویڈیو دراصل پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کی ہے، لیاری کی نہیں۔ اس کا جاسوسوں کی تلاش سے کوئی تعلق نہیں۔‘
ان کے مطابق ان کارروائیوں کو اکثر آن لائن ’گرینڈ آپریشن‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ منشیات کے عادی افراد کی شناخت کرنے اور انھیں علاج کے لیے بھیجنے کی ایک محتاط کوشش کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات یہ کارروائیاں فلاحی تنظیم ایدھی ویلفیئر فاؤنڈیشن کی مدد سے بھی کی جاتی ہیں۔
’ان ویڈیوز کا مقصد آگاہی پھیلانا ہے، سنسنی پیدا کرنا نہیں۔ ہم ٹک ٹاکرز نہیں ہیں۔ لوگ ہماری ویڈیوز کو بغیر کسی سیاق و سباق کے وائرل کر دیتے ہیں۔‘
لیاری کی حقیقت
وائرل ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کے برعکس لیاری کی اصل کہانی ہسپتالوں اور گھروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
منشیات بحالی مرکز کے باہر انتظار کرتا ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے ایک ایسے دوست کے علاج کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی زندگی منشیات کی لت نے تباہ کر دی ہے۔
وہ اپنے دوست کے بارے میں بتاتے ہیں ’وہ ایک سال سے کرسٹل میتھ لے رہا ہے۔ پہلے وہ چھپ چھپ کر یہ کام کرتا تھا، لیکن اب کھلے عام کرتا ہے۔ وہ رات کو سوتا نہیں اور باہر چلا جاتا ہے۔ جب ہم نے اس کا پیچھا کیا تو پتا چلا کہ وہ منشیات لے رہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ اس کی اچھی نوکری تھی۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا ایک بچہ بھی ہے۔ لیکن اب وہ اپنی نشے کی لت پوری کرنے کے لیے چوریاں کرنے پر اتر آیا ہے۔
ان سے چند قدم کے فاصلے پر برقعے میں ملبوس ایک خاتون کھڑی تھیں، جن کی خاموش آنکھیں ایک کہانی سنا رہی تھی۔
یہ ایک ایسی کہانی ہے جس سے علاقے کے بہت سے لوگ واقف ہیں۔ ان کا 20 سالہ بیٹا جو کبھی خاندان کی کفالت کے لیے رکشہ چلاتا تھا اب اپنی راتیں سڑکوں پر گھومتے ہوئے گزارتا ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’وہ سو نہیں سکتا اور اس وجہ سے ہمیں بھی جاگنا پڑتا ہے۔ وہ پہلے پورے خاندان کی کفالت کرتا تھا اور اب نشے نے اسے برباد کر دیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کے بیٹے کو سدھارنے کی کئی بار کوششیں کی گئی لیکن ’یہ لت چھوٹتی ہی نہیں۔‘
اسے دن بدن کمزور ہوتے دیکھ کر ان کا محض اتنا کہنا ہے ’اسے اس طرح دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘
BBC
محمد اقبال جیسے بزرگ اسے آنے والی نسل میں ہونے والی تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’پہلے حالات کبھی اتنے خراب نہیں تھے۔ آج ہر طرف منشیات نظر آتی ہیں، کرسٹل میتھ سے لے کر گٹکے اور تمباکو تک۔ پوری نسل برباد ہو رہی ہے۔‘
وہ سوال کرتے ہیں کہ گینگ وار ختم ہونے کے بعد بھی منشیات مارکیٹ میں کیسے دستیاب ہے؟
دھورندھر: جب آدتیہ دھر کا فلم بنانے کا خواب فواد خان کی وجہ سے ٹوٹا’جاسوس کا پہلا دن‘: فلم ’دھورندھر‘ کے بعد پاکستان اور انڈیا کے ’جاسوسوں‘ کا مقابلہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہاانڈیا میں دھورندھر کے ناقد ’منظم حملوں اور ہراسانی‘ کی زد میں: ’فلم پاکستان کو بے قابو اور وحشی معاشرے کے طور پر پیش کرتی ہے‘ ’اب پاکستان کا مستقبل ہندوستان طے کرے گا‘: دھورندھر 2 کا ٹریلر اور سنجے دت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تنقیدایک نیا چیلنج
لیاری کو کبھی گینگ وار، قبضہ مافیا اور مسلح تصادم جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن یہ چیلنجز بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں۔ تاہم جن لوگوں نے وہ دور دیکھا ہے ان کے مشاہدے کے مطابق آج کے چیلنجز کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
ایس ایس پی چوہدری اسلم کی لیاری ٹاسک فورس میں خدمات انجام دینے والے انسپکٹر منور حسین علاقے میں منشیات کی لت کے بدلتے منظرنامے کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’پہلے افیون بنیادی نشہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب لوگ آئس اور کرسٹل میتھ کا استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ منشیات کے بڑے مراکز ختم ہو چکے ہیں، اب یہ مسئلہ چھوٹے پیمانے پر موجود ہے۔‘
BBC
صحافی سلطان مندھرو کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے غائب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ معاشرے سے ختم ہو گئی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’2005 سے 2013 تک لیاری منشیات فروشوں کی آماجگاہتھا۔ جس طرح آج پان کے کھوکھے اور سٹالز دکھائی دیتے ہیں، کبھی منشیات بھی اسی کھلے عام فروخت ہوا کرتی تھی۔ اب منشیات چھپ چھپ کر فروخت کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں خواتین بھی منشیات فروخت کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں۔ یہ بات پولیس ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔‘
تبدیلی کے آثار
چیلنجز کے باوجود اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ چھ سے آٹھ منشیات بحالی مراکز ہیں جو لیاری کی دس لاکھ سے زیادہ عوام کے ساتھ ساتھ آس پاس کے علاقوں کی بھی خدمت کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک انسداد منشیات فورس اور سندھ حکومت کےاشتراک سے چلنے والا بے نظیر شہید اے این ایف ماڈل ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر ہے۔
2010 میں 100 بستروں کے ساتھ کھولا گیا یہ مرکز مردوں اور عورتوں دونوں کا علاج کرتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
ڈاکٹر محمد علی اس مرکز کے قیام کے بعد سے یہاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اب صورتحال بہت بہتر ہو گئی ہے۔ پہلے ایک دن میں 50 سے 60 مریض آتے تھے، اب پورے ہفتے میں صرف 10 سے 15 مریض لائے جاتے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ واضح طور پر بہتری نظر آ رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بحران مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔
’دھورندھر جیسی فلمیں ہمارے لیے صرف کامیڈی ہیں‘BBC
کئی دہائیوں تک لیاری کا نام تشدد اور گینگ وار سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
یہاں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ’دھورندھر: دی ریوینج‘ جیسی فلمیں تشدد اور امن و امان کے فقدان کی پرانی تصویر کو تقویت دیتی ہیں۔
عبدالسمیع کا خاندان یہاں نسلوں سے آباد ہے۔ وہ لیاری کی ایسی منظر کشی کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں ’فلم میں دکھایا گیا کہ یہاں دہشت گرد کھلے عام ہتھیار لے کر گھوم رہے ہیں جیسے یہاں کوئی حکومتی رٹ نام کی چیز ہی نہیں۔ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں تھا۔ یہ کوئی لاقانونیت کا جنگل نہیں تھا۔‘
کچھ لوگ لیاری کی بالکل الگ شناخت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
سماجی کارکن دانش سومرو کا کہنا ہے کہ ’لیاری اپنے کھیلوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے، اسے ’منی برازیل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیاری کی اصل پہچان فٹ بال ہے، دھورندھر جیسی فلمیں نہیں۔‘
سماجی کارکن محمد ہاشم کہتے ہیں ’دھورندھر ون‘ اور ’ٹو‘ جیسی فلمیں انڈین ہیں۔
’پاکستان مخالف فلمیں وہاں اچھا بزنس کرتی ہیں۔ ہمارے لیے یہ صرف کامیڈی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے بہت پیسہ کمایا۔ جب انھوں نے لیاری کے نام پر اتنا کمایا ہے تو انھیں اس میں سے ہمیں بھی حصہ دینا چاہیے۔ ہم اس کے مستحق ہیں۔‘
ایسے میں لیاری کے نوجوان رہائشی محمد عرفان مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے لیے لیاری کو فلم میں دکھائے گئے لیاری جیسا بنا دو۔
ان کا اشارہ فلم میں دکھائے گئے صاف ستھرے اور زیادہ ترقی یافتہ لیاری کی طرف تھا۔
آج بھی لیاری رہنے کے لیے آسان جگہ نہیں۔ یہاں غربت بہت زیادہ ہے جبکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ناقابل اعتبار ہیں۔
گینگ وار اور تشدد سے لے کر برسوں کی نظراندازی تک، ماضی کے سائے اب بھی لیاری کے اپر منڈلاتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ لیاری غلط معلومات اور اپنی نئی پہچان بنانے کی کشش کرتی کمیونٹی کے درمیان پھنس گیا ہے۔
گولیوں کی گونج، تنگ گلیاں اور خوف و تشدد: فلم ’دھورندھر‘ میں دکھایا جانے والا لیاری اب کیسا ہے؟لیاری گینگ وار: عالمی کھلاڑیوں کے علاقے میں موت کے کھلاڑی کیسے پیدا ہوئے؟دھورندھر: جب آدتیہ دھر کا فلم بنانے کا خواب فواد خان کی وجہ سے ٹوٹا