Getty Imagesخلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحد کے درمیان موجود ہے جو ایک مقام پر صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے
ایران اور امریکہ نے منگل کی شب دو ہفتے کی جس جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے اس کی اہم ترین شرائط میں سے ایک آبنائے ہرمز کی ایک ’محفوظ گزرگاہ‘ کے طور پر استعمال کی ضمانت بھی ہے۔
دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عام طور پر اس راستے سے گزرتا ہے جو اپنے سب سے تنگ مقام پر صرف 40 کلومیٹر چوڑا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران نے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل میں کلیدی حیثیت رکھنے والی اس آبی گزرگاہ کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا۔ اس بندش کا نتیجہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلا اور جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی تیل کی عالمی قیمتوں میں 15 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے
خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان، شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات سے جڑا آبنائے ہرمز ایک سمندری راستہ ہے جس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 33 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔
یہ سمندری راستہ اتنا ہی گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا 10 کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کر سکتے ہیں۔
1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اور اسی لیے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرے۔
آبنائے ہرمز سے کتنا ایندھن گزرتا ہے
اس آبی راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اندازوں کے مطابق، 2025 میں، تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات روزانہ آبنائے ہرمز سے گزریں جس کا تجارتی حجم تقریباً سالانہ چھ سو ارب ڈالر بنتا ہے۔
اس راستے کو صرف ایران ہی تیل کی تجارت کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت جیسے ممالک بھی اپنے گاہکوں خصوصاً ایشیائی ممالک کو تیل اسی راستے سے پہنچاتے ہیں۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا اندازہ ہے کہ 2024 میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی خام تیل اور کنڈینسیٹ کا 84 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 83 فیصد ایشیائی بازاروں میں گیا تھا۔
اینالیٹکس فرم ورٹیکسا کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب روزانہ تقریبا 60 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جو کسی بھی پڑوسی ملک سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق قطر نے 2024 میں نو ارب 30 کروڑ مکعب فٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر برآمد کی۔
ہرمز مشرق وسطیٰ سے کھاد کی برآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے جہاں قدرتی گیس کو پیداواری عمل میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبنائے مشرق وسطیٰ میں خوراک، ادویات اور تکنیکی سامان سمیت دیگر درآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کیسے بند کی اور اس کا کیا اثر پڑا؟
اقوام متحدہ کے قوانین ممالک کو اپنی ساحلی پٹی سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک علاقائی سمندر کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور سب سے تنگ مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کا بحری راستہ مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔
ہر ماہ آبنائے ہرمز سے تقریباً تین ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں لیکن حالیہ تنازعے کے دوران اس تعداد میں ڈرامائی طور پر کم آئی جب ایران نے ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
ایرانی ڈرونز، میزائل، تیزرفتار جنگی کشتیاں اور ممکنہ طور پر آبی بارودی سرنگیں ان بحری جہازوں کے لیے ممکنہ خطرہ تھے۔
ایرانی کارروائیوں پر نظر رکھنے والی تنظیمیو اے این آئی کا کہنا ہے کہ تنازعے کے آغاز کے بعد سے دو اپریل 2026 تک 24 تجارتی جہاز ایرانی حملوں کا نشانہ بنے جبکہ تین بال بال بچے۔
گلوبل رسک مینیجمنٹ کے مرکزی تجزیہ کار آرن لوہمن راسموسن نے اس تناظر میں بی بی سی کے امریکی شراکت دار چینل سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ’آپ پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اور آپ اس حوالے سے یا تو انشورنس حاصل نہیں کر سکتے یا پھر وہ بہت مہنگی ہے۔‘
ایران سمیت خلیجی ممالک اپنی آمدنی کے لیے تیل اور گیس کی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے سفر میں رکاوٹ نے ایشیا کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ایک تخمینے کے مطابق صرف چینہی ایرانی تیل کی کل عالمی برآمد کے تقریباً 90 فیصد کا خریدار ہے۔ اس تیل کا ایک بڑا حصہ اسے ایران عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے کم قیمتوں پر فروخت کرتا ہے اور جو تہران کو امریکی پابندیوں سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے۔
ایشیا میں، ایندھن کے بحران نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک میں جہاں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے وہیں حکومتوں نے گھر سے کام، اوقاتِ کار میں کمی اور تعلیمی اداروں کی بندش جیسے اقدامات کیے۔
افریقہ میں بھی جنوبی سوڈان اور ماریشس نے بجلی کے استعمال پر پابندیاں لگائیں جبکہ یورپ میں سلووینیا یورپی یونین کا وہ پہلا رکن ملک بنا جہاں ایندھن کی راشننگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟ایران اور امریکہ کی جنگ بندی: ایک ’غیرمعمولی دھمکی‘ اور ٹرمپ کی جزوی فتح جس کا مستقبل غیرواضح ہےغیر روایتی سفارتی گیم: ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟امریکہ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوشش کیسے کی؟
اس تنازعے کے دوران امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر سخت ردعمل دینے اور اسے کھلا رکھنے کے مطالبات تو سامنے آئے لیکن اس نے وہاں اپنا کوئی جنگی بحری جہاز تعینات نہیں کیا اور فوجی ردعمل کو ایران پر فضائی حملوں تک محدود رکھا۔
مثال کے طور پر 18 مارچ کو امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ساتھ ایران کے بحری جہاز شکن کروز میزائل داغنے والے مقامات پر بمباری کا دعویٰ کیا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے امریکہ کے اتحادیوں اور چین سمیت دیگر ممالک سے جنگی جہاز بھیج کر ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ان کی درخواست پر بہت کم مثبت ردعمل آیا جس اس کے بعد انہوں نے کہا کہ امریکہ کو درحقیقت ان ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکہ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر چکا ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں، آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران، تیل کی تنصیبات پر حملے ایک ’ٹینکر جنگ‘ کی شکل اختیار کر گئے تھے جس میں دونوں ممالک نے اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے غیرجانبدار ممالک کے جہازوں پر حملے کیے۔
عراقی تیل لے جانے والے کویتی ٹینکرز خاص طور پر نشانہ بنے اور بالآخر امریکی جنگی بحری جہازوں نے انہیں خلیج میں تحفظ دینا شروع کیا جو امریکی نیول انسٹیٹیوٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی بحری جنگی کارروائیوں میں سے ایک بنی۔
AFP via Getty Imagesہر ماہ آبنائے ہرمز سے تقریباً تین ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں لیکن حالیہ تنازعے کے دوران اس تعداد میں ڈرامائی طور پر کم آئی جب ایران نے ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیکیا جنگ بندی سے پہلے ہرمز سے جہاز گزرے؟
24 مارچ کو اقوام متحدہ میں اپنے مشن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک پیغام میں، ایران نے کہا کہ وہ ایسے ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا جو اس کے دشمن نہیں، بشرطیکہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
بی بی سی ویریفائی کے جائزے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یکم مارچ سے 20 مارچ کے درمیان تقریباً 100 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ تین اپریل کو ایک فرانسیسی کنٹینر بردار جہاز، عمان سے منسلک تین ٹینکرز اور ایک جاپانی گیس بردار جہاز نے آبنائے کو عبور کیا۔
فرانسیسی جہاز میری ٹائم ٹرانسپورٹ گروپ سی ایم اے سی جی ایم کا تھا اور مبینہ طور پر آبنائے سے گزرنے والا پہلا مغربی جہاز تھا۔
بی بی سی ویریفائی کے تجزیے کے مطابق، 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کی روزانہ ٹریفک تقریباً 95 فیصد کم ہوئی اور یہاں سے گزرانے والے جہازوں کا تقریباً ایک تہائی ایران سے تعلق رکھتا تھا۔
17 مارچ کو امریکی چینل بلومبرگ نے کہا کہ ایک پاکستانی ٹینکر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرا ہے اور پاکستان کی جانب گامزن ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'میرین ٹریفک' نے دعویٰ کیا تھا کہ ایفرا میکس ٹینکر کراچی، جو ابوظہبی سے خام تیل لے کر جا رہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کی بعد سے اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) سگنل نشر کرتے ہوئے یہاں سے گزرنے والا پہلا غیر ایرانی کارگو تھا۔
امریکی کاروباری نیوز سائٹ CNBC نے 18 مارچ کو رپورٹ کیا کہ یکم اور 15 مارچ کے درمیان چین سے منسلک کل 11 جہاز آبنائے سے گزرے۔ بیجنگ نے حال ہی میں اپنے تین جہازوں کے اس راستے سے بحفاظت گزرنے کے بعد شکریہ بھی ادا کیا جن میں سے دو سرکاری جہاز راں کمپنی کوسکو کے تھے۔
29 مارچ کو پاکستان نے اعلان کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ دو پاکستانی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں گے۔
اس کے علاوہ کم از کم آٹھ ایسے انڈین پرچم بردار جہازوں نے بھی ہرمز کو عبور کیا جن پر ایل پی جی لدی تھی۔
کیا کوئی متبادل راستہ یا طریقہ موجود ہے؟
آبنائے ہرمز کی بندش کے مسلسل خطرے نے برسوں سے خلیج کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو متبادل برآمدی راستے تیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
2019 میں، سعودی عرب نے عارضی طور پر ایک قدرتی گیس پائپ لائن کو خام تیل لے جانے کے لیے دوبارہ استعمال کیا۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے اندرونی تیل کے ذخائر کو خلیج عمان کے بندرگاہ فجیرہ سے ایک پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیا ہے جس کی یومیہ صلاحیت 15 لاکھ بیرل ہے۔
جولائی 2021 میں، ایران نے گورہ-جسک پائپ لائن کا افتتاح کیا، جس کا مقصد خلیج عمان میں خام تیل منتقل کرنا تھا۔یہ پائپ لائن اس وقت تقریباً ساڑھے تین لاکھ بیرل یومیہ ایندھن لے جا سکتی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ایران نے ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا۔
ای آئی اے نے گذشتہ سال جون میں کہا تھا کہ موجودہ متحدہ عرب امارات اور سعودی پائپ لائنز سے تقریبا 26 لاکھ بیرل یومیہ کی غیراستعمال شدہ صلاحیت آبنائے ہرمز کو ’بائی پاس‘ کرنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔
پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خدشات: خوراک اور ادویات کے ساتھ ہر وہ چیز مہنگی ہو جائے گی جس میں بیٹری استعمال ہوتی ہےآبنائے ہرمز بند ہوئی ہو کیا ہو گا؟