Getty Imagesٹرمپ نے اپنی متنازع پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ ’میں نے سمجھا تھا کہ یہ میں ہوں، بطور ڈاکٹر‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد اپنی ایک متنازع تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے حذف یعنی ڈیلیٹ کر دی ہے۔
ان پر تنقید کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس تصویر میں ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے روپ میں دکھایا گیا تھا، تاہم ٹرمپ کا اپنا دعویٰ ہے کہ اُن کے خیال میں یہ تصویر انھیں ایک ڈاکٹر کے طور پر دِکھا رہی تھی۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی اس تصویر میں ٹرمپ ہسپتال کے بستر پر لیٹے ایک بیمار شخص کو روحانی طاقت سے صحتیاب کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ پر ٹرمپ کو خاصی تنقید کا سامنا ہے اور اُن کے حامی بھی اس پر اُن کی مخالفت کر رہے ہیں۔
بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ متنازع تصویر اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کا اعتراف کیا اور صحافیوں کو بتایا کہ اُن کے خیال میں یہ تصویر انھیں ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھا رہی تھی۔
اس تصویر میں ٹرمپ سفید لباس میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں اور ایک بیمار شخص کے ماتھے پر ان کا ہاتھ روشن دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منظر اُن مذہبی پینٹنگز سے مشابہ ہے جن میں حضرت عیسیٰ کو بیماروں کو شفا دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔
تصویر کے پس منظر میں مجسمہ آزادی، بڑا امریکی پرچم، لڑاکا طیارے اور ایک عقاب دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے علاوہ ایک نرس، دعا کرتی ہوئی ایک خاتون اور وردی میں ملبوس ایک شخص بھی شامل تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایک فوجی ہو سکتا ہے۔
تصویر حذف کیے جانے کے چند گھنٹے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اس تصویر میں وہ ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک ریڈ کراس ورکر بھی موجود ہے۔
Getty Imagesایرانی صدر نے کہا ہے کہ ’حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی ناقابل قبول ہے‘
انھوں نے کہا یہ تصویر ’ایک ڈاکٹر کی ہے جو لوگوں کو بہتر کر رہا ہے۔ میں لوگوں کو بہتر بناتا ہوں۔ میں لوگوں کو بہت بہتر بناتا ہوں۔‘
بعد ازاں انھوں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے یہ تصویر اس لیے ہٹائی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ ’کنفیوژ ہوں۔‘ ان کے مطابق لوگ 'کنفیوژ ہو رہے تھے۔‘
یاد رہے کہ یہ تصویر پوسٹ کرنے سے چند گھنٹے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک طویل تحریر شیئر کی تھی۔ پوپ لیو امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں فوجی کارروائی کے کھلے ناقد رہے ہیں۔
ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟ڈرامائی سنجیدگی سے بھرپور ٹرمپ کی نئی سرکاری تصویر جو ’ایک پیغام دے رہی ہے‘میلانیا ٹرمپ نے اچانک وائٹ ہاؤس میں ایپسٹین کو بھیجی گئی ای میل پر خاموشی توڑ دی
یہ متنازع تصویر پوسٹ کیے جانے کے بعد سے ٹرمپ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ تنقید کرنے والوں میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی شامل ہیں۔
اس معاملے پر ایرانی صدر نے دو ٹویٹس کیے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی ناقابل قبول ہے۔‘
اپنی ایک اور پوسٹ میں ایرانی صدر نے ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو کی ’تضحیک‘ کی مذمت بھی کی ہے۔
اس تصویر پر تنقید کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
کرسچین کارکن شان فیوٹ، جو اس سال امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے سلسلے میں مذہبی نوعیت کی تقریبات منعقد کر رہے ہیں، نے لکھا کہ اس تصویر کو فوراً ڈیلیٹ کیا جانا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی تناظر نہیں جس میں یہ قابل قبول ہو۔
قدامت پسند کارکن رائلی گینز نے لکھا کہ ’خدا کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔‘
زیادہ تر تنقید امریکہ کے مذہبی خبر رساں اداروں کی جانب سے بھی سامنے آئی۔
کرسچین براڈکاسٹنگ نیٹ ورک کے صحافی ڈیوڈ بروڈی نے لکھا کہ ’یہ حد سے تجاوز کرنا ہے اور اس سے ایک لکیر عبور ہوئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ’مشن کی حمایت کرنے کے ساتھ اس (تصویر کی) مخالفت بھی کر سکتے ہیں۔‘
ٹرمپ کی پوپ پر تنقید اور اٹلی کی وزیر اعظم کا ردعملEPAپوپ لیو کا کہنا ہے کہ وہ کوئی سیاستدان نہیں اور ان کا ٹرمپ سے بحث میں الجھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
یہ متنازع تصویر ایک اور پوسٹ کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد شیئر کی گئی تھی جس میں امریکی صدر نے مسیحیوں کے روحانی پیشوا پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’جرائم کے معاملے پر کمزور اور خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ‘ قرار دیا تھا۔
پہلے امریکی پوپ لیو ایران میں جنگ کی بارہا مذمت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے غیر معقول اور غیر انسانی تشدد جنم لے رہا ہے۔
پوپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ انھیں ٹرمپ انتظامیہ یا سچ بولنے سے کوئی خوف نہیں۔ ان کے مطابق وہ ’انجیل کے پیغام کو بلند آواز میں بیان کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اگرچہ اپنی تصویر کی تو وضاحت کی مگر پوپ کے معاملے پر ان کا رویہ معذرت خواہانہ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوپ لیو نے کچھ غلط باتیں کیں۔ ’وہ ایران کے معاملے پر میری پالیسی کے سخت خلاف ہیں۔ اور ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیا جا سکتا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو اس انجام سے خوش نہیں ہوں گے۔
ادھر اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ پوپ لیو چہاردہم کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات ناقابل قبول ہیں۔ اٹلی کی اپوزیشن جماعتوں نے میلونی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر اس بروقت موقف اختیار نہیں کیا۔
مگر اب میلونی کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں اور ان کا امن کا مطالبہ کرنا اور ہر قسم کی جنگ کی مذمت کرنا درست اور معمول کی بات ہے۔
جارجیا میلونی خود بھی کیتھولک مسیحی ہیں اور دائیں بازو کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں اور اب تک پوپ کے خلاف امریکی صدر کی سخت تنقید پر کھل کر جواب دینے سے گریز کرتی رہی تھیں۔
ٹرمپ اور اے آئی
یہ اے آئی سے بنائی گئی تصویر، پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
فروری میں ایک نسل پرستانہ ویڈیو اُن کے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی جس میں براک اور مشیل اوباما کو بندروں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ بعد میں وہ ویڈیو بھی ہٹا دی گئی۔
ابتدا میں وائٹ ہاؤس نے اس ویڈیو کا دفاع کرتے ہوئے اسے انٹرنیٹ میم قرار دیا اور ناقدین کو ’جعلی غصہ‘ ختم کرنے کا مشورہ دیا۔
تاہم کئی ریپبلکن سینیٹرز سمیت عوام کی شدید تنقید کے بعد اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ بعد میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ پوسٹ عملے کے ایک رکن کی جانب سے غلطی سے کی گئی تھی۔
ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟ڈرامائی سنجیدگی سے بھرپور ٹرمپ کی نئی سرکاری تصویر جو ’ایک پیغام دے رہی ہے‘ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے کرے گی اور ایران پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟