آسٹریلیا کی سب سے مالدار شخصیت جنھیں اب اپنی دولت کے بڑے حصے سے محروم ہونا پڑے گا

بی بی سی اردو  |  Apr 15, 2026

Getty Imagesسپریم کورٹ نے رائن ہارٹ کو ہدایت دی کہ وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی رائلٹیز فریقین کو ادا کرنے کی پابند ہیں

آسٹریلیا کی سب سے مالدار شخصیت گینا رائن ہارٹ کو اپنی دولت کے ایک حصے سے ہاتھ دھونا ہو گا اور وہ بھی ایک عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو ان کی معدنیات کی سلطنت سے جڑے ایک ہائی پروفائل تنازع سے متعلق ہے۔

ان کی دولت کا تخمینہ 27 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ 1992 میں انھیں اپنے والد سے لوہے کی کانیں وراثت میں ملی تھیں لیکن اس کے بعد انھوں نے مغربی آسٹریلیا میں معدنیات سے بھرے خطے پیلبارا میں نئی کانیں قائم کیں اور اپنی سلطنت کو وسعت دی۔

ان کے اپنے دو بچوں سمیت ان کے والد کے کاروباری شراکت داروں نے دعوی کیا کہ ان کو بھی وراثت میں رائلٹیز اور کان کنی کے حقوق ملنے چاہییں۔

یہ تنازع ایک قانونی جنگ کی شکل اختیار کر گیا جو تیرہ سال جاری رہی۔ بدھ کے دن ملک کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے رائن ہارٹ کو ہدایت دی کہ وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی رائلٹیز فریقین کو ادا کرنے کی پابند ہیں تاہم کان کنی کے حقوق پر ان کا اختیار تسلیم کر لیا گیا۔

اس قانونی جنگ کا مرکز ہوپ ڈاونز ہے جو آسٹریلیا میں لوہے کی کان کنی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

عدالت میں بتایا گیا کہ رائن ہارٹ کے والد لانگ ہینکوک اور ان کے کاروباری شراکت دار پیٹر رائٹ، جنھیں اس شعبے کا بانی سمجھا جاتا تھا، نے اپنے مشترکہ مفادات کو ایک معاہدے کی شکل دی تھی۔

2023 میں اکیاون دن تک چلنے والے مقدمے کے دوران پیٹر رائٹ کے بچوں نے کہا کہ رائن ہارٹ نے اس معاہدے کی خلاف وزری کی اور ان کو ہوپ ڈاونز سے حاصل شدہ رائلٹیز سمیت کان کنی کے حقوق بھی ملنے چاہییں۔

یہ سائٹ گلوبل مائننگ کمپنی ریو ٹنٹو اور ہینکوک پروسپیکٹنگ مل کر چلا رہے ہیں اور گزشتہ سال اندازوں کے مطابق رائن ہارٹ کی کمپنی نے آسٹریلوی آٹھ سو بتیس ملین ڈالر یہاں سے حاصل کیے۔

ریو ٹنٹو ہینکوک پراسپیکٹنگ کو 2.5 فیصد رائلٹی ادا کرتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس میں سے نصف رائٹ خاندان کو ملنا چاہیے۔

سمتھ نے کہا کہ رائٹ پراسپیکٹنگ نے نصف مقدمہ جیت لیا، نصف ہار دیا اور ہینکوک پراسپیکٹنگ نے بھی نصف مقدمہ جیتا اور ہارا۔

قانونی مقدمے میں رائن ہارٹ کے دو بچے، بیانکا رائن ہارٹ اور جان ہینکوک، بھی شامل تھے جن کا دعوی تھا کہ ان کی والدہ نے کان کنی کے حقوق خاندانی ٹرسٹ سے لے کر ایک ایسے کاروبار کو سونپ دیے ہیں جس کو وہ چھو تک نہیں سکتے۔

دونوں نے کہا کہ ان کے دادا کا مقصد تھا کہ وہ ہوپ ڈاونز سے حاصل دولت ان کو بھی دیں گے لیکن رائن ہارٹ نے جان بوجھ کر انھیں اس دولت سے محروم رکھا۔

رائن ہارٹ کے وکلا نے موقف اپنایا کہ انھوں نے اس وقت خاندانی ٹرسٹ سے کان کنی کے حقوق لیے جب انھیں اپنے والد کے کاروباری طریقوں پر شک ہوا لیکن ان کے بچوں کا الزام ہے کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا اپنے شوہر کی دوسری بیوی اور سابق ہاوس کیپر روز پورٹیوس کو پیسے نہ دینے پڑیں۔

رائن ہارٹ کے بچوں کا کان کنی کے حقوق پر دعوی مسترد کر دیا گیا لیکن سابق انجینیئر ڈون روڈز کے خاندان کی جانب سے ہوپ ڈاوئنز سے حاصل شدہ رائلٹیز کی درخواست تسلیم کر لی گئی۔

ہینکوک پروسپیکٹنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جے نیوبی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی ہوپ ڈاونز کی ملکیت کو تسلیم کر لیا گیا اور رائٹ خاندان اور رائن ہارٹ کے دو بچوں کا دعوی مسترد کر دیا گیا۔

رائٹ پروسپیکٹنگ کے ترجمان نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آخرکار ہمارے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی ہوئی۔

رائن ہارٹ آسٹریلیا میں کھیلوں، خیراتی اداروں اور قدامت پسند سیاسی جماعتوں کی مالی مدد کرنے والی سب سے بڑی نجی شخصیت بھی ہیں۔

دنیا کا سب سے امیر شخص اپنے بیٹے کو وائٹ ہاؤس کیوں لایا؟انڈیا کے سب سے امیر شخص کا بھائی کیسے دیوالیہ ہوا؟’22 امیر ترین خاندان‘: پاکستان کے ماضی کے امیر ترین خاندانوں کی دولت میں کمی کیسے ہوئی اور ارب پتیوں کی نئی فہرست میں کون شامل ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More