’حساس ریسرچ سے منسلک دس امریکی سائنسدانوں‘ کی اموات اور گمشدگی سے جڑے سازشی نظریات کی حقیقت کیا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 24, 2026

امریکہ میں حساس ریسرچ سے منسلک کم از کم دس افراد کی اموات اور گمشدگی کی افواہوں کے بعد اس معاملے نے اب وفاقی اداروں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔ لیکن ان افراد کے اہلخانہ کے لیے یہ افواہیں بہت ناخوشگوار ہیں۔

کارل گرلمیئر کی بیوہ کا ماننا ہے کہ ان کے شوہر اپنی ہلاکت سے جڑے سازشی نظریات پر ہنستے۔ لوئیز گرلمیئر کہتی ہیں کہ ’یہ مکمل بکواس ہے۔ میرا مطلب ہے کہ حقائق موجود ہیں۔‘

ان کے 67 سالہ شوہر کو فروری میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے للانو میں گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل کے الزام میں ایک 29 سالہ مقامی شخص، فریڈی سنائیڈر، پر چوری اور قتل کرنے کا مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔

تاہم اس گرفتاری کے باوجود گرلمیئر کا نام امریکہ میں حساس نوعیت کی سائنسی تحقیق سے جڑے دس افراد کی اموات اور گمشدگیوں کے بارے میں سازشی نظریات کا مرکزی کردار ہے۔ ان تمام افراد کو اکثر ’لاپتہ سائنسدان‘ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس فہرست میں ایک انتظامیہ اسسٹنٹ، ایئر فورس کے ایک جنرل، ایک انجینیئر بھی شامل ہیں جن کا تعلق مختلف شعبوں سے تھا۔

انٹرنیٹ پر اس حوالے سے بحث کرنے والوں میں سے چند کا ماننا ہے کہ یہ تمام کیس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکی ایف بی آئی اور ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی نے بھی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ناصرف وضاحت بھی موجود ہے بلکہ اہلخانہ نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ ان افواہوں کو ختم کیا جائے۔

گرلمیئرکی بیوہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ان کے شوہر کو بدلہ لینے کے ایک گمراہ کن منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان کے قتل سے کئی ماہ پہلے، ان کے مطابق، ایک مسلح شخص ان کے گھر کے قریب گھومتا دکھائی دیا جو خود کو شکاری کہتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر نے اس مشتبہ شخص سے کہا کہ وہ ایک قریبی پہاڑی کی جانب چلا جائے۔

گلرمیئر کہتی ہیں کہ وہ مشتبہ شخص دیگر گھروں کے قریب بھی مشکوک انداز میں دکھائی دیا جس کے بعد ’کسی نے ہنگامی سروسز کو فون بھی کیا۔‘ یہ فون ان کے شوہر نے نہیں کیا تھا لیکن گرلمیئر کا ماننا ہے کہ مشتبہ شخص نے ان کے شوہر پر الزام لگایا۔

ان کے شوہر کے قتل سے دو ہفتے قبل وہی شخص بیس بال کے بیٹ کے ساتھ واپس آیا لیکن بات زیادہ نہیں بڑھی اور وہ چلا گیا۔ گرلمیئر کہتی ہیں کہ 16 فروری کو اسی شخص نے مبینہ طور پر ان کے شوہر کو گولی ماری جو ایک مشہور ماہر فلکیات اور کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس اینڈ ڈیٹا سینٹر میں کام کرتے تھے۔

لوئی کا ماننا ہے کہ ’ہمارے خیال میں وہ بدلہ لینے آیا تھا کہ کارل نے اس کے خلاف شکایت کی تھی۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر ’دنیا کے شاید سب سے اچھے انسان تھے۔‘

ان کے شوہر سمیت دیگر افراد کے بارے میں پھیلی ہوئی افواہوں پر کئی لوگوں نے رائے دی ہے۔ سائنسی امور پر لکھنے والے محقق مک ویسٹ نے 16 اپریل کو کہا تھا کہ ’انتہائی خفیہ امریکی ایئروسپیس اور جوہری امور پر کام کرنے والوں کی تعداد سات لاکھ ہے۔ اگر امریکہ میں شرح اموات کے حساب سے دیکھا جائے تو 22 ماہ میں چار ہزار اموات ہوتی ہیں جن میں سے 70 قتل اور 180 خود کشیاں ہوتی ہیں۔ اس فہرست میں دس نام ہیں، یہ اموات اصلی ہیں اور ان کے اہلخانہ کا دکھ بھی اصلی ہے۔‘

Getty Imagesامریکہ میں حساس ریسرچ سے منسلک کم از کم دس افراد کی اموات اور گمشدگی کی افواہوں کے بعد اس معاملے نے اب وفاقی اداروں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہےماضی میں دیکھی گئی اڑن طشتریوں کا معمہ: خلائی مخلوق یا امریکہ کے خفیہ تجربات؟کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان دنیا کے سب سے خطرناک آدمی تھے؟ڈاکٹر رفیع محمد چودھری: پاکستانی ایٹمی پروگرام کے ’حقیقی خالق‘ جو نہرو کی پیشکش ٹھکرا کر پاکستان چلے آئےپی آئی اے طیارے کے اغوا سے چاغی میں ’اللہ اکبر‘ کے نعروں تک: جب چاغی پہاڑ کا سیاہ گرینائٹ سفید ہو گیا

لوئیز گرلمیئر بھی کہتی ہیں کہ ان کے شوہر بھی شاید سازشی نظریات کو دور کرنے کے لیے اعداد و شمار کا سہارا لیتے۔

ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل ولیئم نیل اس فہرست میں شامل سب سے بڑے رینک کے افسر ہیں۔ نیو میکسیکو میں گھر سے ان کی گمشدگی کے ایک ہفتہ بعد ان کی اہلیہ نے، 27 فروری کو، فیس بک پر لکھا کہ وہ غلط معلومات کو دور کرنا چاہتی ہیں۔

اس دن جب سوزن ایک طبی معائنے کے بعد گھر واپس آئی تھیں تو ان کے شوہر لاپتہ ہو چکے تھے۔ انھوں نے ہنگامی سروسز کو فون کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو کچھ اندازہ ضرور تھا کہ ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ وہ کسی کو نہ ملیں۔ انھوں نے اس فون کال کے دوران بتایا تھا کہ ان کے شوہر اپنا فون بند کر کے گھر چھوڑ گئے تھے لیکن اپنی بندوق ساتھ لے گئے تھے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ گزشتہ چند دنوں سے ان کے شوہر ’ذہنی پریشانی کا شکار تھے، ان کی یادداشت متاثر ہو رہی تھی اور نیند بھی کم آتی تھی۔‘ ان کے مطابق ان کے شوہر یہ کہتے رہے تھے کہ ان کا ’جسم اور دماغ کمزور پڑ رہا ہے اور وہ اس طرح نہیں جینا چاہتے۔‘

ایک ہفتے کے بعد انھوں نے فیس بک پر لکھا کہ ان کے شوہر کو دوران سروس انتہائی حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی ضرور حاصل تھی لیکن وہ 13 برس پہلے ریٹائر ہو چکے تھے۔ ’ایسا ممکن نہیں دکھائی دیتا کہ ان کو حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے اغوا کیا گیا ہو۔‘

سوزن نے لکھا کہ ان کے شوہر کو اڑن طشتریوں کے بارے میں بھی کوئی خصوصی علم حاصل نہیں تھا۔ ان کا اشارہ اوہائیو میں موجود اس فضائی اڈے کی جانب تھا جس کے بارے میں کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں خلائی مخلوق یا اڑن طشتریوں کے بارے میں کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔

ان کے شوہر کی گمشدگی سے آٹھ ماہ پہلے نیو میکسیکو میں ہی ٹاوس کے مقام پر لاس ایلموس لیبارٹری کے ایک انتظامی اسسٹنٹ بھی اچانک غائب ہو گئی تھیں۔ ملیسا کاسیاس کے اہلخانہ نے بھی فیس بک پر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ شاید وہ خود ہی ایسا کرنا چاہتی تھیں۔

تاہم افواہوں کو پھیلانے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

ایم آئی ٹی کے ماہر فزکس نونو لوریرو کو ایک سابق ہم جماعت نے قتل کر دیا تھا جسے براؤن یونیورسٹی میں مذید ایسی وارداتوں کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف چند ویڈیوز میں کیا ہے جو حکام کو بعد میں ملی ہیں۔

ایک محقق اپنے گھر سے اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب اسی ماہ ان کے دونوں والدین کی وفات ہوئی۔ ان کی والدہ کی وفات کے بعد ان کے والد بھی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے تھے۔

ان کی لاش بعد میں ایک جھیل سے ملی اور ان کی اہلیہ نے امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ اکیلی اولاد ہونے کی وجہ سے وہ والدین کے جانے کے بعد نہایت دل گرفتہ تھے۔

ایک اور سائنسدان بھی دل کے عارضے کی وجہ سے 59 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔

لوئیز گرلمیئر کا کہنا ہے کہ ان وضاحتوں کے باوجود سازشی نظریات پھیلانے والوں کو کوئی روک نہیں پا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سے ایسے افراد نے ان سے بھی رابطہ کیا۔

بی بی سی نے جن اہلخانہ سے رابطہ کیا انھوں نے ان افواہوں کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ان کا دکھ بڑھا ہے تاہم کئی نے ریکارڈ پر بات کرنے سے گریز کیا۔

لوئیز گرلمیئر چاہتی ہیں کہ لوگ ان کے شوہر کی سائنسی کاوشوں کے علاوہ ان کی نرمدل شخصیت کو بھی جانیں۔

’وہ سب کی مدد کرتا تھا۔ مثال کے طور پر دو بار اس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا لیکن وہ دوسرے پر مقدمہ کرنے پر یقین نہیں رکھتا تھا حالانکہ غلطی کسی اور کی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر پائلٹ بھی تھے اور چھوٹے جہاز اڑاتے تھے۔ ’اس کے علاوہ وہ گھر کے تمام کام خود ہی کر لیا کرتے تھے جہاں ان کی ایک اپنی چھوٹی سی لیبارٹری بھی تھی۔‘

پاکستان فضائیہ کے وہ پولش افسر جنھیں پولینڈ اپنا جاسوس نہ بنا سکاکیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان دنیا کے سب سے خطرناک آدمی تھے؟ڈاکٹر رفیع محمد چودھری: پاکستانی ایٹمی پروگرام کے ’حقیقی خالق‘ جو نہرو کی پیشکش ٹھکرا کر پاکستان چلے آئےانڈیا کے سادگی پسند ’میزائل مین‘ جن کی ذہانت کے مشرف بھی معترف تھےچین کے خلائی پروگرام کے لیے دو پاکستانیوں کا انتخاب: ’جنگ اور سفارتکاری کے درمیان پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More