Getty Imagesروزا کا کہنا ہے کہ اُن کے کمزور معاشی پس منظر نے انھیں ایپسٹین کا شکار بنایا
جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کی جانب سے بدسلوکی اور استحصال کا نشانہ بنائے جانے والی ایک خاتون نے بتایا ہے کہ کس طرح جیفری ایپسٹن نے انھیں ریپ کا نشانہ بنایا۔
ازبکستان سے تعلق رکھنے والی روزا نامی خاتون کو ایپسٹین کے قریبی ساتھی اور ماڈلنگ ایجنٹ جینلُوک برونیل نے اُس وقت بھرتی کیا تھا جب روزا ٹین ایج تھیں ۔
روزا نے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے منعقدہ ایک سماعت میں دیگر متاثرین خواتین کے ساتھ پہلی بار عوامی سطح پر اس بارے میں بات کی ہے۔
روزا نے بتایا کہ جولائی 2009 میں ماڈلنگ ایجنٹ برونیل نے اُن کا تعارف ایپسٹین سے کروایا، جس کے بعد ایپسٹین نے انھیں درپیش مالی مسائل میں مدد کے لیے کام کی پیشکش کی، اور پھر تین برس تک انھیں ریپ کا نشانہ بنایا۔
اس سماعت کا انعقاد ویسٹ پام بیچ (فلوریڈا) میں کیا گیا تھا کیونکہ ڈیموکریٹ قانون ساز رابرٹ گارشیا کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں ایپسٹین کے ’جرائم پہلی بار منظرِ عام پر آئے تھے۔‘
سماعت کے لیے منتخب کی گئی یہ جگہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے قریب بھی ہے۔
ریپبلکن ارکان کی اکثریت پر مبنی اس کمیٹی نے سماعت کے وران ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایپسٹین فائلز کے معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے پر توجہ دی ہے۔
اگرچہ اس سماعت کو کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے، لیکن اسے اس مقصد کے لیے منعقد کیا گیا تاکہ ایپسٹین کیس کو توجہ کا مرکز بنایا رکھا جا سکے۔
اس موقع پر قانون سازوں نے سُنا کہ کس طرح ایپسٹین اور اس کے ساتھی برسوں تک جواب دہی سے بچتے رہے، اور کس طرح متاثرین کو بار بار نظامِ انصاف سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
Reutersجیفری ایپسٹین
روزا نامی خاتون نے سماعت کے دوران بتایا کہ وہ سنہ 2008 میں ماڈلنگ ایجنٹ برونیل (جو وفات پا چکے ہیں) سے ملیں تو اُس وقت ان کی عمر 18 سال تھی اور برونیل نے اُن سے ’میرے خوابوں سے بھی بڑھ کر ایک شاندار ماڈلنگ کیریئر‘ کا وعدہ کیا۔
اپنی کہانی بتاتے ہوئے روزا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’مالی طور پر غیر مستحکم پس منظر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میں اُن کا ایک موزوں ہدف بن گئی۔‘
روزا کے مطابق وہ مئی 2009 میں نیویارک پہنچیں اور دو ماہ بعد جولائی میں وہ ویسٹ پام بیچ میں ایپسٹین کے گھر پر اُس وقت اُن سے ملیں جب ایک کیس میں ایپسٹین کو ہاؤس اریسٹ (گھر میں نظر بند) کا سامنا تھا۔
ایپسٹین نے ملاقات کے دوران روزا کو فلوریڈا سائنس فاؤنڈیشن میں کام کی پیشکش کی۔
روزا نے سماعت کے دوران بتایا کہ ’ایک دن اُس (ایپسٹین) کے مساج کرنے والی خاتون نے مجھے اُس کے کمرے میں بلایا، جہاں جیفری نے پہلی بار مجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ اور اس کے بعد کے تین سالوں تک میرے ساتھ مسلسل ریپ کیا جاتا رہا۔‘
یاد رہے کہ ایپسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی ایک جیل کی کوٹھڑی میں اُس وقت موت کے منہ میں چلے گئے جب انھیں جنسی استحصال اور سمگلنگ کے الزامات کے مقدمے کا سامنا تھا۔
’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگونابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیں
منگل کو ڈیموکریٹک نگرانی کمیٹی کے ارکان کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2008 میں ایپسٹین کے وکیل کے ذریعے طے پانے والے متنازع پلی بارگین( ڈیل) نے انھیں ’تقریباً ایک دہائی تک جنسی استحصال اور سمگلنگ کی سرگرمیاں جاری رکھنے‘ کے قابل بنائے رکھا۔
روزا کے مطابق گھر میں نظربندی کے دوران ایپسٹین کی جانب سے کی گئی جنسی بدسلوکی نے انھیں ’انصاف کا حصول ناممکن ہوتا محسوس کرایا‘ لیکن انھوں نے ’بالآخر مدد کے لیے رجوع کرنے کی ہمت کی۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ ’محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ایپسٹین فائلز میں اُن کا نام غلطی سے شائع ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ صدمہ پہنچا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’امیر اور طاقتور طبقے کے افراد کو حذف شدہ معلومات کے ذریعے محفوظ رکھا گیا۔‘
’اب دنیا بھر سے رپورٹرز مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور میں ہر وقت ایک خوف کا شکار رہتی ہوں۔ میں صرف یہ تصور ہی کر سکتی ہوں کہ اس ’غلطی‘ کا میری زندگی پر آگے جا کر کیا اثر کیا ہو گا۔‘
محکمۂ انصاف اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ وہ ’متاثرین کے تحفظ کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے‘ اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے متاثرین کی جانب سے ان کی شناخت ظاہر ہونے کا شکایات پر اپنی ویب سائٹ سے ایپسٹین سے متعلق متعدد فائلیں ہٹا دی تھیں۔
محکمۂ انصاف کا دعویٰ ہے کہ یہ غلطیاں ’تکنیکی یا انسانی غلطی‘ کی وجہ سے ہوئیں۔
ایپسٹین کی ایک اور متاثرہ ماریا فارمر نے بھی قانون سازوں کے سامنے اپنے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں گواہی دی۔
ان کے مطابق پہلی بار انھوں نے 1996 میں بدسلوکی کو رپورٹ کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بار بار کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔
ماریا نے زور دیا کہ ’حکومت کو سچ بولنا شروع کرنا ہوگا۔‘
’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگونئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟نابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیں’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیںنو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی گیلین میکسویل کون ہیں؟