’میرا بیٹا میڈیکل کی تعلیم کے لیے پاکستان گیا تھا‘: مظفرآباد میں قتل ہونے والے حمزہ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  May 22, 2026

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی پولیس کے مطابق گوجرہ کے علاقے میں واقع ایک نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان جمعرات کی دوپہر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مظفر آباد پولیس کے ڈی ایس پی اشتیاق گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے ایمز کالج کے پرنسپل حمزہ برہان سی ایم ایچ میں زیر علاج تھے مگر دوران علاج وہ وفات پا گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق حمزہ برہان کو گذشتہ روز ایمز کالج کے سامنے گولیاں مار کر شدید زخمی کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عبداللہ کمال نامی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مظفرآباد کے تھانہ صدر کی پولیس کے مطابق حمزہ برہان شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے اور ان کے پسماندگان میں بیوہ اور چھ ماہ کی ایک بچی شامل ہیں۔

جمعرات کے روز حمزہ برہان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع کے بعد جب بی بی سی نے پولیس سے رابطہ کیا تو ڈی ایس پی سٹی اشتیاق گیلانی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حمزہ برہان مظفرآباد کے رہائشی ہیں اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے آئے تھے۔

اشتیاق گیلانی کے مطابق حملے کے فوراً بعد حمزہ برہان کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیرعلاج رہے اور اُن کی صورتحال نازک تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

اشتیاق گیلانی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ مبینہ حملہ آور واہ کینٹ سے اتوار کے روز سے مظفرآباد آیا تھا اور اُس نے ایک مقامی ہوٹل میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔

پولیس کے مطابق ’حمزہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کالج سے باہر آئے تھے اور بات چیت کے بعد جب وہ واپس کالج کے اندر جا رہے تھے تو اُن کی پیٹھ پر پہلا فائر کیا گیا، جس کے بعد مزید فائرنگ کی گئی جس میں ایک گولی اُن کے سر میں لگی تھی۔‘

یاد رہے کہ حمزہ برہان احمد ایمز کالج مظفر آباد میں بطور پرنسپل فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مقامی طلبا نے اس واقعے کے بعد احتجاج بھی کیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیش آئے اس واقعے کو انڈین ذرائع ابلاغ میں کافی جگہ ملی جہاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حمزہ برہان دراصل ارجمند گلزار ڈار ہیں، جنھیں چند برس قبل انڈین حکومت کی جانب سے ’دہشت گرد‘ قرار دیا گیا تھا۔

بی بی سی اُردو کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو سینیئر افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور وہ چند برس قبل پاکستان آئے تھے۔

دوسری جانب انڈین وزارت داخلہ کی آفیشل ویب سائیٹ کے مطابق ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو ’غیرقانونی سرگرمیوں (کی روک تھام) ایکٹ 1967‘ کے تحت 19 اپریل 2022 کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے اُن کا نام فورتھ شیڈول میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔

انڈیا کی جانب سے 'دہشت گرد' قرار دیے گئے ارجمند گلزار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کے پلوامہ میں موجود والد گلزار ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کا بیٹا ’2018 میں میڈیکل کی تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان گیا، اس کے بعد سے اہلخانہ کا اس کے ساتھ رابطہ نہیں تھا۔‘

گلزار ڈار نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ پاکستان ڈاکٹری (ایم بی بی ایس) پڑھنے گیا تھا اور بعد میں اس سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں رہا۔‘

حملہ کب اور کیسے ہوا؟

مظفرآباد کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس ریاض مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ حمزہ برہان پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے تاہم انھوں نے اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

تھانہ صدر کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر اطلاع موصول ہوئی کہ گوجرہ بائی پاس پر واقع ایک نجی کالج کے پرنسپل کو گولیاں ماری گئی ہیں۔

ایمز کالج، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر پرنسپل حمزہ برہان نے انھیں کہا تھا کہ ’میرے کچھ مہمان آ رہے ہیں‘ جس کے بعد وہ خود انھیں ریسیو کرنے کے لیے کالج کے مرکزی گیٹ پر گئے۔

سکیورٹی گارڈ کے مطابق وہ اُس وقت اندر ہی موجود تھے جب اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور جب انھوں نے باہر آ کر دیکھا تو پرنسپل زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔

مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حمزہ برہان پر حملہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔‘

عینی شاہدین کے مطابق حمزہ برہان پر حملے کے فوراً بعد اچانک ٹریفک رُک گئی تھی اور جائے وقوعہ پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ جمعرات کی شام کالج نے چند طلبا نے سڑک پر اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

ایمز کالج گوجرہ بائی پاس روڈ پر واقع ہے۔ یہ سڑک اسلام آباد کی جانب جاتی ہے۔ کالج سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سیکرٹریٹ واقع ہے، جبکہ دوسری جانب واپڈا کالونی چوک ہے۔

یہ علاقہ شہر کا گنجان آباد حصہ ہے جہاں ہر وقت ٹریفک کا رش رہتا ہے، جبکہ اسی علاقے میں متعدد سکول بھی قائم ہیں۔ ایمز کالج گذشتہ دس برس سے قائم ہے اور انتظامیہ کے مطابق اس میں 100 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

حمزہ برہان کون ہیں؟

اس حملے کے فوری بعد تنازع اس وقت شروع ہوا جب انڈین میڈیا نے دعوے کیے کہ حمزہ برہان پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔

دوسری جانب مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی کہتے ہیں کہ ’یہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ یہ معاملہ سب سے زیادہ انڈین میڈیا نے ہائی لائٹ کیا ہے۔ انھوں نے، میرے خیال میں، یہ واقعہ پیش آنے کے پانچ، دس منٹ بعد ہی بریکنگ چلانا شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے پروپیگنڈا کیا کہ وہ پلوامہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔‘

منیر قریشی کے مطابق 'اب ہماری پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اِس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حمزہ برہان کون تھے۔‘

تاہم بی بی سی کو مظفرآباد میں دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ حمزہ برہان کا آبائی تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا۔

مظفر آباد میں پولیس افسر ایس پی ریاض مغل سے جب پوچھا گیا کہ کیا حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ کشمیری ہی تھے ۔‘

دوسری جانب ایک اور اعلیٰ حکومتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ’کشمیر جتنا بھی ہے ہمارا ہے، 84 ہزار مربع میل۔ اس میں رہنے والے لوگ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، مظفرآباد سرینگر، کپواڑہ۔ نقل مکانی 1947 سے لے کر اب تک ہوتی رہی ہے، وہاں سے لوگ آتے ہیں، تو اس (حمزہ برہان) کا آبائی علاقہ بھِی اُدھر (انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر) سے ہی ہے۔‘

جب مظفرآباد کے ایس پی ریاض مغل سے حمزہ برہان کے عسکریت پسند تنظیم سے مبینہ روابط کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں پتا، تحقیقات چل رہی ہیں۔‘

پاکستان میں سابق ’جہادی کمانڈروں‘ کی پراسرار ہلاکتوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ ’اب پاکستان کا مستقبل ہندوستان طے کرے گا‘: دھورندھر 2 کا ٹریلر اور سنجے دت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تنقیدبہاولنگر کا ’ابو جندل‘: کشمیر ’جہاد‘ سے کرائے کا قاتل بننے کا سفرانڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را کی فنڈنگ‘: راولپنڈی میں کشمیری کمانڈر کو قتل کرنے والے شاہزیب تک پولیس کیسے پہنچی؟

حمزہ مظفر کب پاکستان آئے اس حوالے سے معلومات موجود نہیں ہیں۔

تاہم انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مقیم ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کے بھائی عارف گلزار ڈار نے بی بی سی اُردو کے ریاض مسرور کو بتایا کہ ’مجھے بھی پولیس کے ایس ایس پی کا فون آیا ہے، ہمیں ابھی تک نہیں پتا کہ کیا ہوا ہے، میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

جمعرات کو ارجمند گلزار عرف حمزہ برہان پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہوئے حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد سے ضلع پلوامہ میں اُن کے گاؤں رتنی پورہ میں پولیس اور فورسز نے اپنا گشت بڑھا دیا تھا۔

حمزہ برہان کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد صرف اُن کے قریبی رشتہ دار ہی اُن کے گھر پہنچ پائے ہیں۔

تاہم اس بات کی تصدیق موجود ہے انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے اپریل 2022 میں ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔

انڈین حکومت نے ارجمند گلزار ڈار کو ’دہشت گرد‘ کیوں قرار دیا؟

انڈیا کی وزارتِ داخلہ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر کو 'غیرقانونی سرگرمیوں (کی روک تھام) ایکٹ 1967' کے تحت 19 اپریل 2022 کو '’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے اُن کا نام فورتھ شیڈول میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔

انڈین وزارت داخلہ کے مطابق مذکورہ ایکٹ مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ کوئی فرد ’دہشت گردی‘ میں ملوث ہے تو اس کا نام اس ایکٹ کے چوتھے شیڈول میں شامل کرے۔

وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

اس کے مطابق ’ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر، عمر 23 سال (موجودہ عمر 27 سال) سنہ 1999 میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا تعلق خربت پورہ (پلوامہ) سے تھا جبکہ وہ دہشت گرد تنظیم ’البدر‘ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔‘

انڈین وزارت داخلہ کے مطابق سرکاری دستاویزات میں اُن کے والد کا نام گلزار احمد ڈار بتایا گیا ہے جبکہ تنظیم ’البدر‘ ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ کے طور پر درج ہے۔

انڈین وزارت داخلہ کا الزام ہے کہ ’ارجمند گلزار ڈار ویلیڈ (درست) دستاویزات پر پاکستان گئے جہاں انھوں نے دہشت گرد تنظیم البدر میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد سے وہ اس تنظیم کے ایک سرگرم رُکن اور کمانڈر رہے ہیں اور اِس وقت پاکستان سے ہی آپریٹ کر رہے ہیں۔‘

انڈین وزارت داخلہ کا مزید الزام ہے کہ ’ارجمند گلزار ڈار پاکستان جانے کے بعد سے نوجوانوں کو اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے اُکساتے رہے ہیں اور البدر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔‘

وزارت داخلہ نے مزید الزام عائد کیا کہ ’ارجمند گلزار ڈار پلوامہ میں بارودی مواد کی برآمدگی، 18 نومبر 2020 کو پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں پر گرینیڈ حملے اور دہشت گرد تنظیم البدر میں شامل ہونے کے لیے نوجوانوں کو ترغیب دینے میں ملوث رہا ہے۔‘

وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہےکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ’مرکزی حکومت اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر دہشت گردی میں ملوث ہے، لہٰذا انھیں مذکورہ ایکٹ کے تحت دہشت گرد کے طور پر نوٹیفائی کیا جاتا ہے۔‘

Getty Imagesالبدر مجاہدین کون ہیں؟

سابق سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد جماعت اسلامی پاکستان جن جہادی نوجوانوں کو مدد فراہم کر رہی تھی اور جو اس کے ساتھ منسلک تھے ان کو البدر مجاہدین کا نام دیا گیا تھا۔

یہ پاکستان بھر سے نوجوانوں کو افغانستان کے جہاد میں شرکت کے لیے بھرتی کیا کرتے تھے اور پشاور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں ان کے مراکز موجود تھے۔

ملکی سطح پر البدر مجاہدین کا نام پہلی مرتبہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں جہادی گروپوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہونے پر سنا گیا۔

اس موقع پر البدر مجاہدین نے اپنا وزن افغانستان کے جنگی کمانڈر اور سابق وزیراعظم انجینیئر گلبدین حکمت یار کے پلڑے میں ڈالا تھا جن کی تنظیم حزب اسلامی افغانستان میں ان پاکستانی نوجوانوں کے کیمپس یا مورچوں کا انتظام کرتی تھی۔

افغان جنگ کے بعد نوے کی دہائی میں ہی البدر مجاہدین نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی زمانے میں البدر مجاہدین نے کشمیر میں جہاد کے نام پر پاکستان سے نوجوانوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا جن میں سے کئی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی بعد میں ادا کی گئی۔

نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں جماعت اسلامی پاکستان اور البدر مجاہدین کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔

اس میں اس وقت ایک بڑا موڑ آیا جب اس تنظیم کے کچھ نوجوانوں نے ایک تقریب میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی آمد پر احتجاجی نعرے لگائے تھے۔

اس کے بعد جماعت اسلامی پاکستان نے البدر مجاہدین کے ساتھ اپنا تعلق ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر کے حزب المجاہدین پاکستان کے نام سے نئی تنظیم قائم کی تھی۔

پونچھ کے مدرسہ معلم محمد اقبال جنھیں ہلاکت کے بعد انڈین میڈیا نے ’پاکستانی دہشت گرد‘ بنا دیا'کاش میں بتا سکتا کہ وہ کس طرح انسانی بم بنا'پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر: ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان حالات کیسے بہتر ہوئے؟پلوامہ حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان میں جوہری جنگ کا خطرہ تھا جو امریکی مداخلت کے باعث ٹلا: مائیک پومپیو’آپریشن سندور‘ کا باعث بننے والا پہلگام واقعہ، ایک سال بعد سیاحتی مقام پر ’زندگی پہلے جیسی نہیں رہی‘’انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان قابلِ اعتماد پارٹنر ہے، آرمی چیف عاصم منیر نے کال کر کے بتایا کہ ہم نے جعفر کو گرفتار کر لیا‘: امریکی سینٹ کام چیف
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More