وژن 2030: ’دیوانے کا خواب‘ قرار دیے گئے اربوں ڈالر کے ناقابل یقین منصوبے اپنے اختتام تک کیسے پہنچے؟

بی بی سی اردو  |  May 25, 2026

BBC

لگ بھگ ایک دہائی قبل سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، جنھیں ایم بی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے اپنے ملک کی ایک نئی تصوراتی تشکیل کا اعلان کیا جو کسی سائنس فکشن سے کم نہیں تھی۔ اس میگا منصوبے کو ’وژن 2030‘ کا نام دیا گیا تھا۔

دراصل یہ ایسے منصوبوں کا سلسلہ تھا جو نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا کے لیے بھی تکنیکی طور پر انتہائی حیرت انگیز ہونے والے تھے۔

ان تصورات کو شاندار تشہیری مواد میں ڈھالا گیا اور ان منصوبوں سے متعلق خیالی مناظر پیش کیے گئے، جنھوں نے دنیا بھر میں میڈیا میں وسیع کوریج حاصل کی، اور اس میں حیرت اور تمسخر دونوں عناصر شامل تھے۔

یہ سب منصوبے سعودی عرب کے تقریباً ایک کھرب ڈالر کے خودمختارپبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے ذریعے بنائے جانے تھے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی دولت، جو بڑی حد تک تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدن پر منحصر تھی، کو ایک ایسے مستقبل (وژن 2030) کی بنیاد رکھنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا جو تیل سے آزاد ہو۔

اب 2030 آنے میں صرف چار سال باقی رہ جانے کے باوجود متوقع طور پر یہ منصوبے پسپائی کی تصویر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ مالی تقاضے ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ سے پہلے تیل کی قیمتوں میں ہونے والی بڑی کمی کا مطلب یہ تھا کہ سعودی عرب کی غیر معمولی دولت بھی متاثر ہوئی۔

جنگ کے باعث اب اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے لیکن اس تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال سعودی آمدنی اور اخراجات پر بدستور روک لگاتی رہے گی۔ اور ان نہایت مہنگے تصوراتی منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کبھی اس حد تک حقیقت نہیں بن سکی جس پر سعودی حکام نے انحصار کیا ہو۔

تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ یہ ترجیحات کی ازسرِنو تشکیل ہے یا پسپائی؟

تصوارات سے حقیقت تک

وژن 2030 میں شامل سب سے زیادہ نمایاں منصوبوں میں سے بعض کو اب یا تو محدود کیا جا رہا ہے، یا اُن پر کام روک دیا گیا ہے یا پھر انھیں بنانے کا خیال ہی ترک کر دیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں سے کئی منصوبے ایسے تھے جنھیں 500 ارب ڈالر کے ’نیوم میگا سٹی‘ منصوبے کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا تھا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’دا لائن‘ نامی منصوبہ جس کا مقصد سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع غیر استعمال شدہ صحرائی زمین پر 100 میل (یعنی 161 کلومیٹر) سے زائد طویل پٹی پر پھیلتے ہوئے شہر کے تصور کو نئی تعریف دینا تھا، اب کہیں زیادہ سادہ شکل میں تبدیل کیا جا رہا ہے، یعنی اس میں ترمیم کر دی گئی ہے۔

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع پہاڑوں میں موسمِ سرما کے لیے ڈیزائن کیے گئے تفریحی پراجیکٹ ’ٹروجینا‘ کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے اس علاقے میں سردیوں میں برف پڑتی ہے، جو سعودی عرب کی بطور مکمل صحرائی خطہ تصور کو غلط ثابت کرتی ہے، لیکن یہ برف زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی۔

سال بھر کھلے رہنے والے اس پہاڑی تفریحی مرکز کے منصوبے نے ایک ایسا مصنوعی تصور تخلیق کیا تھا جسے اب قابلِ عمل نہیں سمجھا جا رہا۔ یہاں میلوں طویل سِکی ڈھلوانیں اور ایک مکمل سکی ولیج تعمیر کیا جانا تھا، جس میں ایک مصنوعی جھیل، لگژری ہوٹلز اور دکانیں شامل ہونی تھیں۔ یعنی عرب کے پہاڑوں میں ایک چھوٹا سینٹ مورٹز جیسا علاقہ۔

اور اس منصوبے کو 2029 میں ہونے والی ایشیئن ونٹر گیمز کی میزبانی کے لیے بروقت تیار کیا جانا تھا، لیکن اب یہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور ونٹر گیمز اب قازقستان میں منعقد ہوں گی۔

’دا کیوب‘ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے تحت فلیٹس اور دفاتر بننے تھے اور جو ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ جیسی 20 عمارتوں کو اپنے اندر سمو سکتا تھا۔ مگر اب اس منصوبے کو مکمل طور پر ترک کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 50 ارب ڈالر لاگت آنی تھی۔

حالیہ ہفتوں میں ’لیو گالف ٹور‘ پر بھی دوبارہ نظرِ ثانی کی گئی ہے اور اسے ایک نہایت مہنگی اور ناکام کوشش قرار دیا جا رہا ہے جس پر اب تک تقریباً پانچ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم اس منصوبے سے سعودی عرب کو نہ تو مالی اور نہ ہی عالمی کمیونٹی میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔

سعودی عرب پر دہائیوں سے نظر رکھنے والے کچھ مبصرین، جن میں ’سعودی انکارپوریٹڈ‘ نامی کتاب کے مصنف ایلن آر والڈ بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ سب ماضی میں بھی دیکھا ہے۔

'یہ وہی پُرانی پلے بُک ہے، اسی طرح کا معاملہ دوبارہ دا لائن منصوبے کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ یعنی 'ہم یہ بہت بڑا منصوبہ بنانے جا رہے ہیں۔ اوہ، اب ہم اسے بڑی حد تک محددو کرنے جا رہے ہیں۔‘ اور یہ عمل بار بار دہرایا جاتا رہا ہے، اور یہ انداز محمد بن سلمان سے پہلے (کے بادشاہوں میں) بھی موجود تھا۔ وہ بڑے بڑے اعلانات کرتے ہیں، بہت نمایاں انداز میں اور پھر یا تو وہ منصوبہ بنتا ہی نہیں یا پھر اسے بہت محدود پیمانے پر یا ایسے انداز میں مکمل کیا جاتا ہے جو اصل تصور سے بہت مختلف ہوتا ہے۔‘

نیوم: سعودی شہزادے کا 90 لاکھ شہری بسانے کا جدید منصوبہ ’دیوانے کا خواب‘ کیوں؟سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟لنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟سعودی عرب میں مالدار غیر ملکیوں کو شراب کی فروخت کی اجازت: ’جانی واکر کی ایک بوتل 124 ڈالر کی مل رہی ہے‘

ایلن آر والڈ کو 2000 کی دہائی میں سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کے دور میں تعمیر کیے جانے والے نئے شہر بھی یاد ہیں۔

’اکنامک سٹیز‘ نامی پروگرام کا مقصد بھی سعودی معیشت کو تیل سے ہٹا کر متنوع بنانا تھا، جو دہائیوں سے مملکت کے لیے ایک مستقل ہدف رہا ہے۔ ایک ایسے قدرتی وسیلے یعنی تیل پر مکمل انحصار، جو ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہے گا، کو طویل عرصے سے سعودی عرب کی مضبوط معیشت کی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود ’اکنامک سٹیز‘ پروگرام کے نتائج بڑی حد تک مایوس کُن رہے تھے۔ مجوزہ شہروں میں سے کئی کبھی عملی طور پر شروع ہی نہ ہو سکے، جبکہ دیگر کو زیادہ محدود منصوبوں کی صورت میں ڈھال دیا گیا۔

سب سے بڑا منصوبہ، جدہ کے شمال میں بحیرۂ احمر کے ساحل پر 100 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا ’کنگ عبداللہ اکنامک سٹی‘ ضرور مکمل ہوا، لیکن اسے ایک کاروباری اور سیاحتی مرکز بنانے کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔

امید یہ تھی کہ بڑے پیمانے پر نئی غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جائے اور ملازمتیں پیدا کی جائیں، حقیقی ملازمتیں، جو سرکاری شعبے کی جمود زدہ ساخت سے ہٹ کر ہوں، تاکہ سعودی عرب کی بڑی اور مسلسل بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

تاہم سعودی عرب میں روزگاری کی شرح اب بھی تقریباً 12 فیصد تھی۔

والڈ کا کہنا ہے کہ سعودی حکام ان منصوبوں کی عملی شکل کا حقیقت پسندانہ اندازہ لگانے میں بنیادی طور پر ناکام ہوئے ہیں۔

’انھوں نے ان منصوبوں کی مارکیٹ میں گنجائش دیکھی تھی؟ کس نے انھیں بتایا تھا کہ یہ سب ممکن ہے؟ یہاں ایک بڑی ’ہاں میں ہاں ملانے‘ کی ذہنیت موجود ہے۔ لوگ بادشاہ کو وہی بتاتے ہیں جو وہ سُننا چاہتے ہیں۔ اور یہی بات مشیروں پر بھی لاگو ہوتی ہے کیونکہ وہ بڑے ٹھیکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ وہی کہتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کے سعودی کلائنٹ سُننا چاہتے ہیں، اور پھر یہ منصوبے توقعات پر پورے نہیں اترتے۔‘

یہ طرزِ عمل دہائیوں پر محیط ہے، جہاں غیر ملکی کمپنیاں اکثر ان منافع بخش معاہدوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرتی رہی ہیں جو انھوں نے حاصل کیے ہوتے ہیں، اس لیے وہ سخت سوالات اٹھانے سے پرہیز کرتی ہیں۔

تبدیلی کی خواہش

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جب سنہ 2017 میں محمد بن سلمان سعودی عرب کے عملی حکمران بنے تو انھیں وراثت میں ایک ایسا نظام ملا جسے فوری طور پر بنیادی اصلاحات کی ضرورت تھی۔

برسوں سے سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والی معاشی تجزیہ کار غانم نصیبیہ کہتی ہیں کہ محمد بن سلمان کو ’ایک ایسا سماجی و معاشی نظام وراثت میں ملا جو جدید دنیا سے بہت حد تک کٹا ہوا تھا‘ اور جو ’مکمل جمود کی طرف بڑھ رہا تھا۔‘

وژن 2030 کو سعودی عرب میں تین طریقوں سے تبدیلی لانے کے لیے تیار کیا گیا تھا: معاشی، سیاسی، بلکہ سماجی طور پر۔ ’ان کے لیے سب سے زیادہ مشکل بات یہ تھی کہ انھیں ان سب کو بیک وقت نافذ کرنا تھا۔‘

Getty Imagesوژن 2030 کے تحت اعلان کردہ زیادہ تر منصوبے انٹرنیٹ تک ہی محدود رہے ہیں

ملک کی طاقتور اور انتہائی قدامت پسند اسلامی قیادت کی جانب سے عائد کردہ سماجی کنٹرول کو محمد بن سلمان اور ان کے مشیروں نے سعودی عرب کی مکمل معاشی صلاحیت حاصل کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا۔

محمد بن سلمان کی قیادت میں آنے والی سیاسی تبدیلی کو پہلی بار اقتدار کی باگ ڈور ایک زیادہ متحرک اور نوجوان نسل کے حوالے کیے جانے کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ سیاسی مکالمے کے لیے کوئی نئی گنجائش فراہم کی گئی ہو۔

نصیبیہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ خود محمد بن سلمان بھی ان مسائل میں سے بعض کے ذمہ دار رہے ہیں، جنھوں نے تبدیلی کے دائرہ کار اور رفتار کو محدود کیا ہے۔

سنہ 2017 میں جب وہ عملی طور پر حکمران بنے تو انھوں نے ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کی بڑے پیمانے پر حراست کا حکم دیا، جسے سعودی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف کارروائی قرار دیا، تاہم بعض لوگوں نے اسے دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

اور سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل نے ولی عہد کی ساکھ پر ایک داغ لگا دیا، جو اگرچہ اب وقت کے ساتھ مدھم پڑ چکا ہو، مگر یہ مٹنے والا نہیں ہے۔

سعودی عرب میں اختلافِ رائے سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا براہِ راست تجربہ رکھنے والوں میں ایک نام عبداللہ العودة کا بھی ہے، جو امریکہ میں مقیم ایک ماہرِ تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔

ان کے والد سلمان العودة، جو سعودی عرب کے ایک معروف اسلامی عالم ہیں، 2017 سے ’بدامنی کو ہوا دینے‘ سمیت دیگر الزامات کے تحت سعودی عرب میں قید ہیں۔

عبداللہ کا ماننا ہے کہ رٹز کارلٹن ہوٹل میں ملک کی سرکردہ اور کاروباری شخصیات کو حراست میں رکھے جانے جیسے اقدامات وژن 2030 کی فنڈنگ کے مقصد کے لیے منفی ثابت ہوئے، اس قید میں رکھے گئے افراد سے اندازاً 100 ارب ڈالر وصول کیے گئے تھے۔

AFP via Getty Imagesمحمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں

عبداللہ کہتے ہیں کہ ’طویل مدت میں اس اقدام نے درحقیقت سرمایہ کاروں کو ڈرا دیا۔ اور اس جبر کا اثر اس بات پر بھی پڑتا ہے کہ سرمایہ کار سعودی عرب کو ایک حکومت اور ایک ملک کے طور پر کیسے دیکھتے ہیں، ایسا ملک جس میں وہ چیز نہیں جو سرمایہ کار چاہتے ہیں، یعنی پیش گوئی کی صلاحیت۔ جب غیریقینی ہو تو آپ ایک دن سرمایہ کار ہو سکتے ہیں اور اگلے دن زیرِ حراست افراد میں شامل۔۔۔ اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘

وژن 2030 نے گفتگو کا رخ بدلنے میں مدد دی تھی، جیسا کہ 2016 سے سعودی عرب میں شروع ہونے والی بڑے پیمانے پر کھیلوں اور تفریحی تقریبات کے آغاز نے کیا تھا، جس نے نہ صرف ملک کی داخلی حقیقت بلکہ اس کی بیرونی شبیہ کو بھی بڑے پیمانے پر تبدیل کیا۔

یہ صرف سطحی تبدیلی نہیں تھی، سرخیوں میں رہنے والے اقدامات، جیسے بالآخر خواتین کو گاڑی چلانے کا حق دینا، نے واقعی سعودی معاشرے میں تبدیلی پیدا کی۔ یہاں تک کہ امریکہ میں مقیم ایک نمایاں سعودی فیشن انفلوئنسر نے مجھے بتایا کہ ان کے سعودی دوست ہر دورے پر ان کے رویے کو زمانے سے پیچھے قرار دیتے ہوئے ان سے مذاق کرتے تھے۔

تاہم انسانی حقوق کے مسائل نے اب بھی ان تبدیلیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ جیسے جیسے محمد بن سلمان اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ایک کے بعد ایک نئے شعبوں میں داخل ہوئے، سپورٹس واشنگ، آرٹ واشنگ، گرین واشنگ اور اسی نوعیت کے الزامات میں اضافہ ہوتا گیا۔

کھیل اور تفریح کی دنیا کی کئی نمایاں شخصیات نے خوشی سے سعودی عرب کا رخ کیا، تاہم دیگر نے اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں آنے سے انکار کیا۔ ہزاروں شائقین موٹر ریسنگ اور باکسنگ جیسے ایونٹس کے لیے ریاض کا رخ کرتے رہے، لیکن کچھ ممکنہ سیاح مملکت کے بارے میں منفی تاثرات کے باعث یہاں آنے سے ہچکچاتے رہے۔

تاہم اس سے یہ حقیقت ختم نہیں ہوتی کہ کئی نوجوان سعودی افراد کے لیے محمد بن سلمان کے عزائم متاثر کن اور مقبول رہے ہیں۔

وژن 2030 کو بچانے کی کوشش

عظیم الشان منصوبوں میں سے بعض پر اخراجات میں بڑی کمی، جو بیرونی دنیا کو کم از کم جزوی ناکامی کے اعتراف جیسی دکھائی دیتی ہے، کو سعودی حکام کی جانب سے حتیٰ الامکان مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

عبداللہ کہتے ہیں ’اب سوچ یہ ہے کہ بنیادی طور پر ان میگا منصوبوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کی جائیں۔‘

’مثال کے طور پر بحیرۂ احمر میں سندالہ جزیرے پر واقع تفریحی مرکز ایک ایسی چھوٹی کامیابی ہو سکتی ہے جسے وہ پیش کر سکتے ہیں، جو بنیادی طور پر ایک نہایت روایتی طرز کا ریزورٹ ہے، جسے وژن کا حصہ بنا کر دکھایا جا سکتا ہے، بجائے دا لائن اور دا کیوب جیسے منصوبوں کے۔ اور اس طرح وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’یہ نیوم کی بنیاد کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہمیں پورے منصوبے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

یہ مؤقف ان باتوں سے مطابقت رکھتا ہے جو حکام کی جانب سے اب اپنایا جا رہا ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر یاسر الرماین نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایک نئے پانچ سالہ منصوبے کے تحت فنڈ اپنی ’حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے اخراجات اور ادائیگیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دے گا، ساتھ ہی اپنے کاروباروں کی کارکردگی کا پائیدار جائزہ لے گا تاکہ توازن حاصل کیا جا سکے اور اپنے مالی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

کچھ تجزیہ کاروں کے لیے سعودی حکام کی ان منصوبوں پر ازسرِنو توجہ وژن 2030 کو بچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

نمایاں سعودی کاروباری شخصیت اور مینجمنٹ کنسلٹنٹ تھامر شیکر اس صورتِحال کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ دراصل ایک قدرتی ارتقا ہے، جہاں توجہ محض عزائم پر مبنی مرحلے سے عمل درآمد پر مبنی مرحلے کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ ہر بڑی قومی تبدیلی ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے جہاں ترجیحات کا تعین، مرحلہ وار عمل درآمد اور وسائل کی تقسیم خود اعلانات کے حجم سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔‘

اہم نمایاں منصوبوں، جو تصور کے لحاظ سے حقیقت کے قریب ہیں، کی ترقی جاری رہے گی۔ ان میں ریاض میں قدیم دارالحکومت درعیہ کی ازسرِ نو تعمیر اور بحالی اور سعودی دارالحکومت کے قریب واقع جدید ترین وسیع تھیم پارک سکس فلیگز قدعیہ سٹی شامل ہیں۔

شمال میں واقع قدیم مقام العلا کی ترقی، جو نبطی یادگاروں کے لیے مشہور ہے اور پیٹرا کا مقابلہ کرتی ہیں، اس بات کی ایک مثال ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے کس طرح مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

Getty Imagesالعلا میں کئی تاریخی مقامات ہیں

مملکت کے کبھی نظر انداز کیے گئے حصے کو سعودی عرب کی نئی قومی اور ثقافتی شناخت کے اہم منصوبے میں تبدیل کرنے کے اس منصوبے پر اب تک کئی ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مزید اربوں ڈالر اسے عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو، مثال کے طور پر دا لائن کے مقابلے میں زیادہ قابلِ حصول ہے۔

کھیلوں کے میدان میں سعودی عرب نے سب سے بڑے انعامات میں سے ایک یعنی 2034 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد بن سلمان کوشش کریں گے کہ ڈیزائنز میں ایک تصوراتی عنصر شامل ہو، تاہم بعض زیادہ پرجوش تصورات کو اخراجات کو کسی حد تک قابو میں رکھنے کے لیے بظاہر محدود کر دیا گیا ہے۔

سعودی حکام واضح طور پر وژن 2030 کے حوالے سے راستہ تبدیل کرنے میں نسبتاً کھلے پن کو ماضی کی پردہ پوشی اور ابہام سے انحراف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے اور اپنی سمت درست کر لی ہے۔

خلیجی خطے کے سیاسی اور معاشی امور پر نظر رکھنے والے ماہر میٹ زالائی کا کہنا ہے کہ یہ بات ایک حد تک غیر ملکی سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے لیے مددگار ہو رہی ہے۔

’ان کے لیے یہ ایک مثبت علامت ہے کہ سعودی حکام اب جزوی طور پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں اور ان پر بات کرتے ہیں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ اتنا مثبت ہے جس کی زیادہ تر سرمایہ کار اور قریقین خواہش رکھتے ہیں۔‘

سعودی کاروباری شخصیت تھامر شیکر اس بارے میں زیادہ پُرامید نظر آتے ہیں: ’بہت سے معاملات میں، منظم انداز میں ترجیحات کا تعین درحقیقت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے۔۔۔ بین الاقوامی سطح پر بحث کا محور ’اعلانات کتنے بڑے ہیں؟‘ سے بتدریج اس سوال طرف منتقل ہو رہا ہے کہ ’عمل درآمد کا ماڈل کتنا قابلِ اعتبار ہے؟‘

بدلتی ہوئی صورتحال

وژن 2030 کا ازسرِ جائزہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

اس تنازع نے خلیجی خطے میں موجودہ صورتحال کو بگاڑا ہے اور اس حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جسے متحدہ عرب امارات نے عالمی تجارتی اور سیاحتی مرکز بننے کے لیے آگے بڑھایا تھا اور جس کی نہ صرف تقلید بلکہ اس سے آگے بڑھنے کی واضح خواہش سعودی عرب نے ظاہر کی تھی۔

زالائی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے وژن 2030 کی آئندہ سمت کے بارے میں مزید ابہام پیدا کر دیے ہیں۔

’جنگ سے قبل وہ کلیدی شعبے جن میں سعودی مزید سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے، ان میں مصنوعی ذہانت اور دیگر اہم منصوبے جیسا کہ سیاحت، مینوفیکچرنگ اور کان کنی اور کچھ مقامی صنعتیں۔ لیکن کان کنی کے سوا ان سب شعبوں کو جنگ نے شدید متاثر کیا ہے۔‘

’جنگ سے قبل بنیادی پیغام یہ تھا کہ اب نیوم کو مصنوعی ذہانت پر مرکوز صنعتوں کے مرکز کے طور پر ازسرِ نو تشکیل دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جنگ کے تناظر میں یہ بات معنی رکھتی ہے، لیکن یہ اس سے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی پیغام ہر ماہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہا ہے۔ اور یہ سٹریٹجک ابہام کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم یہ اس معنی میں ایک مثبت علامت بھی ہے کہ سعودی حکام جانتے ہیں کہ انہیں ایک نیا منصوبہ پیش کرنا ہو گا۔‘

وژن 2030 نے ایک مختلف سعودی عرب کو ابھرنے میں مدد دی ہے، جسے بعض کی جانب سے سراہا گیا ہے اور بعض کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم اگر اس تبدیلی کے تین ستون تھے، تو ابھی ایک طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔

سیاسی طور پر اختلافِ رائے پر اب بھی پہلے کی طرح سختی سے سزا دی جاتی ہے۔

سماجی طور پر بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، جن کے باعث ریاض جیسے شہر میں رہنے کا مجموعی احساس ہی بدل گیا ہے۔ اس سے سعودی شہریوں کی جانب سے ملک میں ایسے وسیع تفریحی شعبوں پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جو 20 سال پہلے سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔

معاشی طور پر وژن 2030 کے میگا منصوبوں کا مقصد ملک کو بالآخر ایسے مستقبل کی طرف لے جانا تھا جہاں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری ریاست کی بے پناہ تیل کی دولت کے ہم پلہ بن جائے۔ تاہم یہ مقصد صرف جزوی طور پر ہی پورا ہو سکا ہے۔

سعودی قیادت کے لیے اسے یقیناً ایک کامیابی کی کہانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس پیمانے پر نہیں جس کا کبھی تصور کیا گیا تھا۔

محمد بن سلمان جتنا بھی خود کو ایک بصیرت رکھنے والے رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہوں، یہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ وہ اور ان کے ارد گرد موجود افراد ضرورت پڑنے پر عملی اور حقیقت پسند بھی نظر آنا چاہتے ہیں۔

Reutersسعودی عرب تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے

وہ سعودی عوام کے سامنے خرچ ہونے والے ان اربوں ڈالر کے بارے میں جواب دہ نہیں ہیں جو ان منصوبوں پر خرچ کیے گئے اور جو اب شاید کبھی صرف انٹرنیٹ تک ہی محدود رہیں۔ جہاں تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے ولی عہد کی مقبولیت نوجوان سعودیوں میں بدستور بلند ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دا کیوب جیسے میگا منصوبوں کو ایسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے جیسے وہ محض ردی کاغذ ہوں، جو ممکنہ طور پر دا کیوب کے معاملے میں حقیقت سے زیادہ دور نہیں۔

کھیل، تفریح، فنون اور ان سے آگے کے شعبوں میں بڑے ادارے جو اب تک سعودی سرمایہ پر انحصار کرتے آئے تھے، اب ایک نئی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں مالی معاونت کا بہاؤ یا تو بہت کم رہ گیا ہے یا مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔

ایلن آر والڈ کے مطابق ان منصوبوں میں سے بعض، جیسے لیو گالف ٹور، ابتدا ہی سے غیر معقول معلوم ہوتے تھے۔

’سوال یہ ہے کہ ان کی اصل حکمتِ عملی کیا تھی؟۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ بظاہر انھوں نے اتنی بڑی رقم صرف تشہیر کے لیے خرچ نہیں کی ہو گی۔ یہ تو غیر معقول ہو گا۔‘

نیوم: سعودی شہزادے کا 90 لاکھ شہری بسانے کا جدید منصوبہ ’دیوانے کا خواب‘ کیوں؟سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟اربوں ڈالر کی تجارت یقینی بنانے والی اہم بحری گزرگاہیں سعودی عرب اور امارات کے درمیان رقابت کا میدان کیسے بنیں؟سعودی عرب میں ٹرمپ کا جامنی قالین، عربی گھوڑوں اور 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سے استقبالسعودی عرب کا قدیم خانہ بدوش بدو گروہ سے ملک بننے تک کا سفرسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی بڑھی تو کیا پاکستان غیرجانبدار رہ پائے گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More