امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بیان دیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’عمان کو باقی سب کسی کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا، ورنہ ہمیں انھیں تباہ کرنا پڑے گا۔‘
ٹرمپ نے یہ بات ان خبروں کے ردعمل میں کہی جن کے مطابق عمان اور ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول عائد کرنے کے منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
بلومبرگ نے پہلی بار 21 مئی کو اطلاع دی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول عائد کرنے کے بارے میں عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بعد میں بات چیت سے واقف دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ بات چیت ہرمز سے گزرنے پر براہ راست ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ خدمات کے لیے جہازوں کو چارج کرنے کے بارے میں تھی۔
ٹرمپ کی جانب سے عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی نے مبصرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ عمان کو طویل عرصے سے امریکہ کے قریبی عرب خلیجی اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پرانے دفاعی تعاون کے معاہدے ہیں جن کے تحت امریکی فوج کو عمانی بندرگاہوں اور فضائی اڈوں تک رسائی حاصل ہے، جو خلیج اور بحر ہند کے خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
عمان اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ بھی ہے۔ عمان کے امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے اچھے تعلقات ہیں، لیکن وہ ٹرمپ کے ابراہیمی معاہدے کا رکن نہیں ہے۔
عمان امریکہ کا قریبی اتحادی
عمان نے طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر کلیدی کردار ادا کیا ہے اور 2015 کے جوہری معاہدے سے پہلے ہونے والے خفیہ بیک چینل مذاکرات میں بھی عمان کا اہم کردار تھا۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے سے قبل عمان دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔
فروری کے اوائل میں، ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں جوہری مذاکرات کے لیے ملاقات کی، لیکن وہ مذاکرات بالآخر ناکام ہو گئے۔
اس دوران مسقط نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہیں اور علاقائی تنازعات میں خود کو ثالث کے طور پر دکھانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجود ایران کا رویہ عمان کے لیے ’نرم‘ کیوں ہے؟متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ اور لنزے گراہم کا اسلام آباد کی ثالثی پر اعتراض: ’پاکستان نے کبھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا‘ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟
بدھ کو ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ایران کے ساتھ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ سعودی عرب اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے مشروط بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ دستخط نہیں کرتے ہیں تو ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں یہ معاہدہ کرنا چاہیے۔‘
اگرچہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ قریب ہے، تاہم بدھ کو انھوں نے اشارہ دیا کہ انھیں کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
عمان دوسرے خلیجی ممالک سے مختلف کیوں ہے؟
عمان نے عموماً خلیجی ممالک جیسے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں زیادہ خاموش اور پردے کے پیچھے رہ کر کردار ادا کیا ہے۔ عمان واحد GCC ملک تھا جس نے مجتبی خامنہ ای کو ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی تھی۔
ایران پر حملے سے عین قبل عمان کے وزیر خارجہ نے سی بی ایس نیوز پر انٹرویو میں بات چیت کے لیے مزید وقت دینے کی اپیل کی۔
مارچ میں وزیر خارجہ البوسیدی نے دی اکانومسٹ میں ایک مضمون لکھ کر خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھ کر امریکہ خطے میں اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انھوں نے لکھا تھا کہ ’امریکہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکا ہے۔‘
مارچ میں، ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، البوسیدی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کی مخالفت کی تھی کہ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ایران کے بارے میں آپ کی رائے کچھ بھی ہو، یہ جنگ ان کی طرف سے شروع نہیں ہوئی تھی۔‘
قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرح عمان میں بھی امریکہ کی عسکری موجودگی ہے۔
امریکی بحریہ کو ایک معاہدہ عمان کے جنوبی ساحل پر واقع دوقم بندرگاہ تک باقاعدہ رسائی فراہم کرتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ثالث کے طور پر اپنے اہم کردار کے باوجود عمان ایران کے جوابی حملوں سے بچ نہیں سکا۔
عمان اس جنگ کے چھڑ جانے کے بعد مذاکراتی عمل میں تھوڑا سا پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ کئی دہائیوں سے عمان نے امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات اور ایران کے ساتھ کھلے سفارتی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔
عمان میں یہ پوزیشن صدیوں پرانی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ عمان کے سفارتی اور تجارتی تعلقات 1790 کے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قدیم ترین شمار کیے جاتے ہیں۔
ٹرمپ کی نئی شرط
آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، جو دنیا کی تیل کی تجارت کے تقریباً 20 فیصد کے لیے اہم ہے، امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کا ایک مرکزی مسئلہ بن گیا ہے۔
فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد ایران نے سمندری راستہ مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا۔
ٹرمپ کے اپریل میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، جس میں ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرط رکھی گئی تھی، یہ راستہ بڑی حد تک ایرانی کنٹرولہے جس کی وجہ سے گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ہرمز کے راستے سمندری ٹریفک کے تقریبا رک جانے سے عالمی خوراک کے بحران کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
لیکن ٹرمپ نے بدھ کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔ یہ ایک بین الاقوامی سمندری راستہ ہے۔ اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہو گا۔ ہم اس کی نگرانی کریں گے، لیکن کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا۔ یہ ہماری بات چیت کا حصہ ہے۔‘
کابینہ کے اجلاس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ٹرمپ کے سخت ریمارکس کو دہرایا۔
جب تیل سے مالا مال دبئی، ابوظہبی اور عمان پاکستان یا انڈیا کا حصہ بنتے بنتے رہ گئےامریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجود ایران کا رویہ عمان کے لیے ’نرم‘ کیوں ہے؟پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فوجی دستے کی سعودی عرب میں تعیناتی: غیرجانبدار ثالثی کے بیچ حالیہ عسکری تعیناتی کیا ظاہر کرتی ہے؟عمان اب پاکستانی بلوچوں کو نوکریاں کیوں نہیں دے رہا؟جب گوادر انڈیا کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا