Getty Imagesآئن سٹائن نے اسرائیل کا صدر بننے کی دعوت پر خوشی کا اظہار کیا لیکن انکار کر دیا۔
حییم وائزمن، جو روسی سلطنت میں پیدا ہونے والے ایک بایو کیمیا دان تھے اور کچھ عرصہ برطانوی شہری بھی رہے، اپنی اُن دریافتوں کی وجہ سے مشہور تھے جو ایسیٹون کی پیداوار سے متعلق تھیں؛ یہ وہ مادہ تھا جس نے 1910 کی دہائی میں فوجی امور میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ایسیٹون کو کورڈائٹ بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا، جو ایک دھماکہ خیز مواد تھا اور برطانیہ نے اسے پہلی جنگِ عظیم میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔
تاہم وائزمن کا سیاسی دور اس سے بھی زیادہ نمایاں تھا۔ وہ صہیونیت کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ یہ ایک قوم پرستانہ تحریک تھی جو انیسویں صدی کے اواخر میں وجود میں آئی اور فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتی تھی۔
1947 میں، یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے بعد، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین، جو اُس وقت برطانوی سرپرستی میں تھا، کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی ایک یہودیوں کے لیے اور دوسری عربوں کے لیے۔
اسرائیل نے 1948 میں ایک خودمختار ملک کے طور پر اپنے قیام کا اعلان کیا، لیکن فلسطینیوں کے پاس اب تک ایک خودمختار ریاست نہیں ہے، اگرچہ 140 سے زیادہ ممالک اسے تسلیم کر چکے ہیں۔
1949 میں، حییم وائزمن کو صہیونی مقصد سے وابستگی کے باعث اس ملک کا صدر منتخب کیا گیا۔
یہ عہدہ زیادہ تر رسمی نوعیت کا تھا نہ کہ انتظامی، کیونکہ اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوریہ ہے اور وزیرِ اعظم ہی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔
وائزمن 1952 میں 77 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
اسرائیل کو ایک نئے صدر کی ضرورت تھی۔ لہٰذا وزارتِ خارجہ نے ممتاز یہودی شخصیات کے نام پیش کیے جو اس کردار کو ادا کر سکتے تھے اور نئے قائم ہونے والے ملک کی جانب ہجرت کی حوصلہ افزائی کر سکتے تھے۔
یوں وزیرِ اعظم داؤد بن گوریون کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک بار پھر اس منصب کے لیے کسی سائنسدان کو مدعو کیا جائے، اور سب سے نمایاں انتخاب دنیا کا سب سے مشہور سائنسدان تھا۔
دعوت اور انکارGetty Imagesآئن اسٹائن (دائیں) چیم ویزمین کے ساتھ 1921 میں
ابا ابن، جو امریکہ میں اسرائیل کے سفیر تھے، انھوں نے البرٹ آئن سٹائن سے رابطہ کیا۔
یہ جرمن طبیعیات دان 1933 سے امریکہ میں مقیم تھے یہ وہی سال تھا جب ایڈولف ہٹلر برسرِ اقتدار آئے اور جرمنی میں یہودیوں پر ظلم و ستم شروع ہوا۔
ابا ابن نے بن گوریون کی جانب سے آئن سٹائن کو ایک خط لکھا۔
انھوں نے لکھا: ’اسرائیل جسمانی لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے، لیکن یہ عظمت حاصل کر سکتا ہے کیونکہ یہ یہودی قوم کی قدیم اور جدید دونوں ادوار کی اعلیٰ ترین روحانی اور فکری روایات کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
ابا ابن نے یہ بھی وضاحت کی کہ آئن سٹائن کو اپنے سائنسی پیشے کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، انھیں نیو جرسی جہاں وہ پرنسٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی میں رہتے اور کام کرتے تھے چھوڑ کر اسرائیل منتقل ہونا پڑتا۔
اس وقت آئن سٹائن کی عمر 73 سال تھی۔ وہ قائل نہ ہو سکے۔ انھوں نے مؤدبانہ جواب دیا اور اس دعوت پر خوشی کا اظہار کیا، لیکن وہ ایسے تجربے میں شامل ہونے کے خواہاں نہیں تھے۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں آئن سٹائن آرکائیو کے نگران اور کتاب ’آئن سٹائن کی نوٹ بک‘ کے مصنف زئیف روزنکرانٹز کے مطابق جس نے اس طبیعیات دان کی ذاتی مراسلت اور تصاویر کو جمع کیا ہے انھوں نے دلیل دی کہ ان میں اس عہدے کے لیے ضروری صلاحیتیں موجود نہیں ہیں۔
البرٹ آئن سٹائن نے جواب دیا: ’میں اسرائیلی حکومت کی اس پیشکش سے گہرا متاثر ہوا ہوں اور ساتھ ہی افسوس اور شرمندگی محسوس کرتا ہوں کہ میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’میں نے ساری زندگی معروضی مسائل کے ساتھ کام کیا ہے، اس لیے نہ تو میرے پاس لوگوں کے ساتھ صحیح طریقے سے برتاؤ کرنے اور نہ ہی سرکاری فرائض انجام دینے کے لیے درکار فطری صلاحیت ہے اور نہ تجربہ۔ صرف انہی وجوہات کی بنا پر، میں ایسے اعلیٰ منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لائق نہیں ہوں۔ یہ حالات مجھے اور زیادہ اذیت دیتے ہیں، کیونکہ قومِ یہود کے ساتھ میرا تعلق اُس وقت سے مضبوط ترین انسانی رشتہ رہا ہے جب مجھے دنیا کی اقوام کے درمیان اپنی غیر محفوظ حیثیت کا مکمل ادراک ہوا۔‘
آلیس کالاپریس، جو آئن سٹائن پر کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، کے مطابق بن گوریون اس انکار سے مطمئن ہو گئے تھے۔
انھوں نے اپنی کتاب ’آئن سٹائن انسائیکلوپیڈیا‘ میں لکھا: ’بن گوریون کو تشویش تھی کہ آئن سٹائن کی سیاسی معاملات میں بے باکی اُنھیں اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘
وزیرِ اعظم نے اپنے چیف آف سٹاف آئزیک نافون (جو بعد میں 1978 سے 1983 تک اسرائیل کے صدر رہے) سے کہا تھا: ’مجھے بتاؤ اگر وہ ہاں کہہ دیں تو میں کیا کروں۔ مجھے یہ عہدہ انھیں پیش کرنا پڑا، کیونکہ ایسا نہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن اگر وہ قبول کر لیتے تو ہم مشکل میں پڑ جاتے۔‘
وہ شخص جسے اسرائیل کے جوہری پروگرام کا راز افشا کرنے پر دو دہائیاں جیل میں گزارنا پڑیں’آئن سٹائن بھی انسان تھے‘ تین چیزیں جنھیں سمجھنے میں عظیم سائنسدان سے بھی غلطی ہو گئیوالدین کے طعنوں سے پہلی بچی کی موت تک، آئن سٹائن نے کیا کیا دکھ دیکھے؟آئن سٹائن کی زندگی کی ’سب سے بڑی غلطی‘: ایک خط جس نے ایٹم بم کی ہلاکت خیز ایجاد کی بنیاد رکھیآئن سٹائن اور اسرائیل
اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ البرٹ آئن سٹائن اسرائیل کی سیاسی سمت کے حوالے سے بے حس تھے۔
میشل گرمان، تاریخ دان اور فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو کے پروفیسر کہتے ہیں: ’آئن سٹائن صہیونیت کی تحریک کے رکن تھے۔ وہ 1921 سے وائزمن کے قریب تھے اور صہیونیت کی ایک بائیں بازو کی شاخ کی نمائندگی کرتے تھے جو فلسطین میں عربوں اور یہودیوں کے لیے قومی حقوق کے ساتھ ایک دو قومی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی تھی۔‘
گرمان صہیونیت اور اسرائیل-فلسطین تنازع سے متعلق امور کے محقق ہیں۔
ایک بار پھر، آئن سٹائن کی مراسلت اس موضوع کی ہماری سمجھ میں مدد کرتی ہے۔ 1947 میں، انڈیا کی آزادی کے بعد، انھوں نے اس ملک کے نئے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو خط لکھا۔
انھوں نے مبارکباد دیتے ہوئے اپنے عقیدے کا اظہار کیا ’میں نے صہیونی مقصد کو اپنا لیا، کیونکہ میں اس میں ایک واضح غلطی کی اصلاح کا راستہ دیکھتا تھا۔‘
اگلے سال، اسرائیل کے قیام کے ساتھ، وہ دہائیوں کی جدوجہد کے بعد اطمینان محسوس کر سکتے تھے۔ تاہم، انھوں نے اسرائیل میں ایک انتہا پسند گروہ کی بداعمالیوں پر اعتراض کیا۔
1948 کے آخر میں، انھوں نے دیگر یہودی دانشوروں کے ساتھ مل کر نیویارک ٹائمز کو ایک کھلا خط لکھا اور اسرائیلی سیاست دان میناخم بیگن کے امریکہ کے دورے پر تنقید کی۔
مناخم بیگن، ارگون کے رہنما تھے، جو ایک صہیونی نیم فوجی تنظیم تھی اور اسرائیل کے قیام سے پہلے فلسطینیوں اور برطانویوں کے خلاف «دہشت گرد حملے» کرتی تھی۔
اسی سال، ارگون نے بیت المقدس کے قریب دیر یاسین گاؤں میں قتلِ عام کیا اور سو سے زائد فلسطینی غیر فوجی افراد، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، کو ہلاک کر دیا۔
کچھ عرصہ بعد، میناخم بیگن نے اسی تنظیم سے ایک نئی جماعت قائم کی جس کا نام حروت (عبرانی زبان میں ’آزادی‘) تھا۔
نیویارک ٹائمز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا: ’مناخم بیگن، جو اس جماعت کے رہنما ہیں، کا امریکہ کا یہ دورہ واضح طور پر اس تاثر کو پھیلانے کے لیے ہے کہ آنے والے اسرائیلی انتخابات میں انہیں امریکی حمایت حاصل ہوگی۔‘
دستخط کرنے والوں نے پہلے ہی پیراگراف میں حروت کے بارے میں اپنی رائے واضح کر دی: ’یہ جماعت اپنی تنظیم، طریقہ کار، سیاسی فلسفے اور سماجی اثر کے لحاظ سے نازی اور فاشسٹ جماعتوں سے قریبی مشابہت رکھتی ہے۔‘
Getty Imagesآئن سٹائن صہیونی تحریک کے کئی رہنماؤں میں سے تھے (بائیں سے دائیں: بین زیون موسنسن، آئن سٹائن، چیم ویزمین، اور میناچم اسچین)
سنہ 2024 میں، برازیل کی سوشل میڈیا پر کچھ بائیں بازو کے صارفین نے اس خط کو دوبارہ موضوعِ بحث بنایا؛ اس کے بعد جب برازیل کے صدر لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے اقدامات کا ہولوکاسٹ سے موازنہ کیا۔
اگر ان بیانات کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا جائے تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ آئن سٹائن اسرائیل کے مخالف تھے۔
برطانوی مورخ رچرڈ کراکٹ اپنی کتاب آئن سٹائن اور بیسویں صدی کی سیاست میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں ’آئن سٹائن کو ان لوگوں کے مقاصد کے مطابق، جو انہیں اپنے موقف کے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، کبھی صہیونیت اور ریاست اسرائیل کے ناقد اور کبھی اس کے حامی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔‘
کراکٹ کے مطابق، اس سائنس دان کے اس تصور میں کہ ’ریاست اسرائیل کیسی ہونی چاہیے‘، ایک کلیدی عنصر وسیع تر اقدار کے ایک فریم ورک سے ان کی وابستگی تھی۔
وہ وضاحت کرتے ہیں: ’سب سے بڑھ کر، قوم پرستی سے نفرت اور بین الاقوامیت سے وابستگی وہ عوامل تھے جو ہمیشہ ان کی صہیونیت اور اسرائیل کے بارے میں ان کے موقف کی حد بندی کرتے رہے۔‘
یہ وہی آئن سٹائن تھے جنہیں 1952 میں اسرائیل کی صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
میشل گرمان کہتے ہیں: ’غالباً مقصد یہ تھا کہ ایک نومولود ریاست، جو چند سال پہلے ایک خونریز جنگ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، کو بین الاقوامی جواز فراہم کیا جائے۔‘
وہ 1948 سے 1949 کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں اسرائیل نے عرب لیگ کو شکست دی اور اُس سرزمین کا نصف حصہ اپنے قبضے میں لے لیا جو مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
میشل گرمان یاد دلاتے ہیں کہ اگرچہ اسرائیل میں صدارت زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے، لیکن یہ شدید طور پر سیاسی بھی ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں ’آئن سٹائن کو صرف یہودی ہونے کی بنیاد پر مدعو نہیں کیا گیا تھا، بلکہ صہیونی تحریک کے ساتھ ان کے سیاسی روابط اور اسرائیل کے قیام کی حمایت کی وجہ سے دعوت دی گئی تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا:’دیگر ممتاز یہودی شخصیات کو بھی بارہا اسرائیل کی نمائندگی کے لیے علامتی عہدوں پر، ملک کی شبیہ کو بہتر بنانے کے مقصد سے مدعو کیا گیا ہے۔‘
مثال کے طور پر، 1990 کی دہائی کے اوائل میں اُس وقت کے وزیر اعظم شمعون پیریس نے معروف مصنف عاموس عوز کو سیاست میں آنے کی پیشکش کی۔
1952 میں، بریت شالوم نامی فکری دھارا جو صہیونی دانشوروں کا ایک گروہ تھا اور آئن سٹائن بھی اس کا رکن تھے اقلیتی نقطۂ نظر رکھتا تھا، لیکن یہ کبھی الگ تھلگ یا دیگر دھاروں سے کٹا ہوا نہیں تھا۔
اس کے اراکین میں نمایاں دانشور جیسے ہانا آرنٹ، مارٹن بوبر اور گرشوم شولم شامل تھے۔ بریت شالوم کے بعض اراکین یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
لیکن آج، گرمان کے مطابق، اس گروہ کے ارکان کو موجودہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے «غدار» سمجھا جاتا، کیونکہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت مختلف نقطہ نظر، بشمول دو ریاستی حل کی حمایت، کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔
وہ سوال کرتے ہیں:’ہمارے زمانے کا آئن سٹائن کون ہے؟ تصور کریں کہ ایسا کوئی شخص اس عہدے کو قبول کر لے۔ کیا عادا یونات، کیمیا کے نوبل انعام یافتہ اور فلسطینی علاقوں پر قبضے اور موجودہ غزہ کی صورتحال کی ناقد، ایسا منصب قبول کرتیں؟ مجھے نہیں لگتا۔‘
جب آئن سٹائن نے پیش کردہ عہدہ قبول نہیں کیا، تو اس سال اسرائیل کے صدر بننے والے شخص آئزیک بن زوی تھے، جو ایک مورخ تھے۔
مناخم بیگن، وہی سیاست دان جن پر آئن سٹائن نے تنقید کی تھی، اسرائیل میں زیادہ اثرورسوخ حاصل کرنے لگے۔ ان کی جماعت ایک طاقتور قوت بن گئی۔
حروت آنے والی دہائیوں میں اسرائیل کے قدامت پسندوں کی مرکزی جماعت بن گئی۔ بیگن 1977 میں وزیر اعظم بنے اور 1983 تک اس عہدے پر قائم رہے۔
پانچ سال بعد، حروت ایک اور دائیں بازو کی جماعت لیکود میں ضم ہو گئی۔ 2006 سے اس کے رہنما بنیامین نیتن یاہو رہے ہیں، جو اسرائیل کی تاریخ کے سب سے طویل عرصہ وزیر اعظم رہنے والے رہنما ہیں اور ان کی مجموعی مدت تقریباً 18 سال بنتی ہے۔
’آئن سٹائن بھی انسان تھے‘ تین چیزیں جنھیں سمجھنے میں عظیم سائنسدان سے بھی غلطی ہو گئیوہ شخص جسے اسرائیل کے جوہری پروگرام کا راز افشا کرنے پر دو دہائیاں جیل میں گزارنا پڑیںوالدین کے طعنوں سے پہلی بچی کی موت تک، آئن سٹائن نے کیا کیا دکھ دیکھے؟آئن سٹائن کی زندگی کی ’سب سے بڑی غلطی‘: ایک خط جس نے ایٹم بم کی ہلاکت خیز ایجاد کی بنیاد رکھیکیا آئن سٹائن خدا پر یقین رکھتے تھے؟