خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری سیکس کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار

بی بی سی اردو  |  May 29, 2026

Getty Images

انتباہ: اس تحریر میں شامل بعض تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔ کیس عدالت میں ہونے اور اس کی حساس نوعیت کی وجہ سے مقتولہ اور ملزم کے نام بھی نہیں لیے جا رہے۔

پنجاب پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر فطری طریقے سے سیکس کر کے اپنی اہلیہ کی جان لی ہے۔

یہ واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر خانیوال کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ ملزم کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو سنیچر کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار عمثان خان نے بی بی سی کوبتایا کہ چونکہ قتل کے مقدمے میں کسی بھی ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ لینا ضروری ہوتا ہے اس لیے انھیں مقامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق خانیوال کے ایک گاؤں کی 18 سالہ لڑکی کی شادی تین ماہ قبل ملزم سے ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اپنی بیوی کے ساتھ اُس وقت دو مرتبہ غیر فطری طریقے سے سیکس کیا، جب ان کے مخصوص ایام چل رہے تھے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ نے اس کی شکایت اپنی قریبی خواتین رشتہ داروں سے بھی کی تھی۔

مقتولہ کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کی بہن والدین کے گھر آئیں تو وہ بہت کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے مطابق والد نے بیٹی کی حالت دیکھ کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ ان سے اس قدر کمزور ہونے کی وجہ دریافت کریں اور یہ بھی پوچھیں کہ یہ حالت کس نے کی۔

مقتولہ کے بھائی کا دعوی ہے کہ ان کی بہن نے اپنی والدہ کو بتایا کہ ان کے شوہر حیض کے دوران غیر فطری طریقے سے سیکس کرتے رہے، ’جس کے باعث ان کی پاخانے والی جگہ سے نہ صرف خون نکلا بلکہ انفیکشن بھی ہو گیا اور انھیں قضائے حاجت میں بھی دشواری ہے۔‘

’تجرباتی سیکس‘ کے دوران گلا دبنے سے موت: ’اس قسم کا جنسی عمل خطرناک ہوتا ہے‘’میری بیوی کو سیکس سے ڈر لگتا ہے، مجھے موت سے‘خاتون پر بوائے فرینڈ کو جلا کر قتل کرنے کا الزام: ’بانڈیج سیکس‘ کیا ہے اور اسے غیر محفوظ کیوں سمجھا جاتا ہے؟خاتون کا شوہر پر دورانِ سیکس جنسی تشدد کا الزام: ’ساس سے شکایت کی تو انھوں نے کہا میاں بیوی کے رشتے میں ایسا ہی ہوتا ہے‘

ان کا دعویٰ ہے کہ مقتولہ نے اپنی والدہ کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے شوہر نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر اس واقعے کا ذکر اپنے والدین سے کیا تو وہ ان کے اکلوتے بھائی کو قتل کروا دیں گے۔

بھائی نے بتایا کہ مقتولہ جب اپنی والدہ کو یہ تمام باتیں بتا رہی تھیں تو اسی دوران ان کی حالت غیر ہو گئی، جس پر انھیں نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد دے کر انھیں داخل کر لیا۔

مقامی پولیس کے مطابق دو دن بعد ان کا آپریشن کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ تفتیشی ٹیم کے رکن عثمان خان کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت مبینہ طور پر ملزم کی جانب سے غیر فطری سیکس کرنے کے باعث ہوئی۔

مقتولہ کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس واقعے کی شکایت ملزم کے والدین سے بھی کی تاہم انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا ایسا کام نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مقامی پولیس اس معاملے میں مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی تاہم وزیر اعلیٰ کے شکایات سیل میں شکایت درج ہونے کے بعد متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے وقت تک مقتولہ زندہ تھیں اور کیس ان ہی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟

ایف آئی آر کے مطابق چھ مئی کی رات ملزم گھر میں داخل ہوا اور نشہ آور ادویات استعمال کر کے متاثرہ لڑکی کے ساتھ بد فعلی کی تاہم شور مچانے پر فرار ہو گئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر خانیوال محمد عابد کے مطابق واقعہ چھ مئی کو پیش آیا، جس کے بعد متاثرہ لڑکی کو علاج کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ 16 مئی کو اسی واقعے سے متعلق درخواست تھانے کو موصول ہوئی جبکہ 19 مئی کو قائم مقام ایس ایچ او نے کارروائی کے لیے درخواست سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھجوا دی۔

ان کے مطابق درخواست پر مقتولہ کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات بھی موجود تھے۔ مقدمہ 23 مئی کو درج کیا گیا جبکہ 24 مئی کو مدعی مقدمہ فوت ہو گئیں۔

ڈی پی او کے مطابق ابتدائی طور پر مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت درج کیا گیا، جو عصمت دری اور زنا بالجبر سے متعلق ہے۔ بعد ازاں مقتولہ کی وفات کے بعد دفعہ 302 (قتل) بھی شامل کر دی گئی۔

بی بی سی کو اپنے پیغام میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر خانیوال محمد عابد نے کہا کہ ’اس معاملے میں جنسی عمل کے نتیجے میں ریکٹل پرولیپس (Rectal Prolapse) رپورٹ کیا گیا، طبی و قانونی اصطلاح میں اس کا تعلق مقعد کے ذریعے جنسی عمل سے ہو سکتا ہے۔ میڈیکو لیگل کیس رپورٹ کے مطابق شوہر کے ریپ کرنے کی وجہ سے خاتون کو ٹراما ہوا۔‘

Getty Imagesریکٹل پرولیپس کیا ہوتا ہے؟

ریکٹل پرولیپس وہ حالت ہے جس میں آنت کا آخری حصہ نیچے کی طرف کھسک کر مقعد کے اندر یا باہر آ جاتا ہے اور اس کے علاج کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈی پی او محمد عابد نے بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق مقتولہ پہلے سے ایک مرض میں مبتلا تھیں، جس کا انھیں علم نہیں تھا تاہم ملزم کی جانب سے غیر فطری طریقے سے سیکس کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

انھوں نے کہا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد نمونے فارنزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

ڈی پی او کے مطابق چونکہ ملزم مقتولہ کے شوہر تھے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو اس کیس میں ضروری نہیں سمجھا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں حوالات میں بند کیا گیا جبکہ سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھی معطل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ملزم کے قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔

آٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیں’سیکس کرنے کی بجائے بیڈمنٹن کھیلیں‘: ہانگ کانگ میں ایک عام کھیل موضوع بحث کیوں ہے؟ایمازون کی غیر قانونی کانیں جہاں سیکس کے بدلے سونا ملتا ہے کراچی میں شوہر کے ہاتھوں مبینہ غیرفطری سیکس اور جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی 19 سالہ لڑکی ہلاکدنیا میں مقبول ہم جنس پرست خواتین کی محبت پر مبنی ڈرامے کس طرح کروڑوں ڈالر کی منافع بخش صنعت بنےسیکس، پورن اور سوٹ کیس میں بند لاشیں: دہرے قتل کی واردات جس نے ایک خفیہ آن لائن دنیا سے پردہ اٹھایا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More