انور مقصود: ’لوگ پوچھتے ہیں دو ہفتے پہلے اسلام آباد میں جو ہوا وہ 15 سال پہلے کیسے لکھ دیا؟‘

بی بی سی اردو  |  May 30, 2026

BBC

پاکستان میں طنز و مزاح کا ذکر ہو اور انور مقصود کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ ففٹی ففٹی، شوشا، آنگن ٹیڑھا، ہاف پلیٹ اور لوز ٹاک جیسے پروگراموں کے ذریعے انھوں نے کئی دہائیوں تک پاکستانی معاشرے، سیاست اور روزمرہ زندگی کو طنز و مزاح کا موضوع بنایا۔

لیکن اس وقت انور مقصود ٹی وی کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں نہ ہی تھیٹر پر ان کا کوئی ڈرامہ ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود پندرہ سال قبل ختم ہوجانے والے ان کے پروگرام لوز ٹاک کی کلپس نے انھیں موجودہ دور میں بھی اِن رکھا ہوا ہے۔

آئے دن لوز ٹاک کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں، جس کی انور مقصود کے مطابق سب سے بڑی وجہ ’حالات کا نہ بدلنا ہے۔‘

بی بی سی اردو سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 67 برس میں جو کچھ لکھا، یہ سوچ کر لکھا کہ جب تک پاکستان ہے، حالات زیادہ نہیں بدلیں گے۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ انڈیا سے ان کے دوست آج بھی فون کر کے پوچھتے ہیں کہ ’یہ معین کی ڈبنگ کون کر رہا ہے؟‘ جب انھیں پتہ چلتا ہے کہ یہ کلپ پندرہ سال پرانی ہے تو وہ کافی حیران ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کئی بار لوگ حالیہ واقعات کو ان کے پرانے سکرپٹس سے جوڑتے ہیں۔

’دو ہفتے پہلے اسلام آباد میں جو ہوا، لوگ کہتے ہیں آپ نے یہ چودہ پندرہ سال پہلے کیسے لکھ دیا؟ میں کہتا ہوں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حالات بدلتے نہیں۔‘

’پاکستان کا صرف ماضی ہے‘

ٹی وی کے لیے سٹوڈیو ڈھائی، سٹوڈیو پونے تین اور ششوٹائم جیسے یادگار پروگرام لکھنے والے انور مقصود سے جب ٹی وی اور تھیٹر سے دوری کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ ’اکیلے میں بتاسکتا ہوں، سامنے نہیں۔‘

موجودہ ٹی وی کامیڈی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں پر تنقید نہیں کرتے، اگر لوگ اسے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں، تو یہ اچھی بات ہے۔

ماضی کے ذکر پر انور مقصود نے ایک جملے میں پورا منظرنامہ بیان کر دیا۔ ان کے بقول ’پاکستان کا صرف ماضی ہے، نہ حال ہے، نہ مستقبل، ہم تو ماضی میں جی رہے ہیں۔‘

پینٹنگ سے آغاز، پھر شوبز میں انٹری

انور مقصود نے اپنے کرئیر کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھیں سفارش پر بینک میں نوکری تو مل گئی لیکن ان کا اصل شوق مصوری تھا۔

’میری پہلی پینٹنگ ایگزیبیشن 1958 میں ہوئی تھی، جب کراچی دارالحکومت تھا۔ آج بھی میرے گھر کا خرچہ بڑی حد تک میری پینٹنگز سے ہی چلتا ہے۔‘

شوبز میں اپنی اتفاقیہ آمد کا ذمہ دار انھوں نے معروف براڈکاسٹر ضیا محی الدین کو قرار دیا، جن کے ساتھ وہ برج کھیلا کرتے تھے۔

’انھوں نے مجھ سے کہا کہ برج کی میز پر تم جو باتیں کرتے ہو، وہی میرا سکرپٹ ہے، تم پروگرام لکھو۔‘

بعد میں ارشد محمود اور شعیب منصور ان کے پاس ففٹی ففٹی کا سکرپٹ لکھوانے آئے۔ انور مقصود نے انکشاف کیا کہ کامیاب شو کی ابتدائی 18 اقساط انھوں نے لکھیں، مگر اہمیت نہ ملنے پر وہ پروگرام سے الگ ہوگئے۔

’ففٹی ففٹی کی پوری ٹیم کو صدرجنرل ضیاالحق نے ایوارڈ لینے اسلام آباد بلایا مگر مجھے نہیں بلایا گیا، جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ مزاحیہ پروگرام میں پرفارمنس ہوتی ہے، سکرپٹ کی جگہ نہیں۔ جس کے بعد میں نے شوشا لکھا جس میں طلعت حسین، شکیل، قاضی واجد اور سلیم ناصر جیسے سنجیدہ اداکاروں نے کامیڈی کی۔‘

انور مقصود کے ’ہاؤس اریسٹ‘ کا اجازت نامہ اچانک منسوخ: ’شو کینسل نہیں سینسر ہو گیا‘’لکھتے لکھتے قلم رک جائے تو آگے نہیں لکھنا چاہیے‘انور مقصود سے کون ڈرتا ہے؟بشیر بدر جن کے شعر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈین وزیراعظم کو بھی پڑھ کر سنائے’لکھنے والے کو اداکاری نہیں کرنی چاہیے‘

ضیا محی الدین شو کے ذریعے شوبز میں انڈسٹری میں آنے والے انور مقصود نے اس سے بھی پہلے بطور اداکار بھی قسمت آزمائی تھی لیکن سکرپٹ رائٹنگ اور ہوسٹنگ کی وجہ سے وہ اس سے دور ہوگئے۔ اس کے باوجود انھوں نے ففٹی ففٹی کے خاکوں کے علاوہ بھی ستارہ اور مہرالنسا، فنونی لطیفے، نثری گانے اور بتیس مارچ سمیت کئی ڈراموں میں اداکاری کی۔

اداکاری پر ہوسٹنگ اور رائٹنگ کو فوقیت دینے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لکھنے والے کو اداکاری نہیں کرنی چاہیے۔

’چند ڈراموں اور پلے میں کام کیا، مگر اب مزہ خاموشی میں آتا ہے۔ جتنا لطف خاموشی میں ہے، بات کرنے میں نہیں۔‘

مارشل لا، جمہوریت اور سیاسی مزاح

انور مقصود نے جہاں ضیا الحق اور پرویز مشرف کے دور میں سیاسی طنز لکھا، وہیں جمہوری ادوار میں بھی ان کا قلم نہیں رکا، البتہ ان کے مطابق ’سب سے مشکل دور جمہوریت کا ہوتا ہے۔‘

’مارشل لا میں صرف ایک آدمی آپ کے خلاف ہوتا ہے، جمہوریت میں سب خلاف ہو جاتے ہیں۔ مگر بری سے بری جمہوریت بھی اچھی آمریت سے بہتر ہے۔‘

BBCمعین اختر: ’وہ صرف وہی کرتے تھے جو لکھا ہوتا تھا‘

انور مقصود اور معین اختر کا ساتھ چار دہائیوں پر مشتمل تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ دونوں نے جو بھی کام ساتھ کیا، یادگار بنادیا۔

معین اختر کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے انور مقصود نے بتایا کہ معین اختر کا نام ضیاء محی الدین شو کے لیے انھوں نے ہی تجویز کیا تھا۔

’ضیا محی الدین شو کے لیے ہم نئے ٹیلنٹ کو ڈھونڈتے رہتے تھے، اسی لیے میں نے ضیا صاحب کو معین کا نام تجویز کیا، جواس وقت آدم جی تھیٹر میں شو کیا کرتا تھا، وہ اس وقت بھی لوگوں کی نقلیں بہت اچھی کرتا تھا، اس نے جب آکر ضیا صاحب کے سامنے محمد علی، وحید مراد اور درپن کی نقلیں کیں ، تو سب حیران ہوگئے۔‘

ان کے مطابق معین اختر غیرمعمولی ڈسپلن کے حامل اداکار تھا، وہ لکھی ہوئی سکرپٹ میں ردوبدل نہیں کرتے تھے بلکہ جیسا لکھا ہوتا تھا اس کو ویسے ہی کرتے تھے، جس کی وجہ سے لگتا تھا جیسے دو لوگ بات کررہے ہوں اور شاید یہی لوز ٹاک کی کامیابی کی وجہ بنی۔

لوز ٹاک دوبارہ شروع نہ کرنے کی وجہ پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ ’اس کرسی پر کوئی اور بیٹھتا ہوا نظر ہی نہیں آیا۔‘

تھیٹر، تنازعات اور ’ساڑھے چودہ اگست‘

انور مقصود نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ تھیٹر کے لیے بھی درجن بھر سے زائد ڈرامے لکھے، لیکن اس وقت جو پاکستانی تھیٹر کی حالت ہے اس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

’میں کئی مرتبہ حکومت سے کہہ چکا ہوں کہ کراچی جیسے شہر میں تھیٹر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کمیونٹی سینٹر بنائیں تاکہ لوگ اپنے علاقوں میں تھیٹر دیکھ سکیں، شہر میں ٹیلنٹ بہت ہے، لیکن اس کو دیکھنے کی جگہ نہیں۔‘

اپنے ڈرامے ساڑھے چودہ اگست کو اسلام آباد میں روکے جانے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کچھ باتیں متعلقہ اداروں کو پسند نہیں آئیں، اس لیے ڈرامہ عارضی طور پر روک دیا گیا۔

انھوں نے ایک اور ڈرامے سیاچن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دس سال کے بعدجب ڈرامے کو دوبارہ سٹیج پر چلانے کی اجات ملی، تو شرط عائد کی گئی کہ اس میں کوئی لفظ نہیں بدلا جائے گا۔‘

بقول انور مقصود ’جب بعد میں معلوم ہوا کہ ایک اداکار نےبغیر اجازت جنرل (فیلڈ مارشل) عاصم منیر کا نام شامل کر دیا تھا، جو سکرپٹ میں نہیں تھا، تو انھیں معافی مانگنا پڑی۔‘

اپنے کھیلوں کے ذریعے لسانی مزاحکو فروغ دینے پر انور مقصود کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ان کا مزاح پسند نہیں آتا، صرف وہی لوگ ایسے مزاح پر تنقید کرتے ہیں، جس کا وہ کبھی جواب نہیں دیتے۔

’جو لوگ یوٹیوب پر میرے خلاف بولتے ہیں، اکثر وہ اپنے ویوز بڑھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ جواب دینے کے لیے مجھے بہت نیچے جانا پڑے گا۔‘

کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں پاکستان نیوی کے حوالے سے انھوں نے ایک جملہ ادا کیا جس پر کافی ہنگامہ ہوا اور انھیں معافی مانگنا پڑی۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تو مذاق کررہے تھے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی۔

’نیوی کے کئی سربراہ میرے ساتھ برسوں برج کھیلتے رہے ہیں، لیکن حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی بہت بڑی لگتی ہے۔‘

پاکستان میں مزاح کرنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مزاح برداشت کرنے کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو درگزر کرتے ہیں، ورنہ غصہ کرتے ہیں۔

’خاموشی سب سے اچھی آزادیِ رائے ہے‘

آزادیِ اظہار کے بارے میں انور مقصود کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے حالات بدل دیے ہیں۔

’پہلے گیجٹس نہیں تھے، سوشل میڈیا نہیں تھا، اب ہر کسی کے ہاتھ میں ایک جادو کی پٹاری ہے۔ جن کے پاس پلیٹ فارم ہے وہ بول رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق آج کے دور میں خاموشی خود ایک پیغام بن چکی ہے۔

’اب خاموشی ہی سب سے اچھی آزادیِ رائے ہے۔ آپ خاموش ہوں تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کیوں خاموش ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر اپنے نام سے بنے اکاؤنٹس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کا ایک بھی اکاؤنٹ نہیں، وہ جو فون استعمال کرتے ہیں اس پر انٹرنیٹ ہی نہیں چلتا۔

’نہ میرا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہے، نہ میں یہ سب استعمال کرتا ہوں۔ بعض لوگ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ مجھے خود وضاحت دینی پڑتی ہے کہ ’یہ میں نے نہیں کہا۔‘

کتاب کیوں نہیں لکھی؟

حالانکہ انور مقصود کی اہلیہ عمرانہ مقصود اپنے شوہر کے بارے میں دو کامیابکتابیں لکھ چکی ہیں لیکن انور مقصود کے مداح برسوں سے ان کی خودنوشت کا انتظار کررہے ہیں ۔

ان کے مطابق ان کے کمرے میں ہزاروں کتابیں ہیں، جس میں اوپر والے خانے میں قرآن شریف، کلیاتِ میر، کلیاتِ غالب اور کلیاتِ اقبال رکھی ہیں، ان چار کتابوں کو پڑھ کر ’ہمت نہیں ہوتی کہ میں کتاب لکھوں۔‘

آنے والے مزاح نگاروں کے لیے انور مقصود کا مشورہ مختصر مگر واضح تھا۔

’نئی نسل میں جو مزاح لکھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ مطالعہ کرے، شفیق الرحمٰن، مشتاق احمد یوسفی، شوکت تھانوی اور پطرس بخاری کو پڑھے۔ میں نے لکھنا پطرس بخاری سے سیکھا اور اس عمل کو نہ روکیں۔‘

گفتگو کے اختتام پر جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنی زندگی پر سب سے زیادہ فخر کس بات پر ہے تو انھوں نے کہا ’مجھپر کسی کا قرض نہیں۔ اگر کوئی قرض ہے تو وہ حکومتکی وجہ سے ہے، میری ذات کی وجہ سے نہیں۔‘

’لکھتے لکھتے قلم رک جائے تو آگے نہیں لکھنا چاہیے‘انور مقصود کے ’ہاؤس اریسٹ‘ کا اجازت نامہ اچانک منسوخ: ’شو کینسل نہیں سینسر ہو گیا‘انور مقصود سے کون ڈرتا ہے؟بشیر بدر جن کے شعر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈین وزیراعظم کو بھی پڑھ کر سنائے’کوئی سپر سٹار قانون سے بالاتر نہیں‘: فرحان اختر کی شکایت کے بعد دھورندھر اداکار رنویر سنگھ پر پابندی کا تنازع کیا ہے؟’پری زاد‘ ڈرامہ میں نظر آنے والے فارم ہاؤس سے متعلق نیب اور شہری کے متضاد دعوے: ’ہم درخواست کرتے ہیں کہ جعلی خبریں نہ پھیلائیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More