Artur Rodionovپائلٹ روڈیونوف کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طریقے بنائے ہیں جن میں مداخلت والے علاقوں میں پائلٹس کے لیے جی پی ایس بند کرنے کی تجویز بھی شامل ہے
برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی گذشتہ ہفتے رائل ایئر فورس کے ایک طیارے میں ایسٹونیا کے اوپر سے روسی سرحد کے قریب محو پرواز تھے تب ہی ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
بی بی سی نے اس پرواز کے اعداد و شمار دیکھے جس کے مطابق طیارے کا ٹرانسپونڈر اچانک یہ دکھانے لگا تھا کہ وہ روس کے اندر اور اس مقام سے 300 کلومیٹر دور ہیں جہاں وہ چند لمحے پہلے موجود تھے۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا جہاز سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب ایک جھیل کے اوپر صرف 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہا ہے۔
یہ سب ٹھیک نہیں تھا۔ طیارے کا نیویگیشن سسٹم جی پی ایس کی جعلسازی کی وجہ سے غلطی کا شکار ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی علاقے میں ریڈیو سگنلز کی بڑی تعداد پھیل جاتی ہے جو جی پی ایس سیٹلائٹس کے سگنلز جیسی ہوتی ہیں۔
کیونکہ سیٹلائٹس کے سگنلز زمین تک پہنچ کر کمزور ہو جاتے ہیں اس لیے زمین پر موجود ایک ٹرانسمیٹر زیادہ طاقتور جعلی سگنلز بھیج سکتا ہے جنھیں طیاروں سمیت نیویگیشن سسٹمز اپنا لیتے ہیں۔
یہ کام زیادہ تر فوجی کارروائیوں کے درمیان ہوتا ہے تاکہ دشمن کے لمبے فاصلے کے میزائل اور چھوٹے ڈرون جیسے جی پی ایس پر انحصار کرنے والے ہتھیاروں کی درستگی کو کم کیا جا سکے۔
کئی افواج کے پاس ایسے خاص یونٹس ہوتے ہیں جو یہ ٹرانسمیٹر مستقل جگہوں پر لگاتے ہیں یا گاڑیوں میں لے جاتے ہیں لیکن اب کمرشل طیارے بھی اس الیکٹرانک جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر رائل ایئر فورس کے پائلٹس کو طیارہ چلانے کے لیے ایک ایک پرانا اور کم درست نتائج دینے والا نیویگیشن سسٹم استعمال کرنا پڑا جو جی پی ایس کے ساتھ ساتھ کام کرتا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ان کا طیارہ محفوظ رہا تاہم درحقیقت اس دن اس علاقے میں صرف یہی ایک طیارہ متاثر نہیں ہوا تھا۔
ایوی ایشن کمپنی سکائی ڈیٹا سروس (SkAI Data Services) کے اعداد و شمار کے مطابق، 100 سے زیادہ مسافر طیارے غلط مقام دکھا رہے تھے کیونکہ ان کے سگنلز میں جعلسازی ہوئی تھی۔
یہی اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ جعلسازی اور جیمِنگ (ایک اور طریقہ جس میں سیٹلائٹ سگنلز کو روک دیا جاتا ہے تاکہ جی پی ایس کام نہ کرے) ان علاقوں میں بڑھ رہی ہیں جہاں جنگ چل رہی ہو یا فوجی سرگرمی زیادہ ہو، جیسے انڈیا اور پاکستان سمیت بالٹک خلیج، بحیرۂ احمر اور میانمار کے ارد گرد کے علاقے۔۔۔
Getty Imagesیہ کام زیادہ تر فوج کا ہوتا ہے تاکہ دشمن کے لمبے فاصلے کے میزائل اور چھوٹے ڈرون جیسے جی پی ایس پر انحصار کرنے والے ہتھیاروں کی درستگی کو کم کیا جا سکے
مثال کے طور پر خلیج میں 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد ایسی پروازوں کی بڑی تعداد سامنے آئی جنھوں نے جی پی ایس کی ایسی جعلسازی کی اطلاع دی۔
سکائی ڈیٹا سروس کے مطابق مارچ میں 5,381 پروازوں نے سگنلز میں رد و بدل سے متعلق آگاہ کیا جبکہ فروری میں یہ تعداد 99 اور جنوری میں 14 تھی۔
سکائی ڈیٹا سروس کے اعداد و شمار کے مطابق بالٹک خطے میں 2024 میں ایسے واقعات 17,243 رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 59,447 ہو گئی۔
یہ اضافہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ڈرون حملوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر مصروف فضائی راستے بھی جعلسازی یا مداخلت سے متاثر ہوئے ہیں، اور اس سال دنیا بھر میں روزانہ اوسطاً 800 سے زیادہ پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔
اس کے لیے ضروری ٹیکنالوجی زیادہ تر ممالک میں آسانی سے دستیاب ہے اسی لیے ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ مسئلہ مزید پھیل سکتا ہے۔
پائلٹ کا تجربہ
اس مسئلے کا سامنا برطانوی پائلٹ سیم رتھرفورڈ کو تب کرنا پڑا جب وہ گذشتہ ماہ سعودی عرب سے عمان تک چار نشستوں والا طیارہ اڑا رہے تھے۔
جب طیارہ سعودی عرب اور یو اے ای کی سرحد کے قریب پہنچا تو اس کا نیویگیشن نظام اور آٹو پائلٹ کام کرنا بند ہو گئے۔
شروع میں انھیں لگا کہ شاید طیارے میں کوئی خرابی ہے تاہم اس علاقے میں پرواز کرنے والی کئی ایئر لائنز بھی یہی مسئلہ رپورٹ کر رہی تھیں۔
بعد میں معلوم ہوا کہ جی پی ایس کی جعلسازی اور جیمِنگ دونوں ان کے طیارے کو متاثر کر رہے تھے۔
برطانوی فوج میں آٹھ سال تک ہیلی کاپٹر اڑانے کا تجربہ رکھنے والے رتھرفورڈ نے راستہ معلوم کرنے کے لیے طیارے کے مقناطیسی کمپاس کا استعمال کیا اور ایئر ٹریفک کنٹرولر سے مدد لی۔
اس کے بعد وہ بحفاظت لینڈ کر گئے تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میں خراب موسم، کم ایندھن اور رات کے وقت اس صورتحال کا سامنا کرتا، تو معاملہ بہت مختلف ہوتا۔‘
Getty Imagesجی پی ایس سپوفنگ کی وجہ سے ہوائی جہاز کا نیویگیشن سسٹم الجھا ہوا ہےجعلسازی کے خطرات
تقریباً 40,000 پائلٹس کی نمائندگی کرنے والی یورپی کاک پٹ ایسوسی ایشن کی صدر تانیا ہارٹر کا کہنا ہے کہ جی پی ایس کی جعلسازی کا ایک خطرہ یہ ہے کہ اگر کسی طیارے کو غلطی سے یہ یقین دلایا جائے کہ وہ کسی اور جگہ پر ہے تو پائلٹس کو زمین سے ٹکراؤ کے خبردار کرنے والے نظام کی وارننگز کو بند کرنا یا نظر انداز کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ نظام پائلٹس کو اس وقت خبردار کرتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ طیارہ زمین یا کسی رکاوٹ مثلاً پہاڑ سے ٹکرانے والا ہے۔
ہارٹر کا کہنا ہے کہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں پائلٹس کو 37,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر نے کے باوجود ’اوپر جائیں‘ کی غلط وارننگ ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ طیاروں کو خراب موسم سے بچنے میں مدد دینے والے ریڈار سسٹم بھی اس دوران کام کرنا بند کر سکتے ہیں۔
ہارٹر کے مطابق اگرچہ کئی ایئر لائنز پائلٹس کو معلومات دینے میں اچھا کام کر رہی ہیں لیکن یہ مسائل مجموعی طور پر ’طیارے میں موجود حفاظتی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔‘
کیمروں کی ہیکنگ، مواصلاتی نظام کی جیمنگ اور ڈیجیٹل جاسوسی: ایران جنگ میں سائبر حملوں نے کیا کردار ادا کیا؟روسی طیاروں کی ’خطرناک انداز‘ میں برطانوی جاسوس طیارے کو ’روکنے کی کوشش‘: ’ایک طیارہ صرف چھ میٹر کی دُوری پر تھا‘مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ڈیجیٹل دور کی بنیاد رکھنے والے ’مستقبل کے موجد‘ جو مشہور نہیں ہونا چاہتے تھے
پائلٹ آرتھر روڈیونوف ایسٹونیا کی کمپنی ڈائمنڈ سکائی ایوی ایشن کے لیے چھوٹے مسافر طیارے اڑاتے ہیں۔
اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’لِتھوانیا سے نارتھ سی تک اچانک تبدیلی، وہ سب سے بڑا فرق تھا جو انھوں نے سکرین پر دیکھا۔
روڈیونوف کہتے ہیں کہ ’یہ 1,000 میل (1,600 کلومیٹر) سے زیادہ ہے۔
ان بڑھتے واقعات کے بعد روڈیونوف کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طریقے بنائے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ مداخلت والے علاقوں میں پائلٹس جی پی ایس بند کر دیں۔
اس طرح پائلٹ دیکھ سکتا ہے کہ آیا طیارے کے سگنلز غلط ہو رہے ہیں یا نہیں، تاکہ دوسرے نظام متاثر نہ ہوں۔
روڈیونوف کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ خاص طور پر کم تجربہ کار پائلٹس کے لیے یا اس وقت مشکل بن سکتا ہے جب طیارے کو مشین کی خرابی سمیت کوئی بھی اور مسئلہ درپیش ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یقیناً، یہ اضافی دباؤ پیدا کرتا ہے۔‘
مداخلت کی اجازت
تاہم کئی ممالک کے لیے جی پی ایس میں مداخلت کرنا غیر قانونی نہیں ہے۔
براڈکاسٹ سگنلز کو منظم کرنے والا اقوامِ متحدہ کا ادارہ، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، سکیورٹی یا دفاعی مقاصد کے لیے اس کی اجازت دیتا ہے تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اس کا بے جا استعمال طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
یورپی فضائی نیویگیشن سیفٹی ادارہ یورو کنٹرول کا دعویٰ ہے کہ جعلسازی کے دوران طیاروں کی حفاظت برقرار رکھنے کے لیے اقدامات موجود ہیں، اور طیاروں کا نیویگیشن نظام اور زمین پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرول ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
ادارے کے مطابق طیارہ بنانے والی کمپنیاں اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیکنیکل طریقے تلاش کرنے کے لیے ایوی ایشن سپلائرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔
لیکن دوسری جانب ایسے اشارے ملتے ہیں کہ یوروکنٹرول سمیت ایوی ایشن ادارے زیادہ فکر مند ہیں۔
بی بی سی نے ایک سکیورٹی ایجنسی کی پریزینٹیشن (جو عام لوگوں کے لیے نہیں تھی) دیکھی جس میں کہا گیا کہ جی پی ایس کی جعلسازی طیارے کے کاک پٹ کے حفاظتی نظام کو کمزور بنا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کی ضرورت عوامی سطح پر جتنی بتائی جا رہی ہے اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ایرو سپیس انجینیئرنگ کے پروفیسر ٹوڈ ہمفریز کہتے ہیں کہ ’ایئر لائنز بہتری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایوی ایشن میں استعمال ہونے والی جی پی ایس ٹیکنالوجی 20 سال سے زیادہ پرانی ہے۔‘ اور یہ کہ صنعت کو ایسے ’جی پی ایس ریسیورز‘ کی ضرورت ہے جو جعلسازی اور مداخلت کا مقابلہ کر سکیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں نئی اور زیادہ مضبوط ٹیکنالوجی تیار کرنا پڑے گی۔‘
Getty Imagesجی پی ایس کی جعلسازی اور جیمِنگ صرف کمرشل پروازوں کو ہی متاثر نہیں کرتی، بلکہ یہ فون میں موجود میپس (نقشے) کی ایپس پر بھی اثر ڈال سکتی ہے’ممکنہ حل‘
ماہرین اس کے کچھ ممکنہ حل تجویز کیے ہیں جس میں پیش کی گئی تجاویز میں
طیاروں کے سافٹ ویئر کو اپڈیٹ کرنا تاکہ مداخلت کو فلٹر کیا جا سکے،ایسے اینٹینا استعمال کرنا جو زمین سے آنے والے جعلی سگنلز کو نظر انداز کر سکیں،مکمل طور پر نئے نیویگیشن سسٹمز جی پی ایس کے ساتھ مل کر کام کریں
لیکن یاد رہے کہ حفاظتی نظام میں تبدیلیاں لانے میں وقت لگتا ہے۔
ہمفریز خبردار کرتے ہیں کہ جی پی ایس کی جعلسازی اور جیمِنگ صرف کمرشل پروازوں کو ہی متاثر نہیں کرتی، بلکہ یہ فون میں موجود میپس (نقشے) کی ایپس پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سمندری ٹریفک اور سڑکوں پر چلنے والوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ آئندہ جب بھی کوئی تنازع شروع ہوگا، ہمیں توقع ہے کہ جی پی ایس سب سے پہلے متاثر ہونے والی چیزوں میں سے ایک ہوگا۔‘
مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟پروازوں کی ہیکنگ: کیا جی پی ایس کی جگہ ایٹمی گھڑیاں طیاروں کو محفوظ بنا سکیں گی؟ڈیجیٹل دور کی بنیاد رکھنے والے ’مستقبل کے موجد‘ جو مشہور نہیں ہونا چاہتے تھےڈرونز کا ڈیڑھ سو سال پرانی ٹیکنالوجی سے کیا تعلق ہے؟کیمروں کی ہیکنگ، مواصلاتی نظام کی جیمنگ اور ڈیجیٹل جاسوسی: ایران جنگ میں سائبر حملوں نے کیا کردار ادا کیا؟روسی طیاروں کی ’خطرناک انداز‘ میں برطانوی جاسوس طیارے کو ’روکنے کی کوشش‘: ’ایک طیارہ صرف چھ میٹر کی دُوری پر تھا‘