’پاکستان، چین ایکسپرٹ‘: انڈیا کے نئے چیف آف ڈیفینس سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی کون ہیں؟

بی بی سی اردو  |  May 31, 2026

گذشتہ برس جولائی میں وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل این ایس راجہ سبرامنی نے انڈیا کے نئے چیف آف ڈیفینس سٹاف (سی ڈی ایس) کے عہدے کا چارچ سنبھال لیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی نے جنرل انیل چوہان کی جگہ سی ڈی ایس کا چارج سنبھالا ہے حو گذشتہ روز اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

انڈیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی انڈیا کے تیسرے سی ڈی ایس ہیں۔

انڈیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین عسکری عہدے کا چارج سنبھالتے ہوئے سی ڈی ایس لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی نے وزیرِ اعظم کے وژن ’جے اے آئی‘ یعنی ’جوائنٹنس، آتم بربھرتا اور جدت‘ پر عملدرآمد کا اعادہ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کے نئے سی ڈی ایس نے ’مسلح افواج میں گہری ہم آہنگی کے ذریعے تبدیلی کو تینوں افواج کے درمیان بہتر تعاون اور اہم تنظیمی اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھانے پر زور دیا، جبکہ مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی بھی بات کی۔‘

اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے کیا کہا؟

خبر رساں ادارے اے این آئی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی کے خطاب کی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے۔

انڈیا کے نئے سی ڈی ایس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم اپنی مسلح افواج میں مقامی ہتھیاروں کی تیاری، ان کی شمولیت اور انضمام کے عمل کو تیز کریں گے۔‘

’ہماری مسلح افواج نے قومی مفادات کے تحفظ میں مستقل طور پر پیشہ ورانہ مہارت اور فیصلہ کنآپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم اپنے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ انڈیا کی افواج میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے وژن پر عملدرآمد کریں گا۔

’میں انڈیا کے شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلح افواج جرات، فخر اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ قوم کی خدمت جاری رکھیں گی۔‘

جنرل سبرامنی کون ہیں؟

انڈیا کے نئے سی ڈی ایس گذشتہ برس جولائی میں بطور وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے اور اس کے بعد نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹیریٹ میں بطور ملٹری ایڈوائزر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

متعدد انڈیا اخبارات اور نیو چینلز انھیں ’پاکستان اور چین کا ایکسپرٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ’جنرل سبرامنی مشرقی اور شمالی سرحدوں کی آپریشنل ڈائنامکس کی اپنی سمجھ بوجھ کے لیے جانے جاتے ہیں اور انھیں وسیع پیمانے پر پاکستان اور چین کے امور پر ایک ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے۔‘

دہلی جم خانہ بند کرنے کا فیصلہ، وہ مقام جہاں تقسیمِ ہند سے قبل پاکستان اور انڈیا کے فوجی افسران آخری بار ملےانڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جوابانڈین فوج کی نئی ’ڈرون بٹالین‘ کیا اسے پاکستانی فوج پر برتری دلائے گی؟انڈین فوج کے افسر کے گھر میں نوٹوں کی گڈیاں، ’یہ ہیں وہ جنھوں نے کبھی وردی میں قوم کی خدمت کا حلف اٹھایا‘

جنرل سبرامنی کی بطور سی ڈی ایس تقرری کا اعلان گذشتہ مہینے کیا گیا تھا۔ انڈین حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی نیشنل ڈیفینس اکیڈمی اور انڈین ملٹری اکیڈمی کے گریجویٹ ہیں، جو کہ لندن کے کنگز کالج سے ماسٹرز آف آرٹس اور مدراس یونیورسٹی سے ڈیفینس سٹدیز میں ایم فِل بھی کر چکے ہیں۔

انڈین حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق چار دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں وہ آسام میں گڑھوال رائفلز، انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 168 انفینٹری بریگیڈ، کور ٹو اور مغربی محاذ پر انڈین فوج کی سٹرائیک کور کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ اپنے کیریئر کے دوران قازقستان میں انڈیا کے ڈیفینس اتاشی بھی رہے ہیں۔

انڈین حکومت کے اعلامیے کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی ’مغربی اور شمالی سرحدوں پر آپریشنل صورتحال اور عسکری ڈائنامکس کے بارے میں گہرا علم اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔‘

کارگل جنگ: کیا نواز شریف کو زمینی حقائق کا علم انڈین وزیراعظم واجپائی سے ہوا؟جب ایک نہتے پاکستانی فوجی پائلٹ نے 55 مسلح انڈین فوجیوں کو ’حاضر دماغی سے‘ قیدی بنا لیاانڈین فوج اور حکومت کے باہمی تنازعات اور 65 کی جنگ کی ’سب سے بڑی غلطی‘’جی پی ایس کی خاموش جنگ‘: جو پاکستان سمیت جنگ کے خطرے والے علاقوں میں پروازوں کو متاثر کر رہی ہےانڈیا میں عید الاضحی پر بڑے جانوروں کے ذبیحے پر پابندیاں: ’قربانی نہ ہونے سے مسلمانوں کا اتنا نقصان نہیں جتنا کہ ہندو بھائیوں کا ہے‘’آپریشن مہادیو‘: انڈین سکیورٹی فورسز پہلگام کے مبینہ پاکستانی حملہ آوروں تک کیسے پہنچیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More