Getty Images
سویڈن میں قائم تھنک ٹینک ’سپری‘ کی جانب سی جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران جہاں انڈیا نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو وسعت دی اور نئے نیوکلیئر ڈیلیوری سسٹمز پر کام جاری رکھا تو وہیں پاکستان نے بھی نئے ڈیلیوری سسٹمز کی تیاری جاری رکھی اور آنے والی دہائی کے دوران اس کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سپری کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جبکہ اس کے بقول انڈیا کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کی تجدید کا مقصد ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بنانا ہے جو چین میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں جبکہ اس کا اندازہ ہے کہ انڈیا کی توجہ پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ پر بھی ہے۔
پاکستان کے بارے میں سپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے 2025 کے دوران تابکاری مواد (فیسل) جمع کیا۔ سپری کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مختصر مسلح جھڑپ کے دوران انڈیا نے پاکستان کے فضائی اور میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا جن کا تعلق ممکنہ طور پر جوہری سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے تاہم دونوں نے کشیدگی میں اضافے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے۔‘
سپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا نے 2026 میں 12 نیوکلیئر وارہیڈ تعینات کیے ہیں اور اب اس کے مجموعی ملٹری سٹاک پائل کی تعداد 190 ہو گئی ہے جبکہ پاکستان کے جوہری وار ہیڈز کی تعداد 170 پر برقرار ہے۔
12 جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے انڈین وزارتِ دفاع کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے روز سپری کی رپورٹ کی روشنی میں کہا کہ ’ہم نے سپری کی رپورٹ اور انڈیا کی جوہری صلاحیتوں میں پیشرفت اور تعیناتی سے متعلق اس کے جائزے کا مطالعہ کیا ہے جس میں جوہری وارہیڈز کی مبینہ تعیناتی بھی شامل ہے۔‘
’اگرچہ ہم سپری کے طریقہ کار یا نتائج کی توثیق نہیں کرنا چاہتے تاہم اس کے مشاہدات ہمارے لیے حیران کن نہیں۔۔۔ یہ نتائج مجموعی طور پر ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں جو پاکستان مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔‘
Getty Imagesپاکستان نے کیا کہا؟
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی سے جمعرات کو سپری کی رپورٹ سے متعلق سوال کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا نے ممکنہ طور پر اپنا روایتی جوہری مؤقف تبدیل کیا اور اطلاعات کے مطابق امن کے دور میں تقریباً 12 جوہری وار ہیڈز تعینات کیے ہیں تو پاکستان اس پیشرفت کو کیسے دیکھتا ہے؟
اس پر طاہر اندرابی نے کہا کہ’ہم نے سپری کی رپورٹ اور انڈیا کی جوہری صلاحیتوں میں پیشرفت اور تعیناتی سے متعلق اس کے جائزے کا مطالعہ کیا ہے جس میں جوہری وارہیڈز کی ممکنہ تعیناتی بھی شامل ہے۔‘
’اگرچہ ہم سپری کے طریقہ کار یا نتائج کی توثیق نہیں کرنا چاہتے تاہم اس کے مشاہدات ہمارے لیے حیران کن نہیں۔۔۔ یہ نتائج مجموعی طور پر ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں جو پاکستان مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اوپن سورس ذرائع پر مبنی اندازے، جیسے سپری کے، انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کے حقیقی حجم کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے اور یہ حجم موجودہ تخمینوں سے زیادہ ہو سکتا ہے۔‘
پی آئی اے طیارے کے اغوا سے چاغی میں ’اللہ اکبر‘ کے نعروں تک: جب چاغی پہاڑ کا سیاہ گرینائٹ سفید ہو گیاانڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جواب’خطروں کا سوداگر‘: پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایران کے جوہری پروگرام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟سابق اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ملک کے لیے ’خطرہ‘ کیوں قرار دیا؟
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ’ہم صرف جوہری وار ہیڈز ہی نہیں بلکہ انڈیا کی تزویراتی صلاحیتوں میں دیگر پیشرفتوں سے بھی آگاہ ہیں جن میں میزائل نظام کی کنسترائزیشن، سمندر میں تعینات جوہری صلاحیت کی حامل آبدوزوں میں توسیع، اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی بڑھتی ہوئی رینج شامل ہے۔‘
ترجمان کے بقول یہ اضافہ ’انڈیا کے قریبی خطے یا اس کی جائز دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے‘ اور اس کے اثرات ’جنوبی ایشیا سے باہر تک پھیلتے ہیں جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ’ہتھیاروں کی دوڑ یا وار ہیڈز، اسلحہ اور گولہ بارود کی تعداد میں برابری کی خواہش نہیں رکھتا تاہم ہم بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول سے آگاہ ہیں۔ ہم تزویراتی استحکام کو برقرار رکھنے اور انڈیا کی جارحیت کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ ’انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار اور تعیناتیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے، جو جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کو متاثر کر سکتی ہیں اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘
’انڈیا کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے سپلائرز کو چاہیے کہ وہ ان جدید ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کے اثرات کو سمجھیں۔ یہ (صلاحیتیں) انڈیا کے تزویراتی ڈھانچے میں شامل کی جا رہی ہیں جن کے سنگین عالمی نتائج ہو سکتے ہیں، جیسا کہ میں نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کے حوالے سے ذکر کیا جو جنوبی ایشیا سے کہیں آگے پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
پاکستان کے کیا خدشات ہیں؟
آٹھ جون کو جاری ہونے والی سپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کے پاس 178 جوہری ہتھیار اُس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، جنھیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم 12 نئے ایٹمی ہتھیار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈیا کے پاس کل 190 ایٹمی ہتھیار ہیں۔ گذشتہ سال یہ تعداد 180 تھی اور تمام ہتھیار جوہری تنصیبات میں ذخیرہ کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے سنہ 2025 اور سنہ 2026 دونوں سال میں کوئی جوہری ہتھیار تعینات نہیں کیا۔
پاکستان نے ابھی تک اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ نہیں کیا اور اس کے پاس اس وقت 170 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
پاکستان کو انڈیا کے جوہری پروگرام پر کیا خدشات ہیں، اس حوالے سے بی بی سی نے عسکری اور جوہری امور کے ماہر سید محمد علی سے بات چیت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کے معیار، مقدار اور مقاصد کا پاکستان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔‘
بی بی سی کے عبید ملک سے بات چیت میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے جو کہا گیا وہ درست نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی منظوری کے بغیر انڈیا میں آٹھ ایٹمی ری ایکٹر ایسے ہیں کہ جو یورینیئم کی افزودگی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔‘
’ایسے میں جس مُلک نے 1974 میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا ہو اور وہ ایک لمبے عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے اور اس کے استعمال کے لیے ایک وسیع میزائل ٹیکنالوجی رکھتا ہو اُس کے ساتھ پاکستان جیسے ایک چھوٹے ایٹمی مُلک کا کوئی مقابلہ نہیں۔‘
سپری کی رپورٹ پر ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے جوہری پروگرام کا کوئی مقابلہ نہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے پاس ’بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے‘ اور پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اتنے اربوں ڈالر لگانے کی کیا ضرورت ہے کہ اگر آپ نے اتنی بڑی مقدار میں ایٹمی ہتھیار بنانے ہی نہیں۔‘
سید محمد علی کے مطابق پاکستان کے جوہری پروگرام اور ہتھیاروں کا مقصد ’صرف اور صرف انڈیا کی جارحیت کا سدِباب کرنا ہے اور انڈیا کے جوہری پروگرام کا مقابلہ کرنا نہیں۔‘
کیا انڈیا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی؟
12 جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے انڈین وزارتِ دفاع کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
بی بی سی ہندی کی نامہ نگار شیوانگی جیسوال سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے امن کے دور میں اس تعیناتی کو حیران کن قرار دیتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ ’یہ جوہری ہتھیار دو ایٹمی آبدوزوں میں نصب کیے گئے ہیں، جو مکمل تیاری کے ساتھ گشت کرتی ہیں۔‘
دفاعی امور کے ماہر راہل بیدی کا کہنا ہے کہ انڈیا ’پہلے حملہ نہ کرنے‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ وارہیڈ (جوہری ہتھیار) اور میزائل (اسے لے جانے کا ذریعہ) دونوں کو الگ رکھا جاتا ہے۔‘
’ان کی جگہیں بھی الگ ہوتی ہیں اور ہنگامی صورتحال میں انھیں یکجا کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔‘
بیدی کے مطابق میرا خیال ہے کہ انڈیا نے اپنی دو جوہری آبدوزوں میں 12 وارہیڈز نصب کیے ہیں، جو مہینوں تک گشت کرتی رہتی ہیں۔
البتہ اس دعوے کی بی بی سی تصدیق نہیں کر سکا۔
جوہری آبدوز ایک جدید جنگی جہاز ہے جو پانی کے اندر چلتا ہے اور اسے توانائی فراہم کرنے کے لیے ایک چھوٹا جوہری ری ایکٹر استعمال ہوتا ہے۔ اسے بار بار ایندھن بھرنے یا آکسیجن کے لیے سطح پر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
راہل بیدی کے مطابق انڈیا کے جوہری دفاعی نظام (نیوکلیئر ڈیٹرنس) کو سمجھ کر ہی اس اقدام کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ انڈیا ممکنہ جوہری حملے کے جواب میں تین طریقوں فضائی، زمینی اور آبدوزی کا استعمال کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق تیسرا طریقہ سب سے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہے کیونکہ سمندر میں آبدوزوں کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک بھی اسی طرح آبدوزوں میں اپنے وارہیڈز تعینات رکھتے ہیں اور انڈیا نے بھی اب یہ طریقہ اپنایا۔
’آتش گیر ایندھن بنانے میں انڈیا اور اسرائیل ایک ہی راستے پر‘
سِپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا نہ صرف اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے بلکہ ان کے لیے ایندھن (تابکاری مواد) بھی تیزی سے تیار کر رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ انڈیا یورینیئم افزودگی کے بجائے پلوٹونیئم کا زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ پاکستان، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ دونوں قسم کے ایندھن استعمال کرتے ہیں۔
راہل بیدی کے مطابق پلوٹونیئم کے ذریعے ایندھن بنانا ایک غیر روایتی طریقہ ہے اور یہ خام مال کی دستیابی پر منحصر ہوتا ہے۔ انڈیا کے پاس دونوں طریقوں سے ایندھن بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
چین تک پہنچ والے ہتھیاروں پر توجہ
رپورٹ کے مطابق انڈیا کا دفاعی نظام اب ایسے طویل فاصلے کے ہتھیار بنانے پر مرکوز ہے جو چین کے تمام علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ انڈیا اپنے ہتھیاروں کے نظام کو جدید بنا رہا ہے جبکہ دنیا ایک نئی جوہری دوڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین، پاکستان، امریکہ اور روس بھی اپنے ہتھیار اپ گریڈ کر رہے ہیں۔
گذشتہ سال انڈیا نے دفاع پر 92.1 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کے بعد وہ دنیا میں دفاعی سازوسامان پر خرچ کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک بن گیا۔ یہ سنہ 2024 کے مقابلے میں 8.9 فیصد زیادہ تھا۔
سنہ 2021 سے 2025 کے دوران انڈیا نے دنیا کے 8.2 فیصد دفاعی ہتھیار خریدے اور وہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔
پاکستان، سعودی عرب، قطر اور یوکرین نے بھی ہتھیاروں کی خرید میں اضافہ کیا اور ان ممالک نے مل کر دنیا کی 35 فیصد دفاعی خریداری کی۔
راہل بیدی کے مطابق انڈیا کو بیرونِ ملک سے خریداری کے بجائے مقامی پیداوار پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، اگرچہ حالیہ برسوں میں اس سمت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟پی آئی اے طیارے کے اغوا سے چاغی میں ’اللہ اکبر‘ کے نعروں تک: جب چاغی پہاڑ کا سیاہ گرینائٹ سفید ہو گیاسابق اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ملک کے لیے ’خطرہ‘ کیوں قرار دیا؟کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان دنیا کے سب سے خطرناک آدمی تھے؟’خطروں کا سوداگر‘: پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایران کے جوہری پروگرام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟میزائل پروگرام پر خدشات سے ’حقیقی دوستی‘ تک: پیٹ ہیگسیتھ نے شنگریلا کانفرنس میں پاکستان امریکہ تعلقات پر کیا کہا؟