’اُڑتا ہوا پُر تعیّش وائٹ ہاؤس‘: قطر کا امریکہ کو دیا گیا غیر مشروط مہنگا تحفہ

بی بی سی اردو  |  Jun 20, 2026

Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں شامل کیے جانے والا ایک نیا بوئنگ 8-747 طیارہ متعارف کروایا ہے۔

یہ طیارہ جس کی مالیت کا تخمینہ 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے قطر کی حکومت نے گذشتہ سال امریکہ کو بطور ’غیر مشروط‘ تحفہ دیا تھا۔ اب امریکی فوج نے اس لگژری جمبو جیٹ میں ترامیم مکمل کر لی ہیں۔

ٹرمپ نے جمعے کو جوائنٹ بیس اینڈروز میں ایک خطاب کے دوران کہا ’اس طیارے کو ایسے فلائنگ وائٹ ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے جس کی لگژری کی سطح پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی۔‘

امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ اب ابتدائی کمیشننگ پروازیں شروع کرے گا۔ کمیشننگ پروازیں طیارے میں کی گئی ترامیم کو جانچنے کے لیے ایک ’حتمی امتحان‘ ہوتا ہے جس کے بعد ہی اسے صدر کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

فضائیہ کے مطابق طیارے میں کی گئی ترامیم میں سکیورٹی، مشن کمیونیکیشنز، لاجسٹکس سپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی اپ گریڈ شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پہلے سے استعمال شدہ اس طیارے میں موجود کسی بھی ممکنہ خطرے کو ’غیر مؤثر‘ کر دیا گیا ہے۔

طیارے کے اندرونی حصوں میں کم سے کم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ بیرونی حصہ پر سرخ، سفید، نیلا اور سنہرا رنگ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مئی 2025 میں، قطر کے شاہی خاندان نے یہ لگژری بوئنگ 8-747 امریکی محکمہ دفاع کو عطیہ کیا تھا تاکہ اسے طیاروں کے اس بیڑے کا حصہ بنایا جا سکے جسے ایئر فورس ون کہا جاتا ہے اور جو امریکی صدر کے فضائی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کیا امریکی قانون صدر ٹرمپ کو قطر کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے لگژری جہاز کا تحفہ قبول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟گلف سٹریم لگژری طیارہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے خریدا گیا یا ائیر پنجاب کے لیے؟دوحہ میں سجے اونٹوں، سائبر ٹرکس اور جیٹ طیاروں سے ٹرمپ کا شاہانہ استقبال اور 96 ارب ڈالر کے تاریخی معاہدے کی رودادامریکی صدر کا طیارہ ’ایئر فورس ون‘ اندر سے کیسا ہے؟AFP via Getty Images

گذشتہ سال جب اس طیارے کے تحفے کی خبر سامنے آئی تو اس پر ٹرمپ کے کچھ اتحادیوں سمیت سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مالیت کا تحفہ قبول کرنا مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ آئین کے خلاف ہو۔

اگرچہ وفاقی قانون کے مطابق امریکی حکام صرف 480 ڈالر تک کے تحائف قبول کر سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس نے اصرار کیا ہے کہ اس طیارے کو قبول کرنا قانونی ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصب چھوڑنے کے بعد اسے ان کی صدارتی لائبریری کو عطیہ کر دیا جائے گا۔

جمعہ کے روز ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس طیارے کی کاریگری ایسی ہے کہ جب آپ اسے دیکھیں گے تو یقین نہیں کریں گے۔‘

’درحقیقت (اس میں استعمال کی گئی) لکڑی کا معیار، مواد کا معیار، انجنز کا معیار، یہ انجنز بہترین ہیں، دنیا میں سب سے بہترین، اس جیسا کچھ نہیں۔‘

صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ واقعی ایک اعزاز ہے،‘ اور ’میں قطر کے امیر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

قطری طیارے کو شامل کیے جانے سے قبل ایئر فورس ون کے بیڑے میں دو 747-200B طیارے شامل تھے جو 1990 سے استعمال میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ کے مطابق ان پرانے ماڈلز میں سے ایک کا استعمال اب بظاہر مرحلہ وار ختم کر دیا گیا ہے۔

چیونگ نے ایکس پر پرانے طیارے کی تصویر کے ساتھ لکھا، ’شاباش، نیک اور وفادار نوکر۔‘ انھوں نے مزید لکھا، ’آخری سفر۔‘

امریکی فضائیہ نے کہا ہے کہ نیا جیٹ عبوری بنیادوں پر اس وقت تک صدر کے زیر استعمال رہے گا جب تک بوئنگ دو VC-25B طیارے فراہم نہیں کر دیتا جس کا اس نے طویل عرصے سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ یہ طیارے طویل مدتی استعمال کے لیے ایئر فورس ون کے طور پر مقرر کیے گئے ہیں لیکن پیداوار میں نمایاں تاخیر کا شکار رہے ہیں۔

امریکی صدر کا طیارہ ’ایئر فورس ون‘ اندر سے کیسا ہے؟طیارہ ساز کمپنیاں ایشیا کے انتہائی امیر افراد کو پُرتعیش جہازوں کے ذریعے کیسے اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں؟بلینڈڈ ونگز: آزمائشی پرواز میں طیارے کی تباہی کے بعد 100 سال قبل ترک کیا گیا خواب کیا اب پورا ہونے کے قریب ہے؟چینی کمپنی کے سستے مسافر طیارے جو بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری ختم کر سکتے ہیںدبئی ایئر شو: بوئنگ اور ایئر بس کا ’مقابلہ،‘ ’تیجس‘ کی تباہی اور اربوں ڈالرز کے معاہدوں کی کہانی’آئی پیڈ چھوڑو اور دھیان دو‘: جب ایک مسافر طیارہ امریکی صدر کے ’ایئر فورس ون‘ کے نزدیک آ گیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More