افغان طالبان کا پاکستان میں ’داعش کے ٹھکانوں‘ پر فضائی حملوں کا دعویٰ: بلوچستان پر داغے گئے چار ڈرونز کو ناکام بنا دیا، آئی ایس پی آر

بی بی سی اردو  |  Jul 01, 2026

EPA

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا دعویٰ ہے کہ منگل کی شب افغان طالبان حکام کی جانب سے صوبہ بلوچستان پر داغے گئے چار سادہ نوعیت کے ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے ’بروقت‘ ان ڈرونز کی نشاندہی کی اور جوابی اقدام کرتے ہوئے اُن کو ’کامیابی کے ساتھ بے اثر‘ کر دیا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے یہ اعلامیہ افغان وزارت دفاع کے اُس بیان کے کچھ ہی دیر بعد جاری کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’افغان فضائیہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پشین اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر داعش کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔‘

افغان وزارت دفاع نے مزید کہا کہ ’بلوچستان کے علاقے سرانان میں ایک ایسے مرکز پر فضائی حملہ کیا گیا، جسے افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

اس کارروائی سے قبل اتوار (28 جون) کی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم افغان حکام اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا کہنا ہے پاکستانی حملوں میں دو درجن سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی اُردو کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع پشین میں ڈرونز گرنے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ پشاور میں ہمارے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں مبینہ طور پر ایک کاپٹر ڈرون کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع اور پاکستانی فوج کے بیاناتGetty Images

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر ’داعش کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

افغان وزارت دفاع نے مزید کہا کہ ’خیبر پختونخوا کے علاقے قمبرخیل میں داعش کے ایک مبینہ مرکز، جبکہ چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں داعش اور دیگر مسلح عناصر کے ایک اور مشترکہ مبینہ مرکز کو بھی فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان مراکز سے افغانستان میں تخریبی کارروائیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائیوں میں داعش کے جنگجوؤں، اُن کے حامیوں اور دیگر مسلح عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے اور ان میں کوئی شہری جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے لانچ کیے گئے چار ڈرونز کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

اس ضمن میں جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’یہ ڈرونز افغان طالبان کی جانب سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور حمایت کے سلسلے کا حصہ تھے۔‘

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے اِن چاروں ڈرونز کی فوری نشاندہی کی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے انھیں تباہ کر دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغان طالبان حکومت کی اس طرح کی چالوں کا مقصد افغان عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ افغان طالبان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اُن کا غیر ذمہ دارانہ رویہ افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس طرح کی حرکتوں اور کھوکھلی بیان بازی کے ذریعے افغان عوام کو بے چین کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انھیں دہشت گردی کی سرپرستی سے گریز کرنا چاہیے۔‘

پاکستانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی جاری رکھی تو انھیں ایسا جواب دیا جائے گا جس کی انھیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی سرحد پار کارروائی یا اشتعال انگیزی کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جاتا رہے گا۔‘

اتوار کی شب کیا ہوا تھا؟Getty Imagesپکتیا میں پاکستانی فضائی حملے میں نشانہ بننے والے مقام پر لوگ جمع ہیں

اس سے قبل اتوار (28 جون) کی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا بھی دعویٰ ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 28 عام شہری ہلاک جبکہ 49 زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ اِن حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں شدت پسندوں کے مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کیا گیا تھا۔

اتوار کی شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 28 جون (اتوار) کو ہی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدت پسند کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت کالعدم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے مزید تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔‘ طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے علاقے سمکانی اور کنڑ کے علاقے منورہمیں عام شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

پکستانی فوجی کے مطابق اس واقعے میں تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ کالعدم تحریکِ طالبان سے منسلک گروہ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں رینجرز کیمپ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ شدت پسند نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اُس نے وہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا پر اس شدت پسند کا ’اعترافی بیان‘ بھی نشر کیا گیا ہے۔

اتوار کی شب ہونے والی کارروائی کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ ’گذشتہ رات افغان ناظم الامور کو طلب کر کے کراچی میں ہونے والے دہشتگرد حملے کے حوالے سے سخت احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق: ’اسی نوعیت کا ایک مراسلہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر، عبیدالرحمان نظامانی کی جانب سے افغان وزارتِ خارجہ کو بھی دیا گیا۔‘

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’یہ احتجاجی مراسلے اس حقیقت کے پیشِ نظر جاری کیے گئے کہ افغان شہری، جن میں ایک زندہ گرفتار ہوا، اس حملے میں ملوث تھے۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’اس سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوتی ہے کہ افغان سر زمین اور افغان شہری پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔‘

Getty Images28 جون کی شب پکتیا میں ہوئے فضائی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت’زیادہ نقصان پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا‘

بی بی سی پشتو کے مطابق اتوار کی شب پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا۔

طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا تھا کہ اس گاؤں میں تقریباً 100 افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی پشتو کے مطابق وہ آزادنہ طور پر جانی نقصان سے متعلق اس دعوے کی تصدیق نہیں کر پائے ہیں۔

مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن ڈاکٹر نوروز نے کہا تھا کہ حملے کے بعد 40 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے شدید زخمیوں کو گردیز کے ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

بنوں میں پولیس چوکی پر حملہ: پاکستان کا افغانستان میں حملے کی منصوبہ بندی ہونے کا دعویٰ، افغان طالبان کی تردیدکراچی میں چینی قافلے پر خودکش حملہ: بمبار کے ایک ہاتھ سے پولیس ’سہولت کاروں‘ تک کیسی پہنچی’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟طورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟

بی بی سی پشتو کے مطابق پکتیکا کے علاقے گیان میں ہونے والے حملے میں محمد امین نامی شخص کا گھر نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ کنڑ میں طالبان حکومت کے مقامی حکام نے بی بی سی کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا کہ ضلع مرورہ کے علاقے بارول میں رات گئے ایک فضائی حملے میں ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم علاقہ دور دراز ہونے کے باعث تاحال جانی نقصان یا تباہی کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

کچھ زخمی افراد اور عینی شاہدین، جن کی ویڈیوز بی بی سی پشتو کو موصول ہوئی ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی حملوں میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ عرصے میں پاکستان کی افغانستان میں کارروائیوں کے دعوے Reutersدس جون کو بھی پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے 26 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا

یاد رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک دونوں ممالک کے حکام کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

پاکستان افغان طالبان کی حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں کر کے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کر چکا ہے۔ تاہم افغان طالبان ہمیشہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان حملوں میں مارے جانے والے افراد عام شہری ہوتے ہیں۔

رواں ماہ دس جون کو بھی پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’درستگی کے ساتھ‘ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 26 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دس جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے پاک-افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں پر درستگی سے حملے کرتے ہوئے 26 خوارج کو ہلاک کیا ہے۔‘

اس سے قبل پاکستان نے رواں سال فروری میں افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان سے منسلک ان مقامات پر متعدد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

اس کے بعد مارچ میں طالبان حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 269 ہے۔

یاد رہے کہ ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان راستے کافی عرصے سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہے۔

Getty Imagesجماعت الاحرار کیا ہے؟

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ رات کیے گئے حملوں میں جماعت الاحرار سے منسلک ٹھکانوں اور مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہ وہی کالعدم گروہ ہے جس نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا تھا کہ بعض غیر ملکی جنگجوؤں، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند گروہ شامل ہیں، نے ایک اتحاد کے تحت اُن کے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔

ان کے مطابق جماعت الاحرار کی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی گئی تھی، جس نے باہمی ووٹنگ کے ذریعے عمر خالد خراسانی کو جماعت الاحرار کا سربراہ منتخب کیا تھا۔

احسان اللہ احسان کے مطابق بعد ازاں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف ’ناظم‘ کے حوالے کی گئی، جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر ہیں۔ نومبر 2025 تک ’ناظم‘ جماعت الاحرار کے میڈیا اور مشاورتی امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض مسلح کمانڈروں کی خواہش تھی کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد ’پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘

احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔

بی بی سی پشتو کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس گروہ نے اپنی زیادہ تر توجہ مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی کیونکہ اس کی قیادت کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔

مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان کے متعدد اہم کمانڈرز بعدازاں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مولوی صابر بھی شامل تھے۔

یہ تنظیم پاکستان میں کئی بڑے شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔

’پہلے دھماکہ ہوا، پھر شدید فائرنگ:‘ کراچی میں رینجرزکیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک، تین حملہ آور بھی مارے گئےجماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی میں ’خونیں جھڑپ‘ اور 18 شدت پسندوں کی ہلاکت: کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں؟’شدت پسندوں سے کہا تھا کہ ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘: بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دھماکوں میں سات افراد کی ہلاکت اور مقامی آبادی کے خدشاتبنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More