ہرجانےکاکیس،خواجہ آصف کا حق جرح بحال کرنےکا تحریری فیصلہ جاری

سماء نیوز  |  Jan 24, 2022

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوکت خانم اسپتال ہرجانہ کیس میں وزیراعظم عمران خان پر پاکستان مسلم لیگ( ن ) کےرہنما خواجہ آصف کا حق جرح بحال کرنےکا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ تحریری فیصلے میں دونوں فریقین کو ہی ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جرح کا حق ختم کرنےکا فیصلہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں دیا، ایسا کرنا شفاف ٹرائل کے طے شدہ اصولوں اور قانون کے خلاف  ہے،اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت عالیہ نے خواجہ آصف اورعمران خان کے وکلا کے دلائل کو بھی تحریری فیصلے کا حصہ بنایا۔

عمران خان نے شوکت خانم اسپتال سے متعلق بیان پر خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کر رکھا ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے خواجہ آصف کا عمران خان اور گواہوں پر جرح کا حق ختم کردیا اور خواجہ آصف نے یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خواجہ آصف نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کے سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم سے متعلق معاملات میں الزامات لگانے پر خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا گیا تھا۔

خواجہ آصف نے درخواست میں ایڈیشنل سیشن جج اور عمران احمد خان کو فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نے ای کورٹ کے ذریعے وزیراعظم کا بیان وکیل صفائی کی عدم موجودگی میں ریکارڈ کیا۔

وکیل نے خرابی صحت کے باعث عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 17 دسمبر کو پیش نہیں ہو سکتے، عدالت نے قانون کا حوالہ دیے بغیر جلدبازی میں فیصلہ سنایا، جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔

پس منظرواضح رہے کہ خواجہ آصف کی جانب سے شوکت خانم میمورئیل ٹرسٹ کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزام کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 2012ء میں عمران خان نے خواجہ آصف پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرکے 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اپنی درخواست میں وزیر اعظم نے خواجہ آصف کی یکم اگست 2012ء کو کی گئی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا جس میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ زکوٰۃ، فطرے اور دیگر مراعات میں شوکت خانم ٹرسٹ کو ملنے والے فنڈز رئیل اسٹیٹ میں لگائے۔

وزیر اعظم نے عدالت میں ڈیجیٹل طریقے سے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ 1991ء سے 2009ء تک وہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ کنندہ تھے اور یہ کہ جس سرمایہ کاری کے حوالے سے الزام لگایا جارہا ہے وہ ٹرسٹ کی جانب سے بغیر کسی نقصان کے ریکور کرلی گئی تھی۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کا مقصد شوکت خانم ٹرسٹ پر سے عوام کے اعتماد کو کم کرنا تھا، وزیر اعظم نے یہ بیان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عدنان کے سامنے ریکارڈ کروایا۔

اپنی درخواست میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے یکطرفہ طور پر انہیں عمران خان سے جرح کا حق نہیں دیا۔

درخواست کے مطابق، مقدمے میں شامل معاملات کو 5 جنوری 2021ء کو تیار کیا گیا تھا اور درخواست گزار نے 16 جنوری کو گواہوں کی فہرست جمع کروائی تھی۔

درخواست میں دلیل دی گئی تھی کہ درخواست گزار نے دفاع کے گواہوں کی تعداد بڑھانے کے لیے متعدد درخواستیں دائر کی تھیں، لیکن ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ان درخواستوں پر فیصلہ کیے بغیر معاملے کو آگے بڑھا دیا۔

خواجہ آصف نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست دائر کی جسے 23 اکتوبر 2021ء کو خارج کر دیا گیا تھا 26 نومبر کو خواجہ آصف کے وکیل نے کارروائی میں شامل ہونے کے لیے دوبارہ درخواست دائر کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا، تاہم اڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے خواجہ آصف کی جانب سے بیان حلفی جمع کروانے کی زبانی درخواست کو 5 ہزار روپے کی ادائیگی سے مشروط کرتے ہوئے قبول کرلیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ 17 دسمبر کو کارروائی شروع ہونے سے قبل عدالت کو بتایا گیا کہ خواجہ آصف کے وکیل بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے تاہم اڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے وکیل کی عدم موجودگی میں وزیر اعظم خان کا بیان ریکارڈ کیا، اب اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم کو منسوخ کردے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More