انڈیا میں شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 36 افراد ہلاک

اردو نیوز  |  Sep 25, 2022

شمالی انڈیا میں  موسلادھار بارشوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے 12 کی موت آسمانی بجلی گرنے سے ہوئی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈیا میں حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے آنے والے دنوں میں مزید موسلادھار بارشوں کا انتباہ جاری کیا ہے۔

ریلیف کمشنر رنویر پرساد نے بتایا کہ شمالی ریاست اتر پردیش میں موسلا دھار بارشوں کے دوران مکانات گرنے سے تقریباً 24 افراد ہلاک ہو گئے۔

15 سالہ محمد عثمان جمعے کی شام پریاگ راج شہر میں اپنے دوست کی چھت پر موجود تھے جب آسمانی بجلی گر گئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ان کے ساتھی اذنان زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

محمد عثمان کے والد محمد ایوب نے بتایا کہ ’جیسے ہی انہوں نے چھت پر قدم رکھا ان پر آسمانی بجلی گر گئی اور میرا بیٹا ہلاک ہو گیا۔‘

حکام نے بتایا کہ ریاست میں گزشتہ پانچ دنوں میں آسمانی بجلی گرنے سے 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریلیف کمشنر رنویر پرساد نے بتایا کہ اتر پردیش میں  مکانات گرنے سے تقریباً 24 افراد ہلاک ہو گئے (فوٹو: اے ایف پی)انڈیا میں مون سون جو جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہیں۔

کرنل سنجے سریواستو، جن کی تنظیم لائنٹننگ انڈیا ریزیلیئنٹ انڈیا کے محکمہ موسمیات کے ساتھ کام کرتی ہے، نے بتایا کہ ’جنگلات کی کٹائی، پانی کے ذخائر کی کمی اور آلودگی سب موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ ڈالتے ہیں جس سے زیادہ آسمانی بجلی گرتی ہے۔‘

سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل سنیتا نارائن کا کہنا ہے کہ ’درجہ حرارت میں 1 ڈگری سیلسیس (1.8 ڈگری فارن ہائیٹ) اضافہ آسمانی بجلی کو 12 گنا بڑھا دیتا ہے۔‘

گزشتہ ایک سال کے دوران انڈیا میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کرنل سنجے سریواستو کے مطابق انڈیا میں 2016 میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہزار 489 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر دو ہزار 869 ہو گئی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More