80 سال قبل نازیوں کی لوٹی ہوئی تاریخی پینٹنگ جو ایک پُرتعیش گھر کے اشتہار میں نظر آئی

بی بی سی اردو  |  Aug 30, 2025

نازیوں نے جو پینٹنگ ایمسٹرڈیم کے ایک یہودی آرٹ ڈیلر سے چوری کی تھی وہ 80 برس بعد میلوں دور ارجنٹائن میں گھر کے اشتہار میں دیکھی گئی ہے۔ مگر اس گھر پر چھاپے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ پیٹنگ ایک بار پھر غائب ہو گئی ہے۔

اشتہار میں موجود تصویر ’پورٹریٹ آف اے لیڈی‘ اطالوی مصور جوسیپے جیزلیندی (1655-1743) نے بنائی تھی۔ مگر اب یہ تصویر بیونس آئرس سے تقریباً 400 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر مار ڈیل پلاٹا میں ایک گھر کے اندر صوفے کے اوپر لٹکی دکھائی دے رہی ہے۔

پینٹنگ ہٹلر کے نیم فوجی ادارے ایس ایس کے افسر اور جنگی مجرم ہرمن گورنگ کے اعلیٰ مالیاتی مشیر فریڈرک کڈگین کے پاس تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جنوبی امریکہ چلے گئے تھے۔

نیدرلینڈ کے ایک بڑے اخبار ’الخمین ڈخبلاچ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ پینٹنگ، جنگ کے وقت کے گمشدہ آرٹ ڈیٹا بیس میں درج تھی اور اس کا کھرا اس وقت ملا جب گھر کا افسر کی بیٹی نے اشتہار لگوایا۔

جائیداد کی فروخت کا اشتہار دینے والی رئیل سٹیٹ کمپنی نے اس گھر کی تمام تفصیلات کو پیر تک اپنی ویب سائٹ پر رکھا۔ جب اخبار میں یہ تفصیلات سامنے آئیں تو اس کے بعد اس تصویر کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

اگلے دن ارجنٹائن کی پولیس نے اس گھر پر چھاپہ مارا لیکن پینٹنگ وہاں موجود نہیں تھی۔

پراسیکیوٹر کارلوس مارٹنیز نے 4100 پیڈری کارڈیل سٹریٹ کے گھر سے نکلنے کے بعد مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’پینٹنگ وہاں موجود نہیں ہے، صرف ایک کاربائن اور ایک 32-کیلیبر ریوالور ضبط کیا گیا ہے۔‘

عدالتی حکام کو یہ توقع ہے کہ ٹیکسٹائل کے کاروبار سے منسلک اس گھر کی مالک 59 برس کی پیٹریشیا کڈگین اور ان کے شوہر جلد عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

یہ پینٹنگ آرٹ ڈیلر جیک گوڈسٹیکر سے لوٹی گئی سینکڑوں چیزوں میں سے ایک ہے۔ جیک گوڈسٹیکر نے جنگ کے دوران بہت سے یہودیوں کو فرار ہونے میں مدد دی تھی۔

جیک گوڈسٹیکر ہالینڈ سے فرار ہوتے ہوئے کشتی کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے اور برطانیہ میں ان کی تدفین کر دی گئی تھی۔

ان کی موت کے بعد گوڈسٹیکر کے مجموعے سے 1,100 سے زیادہ آرٹ ورک نازی رہنماؤں نے جبری فروخت میں حاصل کیے، جن میں یہ پینٹنگ بھی شامل تھی۔

جنگ کے بعد کچھ چیزیں جرمنی سے برآمد ہوئیں اور نیدر لینڈ کے قومی مجموعہ کے ایک حصے کے طور پر ایمسٹرڈیم کے رائیکس میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئیں۔

اخبار کے مطابق جیک گوڈسٹیکر کے واحد زندہ بچ جانے والے وارث، ان کی بہو میری وون سحر نے سنہ 2006 میں 202 چیزیں برآمد کیں۔

لیکن یہ پینٹنگ تاحال لاپتہ ہے۔

نیدر لینڈ کے اخبار کی ایک تفتیش میں جنگ کے وقت کے دستاویزات کا انکشاف ہوا جس سے پتا چلتا ہے کہ پینٹنگ فریڈرک کڈگین کے قبضے میں تھی، جسے گورنگ کا بہت قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔

یہ نازی اہلکار سنہ 1945 میں سوئٹزرلینڈ فرار ہو گئے تھے اور پھر وہاں سے برازیل چلے گئے تھے۔ ارجنٹائن پہنچ کر وہ ایک کامیاب تاجر بن گئے۔

فریڈرک کڈگین کی 1979 میں وفات ہوئی۔ امریکی تفتیش کار انھیں ’بدترین سانپ‘ س تشبیہ دیتے تھے۔

’کبھی میں کبھی تم‘ کے سین میں موجود فن پارے ’آرٹسٹ کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے‘برطانیہ میں گمشدہ فن پارے جو لاہور میں کباڑیے کی دکان سے ملے’ہماری بہنوں کی قربانی نے قیدیوں کی زندگی بچائی‘: نازی فوجیوں کے ہاتھوں 11 راہباؤں کی ہلاکت کا معمہ فتح کا دن آٹھ مئی: جب برلن میں نازی دور کا اختتام ہواگھر فروخت کا اشتہار جس نے اس معاملے کو نیا رُخ دے دیا

اس اخبار کی خبر کے مطابق اس نے کئی سالوں سے بیونس آئرس میں مرنے والے نازی رہنما کی دو بیٹیوں سے کڈگین اور گمشدہ فن پاروں کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملی۔

تاہم صحافیوں کی قسمت تک جاگ اٹھی جب کڈگین کی بیٹیوں میں سے ایک نے ارجنٹائن کی مہنگی جائیدادوں میں مہارت رکھنے والے ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے نازیوں کی ملکیت میں رہنے والے گھر کو فروخت کرنے کا اشتہار دیا۔

نیدرلینڈز کلچرل ہیریٹیج ایجنسی (آر سی ای) کی اینیلیز کول اور پیری شریر نے کہا کہ ’اس پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ ایک نقل ہو سکتی ہے۔‘

اخبار کی خبر کے مطابق ایک اور چوری شدہ آرٹ ورک کو بھی ایک بہن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دیکھا گیا۔

تصویر دیکھنے کے بعد ان بہنوں سے موقف لینے کی کوشش کی گئی مگر اس میں بھی کامیابی نہ مل سکی۔

اخبار کے مطابق ایک بہن نے اخبار کو یہ بیان دیا کہ ’میں نہیں جانتی کہ وہ مجھ سے کیا معلومات چاہتے ہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس پینٹنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

جیک کی جائیداد کے مقدمے میں وکلا نے کہا ہے کہ وہ پینٹنگ کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

وون سحر کا کہنا تھا کہ ’میرا خاندان جیک کے مجموعے سے چوری ہونے والے آرٹ کے ہر ایک فن پارے کو بازیافت کرنے اور اس کی میراث کو بحال کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔‘

’کبھی میں کبھی تم‘ کے سین میں موجود فن پارے ’آرٹسٹ کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے‘برطانیہ میں گمشدہ فن پارے جو لاہور میں کباڑیے کی دکان سے ملے’نازیوں کا شکاری‘ جو ہولوکاسٹ کے 80 سال بعد بھی ممکنہ مجرموں کے تعاقب میں ہےوہ 90 منٹ جن میں لیا گیا فیصلہ یہودیوں پر قیامت بن کر ٹوٹایہودی لڑکی نازیوں سے چھپنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟نازی کیمپ: جہاں انسان مویشی بوگیوں میں لائے گئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More