روسی صدر ولادیمیر پوتن چار اور پانچ دسمبر کا انڈیا کو دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کریں گے۔
سنہ 2021 کے بعد پہلی مرتبہ ولادیمیر پوتن انڈیا اور روس کے مابین سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا پہنچیں گے۔
انڈیا اور روس کے درمیان ’برسوں پرانی علاقائی شراکت داری‘ ہے اور دونوں ممالک کئی اہم مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
صدر پوتن کے دورے کے دوران انڈیا اور روس کے درمیان روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام ایس 400 اور سخوئی 57 لڑاکا طیاروں کے دفاعی معاہدوں پر بات چیت کی توقع ہے۔ روس کے خام تیل پر امریکی پابندیوں کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔
صدر پوتن کا یہ دورہ روس اور انڈیا کو جوہری توانائی، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے میدان میں اپنے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
روسی سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے بین الاقوامی مسائل پر گہرائی سے بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ’شاندار اور کامیاب‘ ہوگا۔
صدر پوتن کا یہ دورہ انڈیا کی سٹریٹجک خود مختاری کا اشارہ دیتا ہے۔ انڈیا نے یوکرین تنازعہ کے درمیان روس کو تنہا کرنے کے لیے مغربی دباؤ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انڈیا پر بھاری محصولات اور پابندیاں بھی عائد کی ہیں جس سے امریکہ اور انڈیا کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔
ایسے میں تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ روسی صدر پوتن کا یہ دورہ انڈیا اور روس کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور عالمی سلامتی کو ایک نئی شکل دے سکتا ہے۔
انڈیا کے قومی نشریاتی ادارے دوردرشن سے بات کرتے ہوئے سابق سفارت کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) منجیو سنگھ پوری نے کہا کہ ’دُنیا کے دو اہم مُمالک کے رہنما ملاقات کرنے جار رہے ہیں یہ نہایت اہمیت کا حامل لمحہ ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ آپریشن سندور کے دوران روس سے ملنے والے ہتھیاروں، خاص طور پر فضائی دفاعی نظام ایس 400 نے انڈیا کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انتہائی جدید سخوئی 57 لڑاکا طیاروں کے بارے میں بھی کافی باتیں ہو رہی ہیں۔ دونوں ملک نہ صرف تاریخی طور پر اتحادی ہیں بلکہ جوہری توانائی جیسے کئی شعبوں میں نئی شراکت داری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
پوتن اس سے پہلے کب انڈیا آئے تھے؟Getty Images
یوکرین پر روس کے حملے سے پہلے انڈیا اور روس دونوں ملکوں کے اعلیٰ رہنما سالانہ سربراہی ملاقاتیں کرتے تھے۔ تاہم بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر پوتن کی جانب سے یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے بعد دسمبر 2022 میں انڈیا کی اعلیٰ قیادت نے پوتن سے ملاقات نہیں کی۔
پوتن اور مودی کی ملاقات گذشتہ سال اکتوبر 2024 میں ہوئی تھی جب روس نے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جولائی 2024 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس کا اپنا پہلا دورہ کیا تھا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ یہ نریندر مودی کا بطور وزیراعظم اپنی تیسری مدت کے دوران پہلا دو طرفہ دورہ بھی تھا۔
امریکی ’پابندیوں‘ کے بعد انڈیا کی چین سے تعلقات بحال کرنے کی کوشش: کیا پوتن مودی کی مشکل کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟’ٹیرف کنگ‘ پر 25 فیصد محصول اور اضافی جرمانے: کیا امریکی صدر کا دباؤ انڈیا کو روس سے دور کر پائے گا؟امریکی صدر کی دھمکی، انڈیا کا ’تلخ‘ جواب اور مودی کی مشکل: ’ٹرمپ مسلسل توہین کر رہے ہیں، وزیراعظم زیادہ دیر خاموش نہیں رہیں گے‘سستے تیل کے بدلے بڑا امتحان: روسی تیل انڈیا کے لیے کتنا اہم ہے؟
کیئو میں بچوں کے ہسپتال پر روسی میزائل حملے کے ایک دن بعد بین الاقوامی ردِ عمل اور غم و غصے کے درمیان پوتن اور مودی کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دوران پوتن نے مودی کو گلے لگایا اور انھیں اپنا ’دوست‘ کہا تھا۔
نریندر مودی کے روس کے دو دوروں کے بعد میڈیا میں پوتن کے ممکنہ دورہ انڈیا کے بارے میں خبریں آئیں تھیں۔
روس انڈیا تعلقات اور پوتن کے مجوزہ دورہ انڈیا پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بلومبرگ نے لکھا تھا کہ ’اس سال جب وزیر اعظم مودی نے روس کا دورہ کیا تو اس سے امریکہ میں تشویش پیدا ہوئی۔ امریکہ یوکرین جنگ پر روسی صدر کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ تاہم امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اسے ایشیا پیسیفک خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے لیے انڈیا کی ضرورت ہے۔‘
انڈیا روس پرانی دوستیGetty Images
انڈیا اور روس کے درمیان سرد جنگ کے دور سے ہی قریبی تعلقات رہے ہیں۔ انڈیا روسی ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔
یوکرین کی جنگ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روسی خام تیل پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے انڈیا روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا ہے۔
بلومبرگ نے ولادیمیر پوتن کے مجوزہ دورے پر اپنے مضمون میں کہا تھا کہ ’اگر پوتن انڈیا جاتے ہیں تو یہ بیرون ملک سفر کرنے میں ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی بھی عکاسی کرے گا۔ خاص طور پر ایسے میں جب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گذشتہ سال مارچ میں ان کے خلاف یوکرین میں جنگی جرائم میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے۔‘
انڈیا آئی سی سی کا رکن نہیں ہے اور اس کے وارنٹ کو نافذ کرنے کا پابند نہیں ہے۔ اس کے باوجود پوتن نے سنہ 2023 میں انڈیا میں منعقدہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
تاہم جب پوتن نے ستمبر سنہ 2024 میں منگولیا کا دورہ کیا تو اس ملک نے آئی سی سی کے وارنٹ کو نافذ نہیں کیا۔ منگولیا آئی سی سی کا رکن ملک ہے اور اسے وارنٹ نافذ نہ کرنے پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اب چار اور پانچ دسمبر کو ہونے والی 23ویں انڈیا روس سالانہ کانفرنس کے لیے پوتن کے دورہ انڈیا کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ یہ دورہ ایک مشکل وقت میں ہو رہا ہے اور نہایت اہمیت کا حامل بھی ہے۔
فارن پالیسی میگزین نے ایک مضمون میں لکھا کہ ’انڈیا نے پوتن کی آمد کے حوالے سے اپنی سٹریٹیجک سرمایہ کاری کا بڑا حصہ خرچ کر دیا ہے۔‘
اس مقصد کے لیے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے رواں ماہ ماسکو کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ایک وفد کے ہمراہ پوتن سے ملاقات کی۔
اس سے قبل اگست میں جے شنکر اور انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
پوتن کا انڈیا کا دورہ پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان حالیہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اور پوتن نے اگست میں الاسکا میں ملاقات کی لیکن ان کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔
الاسکا میٹنگ کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نیٹو اتحادیوں کے ذریعے یوکرین کو محدود مقدار میں ہتھیار بھیج رہی ہے۔ اس ماہ امریکہ نے پہلے فراہم کیے گئے پیٹریاٹ میزائلوں کو بھی اپ گریڈ کیا۔
ٹرمپ کا اگلا اقدام کیا ہو گا؟Getty Images
فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹیٹیوشن کے سینئر فیلو سُمیت گنگولی نے لکھا، ’انڈیا اور روس ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں کیونکہ دونوں امریکہ کے دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔‘
اگرچہ ٹرمپ نے روس کی یوکرین جنگ کے بارے میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی غیر سمجھوتہ کرنے والی پالیسی کو نہیں اپنایا ہے اور حال ہی میں ایک امن منصوبے کا اعلان کیا ہے جس میں یوکرین کے لیے اہم رعایتیں درکار ہیں، لیکن روس یوکرین کے لیے امریکہ کی مسلسل حمایت سے غیر مطمئن ہے۔
انڈیا روس سے خام تیل کی بڑی مقدار خرید رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں یہ ٹرمپ انتظامیہ کا نشانہ رہا ہے۔ تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے غصے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مودی نے انھیں مئی میں پاکستان کے ساتھ مختصر لیکن شدید فوجی تنازع ختم کرنے کا کریڈٹ نہیں دیا۔
فارن پالیسی آرٹیکل میں کہا گیا ہے، ’انڈیا پاکستان بحران ختم ہونے کے بعد مودی نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو چار فون کالز نہیں کیں۔ اس کے فوراً بعد، ٹرمپ نے متعدد انڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف لگا دیا اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات ٹوٹ گئے۔‘
انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں اس بگاڑ کے درمیان انڈیا کا کھلے عام روس کی طرف ہاتھ بڑھانا حیران کن نہیں ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’کئی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلے ہفتے ہونے والی کانفرنس اہم ہو گی۔ اس کانفرنس کے دوران بہت سے معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس میں سخوئی-57 لڑاکا طیاروں سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے۔‘
پوتن کے دورہ انڈیا کے دوران یہ ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان زیر بحث تمام معاہدوں پر دستخط نہ ہوں لیکن بعض معاملات میں نتائج کی توقع ضرور ہے۔
پوتن کا نئی دہلی کا دورہ یقینی طور پر انڈیا اور روس دونوں کی طرف سے دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ ’دونوں کے طاقتور دوست ہیں۔‘
فارن پالیسی نے لکھا، ’یہ پیغام یقیناً امریکہ تک پہنچے گا، لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ ٹرمپ انڈیا اور روس کے درمیان اس نئی گرمجوشی پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے۔‘
سستے تیل کے بدلے بڑا امتحان: روسی تیل انڈیا کے لیے کتنا اہم ہے؟روس نے پاکستان کے ساتھ تنازع میں انڈیا کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟الاسکا میں ٹرمپ کی پوتن سے ملاقات کے بعد انڈیا روسی تیل خرید پائے گا؟’ٹیرف کنگ‘ پر 25 فیصد محصول اور اضافی جرمانے: کیا امریکی صدر کا دباؤ انڈیا کو روس سے دور کر پائے گا؟کیا ٹرمپ اور مودی کے درمیان خوش کلامی تعلقات میں بہتری لا سکے گی؟ٹرمپ کی سرزنش، شی سے مصافحہ اور روسی تیل: انڈیا کی خارجہ پالیسی کا امتحان