Getty Imagesبنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے وہ اپنی ٹیم انڈیا نہیں بھیجیں گے
’بنگلہ دیش پاکستان نہیں ہے۔۔۔ آئی سی سی کو پاکستان کی ضرورت ہے اور پاکستان کی طرف سے دی گئی دھمکی حقیقی ہوتی ہے۔ اگر بنگلہ دیش انڈیا آنے سے انکار پر ڈٹا رہا تو یہ ورلڈ کپ سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔‘
یہ کہنا ہے کہ انڈین سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا کا جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی جانب سے اپنی ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہ بھیجنے کے اعلان پر ردِعمل دے رہے تھے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہیں بھیج سکتے، لہذا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بنگلہ دیش کے میچز کسی اور مقام پر منتقل کر دے۔
سات فروری 2026 سے شروع ہونے والی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبائی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھی ورلڈ کپ کے اپنے تام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ اتوار کو ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا، جس میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ایسے موقع پر بلایا گیا تھا، جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے عوامی مخالفت اور تنقید کے بعد بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو انڈین پریمیئر لیگ سے ریلیز کر دیا ہے۔
انڈیا میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے حکومت پر دباو ڈالا جا رہا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے ’مظالم‘ کے پیشِ نظر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔
اس حوالے سے بالی وڈ سٹار شاہ رُخ خان کو بھی ’غداری‘ کے طعنے دیے جا رہے تھے جن کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمن کو نو کروڑ انڈین روپوں کے عوض اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔
Getty Imagesکولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمن کو نو کروڑ انڈین روپوں میں خریدا تھا’بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے‘
اتوار کو ہونے والے اجلاس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’بورڈ کا خیال ہے کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز، بورڈ ممبران اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی حفاظت کے لیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹیم ایک محفوظ اور مناسب ماحول میں ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکے، یہ اقدام ضروری ہے۔‘
شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنے گروپ مرحلے کے چاروں میچز انڈیا میں کھیلنے ہیں، بنگلہ دیش کی ٹیم سات فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اعلامیے میں مستفیض الرحمن کو ریلیز کرنے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’بورڈ نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے، صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا اور انڈیا میں کھیلے جانے والے میچوں میں بنگلہ دیش کی شرکت سے متعلق مجموعی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔‘
عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کے اعلان پر ’نسلی امتیاز‘ کا شکوہ: ’مسلمان پاکستانی لڑکے سے کہا گیا تم کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل پاؤ گے‘علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟کوہلی کا محمد شامی کے حق میں بیان: ’انڈین ٹیم کے کپتان پاکستانی پروپیگنڈا کی تائید کر رہے ہیں‘دو دن کے ٹیسٹ میچ میں صرف 142 اوورز اور 34 وکٹیں، 15 برس بعد انگلینڈ کی آسٹریلیا میں جیت کی کہانیسوشل میڈیا پر ردِعمل
بنگلہ دیش کی جانب سے اپنی ٹیم انڈیا نہ بھیجنے کے اعلان پر انڈین صارفین اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی صارفین کی جانب سے بنگلہ دیش کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔
راجیو نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’میں واقعی نہیں جانتا کہ بنگلہ دیش اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے کوئی شیڈول تبدیل نہیں ہونے والا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ کوئی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ سب مستفیض کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔‘
سابق ٹیسٹ کرکٹ اور سپورٹس تجزیہ کار آکاش چوپڑا بھی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اپنی ویڈیو میں بنگلہ دیش کرکٹ پر انڈیا کے احسانات گنواتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سنہ 2001 میں بنگلہ دیش کو ٹیسٹ نیشن کا درجہ انڈیا نے ہی دلوایا تھا، جب جگ موہن ڈالمیا آئی سی سی کے صدر تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اب ٹورنامنٹ شروع ہونے میں بہت کم وقت بچا ہے، اتنے کم عرصے میں بنگلہ دیش کے میچز کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا آسان نہیں ہو گا۔
آکاش چوپڑا نے سنہ 1971 کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تاریخ ہمیں بہت کچھ بتاتی ہے۔‘
ارجن ڈاہر نامی صارف نے لکھا کہ ’انھیں (بنگلہ دیش) ٹیسٹ کا درجہ دلوانے اور ان کے ساتھ پہلا میچ کھیلنا تو ایک طرف بنگلہ دیش تو بنا ہی انڈیا کی وجہ سے تھا۔‘
سجیب الرحمن ناصر نامی صارف نے لکھا کہ ’تاریخ کا احترام ایک چیز ہے، لیکن موجودہ حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اگر کھلاڑی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے تو آپ اُنھیں کھیلنے پر مجبور نہیں کر سکے۔‘
پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے مستفیض الرحمن کو ریلیز کرنے کے معاملے پر لکھا کہ حیرت ہے کہ انڈیا شیخ حسینہ کو پناہ دے سکتا ہے، لیکن بنگلہ دیش کے ایک کھلاڑی کو آئی پی ایل کھیلنے نہیں دے سکتا۔
انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش انڈیا کو غیر محفوظ قرار دے کر یہاں نہیں کھیلنا چاہتا، یہ بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے انڈیا مخالف جذبات کی ایک بڑی مثال ہے،1971 سے 2026 تک: یہ کہاں آ گئے ہم۔۔‘
کانگریس کے رہنما ششتی تھرور نے انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو میں کہا کہ ایسے وقت میں جب ہم سفارتی محاذ پر بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مستفیض الرحمن سے متعلقہ فیصلہ بدقسمتی ہے۔
Getty Images
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض رحمان آئی پی ایل کی حالیہ بولی میں نو کروڑ 20 لاکھ انڈین روپوں میں فروخت ہوئے۔ اُنھیں شاہ رُخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
شیو سینا کے علاوہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے پر شاہ رُخ خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق شیو شینا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ان اعتراضات اور شور کے باوجود بھی شاہ رُخ خان اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُنھیں اپنی قوم کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں۔
بی جے پی رہنما سنگیت سوم نے بھی شاہ رُخ خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کر رہے ہیں، جس کا ملک انڈیا کے خلاف کام کر رہا ہے۔
اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’شاہ رُخ خان جو کچھ بھی ہیں، انڈیا کی وجہ سے ہیں۔ ایسے غدار کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘
کانگریس پارٹی نے سنگیت سوم کی جانب سے شاہ رُخ خان کو غدار کہنے کی مذمت کی تھی۔
انڈیا میں بنگلہ دیش کے بارے میں منفی جذبات کی وجہ کیا؟
یوں تو بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی خراب ہیں، لیکن گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شخص کی ہلاکت نے بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا تھا۔
اب دونوں ہمسایہ ممالک تواتر سے ایک دوسرے پر تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں اور عوامی سطح پر بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ہندو شہری ڈیپو چندرا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام عائد کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے پر انڈیا کے ہندو انتہا پسند گروہوں نے بہت احتجاج کیا۔
بنگلہ دیش میں ہندو شخص کو اُس وقت ہلاک کیا گیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے کیے جا رہے تھے۔
انڈیا، شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے ہی بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور بالخصوص ہندو کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے۔
Getty Imagesغداری کے الزامات
ہندوؤں کے روحانی پیشوا دیوکنندن ٹھاکر کہتے ہیں کہ ’بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف مظالم کے باوجود، شاہ رخ خان جیسے غدار وہاں کے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں۔ کسی بھی قیمت پر مستفیض الرحمان کو یہاں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
اُنھوں نے دھمکی دی تھی کہ مستفیض کو ایئرپورٹ سے بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کانگریس رہنما منیش ٹیگور نے ایکس پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاہ رُخ خان کو غدار کہنا انڈیا پر حملہ ہے۔ نفرت قوم پرستی کی تعریف نہیں ہو سکتی۔ آر ایس ایس کو معاشرے میں زہر اُگلنا بند کرنا چاہیے۔‘
اس معاملے پر مسلمان تنظیمیں شاہ رُخ خان کا دفاع کر رہی ہیں۔
آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا تھا کہ ’دیوکنندن ٹھاکر اور سنگیت سوم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان بھی بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں لیکن وہاں کے ایک کرکٹر کو ان حالات کا ذمے دار قرار نہیں دیا جا سکتا اور شاہ رُخ خان کو غدار قرار دینا بھی ناانصافی ہے۔‘
رائن نامی صارف نے لکھا کہ شاہ رُخ خان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش غیر ضروری ہے۔ ’کیا یہ دوغلا معیار نہیں کہ بجائے حکومت سے سوال کرنے سے جو آئی پی ایل کرواتی ہے، ساری نفرت کیا شاہ رُخ خان کے لیے ہی ہے؟ ‘
آئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘جب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایادو دن کے ٹیسٹ میچ میں صرف 142 اوورز اور 34 وکٹیں، 15 برس بعد انگلینڈ کی آسٹریلیا میں جیت کی کہانیکوہلی کا محمد شامی کے حق میں بیان: ’انڈین ٹیم کے کپتان پاکستانی پروپیگنڈا کی تائید کر رہے ہیں‘عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کے اعلان پر ’نسلی امتیاز‘ کا شکوہ: ’مسلمان پاکستانی لڑکے سے کہا گیا تم کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل پاؤ گے‘