Getty Images
انڈیا کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس مئی میں پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان میں ’دہشتگردی کے اہداف پر 22 منٹ تک حملے کیے جس سے پاکستان میں افراتفری پھیل گئی تھی۔‘
منگل کے روز انڈین فوج کی سالانہ پریس کانفرنس کے دوران جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ مئی 2025 کے دوران پاکستان کے خلاف شروع کیا گیا ’آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔‘
انھوں نے گذشتہ سال دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انڈین حملے کے بعد ’ان (پاکستان) کا فیصلہ لینے کا سائیکل بالکل ہل گیا تھا اور انھیں سمجھنے میں وقت لگا۔‘
جنرل اوپیندر دویدی نے دعویٰ کیا کہ ’اس طرف اتنی افراتفری مچی ہوئی تھی کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کارروائی ہو رہی ہے۔‘
تاہم انڈین آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ’ہم لڑائی کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے تھے کیونکہ ہم نے اپنا سیاسی و فوجی مقصد حاصل کر لیا تھا۔‘
اس پونے دو گھنٹے طویل پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کئی موضوعات پر بات کی تاہم ان کی ابتدائی بریفنگ میں جہاں ’آپریشن سندور‘ کا ذکر کیا گیا وہیں سوال جواب کے سیشن میں زیادہ تر سوال بھی پاکستان اور مئی 2025 کی لڑائی کے بارے میں ہی تھے۔
تاحال پاکستان کی جانب سے جنرل دویدی کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے تاہم پاکستانی دفتر خارجہ ماضی میں ان کے اسی نوعیت کے بیانات کی تردید کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گذشتہ سال اپریل میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈیا نے ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ پاکستان کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کی جاتی رہی ہے۔
اسی تناظر میں مئی کے اوائل میں انڈیا اور پاکستان کے بیچ فضائی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ انڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنے حملوں کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا جبکہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا نام دیا تھا۔
ان جھڑپوں کے دوران پاکستان اور انڈیا کی جانب سے ایک دوسرے کے لڑاکا طیارے گرانے، میزائل داغنے اور دیگر نقصانات سے متعلق متعدد دعوے بھی کیے گئے تھے، جن کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
Getty Imagesمئی کی جھڑپوں کے دوران پاکستان اور انڈیا کی جانب سے ایک دوسرے کے نقصانات سے متعلق متعدد دعوے بھی کیے گئے تھے، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکیانڈین آرمی چیف نے حالیہ پریس کانفرنس میں ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں کیا بتایا؟
منگل کے روز اپنی پریس کانفرنس میں انڈین آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن سندور بدستور جاری ہے اور آئندہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدینے کہا کہ آپریشن سندور واضح سیاسی ہدایات اور مکمل آزادی کے تحت عمل یا ردعمل کی اجازت کے ساتھ تینوں افواج کے بہترین اشتراک کی مثال ہے۔
انھوں نے کہا کہ میں اس آپریشن کے لیے قومی سطح پر تمام شراکت داروں کے فعال کردار کا اعتراف کرتا ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشت برس 10 مئی کے بعد مغربی سرحد اور جموں و کشمیر میں صورتحال حساس ضرور ہے مگر قابو میں ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 31 مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں سے 65 فیصد کا تعلق پاکستان سے تھا اور ان میں پہلگام حملے کے تین ملزم بھی شامل تھے۔
انڈین فوج کے سربراہ نے مزید دعویٰ کیا کہ کشمیر میں مقامی شدت پسندوں کی تعداد بہت کم ہے اور نئی بھرتیاں بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔
تاہم سوال جواب کے سیشن کے دوران ایک سوال کے جواب میں انڈین آرمی چیف نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق آٹھ دہشتگرد کیمپ ابھی بھی متحرک ہیں، جن میں سے دو انٹرنیشنل باؤنڈری کی مخالف سمت جبکہ باقی ایل سی کی مخالف سمت پر واقع ہیں۔
’ہم ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر دوبارہ کوئی ایسی حرکت ہوئی، تو ہمارا جو ارادہ ہے ہم اس کو ضرور انجام دیں گے۔‘
الیکٹرانک سگنیچر: انڈیا اور پاکستان کے ایک دوسرے کی سرحدی حدود میں طیارے مار گرانے کے دعوؤں کی تصدیق کیسے ممکن ہے؟رفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیںانڈین ایئر چیف کا مئی کی لڑائی کے دوران چھ پاکستانی طیارے مار گرانے کا دعویٰ، پاکستان کی تردیدرفال سمیت پانچ انڈین جنگی طیارے ’گرانے جانے‘ کے دعویٰ پر بی بی سی ویریفائی کا تجزیہ اور بھٹنڈہ کے یوٹیوبر کی کہانی’آپریشن سندور کے بعد دہشتگردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی‘
انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے بعد دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انڈین آرمی چیف نے کہا کہ ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے جموں و کشمیر میں اپنی موجودگی کو کم کر دیا یا وہاں سے کوئی فوجی واپس بلا لیے ہیں بلکہ ہم نے اتنا ہی دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔‘
جنرل اوپیندر دویدی نے مزید کہا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق مغربی جانب کے کیمپوں میں آٹھ کیمپ ابھی بھی وہاں فعال ہیں، ایسا لگتا ہے کہ تقریباً 100 سے 150 لوگ ابھی بھی وہاں موجود ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ان لوگوں کی حمایت کر رہا ہے جو بنیاد پرستی کو فروغ دیتے ہیں اور لوگوں کو یہاں آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
انڈین فوج کے سربراہ جنرل نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں کیونکہ آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔
Reutersانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گذشتہ سال اپریل میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے’پاکستان کو بتا دیا کہ ڈرون دخل اندازی ناقابل قبول ہے‘
انڈین آرمی چیف نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ انڈیا نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ ملک میں مبینہ ڈرون دخل اندازی ’ناقابل قبول‘ ہے۔
یاد رہے کہ انڈین فوجیوں نے مبینہ طور پر 11 سے 12 جنوری کے درمیان انڈین ریاست راجستھان کے ضلع جیسلمیر اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرحد کے ساتھ پاکستان سے مشتبہ ڈرون کی نقل و حرکت کو دیکھا۔
انڈین سیکورٹی فورسز نے اس کے بعد متعلقہ علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیا۔
اسی حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون تھے جو یہ دیکھنے کی کوششکر رہے تھے کہ آیا ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہے۔
’یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہوں کہ کیا انڈین فوج میں کوئی کمی یا خامی ہے، جس کے ذریعے وہ دہشت گردوں کو بھیج سکتے ہیں۔ میرے خیال میں انھیں منفی ردعمل ملا ہو گا۔‘
انڈین فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ انھوں نے دیکھ لیا ہو گا کہ ایسی کوئی جگہ یا کمی نہیں جہاں سے وہ انھیں (عسکریت پسندوں) کو بھیج سکیں۔
تاہم جنرل اوپیندر دویدی نے واضح کیا کہ اس حوالے سے پاکستان کو پیغام بھیج دیا گیا ہے۔
’آج ڈی جی ایم او بات چیت میں ہم نے اس بارے میں بات کی اور انھیں بتایا کہ یہ ناقابل قبول ہے لہذا اسے کنٹرول کیا جائے۔ یہ پیغام انھیں پہنچا دیا گیا ہے۔‘
’مئی تنازع کے دوران جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بات نہیں ہوئی تھی‘
انڈین آرمی چیف نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ مئی میں پاکستان کے ساتھ تنازع کے دوران جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ’ڈی جی ایم او بات چیت میں جوہری ہتھیاروں کے اوپر کوئی بھی بات نہیں ہوئی تھی اور پاکستان میں جوہری دھمکیاں سیاسی یا مقامی لوگوں کی سطح پر دی جا رہی تھی لیکن فوج کی جانب سے ایسی کوئی چیز نہیں آئی تھی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ 88 گھنٹے جاری رہنے والی کشیدگی میں فوج کی موبلائزیشن کو یہ مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان نے کوئی بھی ایسی غلطی کی، جس میں ہمیں گراؤنڈ آپریشن شروع کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تو ہم نے پوری تیاری کر رکھی تھی۔
جنرل اوپیندر دویدی نے یہ بھی واضح کیا کہ سنہ 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کی 139 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 124 آپریشن سندور کے دوران ہوئیں۔
الیکٹرانک سگنیچر: انڈیا اور پاکستان کے ایک دوسرے کی سرحدی حدود میں طیارے مار گرانے کے دعوؤں کی تصدیق کیسے ممکن ہے؟آپریشن ’بنیان مرصوص کا آغاز کرنے والے فتح میزائل‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟انڈین ایئر چیف کا مئی کی لڑائی کے دوران چھ پاکستانی طیارے مار گرانے کا دعویٰ، پاکستان کی تردیدرفال سمیت پانچ انڈین جنگی طیارے ’گرانے جانے‘ کے دعویٰ پر بی بی سی ویریفائی کا تجزیہ اور بھٹنڈہ کے یوٹیوبر کی کہانینریندر مودی کی 100 منٹ کی تقریر مگر نہ طیاروں پر بات اور نہ ٹرمپ کی ثالثی کی تردید: ’14 بار نہرو کا نام لیا مگر چین کا نام ایک بار بھی نہ لے سکے‘کارگل کی جنگ سے آپریشن سندور تک: انڈیا اور اسرائیل کا تعلق جو ابتدائی مخالفت کے بعد نظریاتی اور سٹریٹجک اتحاد میں بدل گیا