’ہمیں پھنسایا گیا‘: وہ خاتون جس نے غیر ملکی مردوں کو فریب دے کر روس کے جنگی محاذوں پر لڑنے کے لیے آمادہ کیا

بی بی سی اردو  |  Jan 14, 2026

Telegramپولینا اکثر بھرتی کیے جانے والے افراد کے ساتھ اپنی تصاویر پوسٹ کرتی ہیں

عمر کے پاسپورٹ سے شعلے نکل رہے تھے اور ایک ویڈیو میں روسی زبان میں خاتون کہہ رہی تھیں: ’یہ اچھی طرح سے جل رہا ہے۔‘

شام سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ کنسٹرکشن ورکر عمر تقریباً نو مہینے سے روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف اگلے محاذوں پر جنگ لڑ رہے تھے جب انھیں موبائل پر یہ ویڈیو موصول ہوئی۔

وہ خاتون کی آواز پہچانتے تھے۔ عمر کے مطابق یہ پولینا ایلگزینڈرونا آزرنائخ تھیں جنھوں نے روس کے لیے لڑنے کے لیے بھرتی کے عمل میں عمر کی مدد کی تھی اور ان سے اچھی ملازمت اور روسی شہریت کا وعدہ بھی کیا تھا۔

لیکن اب پولینا غصے میں تھیں۔

اپنی حفاظت کے پیشِ نظر عمر اپنا اصل نام استعمال نہیں کر رہے۔ انھوں نے یوکرین سے وائس نوٹس کے ذریعے بتایا کہ کیسے وہ اس جھانسے سے باہر آئے اور یہ کہ وہ جنگ کے میدان میں کتنے خوفزدہ تھے۔

عمر کہتے ہیں کہ پولینا نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ تین ہزار ڈالر ادا کرتے ہیں تو وہ یہ یقینی بنائیں گی کہ عمر کو روس کی طرف سے غیر جنگی کردار ملے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں پھر بھی صرف 10 روز کی تربیت کے بعد جنگ کے لیے بھیج دیا گیا، جب انھوں نے انکار کیا تو پولینا نے عمر کا پاسپورٹ جلا دیا۔

عمر کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک مشن میں شامل ہونے سے انکار کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کے کمانڈر نے انھیں جیل بھیجنے اور قتل کرنے کی دھمکی دی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں پھنسایا گیا۔ یہ خاتون دھوکے باز اور جھوٹی ہیں۔‘

Telegramوہ ویڈیوز پوسٹ کر کے بتاتی تھیں کہ لوگوں کو روسی فوج میں کیوں شمولیت اختیار کرنی چاہیے

بی بی سی آئی انویسٹگیشن نے تحقیقات کے دوران یہ دیکھا ہے کہ کیسے 40 سالہ سابق ٹیچر نے ایک ٹیلی گرام چینل کا استعمال کر کے اکثر غریب ممالک سے نوجوان مردوں کو روسی فوج میں شمولیت پر آمادہ کیا۔

سابق ٹیچر کی مسکراتی ہوئی ویڈیو پیغامات اور دیگر پوسٹس کے ذریعے ’فوجی سروس‘ کے لیے ’ایک برس کے کنٹریکٹس‘ کی پیشکش کرتی ہیں۔

بی بی سی ورلڈ سروس نے ایسے 500 کیسز کی شناخت کی۔ ان میں پولینا نے دستاویزات، جنھیں اجازت نامہ بھی کہا جاتا ہے، فراہم کیے تاکہ لوگ فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے روس میں داخل ہو سکتے ہیں۔

یہ شام، مصر اور یمن سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے وہ مرد تھے جنھوں نے فوج میں شمولیت کے لیے پولینا کو اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات بھیجی تھیں۔

نور خان ایئربیس سے پانچ ’خفیہ‘ پروازیں اور امریکی کمپنیوں سے پاکستان کے لاکھوں ڈالر کے اسلحہ فراہمی کے معاہدے کیا ظاہر کرتے ہیں؟یوکرین میں قیام امن کا امریکی منصوبہ ’لیک‘: روس کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور یوکرینی فوج کی تعداد کم کرنے کی تجاویزپوتن کا ’گاجر اور چھڑی‘ کا فارمولہ جس نے یوکرین جنگ کے دوران ارب پتی ’اولیگارک‘ کو خاموش رکھامغربی ممالک روس پر پابندیاں لگانے کے باوجود یوکرین جنگ میں اس کی ’مالی مدد‘ کیسے کر رہے ہیں؟

تاہم بھرتی کیے گئے افراد اور ان کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولینا نے ان مردوں کو گمراہ کیا کہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لیں گے اور یہ نہیں بتایا کہ وہ ایک برس بعد واپس نہیں جا پائیں گے اور جنھوں نے پولینا کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، انھیں دھمکیاں ملیں۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

12 خاندانوں نے ہمیں بتایا کہ پولینا کی طرف سے بھرتی کیے گئے ان کے خاندان کے مرد یا تو گمشدہ یا پھر مارے جا چکے ہیں۔

ANDREY BORODULIN/AFP via Getty Imagesیوکرین میں جنگ کے دوران روس کو ہر ماہ ہزاروں فوجیوں کے مارے جانے کا نقصان اٹھانا پڑا

اندرونِ ملک بھی روس نے بھرتیاں بڑھا دی ہیں، قیدیوں کو بھی بھرتی کیا اور مالی نقصانات کے باوجود زیادہ بونس کی پیشکش کی تاکہ یوکرین میں آپریشن جاری رکھے جا سکیں۔

نیٹو کے مطابق سنہ 2022 میں باقاعدہ جنگ کے آغاز کے بعد سے دسمبر 2025 تک روس کے 10 لاکھ سے زیادہ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

تعزیت ناموں اور ہلاک شدہ افراد کی معلومات کی بنیاد پر بی بی سی نیوز روس کی طرف سے کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں گذشتہ برس روس کے فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔

یہ جاننا مشکل ہے کہ کتنے غیرملکی شہریوں نے روسی فوج میں شمولیت اختیار کی تاہم بی بی سی نے ایک تجزیے کے ذریعے اندازہ لگایا کہ کم از کم 20 ہزار غیرملکیوں نے روسی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ان افراد کا تعلق کیوبا، نیپال اور شمالی کوریا جیسے ممالک سے بھی تھا۔

یوکرین کو بھی اس جنگ میں فوجی اہلکاروں کے اعتبار سے نقصان اُٹھانا پڑا اور اس کی صفوں میں بھی غیرملکی افراد شامل ہیں۔

’ہر طرف لاشیں‘

عمر کا پولینا سے پہلا رابطہ اس وقت ہوا جب وہ 14 مزید شامی شہریوں کے ساتھ مارچ 2024 میں ماسکو ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے تھے اور ان کے پاس پیسے بھی بہت کم تھے۔

شام میں ملازمتیں کم ہیں اور اجرت بھی معمولی ہی ملتی ہے۔ عمر کا کہنا ہے کہ وہاں موجود ایک ریکروئٹر نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو روس میں تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے سویلین ذمہ داریاں دینے کی پیشکش کی تھی۔

وہ ماسکو گئے اور انھیں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہو گیا۔

وہ اس وقت انٹرنیٹ پر آپشنز پر غور کر رہے تھے اور عمر کے مطابق ان میں سے ایک شخص کو پولینا کا چینل ملا اور انھوں نے اس پر پیغام بھیجا۔

عمر کہتے ہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں پولینا نے ان سے ایئرپورٹ پر ملاقات کی اور انھیں بذریعہ ٹرین مغربی روس کے شہر بریانسک میں ایک بھرتی سینٹر لے گئیں۔

عمر کے مطابق وہاں پولینا نے انھیں روسی فوج کے ساتھ ایک برس کام کے کنٹریکٹ کی پیشکش کی، جہاں انھیں ڈھائی ہزار ڈالر کے برابر تنخواہ اور بھرتی کے وقت پانچ ہزار ڈالر کی رقم کی پیشکش بھی کی گئی۔ شام میں وہ ان پیسوں کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔

عمر کے مطابق ان ملازمتوں کے کنٹریکٹس روسی زبان میں تھے اور متعدد افراد کو یہ سمجھ میں نہیں آئے اور پولینا نے ان افراد کے پاسپورٹ لے لیے اور وعدہ کیا کہ انھیں روسی شہریت ملے گی۔

عمر کہتے ہیں کہ پولینا نے وعدہ کیا کہ اگر انھیں تین ہزار ڈالر دیے جائیں تو وہ یہ یقینی بنائیں گی کہ ان افراد کو غیر جنگی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

Roman Chop/Global Images Ukraine via Getty Imagesعمر نے بتایا کہ جنگ کی اگلی صفوں میں شدید لڑائی اور گولہ باری جاری تھی

لیکن عمر کہتے ہیں کہ وہ ایک مہینے بعد ہی جنگ کے اگلے محاذوں پر تھے، وہ بھی صرف 10 روز کی تربیت اور بغیر کسی عسکری تجربے کے۔

بی بی سی انویسٹگیشن ٹیم کو بھیجے گئے ایک وائس نوٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں 100 فیصد یقین ہے کہ ہم یہاں مارے جائیں گے۔‘

انھوں نے مئی 2024 میں کہا تھا کہ ’بہت زیادہ زخم ہیں، بہت زیادہ دھماکے ہیں اور بہت زیادہ شیلنگ ہو رہی ہے۔ اگر آپ دھماکے سے نہیں مرتے تو پھر ملبہ گرنے سے مارے جائیں گے۔‘

اسی مہینے عمر نے بتایا تھا کہ ’ہر طرف لاشیں ہیں، میں لاشوں پر قدم رکھ چکا ہوں، خدا مجھے معاف کرے۔‘

’جب کوئی مرتا ہے تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ انھیں کچرے کے تھیلے میں ڈال کر ایک درخت کے پاس پھینک دیتے ہیں۔‘

تقریباً ایک برس بعد عمر کہتے ہیں کہ پولینا نے یہ واضح نہیں بتایا تھا کہ سنہ 2022 میں جاری کیے گئے ایک حکمنامے کے مطابق روس فوجی اہلکاروں کی ملازمتوں کے کنٹریکٹس جنگ کے اختتام تک بڑھا سکتا ہے۔

’خدا نہ کرے اگر میرے کنٹریکٹ میں توسیع ہوتی ہے تو میں پھنس جاؤں گا۔‘

پھر عمر کے کنٹریکٹ میں توسیع کر دی گئی۔

’یونیورسٹی سے بھرتی‘

پولینا کے ٹیلی گرام چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد 21 ہزار ہے۔ ان کی پوسٹس میں روسی فوج میں شمولیت کی خواہش رکھنے والے افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ کو سکین کر کے انھیں بھیجیں۔ اس کے بعد وہ اجازت ناموں سے متعلق دستاویزات پوسٹ کرتی ہیں اور اکثر اس میں ان افراد کے ناموں کی فہرست ہوتی ہے، جن کے لیے یہ اجازت نامے ہوتے ہیں۔

بی بی سی نے ایسے 490 دعوت ناموں کی شناخت کی، جو پولینا نے گذشتہ برس یمن، شام، مصر، مراکش، عراق اور نائجیریا سمیت متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے مردوں کو بھیجے تھے۔

ان کی پوسٹس میں ایک ’ایلیٹ انٹرنیشنل بٹالین‘ کا بھی ذکر تھا اور وہاں واضح کیا گیا تھا کہ جن کے ویزے ایکسپائر ہو چکے ہیں یا جو غیرقانونی طور پر روس میں رہ رہے ہیں وہ بھی اس بٹالین میں شمولیت اختیار کرنے کے اہل ہیں۔

Telegramایک ویڈیو میں انھوں نے کہا تھا کہ 'آپ کو معلوم تھا کہ آپ جنگ میں جا رہے ہیں۔۔۔ کچھ بھی مفت نہیں'

ہم نے عمر سمیت آٹھ غیرملکی جنگجوؤں سے بات کی، جنھیں پولینا نے بھرتی کیا تھا۔ ان 12 افراد کے خاندانوں سے بھی بات ہوئی، جن کے مرد یا تو لاپتا ہیں یا پھر ہلاک ہو چکے ہیں۔

بہت سارے افراد کو لگتا ہے کہ پولینا نے بھرتی کے خواہش مند افراد کو گمراہ کیا یا ان کا غلط فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ان افراد کو معلوم تھا کہ وہ روسی فوج میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں لیکن انھیں امید نہیں تھی کہ انھیں اگلے محاذوں پر فرائض ادا کرنے ہیں۔

عمر کی طرح ان سب کے پاس بھی جنگی تربیت نہیں تھی اور ان کا خیال تھا کہ وہ شاید ایک سال بعد واپس جا سکیں گے۔

مصر کے یوسف (نام تبدیل کیا گیا) نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2022 میں ان کے بڑے بھائی محمد نے روس کی یونیورسٹی میں ایک کورس شروع کیا۔

یوسف کے مطابق ان کے بھائی کو فیس ادا کرنے میں مشکل ہو رہی تھی اور انھوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ پولینا نامی ایک روسی خاتون نے آن لائن انھیں مدد کی پیشکش کی ہے، جس میں روسی فوج کے لیے کام کرنا شامل تھا، جس کے ذریعے وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں گے۔

یوسف کہتے ہیں کہ ’پولینا نے ان کے بھائی سے گھر، شہریت اور ماہانہ اخراجات کا وعدہ کیا۔ پھر اچانک انھیں یوکرین بھیج دیا گیا اور وہ جنگ لڑنے لگے۔‘

یوسف کے مطابق ان کے بھائی نے آخری بار انھیں 24 جنوری 2024 کو فون کیا تھا۔ یوسف کہتے ہیں کہ اس کے ایک برس بعد انھیں ٹیلی گرام پر ایک روسی نمبر سے پیغام ملا جس میں محمد کی لاش کی تصاویر تھیں۔

اور اس طرح اس خاندان کو پتہ چلا کہ محمد ایک برس پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔

’کچھ لوگوں کے دماغ خراب ہو گئے ہیں‘

روسی فوج میں خدمات سرانجام دینے والے شام کے ایک اور شہری حبیب کہتے ہیں کہ پولینا آزرنائخ روس کے لیے بھرتیاں کرنے والی ’سب سے اہمریکروئٹر‘ بن گئیں۔

وہ بی بی سی سے ویڈیو پر بات کرنے کے لیے تیار تھے لیکن نتائج کے خوف سے وہ ایسا نہ کر سکے۔

حبیب بتاتے ہیں کہ انھوں نے پولینا آزرنائخ کے ساتھ ’روس کے ویزا دعوت ناموں پر تقریباً تین سال تک کام کیا۔‘

انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں اور ہم اس عمل میں ان کے کردار کی تصدیق نہیں کر سکے تاہم سنہ 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں انھیں پولینا کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

پولینا آزرنائخ کا تعلق روس کے جنوب مغربی شہر ورونیژ سے ہے۔ سنہ 2024 میں اپنا ٹیلی گرام چینل شروع کرنے سے پہلے وہ فیس بک پر ایک ایسا گروپ چلاتی تھیں جو پڑھائی کے لیے ماسکو آنے والے عرب طلبا کی مدد کرتا تھا۔

BBCحبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پولینا آدمیوں کو ساتھ لے جاتی تھیں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ مرنے والے ہیں'

حبیب کہتے ہیں کہ زیادہ تر غیر ملکیوں کا خیال تھا کہ ان کو تنصیبات کی حفاظت یا ناکوں پر کھڑے ہونے جیسے کام سونپے جائیں گے۔

’جو عرب آ رہے ہیں، وہ فوراً مر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے دماغ خراب ہو گئے ہیں، لاشوں کو دیکھنا مشکل کام ہے۔‘

حبیب کہتے ہیں کہ ان کی عمر اور شامی باشندوں کے گروہ سے ملاقات ایک فوجی تربیتی سائٹ پر ہوئی۔

’اس (پولینا) نے ان سے شہریت، اچھی تنخواہوں اور حفاظت کا وعد کیا تھا لیکن جب آپ ایک بار یہاں معاہدے پر دستخط کر لیتے ہیں تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے کسی کو بھی ہتھیار استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر ان پر گولی چلائی جاتی تو وہ جواباً گولی نہ چلانے کا انتخاب کرتے۔۔۔ اگر آپ نے گولی نہیں چلائی تو آپ کو مار دیا جائے گا۔ پولینا مردوں کو لے جاتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ مارے جائیں گے۔‘

حبیب کا کہنا ہے کہ فی شخص بھرتی کرنے پر پولینا کو فوج سے 300 ڈالر ملتے تھے۔ بی بی سی اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا اگرچہ بھرتی ہونے والے دیگر افراد نے بھی یہ بتایا کہ ان کے خیال میں پولینا کو ادائیگی کی جاتی تھی۔

’کچھ بھی مفت نہیں ہوتا‘

آزرنائخ کے 2024 کے وسط کے پوسٹس میں یہ بات سامنے آنے لگتی ہے کہ بھرتی ہونے والے افراد ''جنگی کارروائیوں میں حصہ لیں گے'' اور غیر ملکی جنگجوؤں کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے جو لڑائی میں مارے گئے۔

اکتوبر 2024 کی ایک ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’آپ سب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ جنگ پر جا رہے ہیں۔ آپ نے سوچا کہ آپ روسی پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں، کچھ نہ کریں اور پانچ ستارہ ہوٹل میں رہیں؟۔۔۔ کچھ بھی مفت نہیں ہوتا۔‘

2024 کے ایک اور واقعے میں بی بی سی نے ایک وائس میسج سنا جو انھوں نے ایک ماں کو بھیجا تھا جس کا بیٹا فوج میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس عورت نے ’روسی فوج کے بارے میں کچھ خوفناک معلومات شائع کی۔‘ وہ اس عورت کو خبردار کرتی ہے کہ ’میں آپ کو اور آپ کے تمام بچوں کو ڈھونڈ نکالوں گی۔‘

بی بی سی نے ان سے رابطے کی کئی کوششیں کیں۔ ابتدا میں انھوں نے کہا کہ وہ انٹرویو دیں گی اگر ہم روس جائیں۔ لیکن بی بی سی نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر انکار کر دیا۔

بعد میں جب ایک وائس کال میں ان سے پوچھا گیا کہ بھرتی ہونے والوں سے غیر جنگی کرداروں کا وعدہ کیا گیا تھا، تو انھوں نے کال کاٹ دی۔

بعد میں بھیجے گئے وائس نوٹس میں انھوں نے کہا کہ ہمارا کام ’پیشہ ورانہ نہیں‘ اور ممکنہ ہتکِ عزت کے مقدمے کی دھمکی دی۔

بی بی سی نے روسی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

اس سے قبل مارچ 2022 میں صدر پوتن نے مشرقِ وسطیٰ سے مردوں کی بھرتی کی حمایت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ مالی طور پر نہیں لیکن نظریاتی طور پر متحرک ہیں۔

’وہ ایسے لوگ ہیں جو رضاکارانہ طور پر آنا چاہتے ہیں، خاص طور پر پیسے کے لیے نہیں اور لوگوں کو مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔‘

Telegramٹیلی گرام چینل پر حبیب کو ان کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہےنقد ادائیگیاں

صحافیوں اور محققین کا کہنا ہے کہ آزرنائخ جیسے افراد غیر رسمی بھرتی کرنے والوں کے جال کا حصہ ہیں۔

بی بی سی نے عربی میں دو دیگر ٹیلیگرام اکاؤنٹس دریافت کیے ہیں جو روسی فوج میں شامل ہونے کی اسی طرح کی پیشکشیں کر رہے ہیں۔

ایک میں دعوتی دستاویزات اور ناموں کی فہرستیں دکھائی گئی ہیں جبکہ دوسرے نے ’ایلیٹ بٹالین‘ میں شامل ہونے کے لیے بڑی سائن اپ ادائیگیوں کا اشتہار دیا ہے۔

ستمبر میں کینیا کی پولیس نے کہا کہ انھوں نے ایک مشتبہ ’سمگلنگ گروہ‘ کو توڑ دیا ہے جو کینیائی شہریوں کو ملازمت کی پیشکشوں کے ذریعے لالچ دے رہا تھا۔ لیکن انھیں یوکرین میں لڑائی کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کی ریسرچ فیلو کترینا سٹیپانینکو نے بی بی سی کو بتایا کہ روس میں کچھ بلدیاتی اور علاقائی حکام لوگوں کو فوجی خدمات میں روسیوں یا غیر ملکیوں کو بھرتی کرنے پر ایچ آر پروفیشنلز اور مقامی باشندوں کو چار ہزار ڈالر تک نقدی رقم دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کریملن نے ابتدا میں بڑی تنظیموں جیسے ویگنر پرائیویٹ ملٹری گروپ اور جیل کے نظام کو بھرتی کے لیے استعمال کیا۔ لیکن 2024 سے ’مقامی افراد اور چھوٹی کمپنیوں کو بھی استعمال کیا گیا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ مجھے یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھرتی کے پہلے طریقے اب وہی تعداد پیدا نہیں کر رہے۔‘

دریں اثنا حبیب اب شام واپس آ گئے ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے اپنا معاہدہ ختم کرنے کے لیے کئی کمانڈروں کو رشوت دی۔

عمر نے بالآخر روسی شہریت حاصل کر لی اور شام واپس آنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے ساتھ خدمات انجام دینے والے دو شامی افراد کے خاندانوں کے مطابق وہ مر چکے ہیں۔

حبیب کہتے ہیں کہ ’آزرنائخ ہمیں نمبروں یا پیسے کے طور پر دیکھتی ہے۔ وہ ہمیں انسان نہیں سمجھتی۔ ہم اسے کبھی معاف نہیں کریں گے جو اس نے ہمارے ساتھ کیا۔‘

نور خان ایئربیس سے پانچ ’خفیہ‘ پروازیں اور امریکی کمپنیوں سے پاکستان کے لاکھوں ڈالر کے اسلحہ فراہمی کے معاہدے کیا ظاہر کرتے ہیں؟یوکرین میں قیام امن کا امریکی منصوبہ ’لیک‘: روس کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور یوکرینی فوج کی تعداد کم کرنے کی تجاویزپوتن کا ’گاجر اور چھڑی‘ کا فارمولہ جس نے یوکرین جنگ کے دوران ارب پتی ’اولیگارک‘ کو خاموش رکھامغربی ممالک روس پر پابندیاں لگانے کے باوجود یوکرین جنگ میں اس کی ’مالی مدد‘ کیسے کر رہے ہیں؟سفارتی کامیابی اور مغرب کو دھمکی: پوتن کا یوکرین جنگ پر سخت موقف جو دباؤ کے باوجود برقرار رہا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More