ٹرمپ کا شہری کو انگلی سے نازیبا اشارہ اور وائٹ ہاؤس کا دفاع: ’یہ گالیوں کا مناسب جواب تھا‘

بی بی سی اردو  |  Jan 15, 2026

Getty Imagesصدر ٹرمپ نے منگل کو ڈیٹرائٹ میں گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ کے کارخانے کا دورہ کیا تھا

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیٹرائٹ کے دورے کے دوران کیے گئے نازیبا اشارے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ایک پاگل شخص غصے کے حالت میں گالیاں دے رہا تھا۔ صدر نے اس کو مناسب اور غیرمبہم جواب دیا۔‘

صدر ٹرمپ نے منگل کو امریکی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ کے کارخانے کا دورہ کیا تھا اور وہاں خود پر چیخنے والے شخص کی جانب ایک نازیبا اشارہ کیا تھا۔

واقعے کی ویڈیو تفریحی خبریں دینے والے امریکی ادارے ٹی ایم زی نے شائع کی۔ اس میں بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے آدمی کو ہاتھ کی انگلی سے جواب دے رہے ہیں جو دور سے ان پر چلّا رہا تھا۔

امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کو یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین نے بتایا کہ فورڈ نے اس شخص کو معطل کر دیا ہے۔ لیکن واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر، 27 ہزار عطیہ دہندگان نے اس شخص کے لیے تقریباً سات لاکھ ڈالرز جمع کیے ہیں۔

فورڈ ترجمان نے سی بی ایس کو بتایا: ’احترام کرنا ہماری بنیادی اقدار میں سے ایک ہے اور ہم اپنے ادارے میں کسی کو بھی اس طرح کی غیر مناسب بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ جب ایسی کوئی حرکت ہو تو ہمارے پاس اس سے نمٹنے کا طریقہ موجود ہے لیکن ہم مخصوص نجی معاملات میں شامل نہیں ہوتے۔‘

ٹی ایم زیڈ کے فراہم کردہ سب ٹائٹلز کے مطابق، پریشان کرنے والے اس شخص نے ٹرمپ کو ’ان افراد کی حفاظت کرنے والا جو بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں‘ کہا۔

کلپ میں ٹرمپ کو دور سے دکھایا گیا ہے، صدر اس شخص کو جواب دے رہے ہیں، مبینہ طور پر وہ منھ ہی منھ میں ایک گالی نکالتے ہیں اور درمیانی انگلی بھی دکھاتے ہیں۔

ٹی جے سابولا نامی ایک شخص نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے بات کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر پر چلّانے والے شخص وہی تھے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے کیے پر ’کوئی پچھتاوا نہیں۔‘

Getty Imagesیونائیٹڈ آٹوموٹیو ورکرز نے ٹرمپ کو اشتعال دلانے والے شخص کا دفاع کیا ہے

سابولا کے مطابق ٹرمپ نے ایپسٹین فائلز کے معاملے سے جس طرح نمٹا، ان کا تبصرہ اس بارے میں تھا۔

جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے بارے میں وفاقی تحقیقات سے جو کچھ معلوم ہوا تھا، امریکی صدر پر دباؤ ہے کہ اسے زیادہ شفاف انداز میں سامنے لایا جائے۔

ٹرمپ نے ایک قانون پر دستخط کے ذریعے امریکی محکمہ انصاف کو مجبور کیا تھا کہ وہ 19 دسمبر تک ایپسٹین سے متعلق تمام دستاویزات جاری کر دے، حالانکہ ابھی تک ان فائلز کا صرف ایک حصہ ہی سامنے لایا گیا ہے۔

ٹرمپ ایک وقت میں ایپسٹین کے دوست تھے اور پھر ان کا تعلق ختم ہو گیا۔ ٹرمپ کے مطابق ایپسٹین کی گرفتاری سے کئی سال پہلے وہ ان سے دوستی ختم کر چکے تھے اور ایپسٹین کے حوالے سے ٹرمپ پر کوئی الزام بھی نہیں ہے۔

سابولا کی نمائندگی کرنے والی تنظیم یونائیٹڈ آٹوموٹیو ورکرز (UAW) نے ان کا دفاع کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے: ’وہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں، ایک ایسا اصول جسے یہ تنظیم پورے دل سے اپناتی ہے اور ہم اپنے ارکان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ کام کی جگہ پر ان کے خیالات کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔‘

منگل کے روز ٹرمپ ڈیٹرائٹ میں تھے تاکہ ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں تقریر کر سکیں۔

عوام میں صدر کی جانب سے نازیبا الفاظ کا استعمال ماضی میں بھی خبروں کی زینت بنتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، جب گزشتہ جون میں انھوں نے ایران اور اسرائیل کے تعلقات پر بات کی۔

ان کے پیش رو جو بائیڈن بھی صدر منتخب ہونے سے پہلے ایسے ہی ایک تنازع کا شکار ہوئے تھے۔ 2020 کی انتخابی مہم کے دوران ڈیٹرائٹ کی ایک فیکٹری کا دورہ کرتے ہوئے جو بائیڈن نے ایک کارکن سے بات کی تھی اور دوران گفتگو نا زیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

بغیر کسی اتحادی کے امریکہ کو ’عظیم‘ بنانے کا منصوبہ: کیا ٹرمپ دُنیا کو سلطنتوں کے دور کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ٹرمپ کے جارحانہ ’پاور پلے‘ کے سامنے پوتن اب تک خاموش کیوں ہیں؟الزامات اور دھمکیوں کا تبادلہ: ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کا دوستی سے عداوت تک کا سفر’بائبل بیلٹ‘ جہاں دائیں بازو کے مسیحی ٹرمپ کو ’خدا کا سپاہی مانتے ہیں‘75 ممالک کے لیے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘معطل: ’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی کیوں لگائی‘محدود فضائی حملہ، سائبر کارروائیاں اور جواب کا ڈر: ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More