’خاندان کے ایک فرد کی موت کا غم ابھی تک تازہ تھا کہ ہمارے مزید دو بزرگ افراد کو ماردیا گیا۔ ہمارے دونوں عمر رسیدہ افراد کسی بھی مقدمے میں مطلوب نہیں تھے بلکہ پورے علاقے میں وہ خیرخواہ کی حیثیت سے مشہور تھے۔‘
بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے سید طفیل شاہ نے اپنے خاندان کے دو عمر رسیدہ افراد سید عبدالرحیم شاہ اور سید عبد القدیم شاہ کی موت کو خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ یہ افراد پشین کے علاقے کلی کربلا میں محکمۂ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔
سید عبدالرحیم شاہ اور سید عبد القدیم شاہ کے مارے جانے پر سی ٹی ڈی کی اس کارروائی کے حوالے سے ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے کیونکہ ان افراد کے رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں کے مطابق یہ دونوں افراد ان چھ ثالثوں میں شامل تھے جو متعلقہ حکام کی اجازت سے ملزمان سے بات چیت کے لیے گئے تھے تاکہ ان کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرایا جاسکے۔
بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی علاقے میں سنگین واقعات میں مطلوب ملزم سید ثنا اللہ آغا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کی گئی جس میں ثنا اللہ آغا کے دو سگے بھائیوں سمیت چھ افراد مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 10 اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس میں سی ٹی ڈی بلوچستان کے سربراہ اعتزاز گورایا نے عبد القدیم شاہ اور عبدالرحیم شاہ کے ثالثوں میں شامل ہونے کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مارے جانے والوں کے خلاف قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کے 15 سے زائد مقدمات درج تھے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں ضلع پشین میں سی ٹی ڈی کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سید رحیم شاہ اور سید قدیم شاہ کون تھے؟
پشین کے علاقے کلی کربلا میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں مارے جانے والے 70 سالہ رحیم شاہ اور68 سالہ قدیم شاہ کا تعلق ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا سے تھا۔
دونوں افراد کا تعلق پشتو زبان بولنے والے سید قبیلے سے تھا جن میں سے رحیم شاہقدیم شاہ کے بھانجے تھے۔
ان کے قریبی رشتہ دار سید طفیل شاہ نے فون پر رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہقدیم شاہ کے 11 بچے ہیں جن میں سے پانچ بیٹے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قدیم شاہ کراچی میں گاڑیوں کا چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی رہائش کراچی میں تھی اور وہ چند روز قبل ایک قریبی رشتہ دار کے وفات کے باعث آبائی علاقے آئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ رحیم شاہ کلی کربلا میں کھیتی باڑی کے علاوہ وہاں ان کے تھوڑے بہت مالی مویشی ہیں ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے بھی بچے ہیں جن میں سے بیٹے کراچی میں ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں۔
’قدیم شاہ کو ثالثی کے لیے بلایا گیا تھا‘
سید طفیل شاہ نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کی کارروائی سے چار، پانچ روز قبل ان کے خاندان میں ’ایک فوتگی ہوئی تھی جس کی مناسبت سے سید قدیم شاہ کراچی سے آئے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں نے بتایا کہ جس گھر میں ملزمان موجود ہیں وہاں خواتین اور بچے بھی ہیں۔
’اس موقع پر سید قدیم شاہ فاتحہ خوانی پر بیٹھے تھے۔ چونکہ وہ علاقے میں خیرخواہی اور راضی نامہ وغیرہ کا کام بہت کرتے تھے اس لیے ان کے ماموں قدیم شاہ نے ان کو فون کیا کہ وہ آجائیں تاکہ خواتین اور بچوں کو نکالا جائے اور مذاکرات کے ذریعے ملزمان کے ہتھیار ڈالنے کو یقینی بنائیں۔‘
Getty Imagesحکام کا کہنا ہے کہ کارروائی علاقے میں سنگین واقعات میں مطلوب ملزم سید ثنا اللہ آغا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کی گئی (علامتی تصویر)
انھوں نے بتایا کہ متعلقہ سرکاری حکام کی رضامندی سے یہ دونوں افراد سمیت چھ لوگ ثالثی کے لیے گئے لیکن وہاں جب فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو ان میں سے چار افراد تو نکل سکے لیکن یہ دونوں بزرگ افراد نہیں نکل سکےاور وہاں گولی لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔
ثالثی کے لیے جانے والےافراد میں شامل ایک شخص نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جو لوگ ثالثی کے لیے گئے تھے ان میں رحیم شاہ اور قدیم شاہ دونوں شامل تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے متعلقہ حکام سے درخواست کی فائرنگ کا سلسلہ روکا جائے تاکہ ہمارے ساتھ جانے والے یہ دونوں بزرگ بھی باہر نکل سکیں‘۔ لیکن ان کے بقول ان کی بات نہیں سنی گئی۔
سید طفیل شاہ نے بتایا کہ سید قدیم شاہ کی موت سے قبل فون پر بات چیت کی ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے جس میں وہ یہ درخواست کر رہے ہیں کہ ’فائرنگ کو رکوایا جائے‘ تاکہ وہ اور رحیم شاہ باہر نکل سکیں۔
موت سے قبل قدیم شاہ نے کیا کہا تھا؟
اس واقعے کے حوالے سے ایک آڈیو سماجی رابطوں کی میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص بار بار فائرنگ رکوانے کی درخواست کر رہا ہے۔
سید طفیل شاہ اور ثالثی کے لیے جانے والے دیگر شخص کے مطابق یہ آواز سید قدیم شاہ ہی کی ہے جس میں وہ فائرنگ رکوانے کی درخواست کر رہے ہیں۔
تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس آڈیو ریکارڈنگ کی تصدیق نہیں کرسکا۔
اس آڈیو میں سید قدیم شاہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہمارے اوپر کمرے میں مختلف اطراف سے فائرنگ جاری ہے اورملزمان نے سرینڈر کیا ہے اور انھوں نے ہاتھ بھی اوپر کیے ہوئے ہیں اس لیے حکومت کو کہیں کہ فائرنگ بند کرے۔‘
دوسری جانب سے بات کرنے والا شخص یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’یہ لوگ کہہ رہے ہیں وہ فائرنگ صرف اس وقت بند کریں گے جب یہ ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے باہر نکلیں گے'۔
سید قدیم شاہ کہتے ہیں کہ ’جب فائرنگ جاری ہے تو یہ کس طرح باہر نکل سکتے ہیں۔ ان کو کہیں کہ سفید ریش لوگوں کو چھوڑ دیں وہ بھی باہر نکلیں گے۔‘
سید قدیم شاہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کو کمر سمیت جسم کے دو حصوں پر گولیاں لگی ہیں۔
دوسری جانب سے بات کرنے والا شخص بھی اپنے پاس موجود لوگوں سے یہ کہتے سنائی دیے کہ ان کو کہیں فائرنگ روک دیں تاکہ یہ سفید ریش لوگ باہر نکل سکیں۔
اس دوران دوسری جانب بہت سارے لوگ باتیں کررہے ہیں جبکہ کمرے میں محصور لوگوں میں سے ایک شخص کلمہ شہادت پڑھتا سنائی دیتا ہے۔
قدیم شاہ کہہ رہے ہیں کہ ’آپ لوگ سنیں کہ مطلوب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ سرینڈر ہیں اور سرینڈر ہیں۔‘
قدیم شاہ بار بار کہتے رہے کہ ’وہ سرینڈر ہیں، سرینڈر ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے نام کے واسطے سرینڈر ہیں سرینڈر ہیں۔‘
اس دوران آڈیو ریکارڈنگ میں فائرنگ کی بھی آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔
’ہمارے خاندان کے لیے بڑا سانحہ ہے‘
سید طفیل شاہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان میں چار پانچ روز پہلے ایک فوتگی ہوئی تھی۔
'فوت ہونے والے رشتہ دار کا غم ابھی تازہ تھا کہ خاندان کے دو بزرگ شخصیات کی لاشیں ہمیں ملیں'۔
انھوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ قدیم شاہ اور رحیم شاہ حکومت کو مطلوب افراد کا ساتھ دینے کے لیے گئے تھے بلکہ وہ صرف ایک خیرخواہ کی حیثیت سے گئے تھے تاکہ خواتین اور بچے محفوظ ہوں اور یہ معاملہ ’پُرامن طریقے سے حل ہو۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہمارے دونوں سفید ریش کسی بھی مقدمے میں مطلوب نہیں تھے بلکہ وہ پورے علاقے میں خیرخواہ کی حیثیت سے مشہور تھے۔
انھوں نے بتایا کہ سید قدیم شاہ تو عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور انھوں نے ان کا کراچی میں دو مرتبہ بائی پاس بھی کرایا تھا۔
سید قدیم شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ساتھ ایک بہت بڑی بے انصافی ہوئی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس کا ازالہ کرے۔‘
بلوچستان حکومت کا کیا موقف ہے؟
اس واقعے کے دوسرے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے سی ٹی ڈی آفس میں ایک خصوصی پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سے یہ سوال کیا گیا کہ علاقے کے لوگوں کے مطابق چھ افراد ثالثی کے لیے بھیجے گئے تھے جن میں سے چار واپس آئے لیکن دو کی واپسی سے پہلے ہی سی ٹی ڈی کی جانب سے فائرنگ شروع کی گئی جس کے باعث دو ثالث نہیں نکل سکے اور وہ بھی مارے گئے۔
اس سوال پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے سوال کنندہ سے پوچھا کہ ’اگر چھ لوگ گئے تھے تو باقی چار کیسے بچ گئے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بالکل چار لوگ ثالثی کے لیے اندر بھیجے تھے اور یہ اس لیے بھیجے گئے تھے کہ ملزمان سرینڈر کریں لیکن انھوں نے سرینڈر نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ جب چار ثالث واپس آئے اور ’انھوں نے بتایا کہ ملزمان سرینڈر نہیں کر رہے ہیں تو پھر کارروائی شروع کی گئی۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیبلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے سوالپوچھنے والے سے کہا کہ ’اول تو چھ ثالث بھیجنے والی بات درست نہیں تاہم اگر میں آپ کی بات کو مانوں بھی کہ یہ دو افراد بھی ثالثوں میں شامل تھے توجب ملزمان نے سرینڈر کی بات نہیں مانی اور باقی چار ثالث واپس آگئے تو یہ دونوں کس خوشی میں لڑنے میں ان کا ساتھ دینے کے لیے بیٹھ گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان اپنے گھر میں نہیں تھے بلکہ وہ کسی اور گھر پر تھے جس پر انھوں نے قبضہ کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ملزمان کو سرینڈر کرانے کے لیے جو ثالثین بھیجے گئے تھے وہ چاروں خیریت سے واپس آگئے جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
’جب ملزمان سرینڈر کرانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ ہمارے ساتھ لڑرہے ہوں تو ان کے ساتھ ہمارے پاس لڑنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔‘
’مارے جانے والے ملزمان 15 سے زائد سنگین واقعات میں ملوث تھے‘
سی ٹی ڈی کے مطابق سید ثنا اللہ آغا اور ان کے دو بھائی سنگین واقعات میں مطلوب تھے۔ ان کے گھر پر چند روز قبل چھاپہ مارا گیا تھا جس میں ان کی گرفتاری ممکن نہیں ہوئی تھی۔
تاہم پیر کے روز صبح سی ٹی ڈی کی بھاری نفری ان کی گرفتاری کے لیے گئی اور مقامی لوگوں کے مطابق اس روز ملزمان اپنے گھر پر نہیں تھے بلکہ کسی اور شخص کے گھر پر تھے۔
سی ٹی ڈی کی اس کارروائی میں ثنا اللہ آغا کے علاوہ مارے جانے والوں میں ان کے دو سگے بھائی بھی شامل تھے۔
بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی کا عملہ اشتہاری اور مطلوب ملزمان ثنا اللہ آغا اور ان کے بھائیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزمان نے گرفتاری دینے کی بجائے فائرنگ شروع کردی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔
اس واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے کہا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو یہ واضح ہدایت ہے کہ جرم اور دہشت گردی کا ایک نیکسس ہے اور جب تک جرائمکو ختم نہیں کیا جائے گاتو اس وقت تک دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دہشت گرد ہیں یا کسی مقدمے میں مطلوب ہیں۔اگر وہ سرینڈر کریں گے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا لیکن اگر وہ سرینڈر نہیں کریں گے اور بیرل آف گنسے بات کریں گے تو ان کے ساتھ بیرل آف گن سے بات ہوگی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ’ہمیں اطلاع تھی کہ ثنا اللہ آغا اور ان کے ساتھی بھاری اسلحے کے ساتھ پشین میں موجود ہیں جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔‘
ان کے مطابق ’یہ لوگ قتل ، اقدام قتل، اغوا، بھتہ خوری، خواتین سمیت لوگوں کو گھروں سے اٹھانے کے واقعات میں ملوث تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ثنا اللہ آغا سمیت چھ لوگ مارے گئے جبکہ سی ٹی ڈی کے دس لوگ معمولی زخمی ہوئے۔
’پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ اس آپریشن میں بھاری اسلحے کا استعمال ہوا جن میں راکٹ، یو بی جی ایل وغیرہ استعمال ہوئے۔‘
Getty Imagesسی ٹی ڈی کے مطابق سید ثنا اللہ آغا اور ان کے دو بھائی سنگین واقعات میں مطلوب تھے
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کا کالعدم تنظیموں سے رابطہ تھا۔ ’فتنہ الخوارج کے لوگ ان کے ساتھ بیٹھتے بھی تھے اور ان کو ان سے سپورٹ بھی مل رہا تھا کیونکہ جو لوگ چھوٹی موٹی جرائم کرتے ہیں ان کے پاس اتنا بڑا اسلحہ نہیں ہوتا ہے۔‘
ایک سوال پر اعتزاز گورایہ نے کہا کہ ملزمان سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے اس کا فرانزک اور تجزیہ کرائیں گے جس سے بہت ساری چیزیں واضح ہوجائیں گی۔
انھوں نے بتایا کہ مارے جانے والے افراد کے خلاف صرف پشین میں 15 ایف آئی آر ہیں۔ ’کرائمز برانچ میں بھی ان کے خلاف ایف آئی آرز ہیں جبکہ دو ایف آئی آرز ان کے خلاف ہمارے پاس سی ٹی ڈی میں بھی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ان لوگوں سرینڈر کی پیشکش کی گئی جس کی ویڈیوز موجود ہیں اور ضرورت پڑے گی تو ان کو شیئر کریں گے لیکن ان لوگوں نے سرینڈر نہیں کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اگر کوئی سرینڈر نہیں کرے اور ریاستی اداروں پر حملہ کرے تو میرے پاس کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے۔کیا پھر ریاست سرینڈر کرے؟ ریاست کا ادارہ اگر وہاں جائے گا تو ملزمان کے پاس سرینڈر کا آپشن موجود ہےاگر کوئی سرینڈر کرے گا تو ہمیں بلاوجہ کسی کو مارنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ملزمان نے سرینڈر نہیں کیا بلکہ مقابلہ کیا تواس کے حساب سے کارروائی کی گئی۔
ہلاکت سے کچھ روز قبل مرکزی ملزم ثنا اللہ آغا نے کیا کہا؟
پیر کو سی ٹی ڈی کی کارروائی سے قبل مارے جانے والے افراد اور ان کے گھر پر چھاپے کے حوالے سے دو تین ویڈیوز سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔
ایک ویڈیو میں ایک بکتر بند گاڑی نظر آرہی ہے جو کہ ایک گھر کی گیٹ کو ٹکر مار کر توڑ رہی ہے۔
تاہم بی بی سی ابھی تک آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرسکا کہ یہ گھر کلی کربلا میں ہلاک ہونے والے ملزمان کی ہے۔
ایک اور وائرل ویڈیو میں راکٹ لانچر کندھے پر لٹکائے سید ثنا اللہ آغا شدید برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔
اس ویڈیو میں علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کا نام لیکر وہ یہ کہہ رہے تھے کہ راضی نامے کے باوجود ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔
اس ویڈیو میں وہ اس سیاسی شخصیت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے بارے میں قابل اعتراض الفاظ استعمال کررہے تھے۔ انھوں نے اس ویڈیو میں ایک خفیہ ادارے کا نام لیکر اپیل کی وہ اس معاملے کو دیکھیں۔
تاہم ایک اور ویڈیو میں انھوں نے پولیس کے ان آفیسروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جذباتی ہونے کی وجہ سے وہ الفاظ ان کے منہ سے نکلے۔
انھوں نے اس ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ ان کا سرکار سے کوئی تنازع نہیں ہے بلکہ ان کا مسئلہ علاقے کے ایک بااثر شخص سے ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟افغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیبلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟’خفیہ عدالتوں میں انصاف کیسے ہوگا‘: بلوچستان میں انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترامیم کی مخالفت کیوں؟