ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں اپنے تحریری فیصلے میں چند ممالک کو ’دہشتگرد ریاستیں‘ قرار دینے والے پیراگراف کو حذف کروا دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے 24 جنوری کو اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ’فی الحال دنیا کے چار ممالک کو دہشتگرد ریاستیں قرار دیا گیا ہے جو کیوبا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کوریا، ایران اور شام ہیں۔‘
جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہکے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس فیصلے میں چار ملکوں کو دہشتگرد ریاستیں قرار دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میںکہا تھا کہ ’پاکستان ایسے کسی بیان یا درجہ بندی کی تائید نہیں کرتا کیونکہ اقوام متحدہ یا بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گرد ریاستوں کی کوئی سرکاری فہرست موجود نہیں۔‘
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ ’یہ فیصلہ معزز جج کی رائے ہے۔ پاکستان یقیناً اس رائے کی تائید نہیں کرتا۔‘
جج افضل مجوکہ کو اس پیراگراف کو حذف کرنے سے متعلق اس مقدمے کے پراسیکیوٹر نے درخواست دی تھی۔
اس پیراگراف کو حذف کرنے کے بارے میں جج افضل مجوکا نے اپنے فیصلے لکھا کہ ان ممالک کا ذکر ’کلیریکل مسٹیک‘ یعنی تحریری غلطی کی وجہ سے ہوا۔
اپنے فیصلے میں انھوں نے لکھا کہ سٹینو گرافر نے فیصلہ لکھتے وقت ان ممالک کے ذکر کو ہٹا دیا تھا تاہم جب اس فیصلے کا حتمی پرنٹ دیا گیا تو اس وقت غلطی سے ان ممالک کا ذکر آ گیا۔
جج مجوکہ کے تحریری فیصلے میں کیا لکھا گیا تھا؟
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔
24 جنوری کو جاری کردہ تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ ’پی ای سی اے کے سیکشن 10 کے مطابق، جو بھی شخص سیکشن نو کے تحت جرم کرتا ہے یا کرنے کی دھمکی دیتا ہے، جس کا مقصد قانون کے تحت ممنوعہ تنظیموں، افراد یا گروپوں کے مقاصد کو فروغ دینا ہو، اسے سزا دی جائے گی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ملزمان نے اپنے ٹویٹس، ری ٹویٹس اور پوسٹس کے ذریعے ممنوعہ افراد یا تنظیموں کے ایجنڈے کو فروغ دیا یا نہیں۔‘
فیصلے کے مطابق ’ملزمان نے اپنے ٹویٹس میں ریاستِ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا۔ فی الحال چار ممالک کو دہشت گرد ریاستوں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے: کیوبا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کوریا، ایران اور شام۔‘
’دونوں ملزمان پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور انھیں پوری طرح علم تھا کہ پاکستان دہشت گرد ریاستوں کی فہرست میں شامل نہیں لیکن انھوں نے جان بوجھ کر اپنی ٹویٹس میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا، جو درحقیقت کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ایجنڈے کے مطابق ہے۔‘
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزامتنازع ٹویٹس کیس: پاکستان کے ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت پر ناروے کے سفیر طلب، سپریم کورٹ کا ایمان مزاری کا ٹرائل روکنے کا حکم’والدہ کی گرفتاری کی وجہ سے سٹریس میں تھی، بیانات کا مقصد فوج میں انتشار پھیلانا نہیں تھا‘اعلیٰ فوجی افسران کو ’سٹریٹیجی‘ پڑھانے والی شیریں مزاری سیاست دان کیسے بنیں؟کیا جج اپنے تحریر شدہ فیصلے میں ترمیم کر سکتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر کئی افراد یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا جج اپنے فیصلے میں ترمیم کر سکتے ہیں؟
ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر اسی حوالے سے اپنا ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’وہ (جج) قانونی طور پر اس انداز میں فیصلے میں ترمیم نہیں کر سکتے۔‘
بی بی سی کو ذرائع نے بتایا کہ اس مقدمے کیپراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے جج کو ایک درخواست دی گئی تھی جس میں اسی سطر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ یہ غالباً ایک ’کتابت کی غلطی‘ ہے جسے درست کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔
خیال رہے کوڈ آف سول پروسیجر (سی پی سی) 1908 کی دفعہ 152 عدالت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ فیصلوں یا احکامات میں موجود کسی بھی کتابت یا طباعتی غلطی کی کسی بھی وقت اصلاح کر سکے۔
اسی طرح ضابطۂ فوجداری کارروائی (سی آر پی سی) کی دفعہ 369 بھی اس عدالت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں موجود کتابت کی غلطیوں کی درستی کر سکے بشرطیکہ اس سے فیصلے کے اصل متن یا نوعیت پر کوئی اثر نہ پڑے۔
لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج شاہ خاور نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزار ملک کو بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 152 کے تحت اگر کوئی جج فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ سمجھے کہ اس فیصلے میں کوئی چیز غلط تحریر کی گئی تو وہ اس کو درست کر سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جج اس بارے میں خود بھی کارروائی کرسکتا ہے اور اگر کوئی اس غلطی کی نشاندہی کرے یا اس غلطی کو درست کرنے کے لیے کوئی شخص درخواستدے تو پھر بھی عدالت اس کو منظور کرتے ہوئے درستگی کر سکتی ہے۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر کیا الزامات ہیں؟
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست کو درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔
اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے نہ صرف پراسیکیوشن پر اعتراض اٹھایا بلکہ انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس مقدمے کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دی تھی۔
اس دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھیں اس مقدمے میں سزا دی جائے گی اور وہ بھی سات سال ہو گی لیکن وہ یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔
اس پر جج افضل مجوکا مسکرا دیے اور پراسیکیوٹر کو کہا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق حتمی دلائل دیں۔
ملزم ہادی علی چٹھہ نے اس دوران عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان داخل کروانے اور اپنی صفائی میں گواہ لانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔
ملزم ہادی چٹھہ نے اپنی درخواست کے حق میں خود ہی دلائل دیے تھے اور کہا تھا کہ 342 کا بیان اصل میں ملزم کا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق سٹیٹ کونسل نے 342 کا جواب دیا اور وہ 342 کا جواب سٹیٹ کونسل کا ہے ملزمان کا نہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا کہ جب اس مقدمے کی کارروائی کے دوران گواہان پر جرح ہوئی تو سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دے دیا گیا اور پراسیکیوشن نے سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دیا، جس پر ملزم نے انحصار نہیں کیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سوالنامہ نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ انھیں دیا۔
ہادی چٹھہ کا کہنا تھا کہ ہم سٹیٹ کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست عدالت کو دے چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنا 342 کا جواب دینا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گواہان کی بھی فہرست ہے اور ان گواہان میں صحافی احمد نورانی کی والدہ، صحافی مدثر نارو کی والدہ، سردار اختر مینگل، شاعر احمد فرہاد، عارفہ نور ودیگر گواہان میں شامل ہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا تھا کہ عدالت اگر چاہے تو گواہان کو سمن بھی کر سکتی ہے۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزاایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور: کیا کارِ سرکار میں مداخلت پر دہشتگردی کا مقدمہ بنتا ہے؟’والدہ کی گرفتاری کی وجہ سے سٹریس میں تھی، بیانات کا مقصد فوج میں انتشار پھیلانا نہیں تھا‘متنازع ٹویٹس کیس: پاکستان کے ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت پر ناروے کے سفیر طلب، سپریم کورٹ کا ایمان مزاری کا ٹرائل روکنے کا حکماعلیٰ فوجی افسران کو ’سٹریٹیجی‘ پڑھانے والی شیریں مزاری سیاست دان کیسے بنیں؟