اتوار کا دن تھا جب خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع ایک گھر کی فون کی گھنٹی بجی۔ فون اُٹھانے والے مفتی امشد علی کے والد تھے۔
بلوچستان کے ضلع نوشکی سے جو شخص فون پر بات کر رہا تھا اس نے امشد علی کے والد کو بتایا کہ: ’آپ کے علاقے کے ایک خطیب صاحب نوشکی میں تھے ان کو اہل خانہ سمیت مار دیا گیا ہے۔‘
مفتی امشد علی کے بھائی محمد ناصر بتاتے ہیں کہ ان کے والد صاحب نے جواب دیا: ’ہمارے علاقے کے تو ایک ہی خطیب ہیں جو نوشکی میں تعینات ہیں اور وہ میرا بیٹا ہے۔‘
محمد ناصر کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب نوشکی میں رابطے کیے گئے تو معلوم ہوا کہ ہمارا بھائی، بھابھی اور تین معصوم بچے مسلح گروہ کے حملے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
’اس حملے میں بھائی، بھابھی، تین سالہ معصوم انیقہ اور دو بیٹوں عمیر (16) اور طلحہ (14) کی جان چلی گئی، جبکہ ایک بیٹی زخمی ہوئی جو کہ ابھی کوئٹہ میں زیرِعلاج ہے۔‘
بی بی سی کو اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے محمد ناصر کی آنکھیں بھر آئیں اور انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی، بھابھی، ایک بھتیجی اور دو بھتیجوں کی موت کی خبر ان کے خاندان پر کسی قیامت کی طرح گزری ہے۔
ناصر کے بھائی امشد علی اور ان کے اہلخانہ گذشتہ سنیچر کو بلوچستان کے نوشکی میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سنیچر کو مسلح افراد نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت بعض دیگر علاقوں میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔
بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کا تعلق بھی اسی ضلع نوشکی سے ہے، جہاں مفتی امشد علی اور ان کے اہلخانہ سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع میں ہونے والے حملوں میں 36 عام شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے صوبے میں 200 سے زیادہ شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا ہے۔
امشد علی اور ان کے اہلخانہ اور دو ایف سی اہلکاروں کی لاشیں بدھ کو ان کے آبائی شہر کرک پہنچی تھی جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
محمد ناصر کہتے ہیں کہ وہ خود گوجرانوالہ میں حکیم ہیں جب کہ ان کے بھائی امشد علی نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر میں خطیب اور سکول ہیڈ ماسٹر تعینات تھے۔
محمد ناصر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ سنیچر کو فجر کی نماز کے بعد پیش آیا تھا اور کرک میں گھر والوں کو اطلاع اتوار کو دی گئی تھی۔
یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟
محمد ناصر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے بھائی کچھ سال پہلے بلوچستانچلے گئے تھے، جہاں وہ ایف سی میں خطیب تھے اور ایف سی کے ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی تھے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ نوشکی میں ایف سی کا ہیڈکواٹر محفوظ مقام سمجھا جا رہا تھا اور یہ توقع بھی نہیں تھی کہ حملہ آور اس ہیڈ کوارٹر میں گھس کرحملہ کر دیں گے اور یہاں موجود خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
بی بی سی نے ایف سی کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے حوالے سے آئی ایس پی آر سے بھی تفصیلات مانگی تھیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں موصول ہو سکا۔
’بلوچستان کو بہت محنت سے یہاں تلک لایا گیا‘کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟تھانوں پر حملے، یرغمال ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن: بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران کیا ہوا؟پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں دو ’ثالثوں‘ کی ہلاکت: ’وہ کہہ رہے تھے ملزمان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، فائرنگ روکیں‘
نوشکیصوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر دور تفتان روڈ پر واقع ہے اور یہ شہر اپنے سنہری ریگستان کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
نوشکی میں ایف سی کا ہیڈ کوارٹر شہر کے اندر واقع ہے اور اس کے قریب ایک سرکاری سکول اور اس سے کچھ فاصلے پر ڈپٹی کمشنر کا دفتر بھی موجود ہے۔
محمد ناصر کا کہنا تھا کہ بظاہر تو یہ واقعہ سکیورٹی کی کمزوری کی وجہ سے پیش آیا۔
ان کی معلومات کے مطابق ’ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ فجر کی اذان سے قبل اس وقت ہوا تھا جب بھائی نماز کی تیاری کر رہے تھے۔‘
محمد ناصر مزید بتاتے ہیں کہ مسلح شدت پسندوں نے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکے۔
’اس حملے میں بھائی، بھابھی، معصوم بچی انیقہ اور دو بیٹوں عمیر اور طلحہ کو قتل کر دیا گیا، جبکہ ایک بیٹی زخمی ہوئی جو کہ ابھی کوئٹہ میں زیرِعلاج ہے۔‘
ناصر کے مطابق ان کے بھائی کے ساتھ نوشکی میں اور بھی لوگوں کے خاندان رہائش پزیر تھے۔ ان میں ایک کلرک محمد حیات کا خاندان بھی تھا، جنھیں دو بیٹوں کے ہمراہ قتل کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ سات بھائی تھے اور اب چھ رہ گئے ہیں۔
’مفتی امشد علی ہمارے بڑے بھائی تھے، انھوں نے ہمیں سبق پڑھایا ہے، جبکہ بھائی کے دو بیٹے حافظ قران تھے۔‘
نوشکی شہر میں اب حالات کیسے ہیں؟
نوشکی کے ایک رہائشی صاحب خان مینگل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’نوشکی شہر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ کوئٹہ تفتان شاہراہ کی بندش سے شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی وجہ سے نوشکی کے شہریوں نے تین دن اور تین راتیں انتہائی خوف کے عالم میں گزارے۔
انھوں نے بتایا کہ قرب و جوار کے لوگوں کے لیے فائرنگ اور دھماکوں کی خوف کی وجہ سے راتوں کو سونا مشکل تھا۔
’بچے اور خواتین ہر وقت سہمے رہتے تھے کیونکہ کبھی کبھار فائرنگ بہت زیادہ شدید ہوتی تھی۔‘
جوڈیشل کمپلیکس اور دیگر سرکاری دفاتر میں تباہی کے مناظر
نوشکی شہر میں داخلے کے بعد مسلح افراد نے جوڈیشل کمپلیکس، ایس پی پولیس اور سی ٹی ڈی کے دفاتر اور جیل کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔
ایک سینیئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی شہر کو کلیئر کروانے تک یہ دفاتر مسلح افراد کی کنٹرول میں رہے۔
انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ان تمام سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ ان کو نذر آتش بھی کیا، جس کی وجہ سے یہ تباہی کا منظر پیش کررہے ہیں۔
Getty Imagesپاکستانی فوج کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملوں میں 36 عام شہری ہلاک ہوئے تھے
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مسلح افراد نے پولیس تھانہ اور اس کے قریب بعض دیگر دفاتر کا بھی کنٹرول حاصل کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ توڑ پھوڑ کے علاوہ پولیس کے دفاتر سے مسلح افراد اسلحہ اور دیگر اشیا بھی لے گئے جبکہ وہاں کیس پراپرٹی کے بعض گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔
’مسلح افراد نے جیل کا بھی کنٹرول حاصل کیا اور ان کی فائرنگ سے جیل سپرنٹنڈنٹ زخمی ہو گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جیل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مسلح افراد نے بیرکوں کے دروازے کھول دیے جس کے باعث قیدی فرار ہو گئے۔
جہاں سرکاری دفاتر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے وہاں انام بوستان روڈ کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر کے قریب ایک بڑے دھماکے سے دکانوں اور قرب و جوار کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
جن دکانداروں کی دکان کو نقصان پہنچا ہے ان میں ظریف خان کی دکان بھی شامل ہے۔
انھوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے ان کی دکان کو تو نقصان پہنچا ہی، لوگ اس میں موجود اشیا کو بھی اٹھا کر لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دکان ان کے خاندان کے گزربسر کا واحد ذریعہ تھا جس کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے وہ حیران ہیں کہ اب گھر کو کیسے چلائیں۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ہے، جس کی وجہ سے ابھی تک یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ مجموعی طور پر نوشکی میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ۔
تاہم ایک اور اہلکار نے بتایا کہ اب تک جن ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے ان میں اے ٹی ایف کے سات اہلکاروں کے علاوہ چار حملہ آور شامل ہیں۔
نوشکی کے رہائشی صاحب خان مینگل نے بتایا کہ نوشکی میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے کیونکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ نوشکی کے قرب و جوار کے علاقوں میں مسلح افراد موجود ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟پنجاب کے کچّے کے علاقوں میں ’سرجیکل سٹرائیکس‘ اور ’ڈرون حملے‘: ’ڈاکوؤں نے موتسامنے دیکھ کر خود کو پولیس کے حوالے کیا‘بلوچستان میں حراستی مراکز کے قانون پر تنقید: ’اس میں منصفانہ ٹرائل کا عنصر غائب ہے، نہ جج کا پتا ہو گا اور نہ گواہ کا‘بینک ڈکیتیاں، پولیس سٹیشن پر حملہ اور ’12 شدت پسندوں کی ہلاکت‘: خاران میں مسلح افراد کے حملے کے دوران عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل، واکی ٹاکیز بھی تھیں‘: پاکستان آنے والے افراد نے ایران میں کیا دیکھا؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘