اسلام آباد کی مسجد میں دھماکہ: ’عون عباس نے نماز توڑ کر خود کش بمبار کا راستہ روکا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 07, 2026

BBC

سید اشفاق اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی امام بارگاہ کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں۔

یہ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے ریسیکو اور پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی اور یہی دھماکے کے بعد امام بارگاہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔

اس امام بارگاہ میں زیادہ تر ترلائی کے رہائشی ہی نماز ادا کررہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو وہ جانتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ امام بارگاہ میں داخل ہوئے تو ہر طرف زخمی اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ اس موقع پر انھوں نے لاشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے زخمیوں کی مدد کرنا شروع کردی۔

سید اشفاق بتاتے ہیں کہ جب وہ ہال کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ترلائی ہی کے رہائشی عون عباس اور ان کے پاس ہی مبینہ خود کش بمبار کی لاش پڑی ہے۔

’مجھے بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد جب خود کش بمبار ہال میں داخل ہوا تو عون عباس نے اس کو دبوچ لیا اور خود کش بمبار نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اگر عون عباس ایسا نہ کرتے اور حملہ آورکو ہال کے دروازے پر ہی نہ روکتے تو شاید جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا۔‘

بی بی سی کو یہی بات ہال میں موجود دیگر لوگوں اور زخمیوں نے بھی بتائی۔

اصغر علی بھی جمعہ کے روز ہونے والے واقعہ میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ وہ ہال کے دروازے کے قریب آخری صف میں نماز ادا کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ نماز کے دوران ان کے ایک طرف عون عباس اور دوسری طرف ایک اور شخص کھڑے تھے جو کہ حملے میں مارے گئے ہیں۔

اصغر علی بتاتے ہیں کہ فائرنگ کی آواز سن کر عون عباس نے اپنی نماز توڑ دی اور خود کش حملہ آور جو کہ ہال کے دورازے سے داخل ہورہا تھا کو دبوچ لیا۔ ان کے مطابق، اس موقع پر خود کش حملہ آور نے دھماکے سے خود کو اڑا لیا اور اس دھماکے میں دیگر لوگوں کے ہمراہ عون عباس بھی ہلاک ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں وہ خود بھی زخمی ہوئے لیکن ان کی چوٹیں کم تھیں تو انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ اصغر علی کا کہنا ہے کہ وہ کافی دیر تک اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔

جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت نماز کی امامت راجہ بشارت حسین کر رہے تھے۔

راجہ بشارت حسین کہتے ہیں کہ انھیں کئی نمازیوں نے بتایا ہے کہ عون عباس نے فائرنگ کے بعد نماز توڑ کر حملہ آور کا راستہ روکا۔ 'اگر وہ اندر صفوں کے درمیان میں آجاتا تو بہت نقصاں ہوتا۔ عون عباس نے اپنی جان دے کر کئی لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اور وہ ہیرو ہے۔'

سید اشفاق بتاتے ہیں کہ امام بارگاہ کے مرکزی گیٹ پر دو گارڈز تعنیات ہیں۔

AFP via Getty Images

ان کا کہنا ہے کہ جب حملہ آور مرکزی گیٹ سے فائرنگ کرتا ہوا داخل ہوا تو اس وقت نماز ہو رہی تھی۔ ’مجھے چار، پانچ فائر کی آواز سنائی دی اور پھر ساتھ ہی ایک اور فائر کی آواز آئی۔ یہ فائر گارڈ کی جانب سے کیا گیا تھا، وہ خودکش حملہ آور کا راستہ روکنے کی کوشش کررہے تھے۔‘

سید اشفاق کہتے ہیں کہ مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے حملہ آور نے مزید دو، تین فائر کیے اور وہ ہال میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ عون عباس نے اس کا راستہ روک لیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ عون عباس کے تین بہن بھائی ہیں اور وہ ترلائی میں اپنے کزن شعیب کے ہاں رہتے تھے۔ سید اشفاق کے مطابق، عون عباس کے والد دیہاڑی پر ٹیکسی چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عون عباس کی عمر 20 یا 21 سال تھی۔ 'ان کا سارا بچپن ہمارے سامنے گزرا ہے۔'

سید اشفاق بتاتے ہیں کہ عون عباس کے کزن شعیب ہی ان کے سرپرست تھے اور حال ہی میں عون عباس کو بسلسلہ روزگار باہر بھجنے کی تیاری کی جارہی تھی جس کے لیے انھوں نے ٹیسٹ بھی پاس کرلیا تھا۔

’ایسی مٹھائی کھلاؤں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے‘: وہ وکیل جو دوستوں کے ساتھ خوشی منانے کے بعد اسلام آباد میں خودکش حملے کا نشانہ بن گئےنوشکی حملے کے بعد سوگ میں ڈوبا کرک: ’حملہ اس وقت ہوا جب بھائی فجر کی نماز کی تیاری کر رہے تھے‘’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سالوانا کیڈٹ کالج میں 30 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران کیا ہوا؟’نماز کے بعد بہادر علی سے ملنے کا پروگرام تھا پھر پتا چلا کہ اس کے جنازے میں شرکت کرنا ہو گی‘

اس واقعہ میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں گلگت بلتستان پولیس کے انسپکٹر بہادر علی بھی شامل ہیں جو کہ اس وقت ایڈوانس کورس کے لیے اسلام آباد میں مقیم تھے۔

سکردو پولیس کے پبلک ریلیشن افسر غلام محمد بتاتے ہیں کہ ان کے پاس دستیاب ابتدائی معلومات کے مطابق انسپکٹر بہادر علی اسلام آباد میں ایڈوانس کورس کے لیے موجود تھے جبکہ ان کے والد اور بھائی پہلے ہی اسلام آباد میں تھے کیونکہ بلتستان کے اکثر لوگ سردیوں میں راولپنڈی اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔

غلام محمد کا کہنا ہے کہ انسپکٹر بہادر علی اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ نماز نماز جمعہ ادا کرنے گئے تھے۔ بہادر علی کے والد اور بھائی اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بہادر علی کے والد کی طبعیت بہتر ہے اور وہ اپنے بیٹے کی میت کے ہمراہ اپنے آبائی ضلع گانچھے پہنچ رہے ہیں جبکہ ان کا دوسرا ابھی ہسپتال میں داخل ہے۔

غلام محمد کے مطابق ایڈوانس کورس پر اسلام آباد آنے سے قبل وہ سکردو کے تھانہ ایئر پورٹ میں ایس ایچ او کے فرائض ادا کر رہے تھے۔

گلگت پولیس کے ڈی ایس پی غلام نبی اور بہادر علی تقریبا اکھٹے ہی 2004 میں گلگت پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوئے تھے۔

غلام نبی کہتے ہیں کہ میں بہادر علی سے سینیئر تھا جس وجہ سے میرا ایڈوانس کورس گذشتہ سال ہو گیا تھا اور میں ڈی ایس پی بن گیا جبکہ بہادر علی کو اس سال کورس میں شمولیت کی دعوت ملی تھی اور توقع تھی کہ اس کے بعد وہ بھی ڈی ایس پی بن جائیں گے۔

ڈی ایس پی غلام نبی کہتے ہیں کہ وہ بھی ان دنوں اسلام آباد میں ہیں اور واقعے کے روز ان کی بہادر علی سے ٹیلیفون پر بات ہوئی تھی اور نماز جمعہ کے بعد ان دونوں نے ملنے کا پروگرام بنایا تھا۔

غلام بنی کہتے ہیں کہ 'بہادر علی نے بتایا تھا کہ وہ اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ نماز جمعہ کے لیے جائیں گے۔ مگر تھوڑی دیر بعد دھماکے کی اطلاع ملی اور پھر پتا چلا کہ بہادر علی سے اب ملاقات ممکن نہیں بلکہ اس کے جنازے میں شرکت کرنی ہو گی۔'

غلام نبی کہتے ہیں کہ بہادر علی کا تعلق ضلع گانچھے سے ہے اور ان کا خاندان بنیادی طور پر کاروبار سے منسلک ہے۔

'بہادر علی اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے جو کوئی ملازمت کر رہے تھے اور وہ یہ ملازمت ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اپنے لوگوں کی مدد اور خدمت کے لیے کرتے تھے۔'

بہادر علی کے سوگواروں میں تین بچے اور ایک بیوہ شامل ہے۔ ان کے سب سے بڑے بچے کی عمر نو سال اور سب سے چھوٹے کی عمر ایک سال ہے۔

’نانا سے جنازہ گاہ کے لیے زمین وقف کروائی‘

امام بارگاہ پر حملے میں ہلاک ہونے والے ایک اور شخص سید حسن شاہ عباس تھے۔ ان کا تعلق ضلع مانسہرہ کے علاقے داتا سے تھا۔

ڈاکٹر سید حسنات گیلانی آزاد کشمیر یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں اور سید حسن شاہ عباس کے کزن ہیں۔

ڈاکٹر گیلانی بتاتے ہیں شاہ عباس ایک سوشل ورکر اور کاروباری شخصیت تھے جن کا سارا بچپن اور جوانی اسلام آباد ہی میں گزری۔ ان کے مطابق، اپنا کاروبار شروع کرنے سے قبل شاہ عباس چارٹر اکاؤنٹنٹ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل ان کی سماجی سرگرمیوں کی اعتراف میں انھیں نیشنل ڈفینس یونیورسٹی میں منعقد ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جہاں انھیں اعزازی سرٹیفکیٹ دیے گئے۔

ڈاکٹر گیلانی بتاتے ہیں کہ شاہ عباس اپنے علاقے میں فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے اور اسلام آباد سے داتا وہ اپنے لوگوں سے ملنے اور ان کی مدد کرنے کو آتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ مانسہرہ کا ایک بڑا گاؤں ہونے کے باوجود داتا میں کوئی مناسب جنازہ گاہ موجود نہیں تھا۔ اس سلسلے میں شاہ عباس نے ایک مہم شروع کی اور اپنے نانا جسٹس (ر) عبدالرشید گیلانی کی داتا میں موجود چھ، سات کنال قیمتی زمین کو جنازہ گاہ کے لیے وقف کروایا تھا۔

ڈاکٹر سید حسنات گیلانی کہتے ہیں کہ شاہ عباس نے اس زمین کو بقاعدہ جنازہ گاہ بنانے کے لیے بھی کام کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہ عباس کے والد محمود علی شاہ ایئر کمورڈر ریٹائرڈ ہیں جبکہ ان کے ایک چچا حامد علی شاہ لاہور ہائی کورٹ سے جج ریٹائرڈ ہیں۔ انھوں نے سوگواروں میں د و بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔

اسلام آباد کچہری حملہ: ’خودکش حملہ آور افغان شہری تھا اور حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہوئی‘، پاکستانی وزیر اطلاعات کا دعویٰجعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی’40 جنگیں دیکھنے کے باوجود 2025 سب سے پریشان کن سال کیوں لگا‘کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More